پاکستان اور انڈیا :ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں کا بھرم رکھ لیا

Trum_modi_evanka

ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے دورے پر ہیں۔ بھارت بھر میں اسے بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے اور اس کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے اور ملنی بھی چاہیے کیونکہ تھرڈ ورلڈ میں جب بھی کوئی امریکی صدر آتا ہے تو اسی طرح کی پذیرائی ملتی ہے۔ امریکی صدر نے دورہ بھارت کے دوران دنیا کے بڑے کرکٹ سٹیڈیم میں خطاب کیا ۔ انڈین میڈیا کے مطابق اس سٹیڈیم میں ایک لاکھ تک لوگ موجود تھے۔ امریکی صدر نے ریاست گجرات کےشہر احمد آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور بھارت دہشت گردوں کو روکنے اور ان کے نظرئیے سے لڑنے کے لیے پرعزم ہیں، اسی وجہ سے جب سے دفتر سنبھالا ہے۔ میری انتظامیہ پاکستانی سرحد سے آپریٹ ہونے والی دہشت گرد تنظیموں اور عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان کے ساتھ بہت مثبت انداز میں کام کر رہی ہے۔ ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں، جس کا سہرا ان کوششوں کو جاتا ہے، ہم پاکستان کے ساتھ بڑی پیش رفت کے آثار دیکھنا شروع ہوگئے ہیں اور ہم کشیدگی میں کمی، وسیع استحکام اور جنوبی ایشیا کی تمام اقوام کے لیے بہتر مستقبل کے لیے پرامید ہیں۔
اپنے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ، بھارت کو ڈرون سے لے کر ہیلی کاپٹر اور میزائل سسٹم تک دفاعی ساز و سامان فراہم کرنے کو تیار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان خلائی تعاون کو بڑھانے کے منتظر ہیں، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان ‘ناقابل یقین تجارتی معاہدہ حتمی مراحل میں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے راستوں میں بسی کچی آبادیوں کو بھی پہلے سے ہی خالی کرالیا گیا تھا جبکہ امریکی صدر کے دورے کو یادگار بنانے کے لیے ہر 10 میٹر پر انہیں خوش آمدید کہنے کے بینر آویزاں کیے گئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تقریر نے پاکستان اور انڈیا دونوں کا بھرم رکھ لیا۔ پاکستان کی تعریف کر کے انہو ں نے اپنی یہ سائیڈ متوازن کر لی اور انڈیا کو اسلحہ بیچنے اور تجارتی ڈیل کی آفر قرار کر ان کا بھرم رکھ لیا۔ بڑے ملکوں کے سربراہ جب بھی کہیں جاتے ہیں وہ ان ملکوں کے نہیں اپنے مفادات کوسب سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور یہ دنیا کی اٹل حقیقت ہے۔
دوسری جانب انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ایک بار پھر مظاہروں میں تیزی آئی ہے جس کے نتیجے میں مسلسل تشدد واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ سے کہا ہے کہ وہ دہلی میں امن و امان بحال کرائيں۔ دہلی پولیس ریاست کی بجائے مرکزی حکومت کے ماتحت کام کرتی ہے اور وزارت داخلہ کو رپورٹ کرتی ہے۔اس وقت کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا جب شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں نے ایک سڑک کو بلاک کر دیا۔ سوشل میڈیا پر جو تصاویر اور ویڈیوز سامنے آرہی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ پتھراؤ اور آتشزدگی کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔گذشتہ سال دسمبر کے دوسرے ہفتے میں شہریت کے متنازع قانون کی پارلیمان سے منظوری کے بعد سے دہلی کے مختلف علاقوں بطور خاص جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ میں مستقل مظاہرے ہو رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں