پاکستان سٹیل مل کے اندر چھپے بہت سے سوالوں کے جوابات

pakistan_steel mill
EjazNews

ہماری اطلاع کے مطابق کچھ نہ کرنے کے باوجود نچلہ عملہ 8ہزار اور افسران 3600کے قریب ہیں ۔ کنٹریکٹ ملازمین کی تعداد 174اور ڈیلی ویجز پر 246ہے۔ کل ملا کر ملازمین کی تعداد 12047ہے۔ ان کی بنیادی تنخواہ 31کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ 20کروڑ روپے کے الاﺅنسزاس کے علاوہ ہے۔ یوں ماہانہ تنخواہ کا بل کروڑں روپے بنتا ہے حکومت کو سالانہ کم از کم 6ارب روپیہ بند مل کے ملازمین کی صورت میں برداشت کرنا پڑتے ہیں تاہم اس مل سے معمولی رقم اسے ٹیکسوں کی صورت میں واپس مل جاتی ہے۔ تقریباً 11کروڑ روپے ماہانہ کے ٹیکس منہا کر لیے جاتے ہیں6کروڑ روپیہ افسروں کی تنخواہوں سے تقریباً5.5کروڑ وپیہ نچلے ملازمین کی تنخواہوں سے منہا کر لیا جاتا ہے۔ ابھی بند مل کے اخراجات پورے نہیں ہوئے پراﺅڈینٹ فنڈ ،گریجوایٹی ، افسروں کی مراعات میں کرائے، ویلفیئر فنڈ میں حصہ ڈالنا، میڈیکل الاﺅنسز ، اولڈ ایج بینی فٹ یا گروپ انشورنس کی سہولت، کینٹین کی سبسڈی، کار الاﺅنس، پٹرول، کرائے کی گاڑیوں کے اخراجات اور چھٹیاں نہ کرنے والے ملازمین کی لیو انکیشمنٹ کو ملا کر خرچ ہونے والے 20کروڑ روپے اس کے علاوہ ہیں، اندازہ کیجئے جو مل بند پڑی ہے وہاں پہ لوگ چھٹیاں کرنے کی بجائے لیو انکیشمنٹ کے 1.75کروڑ روپے ماہانہ وصول کر رہے ہیں۔ علاج معالجہ پر 1کروڑ15لاکھ اور گریجوایٹی پر 12کروڑ روپے ماہانہ خرچ ہوتے ہیں، بند مل کے باوجود گزشتہ برسوں میں افرادی قوت جوں کی توں ہے۔
ہمارے ملک کو معاشی طور پر مفلوک الحال کر کے بیرون ملک چلے جانے والے وزیر خزانہ نے اور بھی کام کر دکھایا۔ان کی پالیسیوں کی وجہ سے رواں اخراجات کا خسارہ دو مالی سالوں میں بالترتیب 5ارب روپے سے بڑھ کر 12.5ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ سابق حکومت کی پالیسیوںکو بدلنے کے لیے بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ خوش فہمی اور زعم میں مبتلا سابق وزیر خزانہ نے ملک کو ایک ایسے راستے پر ڈال دیا ہے جو ایک بند گلی کی طرف جاتا ہے لیکن پھر سابق وزیر خزانہ نے 180ارب روپے کا پیکج دے کر برآمدا ت کو بحران سے نکالنے کی کوشش کی لیکن یہ پیکج کافی عرصہ کاغذوں میں دبا رہا۔ حکومت نے قوم کو یہ بتانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی کہ اس پیکج کا اطلاق صرف ٹیکسٹائل پر نہیں بلکہ دیگر بہت سی صنعتوں پر بھی ہوتا ہے۔ جب بات کھل کر بیان کی گئی۔تب بچا ہی کیا تھا۔ جب پاکستان کی سیاسی صورتحال ہماری برآمدات پر بری طرح اثر انداز ہو رہی تھی۔ وفاقی وزارت خزانہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جون 2013ءمیں ملک اندرونی قرضوں کا بوجھ 8.7 ارب ڈالر تھا۔ جسے گزشتہ دور میں 4.8 ارب ڈالر اضافے کے ساتھ 13.5ارب ڈالر تک پہنچا دیا گیا۔ بیرونی قرضوں کا حجم 36ارب ڈالر تھا۔ جس میں سے اس عرصے میں تقریباً 18ارب ڈالر کی ادائیگیاں کر دی گئیں۔ جبکہ اسی عرصے میںمزید 17.7 ارب ڈالر کا نیا قرضہ حاصل کر لیا گیا۔ وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق نئی حکومت کو 4.5ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کرنا ہوں گے جبکہ مالی سال2019ءمیں 4.9، 2020ءمیں 6.9، 2021ءمیں 4ارب اور 2022ءمیں 5.2 ارب ڈا لر کے پرنسپل کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ مارک اپ جس کے بارے میں موجودہ حکومت کہتی ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔جب گزشتہ حکومت اپنا اقتدار ختم کر کے گئی تھی اس وقت ابھی مارک اپ ان قرضوں پر شروع بھی نہیں ہوا تھا۔ یہ تحفہ تو آنے والی حکومت کیلئے تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں