ناجائز حرص اور امیدیں

islam_umeed

ناجائز امیدیں آخرت کو بھلا دیتی ہیں کیونکہ ساری عمر دنیا کی ترقی اور بہبود میں لگا دیتی ہیں۔ ایسی امیدوں اورآرزوﺅں کی مذمت اور ممانعت آئی ہے۔ انسان موت سے بھی آگے اپنی امید وابستہ رکھتا ہے۔ وہ مر جاتا ہے مگر اس کی امید باقی رہ جاتی ہے۔ اس کے سمجھانے کے لیے آپ نے ایک لکیر کھینچ کر سمجھایا ۔
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چوکور مربع خط کھینچا اور ایک خط اس مربع کے اندر درمیان میں کھینچا جو مربع سے باہر نکلا ہوا تھا اور پھر چھوٹے چھوٹے خطوط درمیان والے خط کے دونوں جانب کھینچے اور پھر فرمایا یہ درمیانی خط انسان ہے اور یہ مربع اس کی موت ہے جو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ (بخاری کتاب الرفاق باب فی الامل)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر انسان کے پاس مال سے بھرے ہوئے دو جنگل ہوں ،تب بھی وہ تیسرے کی خواہش کرے گا اور انسان کے پیٹ کو سوائے قبر کی مٹی کے اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور توبہ کرنے والوں کی توبہ خدا قبول فرماتا ہے۔ (مسلم کتاب الرفاق باب لو ان لا بن آدم الخ)
حضرت سفیان ثوریؒ فرماتے ہیںکہ دنیا میں زہداس کا نام نہیں ہے کہ موٹے کپڑوں کو پہن لیا جائے اور بے مزہ کھانا کھایا جائے بلکہ زہد دراصل آرزوﺅں اور امیدوں کی کمی کا نام ہے۔ (مشکوٰة )
حضرت زید بن حسین فرماتے ہیں کہ امام مالک سے دریافت کیا گیا کہ دنیا میں زہد کس کا نام ہے تو اس کے جواب میں امام مالک ؒ نے فرمایا کہ حلال پیشہ اختیار کرنا اور آرزوﺅں امیدوں کی کمی کرنا ۔ (بیہقی)
لالچ اور حرص کی وجہ سے انسان ذلیل و خوار ہو جاتا ہے اور خدا کا نافرمان کہلاتا ہے۔ قناعت بڑی چیز ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص مر نہیں سکتا یہاں تک کہ وہ اپنی روزی پوری کر لیتا ہے۔ یعنی بغیر اپنی روز پوری کیے نہیں مر سکتا۔ اللہ سے ڈرو اور روزی حاصل کرنے میں اعتدال رکھو اور روزی کی تاخیر تمہیں اس بات پرآمادہ نہ کر سکے کہ گناہ کر کے روزی حاصل کرو۔ اللہ کے یہاں کا درجہ اطاعت اور فرمانبرداری سے حاصل ہو سکتا ہے۔ (المشکوٰة ج ۳)
اور آپ نے فرمایا کہ ترک دنیا حلال کو حرام بنانے اور مال کو ضائع کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ زہد یہ ہے کہ جو کچھ تیرے ہاتھوں میں ہے (یعنی مال و دولت) اس پر بھروسہ نہ کر بلکہ اس پر بھروسہ کر جو خدا کے ہاتھوں میں ہے اور ترک دنیا یہ ہے جب تجھ پر کوئی مصیبت پڑے تو تو اس مصیبت میں ثواب کا طالب ہو اور یہ خواہش رکھ کر یہ مصیبت باقی رہے اور ختم نہ ہو تاکہ اس کا ثواب حاصل ہو ۔ (ترمذی ، کتاب الزہد باب ما جاءفی الزہادة فی الدنیا)
زہد و قناعت بڑی چیز ہے جس کو یہ دونوں چیزیں حاصل ہو گئیں وہ خدا کے مخصوص اور کامیاب بندوں میں سے ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’‘’قد افلح من اسلم و رزق کفا فا و قنعہ بما اتاہ “(مسلم کتاب الزکاة باب فی الکفا ف القناعة) اس شخص نے فلاح حاصل کر لی جس نے اسلام کو قبول کرلیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور جو چیز خدا نے اس کو دی اس پر قناعت دی۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حصول قناعت کے لیے اس دعا کوپڑھا کرتے تھے ”اللھم قنع بما رزقتنی و بارک لی فیہ وخلف علی کل غائبة لی بخیر “ اے اللہ جو چیز تو نے مجھے عطا فرمائی ہے اس میںقناعت دے اور برکت دے اور ہر غائب ہونے والی چیز پر تو بھلائی کے ساتھ میر انگہبان اور محافظ ہو جا (حاکم) قناعت دراصل بادشاہت ہے جس کو قناعت حاصل ہے اس کو دنیا کی بادشاہت حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:
ترجمہ: جس مرد عورت نے نیک کام ایمان کی حالت میں کیا تو اس کو ہم حیات طیبہ دیں گے۔ (النحل)
بعض لوگوں نے کہا کہ ”حیات طیبہ “ سے مراد قناعت ہے کیونکہ قناعت غیر فانی خزانہ ہے قناعت کرنے والا آزاد اوربادشاہ ہے۔
قناعت کو لازم پکڑو شاہانہ زندگی بسر کرو گے اس سے جسم کو راحت ملے گی۔ دنیا کے شہنشاہوں کو دیکھو کہ مرنے کے بعد سوائے کفن کے کچھ ساتھ نہ لے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں