پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے تعلیمی وعدے اور حقیقت

Education
EjazNews

پاکستان تحریک انصاف کے تعلیمی وعدے
دوسری جماعتوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف نے بھی سماجی شعبے میں انقلابی اصلاحات لانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے ان وعدوں پر عملدرآمد کرنے میں کتنی کامیاب ہوئی۔ اس بارے میں ان کا منشور پڑھنے کے بعد کچھ سوچتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے پاکستان میں خود مختار یکساں تعلیمی نظام بنانے کا وعدہ کیا۔ ذریعہ تعلیم اردو یا مقامی زبان تجویز کی گئی۔ ہر صوبہ میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں 8ویں جماعت تک اردو اور مقامی زبان میں تعلیم دینے کا وعدہ کیا۔ 8ویں سے 10ویں تک انگریزی اور جماعات اور پیشہ ورانہ تعلیم بھی انگریزی میں دینے کا وعدہ کیا۔ پہلی سے 12جماعت تک انگلش کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کر نے کا وعدہ کیا۔ تعلیم پر اخراجات کو جی ڈی پی کے دو فیصد سے بڑھا کر 5فیصد کرنے کا وعدہ کیا۔تعلیمی خدمات کی فراہمی میں مرکزیت کو ختم کر کے بھرتیوں کے تمام اختیارات ضلعی سطح پر منتقل کرنے کا وعدہ کیا۔ سکول کمیٹیاں بنانے اور غریب طالب علموں کو نجی تعلیمی سکولوں میں تعلیم دلوانے کے لیے ووچر سکیم کا وعدہ کیا لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دے کر 5سال میں لڑکیوں کے ہائی سکول کو دگنا کرنے اور سرکاری شعبے کے درجات میں اضافہ اور انہیں جدید خطوط پر استوار کرنے کا پروگرام بھی پیش کیا ۔ کالجوں کو چلانے کے لیے ان کے انتظامی معاملات میں مقامی افراد کو شریک کرنے اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے کھیلوں اور دیگر نصابی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دینے کا منشور پیش کیا۔ تعلیم بالغاں کے لیے 30سال کے ناخواندہ نوجوانوں کے لیے خصوصی فنڈ مہیا کرنے بھی وعدہ کیا ۔ خصوصی اداروں میں 20لاکھ افراد کو تربیت دے کر ہنر مند کرنے کا وعدہ کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور میں تعلیم اور حقیقت:
پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے منشور میں 301مقامات پر تعلیم کا ذکر کیا ہے۔ جس میں اس نے عوام کی تمام بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی یونیورسل اور اعلیٰ تعلیم سب کی بنیادی ضرورت ہے۔ فوڈ سکیورٹی ، رہائش، ہیلتھ کئیر ،ملازمت،محنت کش کی ملازمت کے تحفظ اور ترقی کے مثاوی مواقعوں پر یقین رکھتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے تعلیم کی ترقی کے لیے نیشنل ایجوکیشن سٹینڈر کے کونسل کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ ہر صوبہ میں بننا تھی۔ جس کے 10ہزار اساتذہ کو اور 10لاکھ طلباءکو اعلیٰ تعلیم کے لیے سکالر شپ دئیے جانے تھے۔پیپلز پارٹی نے تعلیم کا بجٹ جی ڈی پی کے ساڑھے چار فیصد کے برابر کرنے کا کہا ،اس نے اپنے نصاب سے نفرت پر مبنی مواد کے اخراج کی یقین دہانی کرائی۔ پیپلز پارٹی نے تعلیم کو بنیادی ضرورت تسلیم کرتے ہوئے اس بارے میں لا تعداد وعدے کیے۔ پرائمری ایجوکیشن پروگرام کے تحت 5سے 12سال کے بچوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سکول میں داخل کرانے کا یقین دلایا ۔ پیپلز پارٹی اس تعلیم کے مثاوی مواقعوں پر یقین رکھتی ہے اور اس پر بھی اس کا ایمان ہے کہ بیرون ملک تعلیم کے حصول پر بھی سب کا حق ہے۔ پیپلز پارٹی نے ایک لاکھ نوجوانوں کو ووکیشنل اور ٹیکنیکل ٹریننگ کے لیے پائلٹ پروگرام شروع کرانے کا یقین دلایا۔ 18ویں ترمیم کے تحت تعلیم اب صوبائی کنٹرول میں ہے تاہم یہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا مرکزی نقطہ ہے۔ بقول پیپلز پارٹی اس نے مالی سال 2011-12ءکے مقابلے میں تعلیم کے بجٹ میں 196 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 8ارب روپے تک بڑھا دیاتھا۔ پیپلز پارٹی تمام بچوں کو تعلیم دینے پر یقین رکھتی ہے اور وہ انہیں لیڈر شپ کے شعبے میں بھی آگے لائے گی اور کم از کم 6یونیورسٹیوں کی وائس چانسلر لیڈیز ہوں گی۔ پیپلز پارٹی نے اپنے منشور میں میڈیکل کی تعلیم کو ریگولیٹ کرنے کا بھی یقین دلایا تھا۔ پیپلز پارٹی نے تعلیم کے شعبے میں غربت، بے روزگاری، طبقاتی تقسیم اور جنڈر کے فرق کو ختم کر کے سب کو بلا امتیاز ہر سطح کی تعلیم کے زیور سے بہرہ مند کرنے کا یقین دلایا۔ ہر شہری کو اپنے تعلیمی اور ووکیشنل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے تمام راستے کھلے ہوں گے۔ انہیں اس سلسلے میں ہر سہولت مہیا کی جائے گی۔ حکومت تعلیمی اخراجات کو جی ڈی پی کے ساڑھے چار فیصد کے برابر کر دے گی۔ تعلیم کے شعبے میں نیشنل ایمرجنسی کی سی کیفیت ہوگی۔ اس کے لیے مو¿ثر منصوبہ بندی اور فنڈز کی فراہمی اس کا بنیادی تقاضا ہیں۔ پورے تعلیمی ڈھانچے کو یکسر بدل دینے کے لیے منظم اور مربوط طریقے سے کام کیا جائے گا۔ سکولوں کی سطح سے تعلیم کی ہر سطح پر ہر بچے کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ نصاب سے تشدد اور انتہا پسندی سے متعلق مواد کو خارج کر دیا جائے گا۔ نصاب پر انسانی حقوق ، اخلاقیات ، مذہبی رواداری ، برداشت اور کمیونٹی کی خدمات جیسا کہ حفظان صحت ، ووکیشنل ، ماحولیاتی تحفظ اور ری پروڈکشن کے شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ نصاب اور اکیڈمی کی سطح پر اصلاحات لائی جائیں گی۔مادری زبان کے علاوہ قومی زبان اور اور عالمی زبانوں میں بھی تعلیم دی جائے گی۔ مدرسہ میں اصلاحات کے ذریعے ان کے تعلیمی سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ صوبائی محکمہ تعلیم کا سیل بنایا جائے گا۔ اس سلسلے میں چاروں صوبوں میں نیشنل ایجوکیشن سٹینڈر کو نسل کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ 2018ءتک ہر بچے کو تعلیم کی سہولت دستیاب ہوگی۔ سماجی تفریق جیسی ہر رکاوٹ کو ختم کر دیا جائے گا۔ تعلیم کے شعبے میں فنڈز کی فراہمی نچلی ترین سطح پر منتقل کرنے سے کام میں بہتری اور تیزی آئے گی۔ تعلیم میں قومی ، صوبائی اور ضلعی سطح پر بدعنوانی کے خاتمے کے لیے شفاف طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ طلباءو طالبات کے درمیان شرح خواندگی کے فرق کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ تعلیمی پروگراموں کو جاب مارکیٹ کے مطابق ترتیب دیا جائے گا۔ اور محنت کشوں کے بچوں کو زیادہ سے زیادہ وظائف دینے کے لیے پروگرام بنائے جائیں گے۔ فاٹا اور بلوچستان کے طلباءو طالبات کو 10ہزار سکالر شپ دئیے جائیں گے۔ اعلیٰ تعلیم کے معیارات بلند کرنے کے لیے پاکستانی طالب علموں کو عالمی سطح کے زیادہ سے زیادہ مقابلوں میں شرکت کے مواقع مہیا کیے جائیں گے۔ ایلیمنٹری ایجوکیشن اور بیسک ہیلتھ کئیر کے شعبوں میں زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ نیشنل ایجوکیشن پالیسی سے وفاقی مدرسہ بورڈ کے ذریعے مدرسوں کو ریگولیٹ کیا جائے گا۔ پاکستان کے تعلیمی ڈھانچے کو 21ویں صدی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس پر ہر انداز سے نظر ثانی کی جائے گی۔ اور بنیادی تبدیلیاں لا کر تعلیم کو عالمی معیار کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔
اس مضمون میں ہم نے ان دو جماعتو ں کے منشور لیے ہیں جو اقتدار میں ہیں ۔الیکشن کے موقع پر پیش کیے گئے منشور اور زمینی حقائق کو اگر دیکھا جائے تو سمجھ نہیں آتی کہ سچ کہاں ہے؟ ۔ اقتدار میں آنے سے پہلے اور اقتدار میں آنے کے بعد ہماری حکومتیں کیا کررہی ہیں یہ آپ اپنے ارد گرد کے تعلیمی ماحول سے اندازہ لگا لیجئے ۔ بچوں کے تعلیمی سال ضائع ہو گئے ہیں ۔ سکول کے بچے گھروں میں بیٹھے ہیں اور کوئی ایسا قابل عمل طریقہ اختیار نہیں کیا جاسکا جس سے پاکستان کے مستقبل کو محفوظ رکھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں