مکھیوں اور مچھروں سے نجات پانے کے گھریلو نسخے

women-cleaning
EjazNews

گھر کی صفائی ستھرائی کے خیال سے مکھیو ں اور مچھروں سے تحفظ حاصل کرنا ہر خاتون کا پہلا ہدف ہوتا ہے۔ صفائی کے بعد ہی دوسرے کاموں میں دل لگتا ہے اور طبیعت بھی اسی وقت مطمئن ہوتی ہے۔ جب آپ اپنے ارد گرد ایسے حشرات کو پلتے بڑھتے بڑھتے نہیں دیکھتے۔ بہنوں کو سب سے آسان کام یہ لگتا ہے کہ مچھر مار اسپرے لے آئیں اور جگہ جگہ اسپرے کر کے دل کواطمینان مل گیا۔ مگر یہ بات بتائیں کہ کیمیائی اجزاء سے بننے والے یہ اسپرے سانس اور جلد کی تکالیف میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ پھیپھڑوں اورآنکھوں کو ان toxic اسپریز سے بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ کیوں نہ کوئی اور سادہ اورخطرات سے مبرا تجویز سوچی جائے جس سے مچھر اور مکھیاں رخصت ہوں اورصحت مند زندگی گزارنے کی ایک بھرپور کوشش کی جائے۔
اس کلئے یہ ہیں چند قدرتی طریقے آپ بھی جنہیں بے خطرہو کرآزما سکتی ہیں۔
مکھیاں کیسے بھگائیں:
کچن کے کاؤنٹر اور ٹیبل ٹاپ کی صفائی کرکے ہلکے سے بھیگے ہوئے کپڑے پر نمک چھڑ کرکاؤنٹر پر پھیلادیں، مکھیاں ادھر کارخ نہیں کریں گی۔
ان حشرا ت سے بچاؤ کیلئے پونچھے کی بالٹی میں تھوڑا سا سرکہ ملا دیا کریں۔صرف چائے کے دو چمچ سرکہ ملے پانی سے پونچھے لگانے سے فضا میں اڑنے والے کیڑے مکوڑے اورخاص کر مکھیاں پناہ مانگیں گی۔
تلسی اورپودینے کو گھر میں اگائیں اور چھوٹے چھوٹے گملوں کو گھر کے صدر دروازے کے قریب رکھ دیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کی مہک سے فضا معطر رہے گی، دوسرے یہ مکھیوں اورمچھروں کی افزائش کو روکنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
گھر تعمیر یا از سر نو ترتیب دیتے وقت دروازوں اور کھڑکیوں پر باریک جالی ضرور لگوا دیں موٹی جالی پردے کے لئے موزوں ہو سکتی ہے مگر یہ حشرات کواندر داخل ہونے سے نہیں روک سکے گی۔شام مغرب ہوتے ہی جالیوں والے پردے استعمال کریں تاکہ کیڑے مکوڑوں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔
کمرے کی ہر ڈسٹ بن رات کو کسی مرکز ی ڈسٹ بن میں خالی کردیا کریں۔ بسا اوقات بچے ٹافیاں اور بسکٹ کھا کر بچی ہوئی اشیاء ڈسٹ بن میں ڈال دیتے ہیں جن سے حشرات کا بڑھنا اور پلنا یقینی ہوجاتا ہے۔ ڈسٹ بن صاف ہوگی تو کیڑے مکوڑوں کوافزائش کے مواقع نہیں مل سکے گا۔ گھر کے دروازوں کے آس پاس جمع کچرا اٹھواتی رہا کریں۔
سرسوں کے تیل کا پونچھا لگانے سے بھی یہ حشرات دور بھاگتے ہیں،یہ ممکن نہ ہو تو کونوں کھدروں میں سرسوں کے تیل کے چند قطرے ڈلوالیا کریں۔
مارکیٹ میں ایک وائٹ چاک بطور خاص اس مقصد کے لئے دستیاب ہے، اگر ممکن ہو تو اس کا استعمال کر لیں۔
چوناایسا اچھا تریاق ہے۔ آپ آزما کے دیکھئے گھرکے ہرکمرے کے سامنے اور پیچھے اگر کھلی جگہ ہے تو اس کا چھڑکاؤ کردیں حشرات پھل پھول نہ سکیں گے۔ لیموں کا رس کونے کھدروں میں ڈالیں، چیونٹیاں جہاں جہاں چھپتی ہوں نظر بھی نہیں آئیں گی۔شکر کے پاٹ کو چیونٹیوں سے بچانے کے لئے چند لونگ ڈال دیا کریں۔ شکر محفوظ رہے گی۔
اسی طرح دوسری میٹھی چیزوں کو چیونٹیوں سے محفوظ کرنے کے لئے کیئر آئل میں روئی کا پھاہا بھگو کے لیپ دیں اور ڈھکن پہلے اچھی طرح سے بند کر لیں۔
کھیراایسی سبزی ہے جوچیونٹیوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ آپ اسے کتر کر یا چھیل کرکچن میں ایک جانب ڈال دیں۔ یہ طریقہ آپ کی غذاؤں کو محفوظ کر دے گا۔
ہرچیز کو شیشی یا جار میں (ٹائٹ) سختی سے بند کر کے رکھا کریں۔
کاؤنٹر ہر بار کے استعمال کے بعد دھو دھلا کر صاف ستھرا رکھیں کوئی چیزکھلی نہ رکھیں۔ ممکن ہو تو کچن میں بھی گھیکوار کا پودا رکھیں۔ یہ تیل کے چھینٹے کے بعد جلد پر چھالا بننے سے محفوظ کر دیتا ہے،یہ حشرات کی افزائش سے بھی روکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں