موسمیاتی تبدیلی سے ذیباطیس میں اضافہ

weather effect

سائنسدان طویل عرصے سے سماجی ، سیاسی اور معاشی صورتحال پر موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اب حالیہ تحقیق میں موسمیاتی تبدیلیوں کا بعض امراض میں اضافے سے دیکھا گیا ہے۔ ایک بڑی این جی او نے ا مریکہ کی تمام ریاستوں میں مختلف موسموں میں پائے جانے والے امراض کا جائزہ لیا۔ تفصیلی تحقیق کے بعد یہ حیران کن نتیجہ سامنے آیا کہ موسمیاتی تبدیلی ذیابطیس اور ڈپریشن جیسے کئی معاملات کا ہونا ہوتا ہے۔ ان تبدیلیوں سے بچنا اور اس کی روک تھام کے اقدامات دونوں قسموں کے اقدامات اٹھانا ضروری ہیں۔ امریکی این جی او نے 1996ءسے 2006ءتک جاری رہنے والے سروے سے پتہ چلایا ہے کہ درجہ حرارت میں ایک فیصد اضافہ سے ذیباطیس کے مریضوں کی تعداد میں 1لاکھ مریضوں کا اضافہ ہوتا ہے۔ ذیابطیس ریسرچ اینڈ کئیر جریدے نے اس تحقیق کو مکمل تفصیلات کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اور گلوبل وائرمنگ کے اس خطرناک پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسم سرما میں لوگ انرجی زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ کپکپاہٹ کی صورت میں توانائی کا استعمال مزید بڑھ جاتا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ جسم کے اندر موجود گلو کوز میں کمی کا باعث بنتا ہے۔گرم موسم میں ڈی ہائیڈریشن اور اس طرح کے دوسرے امراض بھی بڑھ سکتے ہیں۔ موبٹ نے خبردار کیا ہے کہ آلودگی ہارٹ اٹیک کا ایک اہم ستون ہے۔ آلودہ ممالک میں دل کے دوروں کی تعداد میں اضافہ اس کا ایک ثبوت ہے۔ ذیابطیس کے مریض کو آلودہ ماحول سے بچنا چاہئے ورنہ ہوا کی کمی اور حبس کی کیفیت دل کے دورے کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں