پاکستانیوں کی چائے اور پرخلوص محبت کو میں کبھی فراموش نہیں کر سکتی:روشیوا وٹرو

Rocio_Otero
EjazNews

دنیاکے 184سے زائد ممالک میں تقسیم ہے۔ چھوٹے چھوٹے علاقے اور جزائر اس کے علاوہ ہیں۔ مختلف ممالک میں پاسپورٹوں کی پابندیاں عائد کر کے دوسرے ممالک کی نقل و حمل کو اپنے ملک میں محدود کر رکھا ہے۔ مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان سرحدی حدود قیود کے پابند نہیں اور وہ دنیا کے ہر حصے میں گھومنے پھرنے میں ہی اپنی خوشی محسوس کرتے ہیں یہی ان کی زندگی ہے اور یہی ان کے نزدیک ان کی زندگی کا مقصد ہے۔ وہ جہاں جا تے ہیں پیار بانٹتے ہیں انہی کی رنگ میں رنگ جاتے ہیں انہی کا لباس پہنتے ہیں اور ان کی خوراک کھاتے ہیں ۔
ایسی ہی ایک شخص سپین میں پیدا ہوئیں۔ اس کا نام روشیو اوٹرو (Rocio Otero) ہے۔اس کے گاﺅں کی سرحدیں پرتگال سے ملتی ہیں اور بچپن میں ہی وہ پرتگال بھی نکل جایا کرتی تھی۔ یہاں سے و ہ لڑکپن میں ہی جنیوا چلی گیی اور جنیوا کی سرحدیں فرانس سے ملتی ہیں وہ یورپی یونین کے ممبر ملک کی شہری تھی۔اسی لیے لڑکپن میں وہ یورپی ملکوں میں آزادانہ گھومتی رہی۔ اس کے نزدیک ان دیکھی دنیا کی سرحدیں بے معنی ہیں۔ وہ ذہنی طور پر اپنے آپ کو سرحدوں میں قید نہیں رکھ سکتا۔ کیونکہ اس کا بچپن ہی کسی سرحدی حد بندی کے بغیر مختلف ممالک میں گزرا۔ اور کسی ملک نے اسے آنے جانے سے نہ روکا۔طاقتور ممالک کے شہری اپنی اہمیت کے باعث کہیں بھی آسانی سے جاسکتے ہیں ان کا پاسپورٹ کمزور ممالک کی بانسبت زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور انہیں دوسرے ممالک کی طرح زبردست تفتیشی عمل سے نہیں گزرنا پڑتا ۔
مختلف سرحدوں میں گھومنے پھرنے کے لیے آپ کے پاس مناسب دولت ہونا چاہیے۔ لیکن اتنی ضروری بھی نہیں۔ آج کل معیشت عالمی رخ اختیار کر چکی ہے لہٰذا ایک بٹن دبا کر آپ کہیں بھی پیسہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ امیگرینٹس ، سیاحوں اور بے گھر مہاجرین کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

جب میں انہیں پاکستان کے چھوٹے چھوٹے دیہات میں اپنے سفر کی داستان سناتا ہوں تو ان کے چہرے پر انتہائی خوشی اور محبت بکھر جاتی ہے۔ اور میں ان لمحات کو بھلا نہیں سکتی۔

یکم مئی 2017ءکو مجھے پاکستان کی دوسری سرحد پار کر نے کا موقع ملا اس مرتبہ میں یوم مئی کے موقع پر خنجراب کے راستے چین سے پاکستان میں د اخل ہوا تھا۔ یوم مئی کی تعطیل کی وجہ سے بیشتر دکانیں بند تھیں جبکہ ٹریفک بھی برائے نام تھی۔ یہاں خنجراب کی سرحد پر واہگہ جیسا منظم گیٹ وے نہ تھا۔ یہاں اربوں ڈالر کا سی پیک منصوبہ روبہ تکمیل ہے۔ لیکن اس کے باوجود گیٹ وے پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہاں شہر بھر میں انٹر نیٹ کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ البتہ میں نے وادی گوجال میں انٹرنیٹ کی سہولت استعمال کی ۔ میں لگ بھگ دو گھنٹے وہاں ایک مرکز میں موجود رہا۔ اسی عرصے میں بجلی بند ہو گئی۔ یہاں بھی انتظار کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا۔ یہاں سے میں سوست چلا گیا۔ سوست در حقیقت ابھرتا ہوا نیا کاروبار ی مرکز ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ اسی راستے سے چین میں داخل ہوتے ہیں۔ چین کا صوبہ ین یانگ ان کی دلچسپی کا مرکز ہے۔ یہاں کے مقامی باشندے اچھے تعلیم یافتہ اور تجارت میں مہارت رکھتے ہیں۔ گلگت اور بلتستان سے کافی بڑی تعداد میں لوگ محنت مزدوری کے لیے یہاں آجاتے ہیں۔ قراقرم ہائی وے بھی اس سے زیاد ہ دور نہیں۔ چین اور پاکستان کو ملانے کے لیے یہ ایک پرانی شاہراہ ہے۔ چین میں داخل ہونے سے پہلے میں نے وادی زوو داخون میں قیام کیا۔ یہ بارڈر پر آخری پاکستانی بستی ہے۔ اس سے 30کلو میٹر کے فاصلے پر افغانستان شروع ہو جاتا ہے۔
سوست سے لگ بھگ 40کلو میٹر شمال مغرب میں چپروسان (Chapursan)واقع ہے۔ یہ ملک کے دوسرے حصوں سے تقریباً کٹا ہوا ہے اور الگ تھلگ سا علاقہ ہے۔ شہر ی زندگی کے اثرات اس پر زیادہ مرتب نہیں ہوئے۔ لوگ یہاں صدیوں پرانے طور طریقے سے ہی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور زرعی مصنوعات کا تبادلہ ہے۔ جبکہ دوسرے علاقوںسے وقتی طور پر بھی لوگ یہاں آجاتے ہیں اور یہاں کے لوگ بھی دوسرے علاقوں میں چلے جاتے ہیں ۔ یہاں میں نے ایک دیوار پر لکھا دیکھا لائیو ود آﺅٹ بارڈر ( Live without borders) یہ جملہ جلی حروف میں عالم جان داریو کے گیسٹ ہاﺅس پر لکھا تھا۔ یہی دراصل زوو داخون میں میرا میزبان تھا۔ یہاں دیوار پر افغان پہاڑوں کی منظر کشی کی گئی تھی۔ ڈاریو الگ تھلگ آبادی میں رہنے کے باوجود اپنے خطے کی صورتحال سے پوری طور پر آگاہ تھا۔ اسے تاجکوں کے بارے میں بھی علم تھاجو وادی چپروسان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے واخان میں بھی رہائش پذیر ہیں۔ ڈاریو نے کہا کہ ”یہ تو ہمارے جیسے ہیں یہ سرحد پار ادھر ادھر چراگاہوں میں پھرتے رہتے ہیں لائف سٹاک ان کا ذریعہ معاش ہے کچھ کا تعلق کرغز قبائل سے ہے۔مگر یہ واخان کے پامی ریجن میں مقیم ہیں یہ دنیا کے چند بلند ترین مقامات میں سے ایک ہیں اور اس پر پہنچنا انتہائی دشوار ہے۔“
مگر یہ لوگ افغانستان سے وادی چپروسان میں آتے ہیں۔ یہ بابا غوندی (Baba Ghundi)کے مرید ہیں۔ ان کا وہاں آستانہ ہے۔ یہ گھوڑوںاور دوسرے جانوروں کو بھی ساتھ لے کر آتے ہیں۔ وہ اپنے کچن کے لیے سازو سامان ، چینی ، کپڑے اور دوسری چیزی بھی یہی سے خریدتے ہیں ۔
مجھے پاکستان میں کئی مرتبہ قیام کا موقع ملا۔ اور مجھے اس علاقے سے اس قدر محبت ہوگئی کہ اب میں نے پاک چین فرینڈ شپ کی دکانوں پر جانا معمول بنا لیا۔ یہ دکانیں تشکر یان کے علاقے میں چینی سرحدکے اندر قائم ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر دکانوں کو ضلع گوجال ، گلگت بلتستان کے پاکستانی لوگ چلاتے ہیں۔ پاکستانیوں کی چائے اور پرخلوص محبت کو میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ ان کی یہ محبت چائے سے ملتی ہے اور پھر ان کے مسکراتے چہرے یہ تو اب میرے رگ و پیہ میں سرایت کر گئے ہیں۔ جب میں انہیں پاکستان کے چھوٹے چھوٹے دیہات میں اپنے سفر کی داستان سناتا ہوں تو ان کے چہرے پر انتہائی خوشی اور محبت بکھر جاتی ہے۔ اور میں ان لمحات کو بھلا نہیں سکتا۔ جب میں یہاں سے کبھی چین کی سرحد میں داخل ہوتا ہوں تو ان کی یہ مسکراہٹ اور محبت میرا پیچھا کرتی رہتی ہے۔ میں ان پاکستانیوں کو بہت مس کرتا ہوں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ جیسے پاکستان اور چین کے مابین سرحدیں محض تصوراتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں