ننھی پری ثریا

little fairy

ایک بوڑھی عورت کو اس بات کی بڑی خواہش تھی کہ میرے پاس ایک ننھی سی لڑکی ہو، وہ ایک جادوگرنی کے پاس گئی اور کہنے لگی ’’مجھے ایک ننھی لڑکی چاہئے ،تم مجھے بتا سکتی ہو کہ میں اُسے کہاں ڈھونڈوں‘‘
جادوگرنی نے کہا کہ میں ابھی اس مشکل کو حل کئے دیتی ہوں، دیکھو یہ ایک بیج ہے اسے کسی گملے میں بو دینا پھر دیکھنا اس میں تمہیں کیا اشارہ نظر آتا ہے۔
بوڑھی عورت نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اُسے معاوضہ دے کر گھر واپس آئی اور ایک گملا لے کر اُس میں وہ بیج بو دیا، یکایک ایک خوش نما پھول پیدا ہوگیا جو گل لالہ کی مانند دکھائی دیتا تھا، لیکن ابھی وہ بند تھا اور غنچہ ہی تھا۔
عورت کو یہ پھول بڑا پیارا معلوم ہوا، اُس نے اس کے خوبصورت زرد نٹھل کو چوما، اس وقت یہ پھول زور سے چٹکا ،اس کے درمیان ایک خوبصورت ننھی لڑکی بیٹھی تھی، جو صرف انگوٹھے جتنی لمبی تھی، عورت کو وہ بڑی پیاری معلوم ہوئی۔ ا س نے اس کا نام ثریا رکھا۔ بوڑھی عورت نے ناریل کے پتوں سے اس کا چھوٹا سا پنگوڑا بنایا، اس میں نیچے بنفشے کے پتے بچھا دئیے جس پر وہ سوتی تھی اور گلاب کے پھول کا ایک بڑا سا پتا اس کا لحاف تھا رات کو وہ اسی پنگوڑے میں سوتی تھی اور مزے سے گایا کرتی تھی۔
ایک رات جب وہ اپنے ننھے سے پنگوڑے میں آرام کی نیند سو رہی تھی، ایک گندی مینڈکی کھڑکی کے راستے اندر داخل ہوئی اور جھٹ پھدک کر اس پنگوڑے کے پاس جا بیٹھی جہاں سرخ پتے کے نیچے ثریا آرام سے سو رہی تھی، مینڈکی نے اسے دیکھ کر کہا یہ میرے بیٹے کی بیوی بننے کے لائق ہے۔ یہ کہہ کر اس نے پنگوڑے کو ثریا سمیت اٹھا لیا اور کھڑکی سے پھدک کر باہر بھاگ گئی ،وہاں ایک دریا بہتا تھا جس کے کنارے بہت دلدل تھی اس دلدل کے نیچے مینڈکی اور اس کا بیٹھا اکٹھے رہا کرتے تھے بیٹا بھی اپنی ماں کی طرح گندہ تھا۔
مینڈکی کے بیٹے نے دیکھتے ہی ٹرانا شروع کیا، یہ سن کر بوڑھی مینڈکی کہنے لگی اس قدر زور سے نہ بھونکو ورنہ وہ جاگ جائے گی اور ہمیں دھوکا دے جائے گی، ہم اسے دریا میں کنول کے چوڑے پتوں پر چھوڑ آتے ہیں وہ اس قدر چھوٹی ہے کہ کنول اسے ایک جزیرے کی مانند دکھائی دے گا اور وہاں سے بھاگ بھی نہیں سکتی، اسی عرصے میں ہم دلدل کے نیچے اپنے مکان میں مرمت کرلیں گے جہاں تم اور تمہاری بیوی دونوں رہوگے۔
دریا میں بہت سے کنول کھلے ہوئے تھے بوڑھی مینڈکی ایک چوڑے سے کنول کے پاس تیرتی ہوئی آئی اور ثریا کا پنگوڑا اور سب کچھ اس پر رکھ کر چل دی، ننھی ثریا صبح سویرے اٹھی اور جب اپنے آپ کو اس حالت میں پایا تو ہچکیاں لے کر رونے لگی، کیونکہ کنول کے گرد پانی ہی رہتا تھا اور وہ کسی طرح کنارے پر نہ پہنچ سکتی تھی۔ بوڑھی مینڈکی اور اس کا بیٹا دلدل کے نیچے کا م میں مشغول تھے اس نے کمرے کو خوب سجایا اور پھر وہ اور اس کا گندہ بیٹا تیر کر اس کنول کے پاس گئے جس میں ثریا لیٹی تھی وہ اس کا خوبصورت بستر لانا چاہتے تھے کیونکہ انہوں نے شادی سے پہلے اسے کمرے میں رکھنا تھا۔ بوڑھی مینڈکی نے ثریا سے کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے میں اس کی تمہارے ساتھ شادی کروں گی اور تم اکٹھے بڑی خوشی سے دلدل کے نیچے مکان میں رہنا۔
دونوں اس کا ننھا سا پنگوڑا اٹھا کر لے گئے لیکن بچاری ثریا اکیلی کنول پر بیٹھی روتی رہی کیونکہ وہ گندی مینڈکی کے گھر میں رہنا پسند نہ کرتی تھی ، ننھی ننھی مچھلیوں نے جو پانی میں تیر رہی تھیں مینڈکی کو دیکھ لیا اور اس کی باتیں سن لیں، انہوں نے پانی سے سر نکال کر ننھی لڑکی کو دیکھا وہ انہیں بہت پیاری سی لگی اس لیے وہ غصے میں بھری کہنے لگیں کہ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ ایسی خوبصورت لڑکی ایک مینڈکی کے بیٹے کی بیوی بنے ۔ اس لئے وہ کنول کے سبز تنے کے گرد تیرنے لگیں اور اسے کاٹ دیا، کنول نے ثریا سمیت تیرنا شروع کیا اور بہت دور نکل گیا جہاں مینڈکی کا باپ بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔
ایک ننھی تتلی نے اسے دیکھا اور پھول کے پتے پر بیٹھ گئی ،ثریا بڑی خوش تھی کیونکہ اب مینڈکی اسے پکڑ نہ سکتی تھی، سورج کی روشنی پانی پر سونے کی مانند چمک رہی تھی اور ثریا بڑی خوشی سے اپنا سفر کر رہی تھی اس نے اپنا کمر بند پکڑ کر اس کا ایک سر اتتلی کے گرد باندھ دیا اور دوسرا سرا پھول کے پتے کے ساتھ باندھ دیا اب کنول آگے سے زیادہ تیز چلنے لگا، یکایک ایک بگلے نے ثریا کو دیکھا جھٹ اپنا پنجہ ثریا کی ننھی کمرے میں ڈال کر اڑا اور درخت پر جا بیٹھ اب بیچاری تتلی اور کنول ویسے ہی دریا میں تیرتے جارہے تھے۔ ثریا کو تتلی کا بڑا غم تھا جسے اس نے کنول کے ساتھ باندھ دیا تھا لیکن بگلے نے ذ را غم نہ کیا وہ ثریا کو لے کر اپنے گھونسلے میں بیٹھ گیا اور پھول میں سے تھوڑا سا شہد لے کر اسے کھانے کو دیا۔
اس کے بعد دوسرے بگلے بھی ثریا کو دیکھنے آئے جو درخت پر رہتے تھے انہوں نے ثریا کو دیکھ کر اپنے سر ہلائے اور کہنے لگے اس کی بھی دو ٹانگیں ہیں یہ کیسی خوفناک معلوم ہوتی ہے۔ اس کی چونچ بالکل نہیں، دیکھو تو کمر کتنی چھوٹی ہے یہ تو بالکل انسان کی مانند دکھائی دیتی ہے یہ بہت گندی ہے۔ سب بگلوں نے اسے یہی کہا، لیکن وہ بگلا اسے بد صورت خیال نہ کرتا تھا جو اسے لایا تھا اب جب سب نے اسے گندہ کہا تو وہ بھی قائل ہوگیا اور کہنے لگا کہ یہ کسی کام کی نہیں جہاں چاہے جاسکتی ہے۔
پھر بگلا ثریا کو درخت سے نیچے اترا اور گھاس پر رکھ کر چلا گیا وہ بیٹھ کر رونے لگی کیونکہ اسے بگلوں نے بدصورت کہا تھا۔ دراصل وہ بہت خوبصورت تھی وہ گلاب کے پھول کی مانند خوشنما اور نازک تھی موسم گرما میں غریب ثریا اس جنگل میں اکیلی رہی ،اس نے اپنے لئے گھاس کا بستر بنایا اور ایک بڑے سے پتے کے ساتھ لٹکا دیا تاکہ اس پر مینہ نہ برسے۔
اس نے اپنے کھانے کو شہد اکٹھا کر لیا اور پینے کی جگہ شبنم پیتی اسی طرح ساری گرمیاں گزر گئیں ۔اب جاڑاآگیا وہ پرندے جو بہت اچھا گاتے تھے اڑ گئے۔ پھول مرجھا گئے، درخت کے پتے جھڑ گئے، وہ بڑا سا پتا جس کے نیچے ثریا رہتی تھی سوکھ کر زرد ہو گیا اور اسے بڑی سردی لگی کیونکہ اب اس کے کپڑے پھٹ گئے تھے اور وہ اس قدر ننھی اور نازک تھی کہ اس کے مر جانے کا خطرہ تھا۔ اسے بڑی تکلیف ہوئی اس نے اپنے آپ کو ایک سوکھے پتے سے ڈھانپ لیا لیکن اس سے سردی نہ گئی۔
جنگل کے پاس ہی ایک چھوٹا سا کھیت تھا لیکن اس میں کوئی پودا نہ تھا کیونکہ مدت ہوئی فصل کٹ چکی تھی۔ اب صرف چند پودوں کے ٹنڈ کھڑے تھے ،ثریا سردی سے کانپتی ہوئی اس کھیت میں پہنچی اسی کھیت میں جنگلی چوہیا کا گھر تھا جو بڑا گرم اور غلے سے بھرا ہوا تھا، چوہیا کے پاس ایک عمدہ باورچی خانہ اور غلے کا ذخیرہ تھا۔ غریب ثریا چوہیا کے دروازے پر گئی اور ایک فقر کی مانند بھیک مانگنے لگی کیونکہ وہ دو دن سے بھوکی تھی، چوہیا نے کہا ننھی بچی میرے گرم مکان میں آجائو اور میرے ساتھ آرام سے رہو اور کھائو پیو، ثریا اندر داخل ہوئی تو چوہیا کہنے لگی میں تمہیں اجازت دیتی ہوں کہ سارا موسم یہیں بسر کرو، لیکن میرے کمرے کو صاف ستھرا رکھنا اور مجھے اچھی اچھی کہانیاں سنانا کیونکہ میں کہانیوں کی بڑی شوقین ہوں۔
ثریا چوہیا کے گھر میں رہنے لگی اور جو کچھ چوہیا کہتی وہ بڑی خوبی سے کر دیتی، چوہیا اس سے بڑی خوش ہوئی اور ایک دن کہنے لگی آج ہمارے ہاں ایک مہمان آئے گا۔ میرا پڑوسی ہے ہفتہ میں ایک دفعہ ضرور مجھ سے ملنے آتا ہے۔ اس کے پاس مجھ سے ا چھا مکان ہے اور خوبصورت سمور کا سیاہ کوٹ پہنتا ہے اگر تم اس سے شادی کر لو تو تمہاری ساری زندگی بڑے آرام و چین سے گزرے گی، لیکن بد قسمتی سے وہ اندھا ہے اور ہاں یاد رکھو اسے بہت عمدہ کہانیاں سنانا۔
ثریا جانتی تھی کہ اس کا پڑوسی ایک موٹا تازہ چوہا ہے جو چوہیا سے ملنے آیا وہ امیر اور دانا معلوم ہوتا تھا اس کا مکان چوہیا سے دس گنا بڑا تھا ،ثریا نے اپنی پیاری اور سریلی آوازمیں گانا شروع کیا چوہے کو اس کی آواز بھلی معلوم ہوئی لیکن اس نے ظاہر نہ ہونے دیا کیونکہ وہ بڑا عقلمند اور دانا چوہا تھا۔
اس چوہے نے اپنے اور چوہیا کے گھر کے درمیان راستہ بنایا ہوا تھا اس نے ثریا اور چوہیا کو اپنے مکان میں چلنے کو کہا۔ تینوں چل پڑے، تھوڑی دور جا کر چوہے نے زمین میں سے ایک سورخ کا منہ کھول دیا سورج کی روشنی اندر آنا شروع ہوئی اور ثریا نے دیکھا کہ زمین پر ایک مردہ پرندہ پڑا ہے اس کے خوبصورت پر سکڑے ہوئے ہیں اور اس کا سر اور ٹانگیں اندر کو گھسی ہوئی ہیں۔ ثریا نے چوہے سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہ بچارا ابابیل ہے جو سردی سے ٹھٹھر کر مر گیا ہے۔
ثریا کو اس کا بڑا غم ہوا اور تمام ننھے ننھے پرندوں کی بڑی شوقین تھی کیونکہ وہ سارا موسم گرما اسے گانا سناتے رہے تھے۔ چوہے نے زور سے ابابیل کو ایک لات ماری اور کہا کم بخت اب زیادہ نہ گائے گا۔ دنیا میں ننھا پرندہ تو پیدا ہونا ہی نہیں چاہئے۔ خدا کا شکر ہے کہ میرے گھر میں ایسا کوئی بچہ نہیں۔ ایسے پرندوں کو سوائے شور مچانے کے دنیا میں اور کچھ کام ہی نہیں ان بے وقوفوں کو ضرور مرنا ہی چاہئے۔ جنگلی چوہیا نے کہا کہ تم عقلمند ہو کر ایسی باتیں کرتے ہو ایک پرندے کے پاس سوائے گانے کے اور دھرا ہی کیا ہے۔
ثریا نے ایک لفظ تک نہ کہا لیکن جونہی دونوں پیٹھ پھیری وہ ابابیل پر جھک گئی اور اس کے پروں کو ہٹا کر اس کی آنکھوں کو چوما اور کہنے لگی شاید یہ وہی خوبصورت پرندہ ہے جو ساری گرمیاں مجھے اپنا میٹھا گانا سناتا رہا ہے۔ اب چوہے نے وہ سوراخ بند کردیا جس میں سے روشنی آتی تھی اور اپنے کمرے کی طرف چلا رات کو ثریا نہ سوئی وہ اپنے بستر سے اٹھی سو کھی گھاس کا ایک کمبل لے کر تہہ کیا اور اپنے ساتھ لے کر مردہ ابابیل کی طرف آئی اور اس کے گرد لپیٹ دیا تاکہ اسے سردی نہ لگے اور کہنے لگی الوداع میرے پیارے ننھے پرندے الوداع میں تمہارے اس گانے کا شکریہ ادا کرتی ہوں جو تم ساری گرمیاں مجھے سناتے رہے ہو جب ہر طرف بہار تھی اور سورج کی روشنی بڑی پیاری معلوم ہوتی تھی ۔ پھر اس نے اپنا سر پرندے کی چھاتی پر لگا دیا لیکن بہت حیران ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اس کے اندر کوئی چیز ٹکٹ ٹک کر رہی ہے یہ پرندے کا دل تھا وہ دراصل مرا نہیں تھا بلکہ ایک غشی کی حالت میں تھا لیکن اسے گرمی پہنچی تو وہ ہو ش میں آگیا سردیوں میں ابایل گرم ملکوں کو چلے جاتے ہیں۔ اگر کوئی رہ جائے تو اسے اتنی سردی لگتی ہے کہ وہ مردہ کی طرح گر پڑتا ہے۔
ثریا کانپ گئی کیونکہ وہ اس سے بڑا تھا ۔ لیکن اس نے ہمت کر کے کمبل اور مضبوطی سے باندھ دیا دوسری رات وہ پھر چپکے چپکے اس کے پاس آئی اور دیکھا کہ وہ زندہ ہے لیکن اس قدر کمزور ہے کہ اس نے صرف ایک منٹ کے لئے ثریا کی طرف دیکھا اور کہا کہ میری ننھی بچی! میں تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں اب میں بہت گرم ہوں میں بہت جلد ہی طاقتور بن جائوں گا اور اس قابل ہو جائوں گا کہ گرم روشنی میں چلا جائوں۔ ثریا نے کہا نہیں ابھی نہیں باہر سردی ہے یہیں اپنے گرم بستر میں لیٹے رہو میں تمہاری خدمت کرتی رہوں گی۔
پھر اس نے ایک پتے میں تھوڑا سا پانی لا کر دیا ابابیل نے پی کر کہا میرا ایک پر کانٹے دار جھاڑی سے کٹ گیا تھا۔ اس لئے میں دوسرے ابابیلوں کے ساتھ گرم ملک میں نہیں جاسکا اور زمین پر گر پڑا پھر مجھے یاد نہیں کہ میں کس طرح یہاں پہنچا۔ سارا موسم ابابیل ثریا کے پاس رہا اور وہ اس کے ساتھ محبت اور مہربانی سے پیش آتی رہی۔ چوہے اور چوہیا کو اس کے متعلق کچھ خبر نہ تھی۔ جونہی بہار آئی اور سورج نے زمین کو گرم کیا تو ابابیل نے ثریا سے رخصت مانگی اس نے وہ سوراخ کھول دیا جو چوہے نے کھود رکھا تھا اس وقت سورج بڑی شان سے چمک رہا تھا۔ ابابیل نے ثریا سے کہا تم میرے ساتھ چلو گی میں تمہیں اپنی پیٹھ پر بیٹھا کر سرسبز جنگل میں لے چلوں گا ۔ثریا نے جواب دیا نہیں میں نہیں جاسکتی اگر میں چلی گئی تو جنگلی چوہیا کو بڑا صدمہ ہوگا۔ ابابیل نے کہا کہ الوداع پیاری ثریا، الوداع۔ یہ کہہ کر ابابیل اڑ گیا ، ثریا اسے دیکھتی رہی اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے کیونکہ اسے ابابیل سے بڑی محبت تھی وہ گاتا ہوا سر سبز جنگل کی طرف چلا گیا اور ثریا روتی ہوئی اپنے مکان میں چلی گئی۔
ثریا کا دل سورج کی روشنی دیکھنے کو بہت چاہتا تھا لیکن چوہیا اسے اجازت نہ دیتی تھی۔ دوسرے وہ کھیت جو چوہیا کے گھر کے اوپر بویا ہوا تھا بہت اونچا ہوگیا۔جو غریب ثریا کو ایک گھنے جنگل کی مانند دکھائی دیتا تھا کیونکہ وہ انگوٹھے جتنی لمبی تھی ایک دن جنگلی چوہیا نے ثریا سے کہا چونکہ چوہے نے تمہارے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے اس لئے میں چاہتی ہوں کہ اس موسم میں تمہاری ضرور شادی کردوں تمہارے لباس میں ریشم اور اون ضرور ہونی چاہئے تاکہ جب تم چوہے کی بیوی بن جائو تو اچھے کپڑے پہنو اور اچھے بستر پر لیٹو۔ اس لئے چوہیا نے چار لڑکیاں کرایہ پررکھیں جو دن رات کپڑا بننے میں مشغول رہتیں۔ چوہا ہر شام انہیں ملنا آتا اور کہتا کہ جب موسم گرما ختم ہو جائے اور سورج اتنا گرم نہ ہوگا تو ہماری شادی ہوگی لیکن ثریا کو یہ چوہا پسند نہ تھا اسے اس سے نفرت تھی۔ جب موسم سرما شروع ہوا اور ثریا کا لباس بالکل تیار ہوگیا تو چوہیا کہنے لگی مہینے کے اندر تمہاری شادی ہو جائے گی۔
لیکن ثریا رو کر کہنے لگی میں بدصورت چوہے سے شادی نہیں کروں گی جنگلی چوہیا نے کہا بیوقوف بے عقل نہ بنو ورنہ میں اپنے سفید دانتوں سے تمہاری بوٹیاں نوچ لوں گی ایسا اچھا خاوند تمہیں کبھی نہ ملے گا اور تم کیا چاہتی ہو؟ بادشاہ کے پاس بھی ایسا کوٹ نہ ہوگا اس کے باورچی خانہ میں بہت چیزیں ہیں میں کہتی ہوں کہ تم ایسے خاوند کا شکریہ ادا کرو۔ اب بچاری ثریا شادی کرنے پر مجبور تھی اس کو یہ خیال رہ رہ کر ستاتا تھا کہ وہ چوہے کے ساتھ زمین میں رہے گی جہاں سورج کی روشنی بالکل نہیں پہنچتی وہ بہت غمزدہ تھی۔ اس لئے اس نے چوہیا سے سورج کو آخری سلام کی اجازت مانگی اور باہر آکر سورج کو آخری سلام کیا۔
پھر ایک پھول کو گلے لگا کر کہنے لگی الوداع اے پھول! اگر تمہیں کبھی پیارا ابابیل ملے تو میری طرف سے سلام کہہ دینا۔ ثریا نے یہ کہا تھا کہ اس کے سر پر ابابیل کے بولنے کی آواز آئی ثریا نے دیکھتے ہی کہا چوہیا مجھے بہت تکلیف دیتی ہے اور میری شادی اندھے چوہے سے کرنا چاہتی ہے ،لیکن میں یہ برداشت نہیں کر سکتی۔ کیونکہ وہ زمین میں اس جگہ رہتا ہے جہاں سورج کی روشنی بالکل نہیں پہنچتی۔ ابابیل نے کہا کہ اب موسم سرما آگیا ہے۔ میں گرم ملک کو جارہا ہوں کیا تم میرے ساتھ چلو گی تم میری کمر پر بیٹھ جائو پھر ہم گندے چوہے اور اس کے اندھیرے گھر کو چھوڑ کر پہاڑوں، جھیلوں اور دریائوں کی سیر کرتے گر م ملک میں چلیں گے جہاں سورج بڑی شان سے نکلتا ہے ثریا نے بڑی خوشی سے کہا ہاں میں چلوں گی۔
وہ ابابیل کی کمر پر سوار ہو گئی ابابیل پہاڑوں، جنگلوں اور دریائوں پر اڑتا ہوا گرم ملک میں جاپہنچا جہاں سورج بڑی آب و تاب سے چمک رہا تھا اور باغوں میں لیموں اور سنگترے لگے ہوئے تھے۔ گلاش اور گل حنا کی خوشبو آرہی تھی۔ سڑکوں پر ننھے ننھے بچے رنگین تتلیوں سے کھیل رہے تھے ابابیل اڑتا ہوا ایک جھیل کے کنارے پہنچا وہاں سر سبز درختوں کے درمیان ایک سنگ مر مر کا ایک پرانا محل تھا جس کے ستونوں کے گرد انگوروں کی بیل لپٹی ہوئی تھی اور انگوروں کے گچھے لٹک رہے تھے اس محل کی چھت میں ابابیلوں کے گھونسلے تھے ان میں سے ایک وہ ابابیل رہتا تھا جو ثریا کو لایا تھا۔ ابابیل نے کہا کہ یہ میرا گھر ہے لیکن تم ایک عمدہ پھول چن لو میں تمہیں وہاںبیٹھا دوں گا اور تمہیں وہاں اپنی خواہش کے مطابق خوشی حاصل ہوگی۔
ثریا نے تالی بجا کر کہا ہاں یہ بہت عمدہ بات ہے۔ زمین پر سنگ مرمر کا ایک بڑا ستون پڑا تھا جو گر کر تین ٹکڑے ہوگیا تھا اور ان ٹکڑوں کے درمیان بہت خوبصورت پھول اُگے ہوئے تھے۔ ابابیل ثریا کو لے کر اڑا اور ایک بڑے پھول میں بٹھا دیا لیکن وہ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئی کہ اسی پھول میں ایک ننھا سا بچہ لیٹا ہوا ہے جو شیشے کی طرح سفید تھا اس کے چہرے پر سونے کا تاج تھا اور چمک دار پر کندھوں پر تھے اور قدر میں وہ ثریا جتنا تھا ،ہر پھول میں کوئی نہ کوئی ایسا بچہ ہوتا ہے لیکن یہ سب کا بادشاہ تھا ثریا نے آہستہ سے ابابیل کے کان میں کہا یہ بہت خوبصورت ہے۔
ننھا شہزادہ ابابیل کو دیکھ کر بہت ڈرا کیونکہ اس کے لئے یہ بہت بڑی چیز تھی لیکن وہ ثریا کو دیکھ کر خوش ہوا ۔اس نے آج تک ایسی خوبصورت لڑکی کبھی نہ دیکھی تھی، اس نے اپنا تاج اتار کر ثریا کے سر پر رکھ دیا اور کہا اگر تم میرے ساتھ شادی کر لو تو تم پھولوں کی ملکہ بن جائوں گی۔یہ شہزادہ شوہر ہونے کے لائق تھا کیونکہ یہ مینڈکی کے بیٹے اور چوہے سے بہت مختلف تھا اور خوبصورت تھا اس لئے ثریا اس کی دلہن بننا قبول کرلیا۔
پھر ہر پھول سے ایک لڑکا یا لڑکی نکلی اور ہر ایک نے شادی کے موقعہ پر ثریا کو ایک تحفہ دیا لیکن سب سے بہتر ین تحفہ ایک سفید تتلی نے دیا۔ اس نے دو پر دئیے جو ثریا کے کندھوں پر لگا دئیے گئے تاکہ وہ ایک پھول سے دوسرے پھول تک اڑ سکے، سب نے بڑی خوشی منائی۔ ابابیل اپنے گھونسلے میں بیٹھا گاتا رہا، لیکن دل سے وہ بہت غمزہ تھا کیونکہ اسے ثریا سے بہت محبت تھی اور وہ اسے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔
اس کے بعد وہ ابابیل اڑ کر بہت دور چلا گیا اور اپنا گھونسلا اس شخص کے مکان کی کھڑکی کے اوپر بنایا جو کہانیاں لکھتا تھا وہ اسے گا کر سنایا کرتا تھا اور یہی طریقہ ہے جس سے یہ کہانی ہم تک پہنچی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں