پارکسنز(رعشہ) بارے مفید معلومات

old-man-health

اس مرض کو رعشہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہمارے دماغ میں پائے جانے والے ڈوپامائن (Dopamine) کیمیکل کی کمی کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے، جو بتدریج بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرض لاحق ہونے کی وجہ موروثی بھی ہوسکتی ہے اور ماحولیاتی اثرات بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ بعض کیسز میں مخصوص جراثیم کُش ادویہ کا سپرے کرنے والے افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں، تو ماضی میں سرپر کسی چوٹ کا لگنا بھی مرض لاحق ہونے کی وجہ بن سکتا ہے۔ پارکنسنز کا عارضہ زیادہ تر60سال سے زائد عمر کے افراد کو متاثر کرتا ہے۔
مرض کی اہم علامات میں جسم کے عضلات میں تھرتھراہٹ یا رعشہ، حرکات کی کمی ، جسمانی اعضاء میں سختی، اکڑن (Rigidity) اور چال ڈھال کا غیر متوازن ہوجانا شامل ہیں۔ عمومی طور پر مرض کی ابتداء جسم کے کسی بھی عضو، خصوصاً ہاتھ کے لرزنے سے ہوتی ہے، مگر کام کے دوران اور گہری نیند میں ازخود ختم بھی ہو جاتی ہے۔ پھر جوں جوں مرض بڑھتا ہے، ہاتھوں، پیروں کے عضلات مسلسل لرزتے رہتے ہیں، خاص طور پر شہادت کی انگلی اور انگوٹھا تو آپس میں رگڑ کھاتے رہتے ہیں، جسے طبّی اصطلاح میں “Pin rolling movement” کہا جاتا ہے۔ عضلات کے مسلسل لرزنے کے سبب مریض کے روزمرّہ معمولات متاثر ہو جاتے ہیں۔ اُسے لکھنے پڑھنے، سینے پرونے، نہانے، لباس تبدیل کرنے، کھانے پینے میں دشواری پیش آتی ہے۔ اس کے برعکس سائیکل، موٹربائیک پر آسانی سے سوار ہوسکتے ہیں، سیڑھیاں پھلانگ سکتے ہیں، مگر پیدل چلنے میں توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہاتھوں پیروں کے عضلات میں سختی اور تنائو دراصل پٹّھوں اور گوشت کے مسلسل کھنچائو کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو یوں لگتا ہے، گویا عضلات گوشت پوست کی بجائے دھات کے بنے ہوں۔ یہ علامت طبّی اصطلاح میں “Lead pipe Rigidty” کہلاتی ہے۔ پھر عضلات اور پٹّھوں کی اکڑن کے سبب جوڑوں میں بھی درد شروع ہو جاتا ہے۔ ابتداء میں یہ عضلات اور پٹّھوں کی سختی گردن اور دونوں کندھوں تک محدود رہتی ہے، بعدازاں چہرے کے عضلات بھی سخت اور ساکت ہوجاتے ہیں جبکہ شدّت بڑھ جانے کی صورت میں پورے جسم کے عضلات متاثر ہوتے ہیں اور مریض تقریباً چلنے پھرنے سے محتاج ہو جاتا ہے۔
پارکنسنز سے متاثرہ مریض توازن برقرار نہ رکھنے کے سبب اکثر گر کر فریکچر کا شکار بھی ہوتے رہتے ہیں۔ گلے کےعضلات میں سختی کے باعث کھانا کھانے میں سخت دقت پیش آتی ہے، جب کہ آنکھوں کے پپوٹے بھی ساکت ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی خوشی، غمی کی خبر کا چہرے پر کوئی تاثر نہیں اُبھرتا۔ یہ مریض کئی جسمانی اور ذہنی عوارض میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً تھکاوٹ، درد، معدے اور مثانے کے مسائل، جِلد کا خشک ہو جانا، چکر آنا، رال ٹپکنا، موڈ کی خرابی، خیالات کی بے ترتیبی، ڈیپریشن، اینزائٹی اور ڈیمینیشیا وغیرہ۔ علاوہ ازیں، مریض کی قوّتِ فیصلہ ختم ہوجاتی ہے۔ ذہنی دبائو بڑھ جاتا ہے، گھبراہٹ کے دورے پڑتے ہیں، بعض اوقات اہلِ خانہ اور دوست احباب سے بھی لاتعلقی اختیار کرلیتا ہے۔ تنہا وقت گزارنا معمول بن جاتا ہے، بسا اوقات دِل خودکشی کی جانب مائل ہوجاتا ہے۔50فی صد مریضوں میں وسوسے، واہمے اور خام خیالیاں جنم لے لیتی ہے۔ گفتگو سپاٹ اور جذبات سے عاری ہو جاتی ہے۔ ایسے مریض راتوں کو جاگتے اور دِن بَھر اونگھتے رہتے ہیں۔ کھڑے ہونے پر بلڈ پریشر لو ہو جاتا ہے اور کثرت سے پسینہ آنے لگتا ہے۔ جسم میں سنسناہٹ محسوس ہوتی ہے اور لگتا ہے کہ جیسے جسم میں سوئیاں چبھ رہی ہوں۔ قبض کی شکایت رہتی ہے، جب کہ سونگھنے اور دیکھنے کی حِس کمزور ہو جاتی ہے۔
مریض کی علامات، اہلِ خانہ سے مریض کے معمولات جاننے، فیملی ہسٹری لینے اور طبّی معائنے کے ذریعے مرض کی تشخیص ممکن ہے، جب کہ بعض اوقات سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن ان مریضوں کے سی ٹی اسکین کی رپورٹ اکثر نارمل ہی ہوتی ہے۔ تشخیص کے ضمن میں مریض ہی نہیں، اہلِ خانہ پر بھی یہ ذمّے داری عائد ہوتی ہے کہ معالج کو بیماری سے متعلق مکمل اور درست معلومات فراہم کی جائیں۔ تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوانی میں کی گئی ورزش، بڑھاپے میں ہونے والے اس عارضے کے خطرات کس حد تک کم کر دیتی ہے، جب کہ وٹامن سی، ای اور کیلشیم چینل بلاکرز (Calcium Channel Blockers) ادویہ کا استعمال مرض سے محفوظ رکھنے میں مؤثر ثابت ہوتا ہے، لیکن ان کا استعمال معالج کے مشورے کے بغیر ہرگز نہ کیا جائے۔جہاں تک علاج کا تعلق ہے، تو بدقسمتی سے تاحال کوئی ایسا علاج دریافت نہیں ہوسکا، جو مرض کا مکمل طور پر خاتمہ کرسکے۔ تاہم، مخصوص ادویہ، مختلف تھراپیز (مثلاً اسپیچ تھراپی، آکوپیشنل تھراپی وغیرہ) اور سرجری کے ذریعے مرض کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، برس ہا برس سے علاج کے ضمن میں ایک مخصوص دوا بھی مستعمل ہے۔ مرض کی حتمی تشخیص کے بعد اس دوا کے استعمال میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اگرچہ اس کی دریافت کے بعد سرجری کا رجحان نسبتاً کم ہوگیا ہے، لیکن جب مرض شدّت اختیار کر لے اور ادویہ بھی بے اثر ہو جائیں، تو پھر واحد طریقۂ علاج سرجری ہی رہ جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں