میر جعفر اور میر صادق دنیا میں ہر جگہ ہوتے ہیں

spy
EjazNews

تلخ بری کے شاپنگ سینٹر میں بے ہوش نیم مردہ حالت میں ملنے والے سٹیپل کی کہانی کیا تھی۔ یہ 66سالہ شخص اور نیم مردہ حالت میں پائی جانے والی 32سالہ لڑکی کون سی ہے جسے لے کر پوری دنیا میں کہرام مچا تھا۔ امریکہ اور اندھا یورپ ایک طرف اور باقی یورپی ممالک دوسری طرف کھڑے تھے ۔ لگتا تھا جاسوسی کے معاملے میں پوری دنیا کی ایک نئی تقسیم کا سامنا کرنے والی ہے۔
آپ میں سے بہت سے لوگ جانتے ہوں گے جاسوس کسی ملک کی تباہی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ گھر کے اندر نقب لگتی ہے تو گھر تباہ ہوتے ہیں میر جعفر اور میر صادق کون تھے برطانوی ایجنٹوں کے علاوہ ان کی اور کیا حیثیت تھی جنہوں نے اندر سے نقب لگایا۔برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو قدم جمانے کا موقع دیا۔ سٹیپل ڈبل ایجنٹ تھا ،اسے دور حاضر کا میر جعفر کہا جاسکتا تھا۔ روسی فوج میں وہ اعلیٰ مرتبے پر فائز تھا۔ مگر پیسے کے لالچ نے اسے اندھا کر دیا اور یہی سرجی سٹیپل ایک لاکھ ڈالر کے عوض روسی راز ایم 16کو بیچنے پر آمادہ ہوگیا۔ 2006ءمیں روسیوں نے اسے ایم 16کے لیے جاسوسی کرتے ہوئے پکڑ لیا اور اسے اگست 2006ءمیں 13سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا اسے جاسوسی کی شکل میں ملک کیخلاف غداری کا الزام تھا ۔روسی استغاثہ نے 72ہزار پاﺅنڈ کی وصولی کی بھی تصدیق کردی جو اس نے روسی فوج میں بطور کرنل 1990ءکی دہائی میں برطانیہ سے وصول کیے تھے۔ سٹیپل کا شمار بدنام زمانہ جاسوسوں میں ہوتا ہے۔ یہ بدنام زمانہ جاسوس یورپ کی آنکھ کا تارا تھا ۔ امریکہ اور یورپی ممالک ایک طرف اور روس کے جاسوس دوسری طرف ۔ ان روسی جاسوسوں نے یورپی ممالک اور امریکہ میں معلومات کی چوری کا ایک جال بچھا رکھا ہے۔ 2016ءکی امریکی انتخابی مہم میں جاسوسوں کا نیٹ ورک تو سامنے نہ آسکا لیکن جاسوسی کی باتیں ہر زبان پر رہیں۔ چنانچہ امریکہ نے یورپی ممالک کے ساتھ مل کر 2010ءمیں جاسوسوں کا تبادلہ خیال کیا۔بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ امریکہ اور یورپ نے اپنے بہت ہائی پروفائل جاسوس روس سے لے لیے اور روس کو اس کے مطلوبہ جاسوس واپس کر دئیے۔ اس وقت سے یہ ہیپر سیل کہلائے جاتے تھے جاسوس تو تھے مگر مو¿ثر ، متحرک اور فعال نہ تھے۔
2010 ءمیں سرجیکل سٹیپل ان دو جاسوسوں میں شامل تھے جو روس نے جاسوسوں کے تبادلے میں برطانیہ کے حوالے کیے۔ برطانیہ پہنچتے ہی لینڈ رجسٹری ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اس نے 12اگست 2011ءکو 2لاکھ 8ہزار پاﺅنڈ کا خوبصورت مکان خرید لیا۔ یہ مکان اسی کے نام رجسٹرڈ ہے۔ نہ قرض لیا نہ رہن مکان اس کی ملکیت میں ہے۔ یہ جاسوس مارچ کے پہلے ہفتے میں اپنی بیٹی کے ساتھ کالصبری کے شاپنگ مال میں پایا گیا۔ اسی کے ساتھ رہائی پانے والے دوسرے جاسوس ایگور ستیا جن (igor sutwagin) بھی برطانیہ پہنچا تھا۔ برطانیہ اور امریکہ کے خیال میں سٹیپل کو خوفناک اعصابی گیس کے ذریعے ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر ایگور کے مطابق ایسا نہیں۔ ہم نہیں جانتے یہ تمام مفروضے ہیں۔تاہم ایگور کے خیال میں وہ روسی بھگوڑا تھا اور بقول ولادی میر پیوٹن بھگوڑے تو غدار اور دشمن ہوتے ہیں۔ وہ مخالفین کو یہودی تصور کرتے ہیں یہ توان کا رویہ ہے۔
یوں بھی اس کی اچانک بیماری 2006ءمیں ایک اور روسی جاسوس الیگزینڈر لٹ وی نینکوس کی بیماری سے ملتی جلتی ہے۔ وہ بھی زہریلا مواد جسم میں جانے کے بعد کچھ دنوں کے بعد ہلاک ہو گیا تھا۔ تاہم سٹیپل زندہ بچنے میں کامیاب ہوگیا اس کی بیٹی صحت یاب ہے اور خطرے سے باہر ہے۔ بقول برطانوی ماہرین کے روسی حکام ہینٹانائی نامی ایک خوفناک کیمیکل پر تحقیق کر رہے ہیں یہ نشے کی ایک قسم ہے اور ہیروئن سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہے یہ جان لیوا ہے ہوسکتا ہے اس حملے میں یہی کیمیکل استعمال کیا گیا ہو ۔ کیونکہ 2006 ءمیں الیگزینڈر کو ہلاک کرنے کے لیے ہی روس نے اس کی چائے کے ٹی بیگ میں تابکاری مادہ شامل کر دیا تھا جو ٹروبین کہلاتا تھا۔اس کی تحقیق برطانوی جاسوسی ادارے نے کی تھی جس کے چیئرمین سر رابرٹ اوون ہیں۔ تاہم روس کا کہنا ہے کہ اس کا اس موت میں کوئی ہاتھ نہیں۔ اس کی بیٹی کی جلدی صحت یابی اس کے اس میں ملوث ہونے کا ثبوت ہے۔ لہٰذا روس نے اس کی بیٹی یوڈا کو مانگ لیا ہے۔ روس نے 10سلیپر ایجنٹ امریکہ میں چھوڑے تھے۔ابتدائی میں انہوں نے ایک چھوٹے ہوٹل میں قیام کیا تھا غالباً مغربی لندن میں کوئے کے مقام پر۔
جاسوسی کی دنیا بہت سے حیرت انگیز واقعات سے بھری پڑی ہے۔ 1965ءکی پاک بھارت جنگ کے بارے میں ہمارے ہاں اہم عہدیداروں کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران انڈیا کی پیش قدمی اور ہر قسم کے نقشہ جات ان کی ٹیبل پر ہوا کرتے تھے۔
انڈیا کا ایک جاسوس پاکستان کی قید میں ہے اور بہت سے جاسوس اس سے پہلے پکڑے جا چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں