مکہ معظمہ سے رسول اللہﷺ کی ہجرت

islam_miraj
EjazNews

ہجرت کا واقعہ ۷۲ صفر ۴۱ نبوی شب جمعہ پیش آیا۔ اس وقت جناب سرور کونین سید الانبیاءکی عمر مبارک ۴۵ سال تھی اور اسی سال ۲۱ ربیع الاول کو آپ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔ عمل ہجرت سنت انبیاءہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت لوطؑ کے علاوہ اور بھی انبیاءکرام نے ہجرت کی۔ تبلیغ دین کی مسلسل کوششوں کے بعد جب کوئی قوم پیغام خداوندی سے اعراض کشی برتتی رہتی ہے تو اس قوم میں مبعوث پیغمبر اس قوم سے کنارہ کش ہو جاتا ہے چنانچہ ایسی قومیں عذاب خداوندی کا شکار ہی اس وقت ہوئیں۔ جب ان کے لئے بھیجئے گئے ہادیان برحق ان میں موجود نہ تھے۔
کفار مکہ اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد آفات اراضی کی صورت میں کسی عذاب سے دو چار نہیں ہوئے۔ کیونکہ آپ نے ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے عذاب نہ دیئے جانے کی امان مانگ رکھی تھی۔ لیکن حضور سرور کونین کے بعد انہیں جس طرح شکستوںسے دو چار ہونا پڑا اور اپنے متمرد اور سرکش دماغوں کو جس طرح اسلام کے سامنے جھکانا پڑا وہ ان کے لئے مادی عذاب سے زیادہ سوہان روح تھا۔ حضور کو علم نبوت کے ذریعہ سے اس کا علم ہو چکا تھا کہ ایک دن یہ قوم ضرور ایمان لے آئے گی۔ ہجرت کا مادہ ھ ج ر ہ جس کے معنی میں کسی چیز کو چھوڑ دینا ۔ ترک کر دینا ترک ہو جانا ہے ہیں بری باتوں کو بھی ہاجرات اس وجہ سے کہتے ہیں کہ برے ہونے کی وجہ سے انہیں ترک کرنا ہی لازم ہے۔
عمل ہجرت اسلام کی عالمگیریت پر دلالت کرتا ہے یعنی اسلام کسی خاص خطہ کا پابند نہیں۔ مومنین جہاں اسلامی نظام کے فروغ کے لئے فضا ساز گار دیکھتے ہیں وہاں ہجرت کر جاتے ہیں اور یوں دین کے فروغ کے لئے تمام رشتے مال و دولت حتیٰ کہ وطن کی محبت تک کو قربان کر دیتے ہیں۔ قرآن کریم میں اکثر مقامات پر ہاجرو کے ساتھ جاہدو بھی آیا ہے یعنی ہجرت کے بعد اپنے مقصد کے حصول کے لئے مسلسل جدوجہد، ہجرت اور اس کے بعد جدوجہد کی مثال ہمیں جناب محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ میں ملتی ہے۔
حضورﷺ کے ہجرت کے واقعات ہر مسلمان کے علم دین کا حصہ ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کی معیت میں روانگی۔ گھر کا محاصرہ کرنے والوں کی بے ہوشی، غارثور میں قیام اور پھر غار ثور سے مدینہ منورہ تک کا سفربراہ میں سراقہ کا تعاقب کرنا اور مسلمان ہونا۔ سب تاریخ اسلام کے نمایاں واقعات ہیں۔ بیت عقبہ ثانی کے بعد حضور ہر وقت ہجرت کے احکامات کے منتظر رہتے تھے اس لئے اجازت ملتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔تعاقب کا خطرہ موجود تھا اس لئے تین دن غار ثور میں قیام فرمایا آپ کی ہجرت سے قبل کتنے ہی مسلمان مکہ سے مدینہ کو ہجرت کر چکے تھے جب قریش مکہ کو اس ہجرت کے بارے میں معلوم ہوا تو انہیں خطرہ ہوا کہ اس طرح تو مسلمان کی جمعیت آہستہ آہستہ بڑھ جائے گی جواہالیان مدینہ کی امداد سے ان کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لئے انہوں نے ہجرت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنی شروع کیں اور کوشش کی کہ مدینہ کے لوگوں اور مکہ کے مسلمانوں کے درمیان میل جول کے مواقع ختم کر دیئے جائیں۔ چنانچہ وہ مکہ سے مسلمانوں کو ہجرت کرنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ مدینہ سے آنے والوں کو بھی گرفتار کرنے لگے چنانچہ انہوں نے سعد بن عبادہؓ کو گرفتار کر لیا اور انہیں مکہ لے آئے انہیں پھر حضور کی ہجرت کے بعد رہائی ملی۔
حضور نبی کریم کی پہلے حج کی تفاصیل:
حج ایک ایسی عبادت ہے جو صرف ایک مخصوص مقام یعنی مکہ مکرمہ میں ہی ادا کی جاسکتی ہے دیگر عبادات میں یہ پابندی نہیں، مثلاً نماز ہر جگہ ادا کی جا سکتی ہے۔ زکوٰة کی ادائیگی میں بھی مقام کی کوئی قید نہیں او رروزہ بھی مقام کی قید سے مبرا ہے۔ حج کی یہ خصوصیت اس وجہ سے ہے کہ یہ مسلمانوں کا ایک عالمگیر اجتماع ہے جس میں بلا رنگ و نسل، قوم و وطن ایک مخصوص مقام پر ان سب کو جمع کرنا ضروری تھا۔ اس طرح خانہ کعبہ ملت مسلمہ کی وحدت کی ایک علامت بن گیا، جس کی پیروی ہر مسلمان اپنی نماز قبلہ رو ہو کر ادا کرتا ہے، حج کی ادائیگی اسلام سے قبل بھی موجود تھی، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت سے قبل کئی حج ادا فرمائے، مگر ہجرت کے بعد صرف ایک حج ادا فرمایا جسے حجة الوداع کہتے ہیں، اسی حج کا خطبہ ایک قانونی دستاویز ہے۔ سیدنا حضرت ابراہیمؑ نے بحکم خداوندی لوگوں کو حج کی طرف بلایا، لہٰذا اس دعوت کی اجابت پر دلالت کے لےے دور سے بلائے ہوئے مہمانوں کی طرف اشارہ کرنے کے لبیک اللھم لبیک کے کلمات اختیار کئے گئے اسے تلبیہ کہتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تلبیہ زبان مبارک سے ادا فرمایا۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جملہ مناسک حج ادا فرمائے اور امت کو خاص طور پر حجة الوداع کے موقع پر تعلیم فرمائی، آپ کو علم تھا کہ یہ ان کا آخری حج ہے، حضرت انسؓ بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی آخر الزمان صلوة و تسلیم نے اپنی قربانی کو اپنے دستِ اقدس سے ذبح فرمایا اور اس پر تکبیر کہی، اس موقع پر یہ قربانی دو سینگ دار سیاہ مینڈھوں کی تھی، پہلے جانور کو ذبح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔ اے اللہ یہ جانور اور ا سکے ذبح کرنے کی توفیق تیری طرف سے ہے اور یہ صدقہ و ہدیہ تیری طرف ہے۔ میری امت کی طرف سے اور ان کی طرف سے جنہوں نے تیری توحید کی شہادت دی اور میرے لئے ابلاغ احکام رسالت کی گواہی دی، ایک روایت کے مطابق دوسری قربانی آپ نے اپنی آل کی طرف سے کی، حضرت عبداللہ نے کعبہ شریف کا طواف فرمایا اور حجر اسود کا ٹیڑھے سرے والی چھڑی کے ساتھ استلام کیا اور چھڑی کو اس سے لگا کر اس کا بوسہ لیا، اس کے بعد آپ چاہِ زمزم کی طرف تشریف لے گئے، جہاں آپ کے چچیرے بھائی پانی کھینچ رہے تھے، آپ نے آب زمزم کا پانی پیا انہی سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن ایمانی کو بوسہ دیتے اور اپنا رخسار اس پر رکھتے۔ جبرہ بن ابی شجراة فرماتی ہیں کہ میں نے بلندی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھانکا، جب کہ آپ صفا و مروا کے درمیان سعی میں مصروف تھے کہ معاً آپ نے صحابہؓ کرام کو بھی یہ حکم فرمایا کہ سعی کرو اور دوڑو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کو لازم فرمایا ہے۔ حضرت مقتل بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے حمبرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے وقت تنبیہ کہا اسے سات کنکریں یکے بعد دیگرے ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے ہی مروی ہے کہ جب آپ بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو آپ کے اس کے جمیع اطراف و جوابت دعا مانگی۔
ہجرت کی اہمیت:
ہجرت کا واقعہ کے بعد جناب رسالت مآب نے مدینہ منورہ میں ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جو امور سیاست میں ابدلآباد تک دین کی رہنمائی کرتے رہے گی واقعہ ہجرت کی تفاصیل کا اس وجہ سے بیان کرنا ضروری ہے کہ یہ مسلمانوں میں پھر سے صبر استقلال عزم ثبات اور مشقت اٹھانے کے جذبات پیدا کرنے میںممدد معاون ثابت ہوں گی جس کی آج کے دور ابتلاءمیں اشد ضرورت ہے۔ زمانہ ہجرت کے دوران مکہ مکرمہ اور مدینہ کے حالات مسلمانوں کے لئے انتہائی صبر آزما تھے مکہ مکرمہ میں جہاں کفار مکہ حضور کے خون کے پیاسے تھے، وہاں مدینہ میں بھی چند انصار کے سوا کوئی بڑی جمعیت آمد اور اعانت کے لیے موجود نہ تھی اور پھر ان دونوں شہروں کے درمیان ایک طویل جانکاہ سفر کا مسئلہ تھا جس میں ہر قدم قدم پر خطرات موجود تھے۔
ہجرت کے مفہوم کو محض ترک وطن تک محدود رکھنا صحیح نہیں جس طرح جہاد زندگی میں جہد مسلسل سے شروع ہو کر آخر قتال اور جان کی قربانی تک پہنچ جاتا ہے اس طرح ہجرت بھی اس شے سے کنارہ کشی کے مترادف ہے جو حصول مقصد یعنی فروغ دین کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرے اس کی آخری شکل ترک وطن ہے اس میں اعزوہ اقربا مال و اولاد رشتہ و پیوند کو محض اللہ تعالیٰ کی خاطر قربان کر دینا پڑتا ہے حتیٰ کہ اس سر زمین کو بھی جس سے انسان کو سب سے زیادہ پیار ہوتا ہے ۔یہ دین کے لیے الا کا مقام ہے جس کے بعد فروغ دین کا نیا تعمیری مرحلہ شروع ہوتا ہے گویا مہاجر مجاہد بھی ہوتا ہے ۔سورة توبہ کی آیت جلیلہ ۹ میں اس امر کی کھل کر وضاحت کی گئی ہے ارشاد ہے ”اے رسول ان سے کہہ دو کہ اگر تمہارے ماں باپ اور اولاد تمہارے خویش اقارب اور بیویاں تمہارے اہل خاندان اور مال ودولت تمہارا کاروبار جس کے مندا پڑ جانے سے تم اس قدر خائف ہوتے ہو اور تمہارے محلات جنہیں تمہیں اس قدر پسند کرتے ہو (ان میں سے کوئی شے بھی)تمہارے نزدیک خدا اور رسول اور اس کے راستے میں جہاد سے زیادہ محبوب ہو گئی تو انتظار کرو تاآنکہ تمہارے متعلق خدا کا فیصلہ تمہارے سامنے آجائے اللہ تعالیٰ قوم فاسقین کو ہدایت عطا نہیں کرتا“گویا ہجرت یعنی ان تمام لوازمات سے دست کشی جہاد کی شرط اولین ہے کیونکہ جب تک یہ چیزیں مجاہد کی دامن گیر رہیں گی وہ پوری تن دہی اور یک سوئی سے جہاد میں حصہ نہیں لے سکے گا ۔گویا ہجرت (یعنی ترک وطن کی حد تک ان چیزوں سے کنارہ کشی) اور جہاد ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں اس حکم سے ہم پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ آج مسلمان الاماشاءاللہ کیوں زبردست او ر سیاسی حیثیت سے پست اور کمزور ہیں آج یہی چیزیں اور یہی دنیاوی آسائش مسلمانوں کے پا¶ں کی زنجیریں بنی ہوئی ہیں اور اپنی چیزوں کی محبت نے انہیں حکم خداوندی کے مطابق قوم الفاسقین کے درجے تک پہنچا دیا ہے کیونکہ ہجرت ہی کو اسباب ثبات مسلم سے تعبیر کیا گیا ہے زندگی کے لیے جدوجہد ضروری ہے ۔اور اس جدوجہد میں اولین قدم پر ہر اس شے سے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے جو اس کے راستے میں حائل ہوتی ہو اور یہی ہجرت کا مفہوم ہے۔
اگر اس دور کے عرب معاشرے کو سامنے رکھیں تو ایک عام مومن کے لئے عموماً اور سرور کائنات فخر موجودات کے لئے خصوصاً یہ سخت ترین مرحلہ تھا اس زمانہ میں اگر کوئی شخص اپنے خاندانی شجرہ سے قطع تعلق ہو جاتا تھا تو وسیلہ مناش تو ایک طرف خود کو بھی کھو بیٹھتا تھا جو شخص اپنا رابطہ منقطع کر دیتا تھا مفلس ترین گردانا جانا تھا اور مادی اور معنوی لحاظ سے خود کو اس جہان سے نابود سمجھتا تھا۔
حضور کی یہ قربانی سب سے عظیم تھی کیونکہ وہ اپنے مشن کی خاطرعرب کے طاقتور ترین قبیلہ اور اعزہ و اقربا سے قطع تعلق کر رہے تھے جس کا مثیل اس وقت کے معاشرے میں نہ تھا اس قبیلہ اور معاشرے نے انہیں اس مشن کو چھوڑ دینے کے عوض دنیا کا ہر عیش پیش کیا تھا ۔حضور کا ان چیزوں کو ٹھکرانا دینا ”ہجرت“ کا سب سے پہلا عمل تھا یہ الا کا مرحلہ تھا لیکن اس کے بعد جو شدائد اور تکالیف ان کی منتظر تھیں اور جومنصوبے کفار مکہ آپ کے خلاف بنا رہے تھے ان کے تصور سے ہی انسان کانپ جاتا ہے قبیلہ قریش انہیں قبیلہ بنو ہاشم سے مطروذ قرار دے چکا تھا۔ ”طرو“ کو اپنا قبیلہ نہیں اپناتا تھا اور ایسے شخص کا قتل ہر ایک پر صباح تھا یعنی اس قتل کا قصاص اس قبیلہ کی ذمّہ داری نہیں بنتی تھی اگر نعوذ بااللہ کوئی شخص حضور کو قتل کر دیتا تو خون بہا لازم نہیں تھا یہ تھے وہ حالات جن میںاس وقت مکہ کے مسلمان اور آپ زندگی بسر کر رہے تھے جن ہجرت کا حکم ہوا۔

ایم ڈی سکندر

اپنا تبصرہ بھیجیں