پاکستانی معیشت پر کرونا کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے؟

corona_virus_pakistan

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے کرونا وائرس سےہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔اس ہلاکت کو مشتبہ طور پر کرونا وائرس سے جوڑا جاسکتا ہے کیونکہ اس شخص کی عمر کے لحاظ سے جو بیماریاں بتائی جارہی ہیں وہ ضروری نہیں ہے کرونا ہی ہو۔ دوسرا اس شخص کا کرونا کا ٹیسٹ بھی نہیں ہوا ۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمٰن نے پریس کانفرنس کے دوران گلگت بلتستان میں ایران سے آ ئے ہوئے مزید 10 زائرین میں کرونا وائرس کی تصدیق کی۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 13 ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہزار کمروں پر مشتمل ہوٹلز کو کرونا سے متاثرہ افراد کے لیے مخصوص کیا گیا ہے جبکہ کرونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مقامی سیاحوں کے لیے تین ہفتے کی پابندی عائد کر دی ہے، غیر ملکی سیاحوں کو سرٹیفیکیشن کے بعد داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ 21 مارچ سے تمام مارکیٹیں بند ہوں گی۔
بعض عالمی اقتصادی ماہرین اورمالیاتی اداروں کے خیال میں پاکستان کی معیشت بھی اس وبا سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ نے پاکستان کواس وبا سےکم متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے۔تاہم رپورٹ کے مطابق بدترین صورت حال میں پاکستان کی معیشت کو کرونا وائرس کی وبا سے پانچ ارب ڈالرز تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جن شعبوں کو زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ان میں زراعت، کان کنی، ہوٹلز اور ریستوران، تجارت، ذاتی اور عوامی خدمات کے شعبے، کاروباراور تجارت، ہلکی اور بھاری مینوفیکچرنگ اور ٹرانسپورٹ شامل ہیں۔اے ڈی بی کے علاوہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی ایک ٹیم نے بھی پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران کرونا وائرس سے پاکستان کی معیشت کے متاثر ہونے سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس وبا نے دنیا بھر میں خوف و ہراس کی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ انسانی جانوں کے زیاں کے علاوہ اس مہلک وبا کے باعث کئی ملکوں کی معیشتوں پر بھی برے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔اقتصادی ماہرین کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا کی معیشتوں پر بدترین اثرات کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں۔
کرونا وائرس نے دنیا بھر میں سب سے پہلے سیاحت سے منسلک شعبوں کو متاثر کیا ۔مختلف ممالک نے اپنی سرحدوں پر آمدورفت کی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ کئی دیگر ممالک بھی ایسی پابندیا ں عائد کرنےپر غور کررہے ہیں۔شہری ہوا بازی کے کئی اداروں کے آپریشنز مختلف حکومتوں کے فیصلوں کی وجہ سے محدودہوگئے ہیں ۔ پاکستان میں بھی اکثر ٹریول ایجنٹس کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نقصان اٹھا رہے ہیں اور سخت پریشان ہیں۔
زیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ کرونا کے مریضوں کی تعداد 247ہو گئی ہے ، وفاقی دارالحکومت میں7، پنجاب میں9، سندھ میں 183، خیبر پختونخوا میں 19 مریض رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ بلوچستان میں 15،آزاد کشمیر میں ایک اور گلگت بلتستان میں 13کیس سامنے آئے ہیں۔
کرونا وائر س سے بچائو کی احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے تمام صوبے احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں اور عوامی سطح پر بھی کسی حد تک اس سے بچائو کیلئے تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔ تمام صوبوں میں مارکیٹوں، سینما گھروں ، مالز ، بیوٹی پارلز ، تعلیمی اداروں پر جو پابندیاں عائد ہو رہی ہیں اس کے معیشت پر اثرات مرتب ہونے ہی ہیں۔ لیکن یہ احتیاطی تدابیر بھی ضرور ی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں