نیب آرڈیننس کا مقصد تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے:وزیراعظم عمران خان

imran-khan-sehat-card
EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں خواجہ سراہوں کیلئے صحت انصاف کارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ سراہوں پر کس طرح کی مشکلات گزرتی ہیں اس کا آپ کو اندازہ نہیں ہے۔ہم نے بطور حکومت فیصلہ کیا کہ ہم اپنی اس کمیونٹی کا احساس کریں گے۔ اس کا مطلب ہے ہماری گورنمنٹ آپ کو اپنا رہی جو بد قسمتی سے پچھلی حکومتوں نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔اور وہ خواب تھا یہاں بہترین انسانت کا نظام پیدا کرنا تھا۔ ہمیں مشکل ترین معاشی حالات ملے اس کے باوجود ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے کمزور طبقے اور مشکل میں رہنے والے انسانوں کی مد دکریں گے۔ ہیلتھ کارڈ ایسی سہولت ہے کہ اگر غریب گھرانے کے پاس پیسے نہیں ہے تو ان کو پریشانی نہیں ۔ ہیلتھ کارڈ انہیں یہ سہولت اور اعتماد دے گا کہ وہ کہیں بھی اپنا علاج کروا سکتا ہے ۔ غریب گھرانے پر جب مشکل وقت آتا ہے تو سارا پیسہ جمع کرا کے علاج کراتے ہیں، غریب افراد کینسر کے علاج کے لیے اپنا گھر اور زیور تک فروخت کر دیتے تھے اور اس گھر کا دیوالیہ نکل چکا ہوتا تھا۔ یہ تجربہ مجھے اس وقت ہوا جب میں اپنی والدہ کا علاج کروا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا ہم تمام خواجہ سراہوں کو صحت کی سہولیات اور مکمل تحفظ فراہم کریں گے۔ ہیلتھ کارڈ ہوگا تو انہیں مشکل وقت میں پریشانی نہیں ہوگی۔ ہم اپنے معاشرے میں آپ کو پوری سہولیات دیں گے۔
2020کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ہماری پوری کوشش ہے ہم پاکستان میں نوکریاں پیدا کریں اپنی انڈسٹری چلائیں۔ نیب آرڈیننس کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ یہاں پر فیکٹریاں لگائیں کاروبار چلے،نوجوانوں کو روز گار ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ یوٹیلٹی سٹورز پر انشاء اللہ لوگوں کو سستی اشیاء دیں گے،ہم راشن کارڈ بھی لارہے ہیں ۔احساس پروگرام پورے ملک میں پھیلائیں گے جبکہ راشن کارڈ بھی لارہے ہیں جس سے غریب اور مستحق افراد کو راشن ملے گا۔نوجوانو ں کو نوجوانوں کو مزید قرضے دیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں