نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی

deer with his child

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ شام کا وقت قریب تھا، سبکتگین اپنے فرائض سے سبکدوش ہونے کے بعد گھوڑے پر سوار ہوا اور شہر سے نکلا، جنگل میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنے کی وجہ سے دماغ تازہ ہوا۔ اس نے اپنے خوب صورت گھوڑے کو ذرا ایڑ لگائی تو وہ ہوا کی طرح اڑنے لگا اور جلد ہی جنگل کے گھنے حصے میں پہنچ گیا تاکہ شکار کو تلاش کر سکے۔ ہر طرف گھوڑا دوڑایا مگر کوئی شکار نظر نہ آیا۔ گھوڑا دوڑا دوڑا کر جب وہ تھک گیا تو اس نے مغرب کی طرف دیکھا تو سورج غروب ہونے کو تھا۔ فوراً شہر کی طرف باگ موڑی اور آہستہ آہستہ جنگل کو طے کرنے لگا۔
ابھی وہ کچھ دور ہی گیا تھا کہ سبکتگین نے جب شکار کو دیکھا تو وہ صبر نہ کر سکا۔ اچانک اس کی نظر ایک ہرنی پر پڑی جو اپنے چھوٹے سے بچے کو کھلا رہی تھی۔ اُس نے گھوڑے کو اشارہ کیا وہ سدھایا ہوا جانور اپنے مالک کے اشارے پر اُچھلا اور ہرنی کی طرف چل پڑا۔ ہرنی نے شکاری کو دیکھا تو گھبراہٹ میں اپنے بچے کو ساتھ لے کر بھاگی خود تو بھاگ گئی مگر بچہ وہی رہ گیا۔ سبکتگین نے خالی ہاتھ جانے کے بجائے اس بچے کو پکڑ لیا جائے۔
چنانچہ وہ گھوڑے سے نیچے اترا بچے کو پکڑا۔ اس کی ٹانگیں باندھی اور گھوڑے پر رکھ کر سوار ہو گیا۔
سبکتگین جب شہر کے قریب پہنچا تو اُس نے اپنے پیچھے ایک سوگوار سی آواز سنائی دی۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اداس اور پریشان ہرنی اپنے بچے کے لیے اس کے پیچھے پیچھے آرہی تھی۔ بچے کے لیے ماں کی یہ محبت دیکھ کر سبکتگین کے دل میں رحم آگیا۔شاید اُسے اپنی ماں سے بچھڑنے کا وقت یاد آگیا۔ لہٰذا اس نے گھوڑا روکا فوراً ہرنی کے بچے کی ٹانگیں کھولیں ار اُسے زمین پر چھوڑ دیا۔
بچہ خوشی سے دوڑا اور اپنی ماں سے جاملا۔ ماں اُسے چاٹ رہی تھی پیار کر رہی تھی اور وہ کبھی کبھی سبکتگین کی طرف دیکھ کر آسمان کی طرف منہ اٹھاتی جیسے دعا مانگ رہی ہو کہ خدا تمہارا بھلا کرے تم نے میرے بچے کی جان بخش دی۔
سبکتگین نے کچھ دیر ماں اور بچے کی محبت کا یہ نظارہ دیکھا۔پھر اُس نے گھوڑے کی باگ اٹھائی اور جلد ہی شہر میں داخل ہو گیا اور اپنے گھر پہنچ گیا۔ دن بھر کا تھکا ہارا سبکتگین اپنے بستر پر نیند کے مزے لے رہا تھا کہ ایک بزرگ آئے سبکتگین کو دیکھا۔ السلام علیکم کہا اور بتایا کہ سبکتگین ہرنی کی دعا قبول ہو گئی ہے۔ اب تم اور تمہاری اولاد ایک مدت تک غزنی پر حکومت کرو گے۔ بزرگ یہ خوشخبری سنا کر چلا گیا تو سبکتگین کی آنکھ کھل گئی۔
خواب پر غور کیا مگر کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ وہ اُس خواب کو بھول جاناچاہتا تھا مگر نہ بھول سکا۔ وقت گزرتا رہا پھر وہ دن آگیا کہ حاکم غزنی فوت ہوا اور سبکتگین غزنی کا بادشاہ بن گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں