موسمیاتی تبدیلیوں سے دنیا کی نصف آبادی کیلئے خوراک بھی ایک مسئلہ ہو گا

climate_change
EjazNews

میتھین کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بعد دوسری اہم گرین ہاؤس گیس ہے اور اس کی مقدار میں کافی سالوں کے استحکام کے بعد اضافہ ہو رہا ہے۔2015کی رپورٹ کے مطابق مجموعی گرین ہاؤس گیسوں میں میتھین کی مقدار عالمی سطح پر16 فیصد تھی۔ ایک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں ایک ٹن میتھین28گنا زیادہ تھرمل توانائی کو جذب کرتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ میتھین گیس کا دنیا کے درجہ حرارت میں اضافے میں نمایاں کردار ہے۔ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کے مطابق میتھین بھی فضا میں اب تک کی اپنی سب سے زیادہ سطح پر ہے۔ اس کے ماخذات میں قدرتی (دلدلی علاقے، دیمک، جنگل کی آگ) اور انسانی ذرائع (زراعت، کوڑا، کوئلے کی کانوں سے اخراج) شامل ہیں ۔زیادہ تر مطالعے یہ بتاتے ہیں کہ میتھین میں اضافے کی وجہ مویشی ہیں۔ ڈنمارک کی تحقیق کے مطابق چار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جتنا گرین ہاؤس گیس پیدا کرتی ہے ،اتنا ایک گائے سال میں میتھین پیدا کرکے نقصان دیتی ہے،اس وقت دنیا میں ڈیڑھ ارب گائے موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کی 2006کی ایک رپورٹ کے مطابق مویشی اور خاص کر گائے عالمی حدت کی بھی اہم وجہ ہیں اور یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں18گنا زیادہ گرین ہاؤس پیدا کرتی ہیں ۔
کیمیائی کھادوں کابے جااستعمال بھی ماحول کی تپش کا سبب
کیمیائی کھادوں کابے جااستعمال بھی ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کے ا خراج کا سبب بنتا ہے۔ کھادوں کا استعمال غذائی اشیاء کی پیداوار کے ساتھ ماحول ،آبی ذخائر ،اور انسانی و حیوانی زندگی کے لیے بے شمار خطرات کا باعث ہے ،دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے خوراک پیداکرنا گو کھادوں کے بغیر ممکن نہیں لیکن کھادوں کا غیر متوازن ،غیر ذمہ دارانہ استعمال اور بعض جگہوں پر ضرورت سے زیادہ استعمال آبی ذخائر ،ماحول صاف ہوا اور انسانی زندگیوں پر منفی اثرات کا حامل ہے۔ پودے نائٹروجن اور فاسفورس کھادیں پوری طرح استعمال نہیں کر پاتے جس سے آبی ذخائر اور ماحول آلود ہوجاتا ہے اور یہ کھادیں فضاء میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا باعث بنتی ہیں ،ہماری زمینوں میں پی ایچ اور کیلشیم بڑھتی ہوئی فاسفورس مقدار کو ناحل پذیر شکل میں تبدیل کر دیتی ہے۔لہٰذا فاسفورس عام طور پر زمین کے کٹاؤ کی صورت میں یا بارش کے پانی میں کھیت سے ہوکر زیر یں علاقوں اور پانی کے ذخائر میں چلی جاتی ہے۔اس طرح نائٹروجن کی کھادیں ایک طرف تو حل ہوکر آبی ذخائر آلودہ کرتی ہیں تو دوسری طرف نائٹرس آکسائیڈ کی شکل میں فضاء میں گرین ہاؤس گیس میں اضا فہ کرتی ہے۔دیگر کھادیں بھی بے شمار آلودگیوں کا باعث بنتی ہیں۔
گرمی میںاضافہ انسان ہی ذمہ دار:
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انسان کارخانوں اور زراعت کے ذریعے گرین ہاؤس گیسیں فضا میں داخل کر کے قدرتی گرین ہاؤس اثر کو بڑھاوا دے رہا ہے، جس سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ اس عمل کو عالمی تپش یا ماحولیاتی تبدیلی کہا جاتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عالمی حدت میںاضافہ ایک حقیقت ہے اور انسان ہی اس کا ذمہ دار ہے۔ سمندرگرم ہوتے جارہے ہیں جن کے عالمی اثرات بہت ہی تباہ کن ہونگے۔پوری دنیا میں پگھلتی برف پانی کے سائیکل کو تبدیل کررہی ہے جس کے اثرات پہلے تو بحری روؤں پر پڑیں گے اور اس کی وجہ سے موسموں میں عالمی تبدیلی آئے گی۔اس کی وجہ گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔ پہلے خیال تھا کہ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سورج کی شعاعیں، آتش فشاؤں کا پھٹنا اور پیٹرو کاربن ایندھن کا استعمال ہے تاہم یہ خیال بدل چکا ہے۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا تھا کہ بیسویں صدی کے دوران عالمی درجہ حرارت میں 0.6ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوگا جو آنے والے عشروں میں بڑھتا چلا جائے گا۔ تحقیقاتی جائزے کے مطابق درجہ حرارت میں 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ کے مزید اضافہ کی صورت میں سطح سمندر 10 سینٹی میٹر بلند ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کے دنیا پر اثرات اور نقصانات:
دنیا کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ چند عشروں سے بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلیاں دیکھی جارہی ہیں۔ امریکہ کو ہاروی اور ارما نامی جن دو بہت بڑے اور انتہائی شدید طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا اور جن کی وجہ سے اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات کے ساتھ ساتھ درجنوں قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں، یہ طوفان گلوبل وارمنگ کا نتیجہ تھے۔ ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے سبب کئی مقامات پر قحط کا سامنا ہے ۔ سمندری برف کے مستقل طور پر غائب ہونے سے دنیا کے دوسرے علاقوں میں موسم، آب و ہوا، اور سمندری اندازتبدیل ہو رہے ہیں۔خشک علاقوں میں سیلاب آ رہے ہیں یا ان علاقوں میں خشک سالی ہے جہاں کبھی پانی کی کمی نہیں تھی، فضا میں آلودگی میں اضافہ ہو گیا ہے، کہیںسخت سردی او رکہیں شدیدگرمی ہے، سمندری سطح میں اضافے کی وجہ سے بعض ساحلی علاقوں کے شہروں کے ڈوبنے کا خطرہ بھی ہے ۔زمینی حدت میں مسلسل اضافے کے باعث زمین پر موجودہر طرح کی زندگی کوشدید خطرات کا سامنا ہے۔عالمی تپش سے طوفانوں اور سیلابوں کی شدت میں اضافہ ہو ا ، قطبی برف پگھلنے سے برفانی ریچھ کی بقا کو خطرہ لاحق ہو گیا ۔بلند درجہ حرارت، شدید موسمی حالات اور سمندروں کی بڑھتی ہوئی سطح، سب گرمی کی وجہ سے ہے جس سے دنیا بھر پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔
قدرتی آفات سے پوری دنیا متاثر ہوئی:
گزشتہ 20 سالوں کے دوران دنیا میں 7056 مختلف آفات ریکارڈ کی گئیں جن میں تقریباً ساڑھے 13 لاکھ افراد موت کا شکار ہوئے جن میںسے 90 فیصد کا تعلق غریب اور متوسط آمدن والے ممالک سے تھا۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس پہلے ممالک میں ہے کہ جن میں گزشتہ 20 برسوں میں قدرتی آفات نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ۔ برسلز میں قائم’’ سینٹر فار ریسرچ آن دی ایپیڈیمولوجی آف ڈیزاسٹرز (سی آر ای ڈی)‘‘ نے 1996ء سے 2015ء کے دوران دنیا میں آنے والی آفات اور ان سے ہونے والے نقصانات کا ریکارڈ جمع کیا ۔ رپورٹ کے مطابق بیس سالوں میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے56 فیصد زلزلوں اور سونامی کے باعث ہوئیں جب کہ باقی اموات کا سبب طوفان، سیلاب، خشک سالی، مٹی کے تودے گرنے، جنگلاتی آگ اور انتہائی درجہ حرارت بتائے گئے۔ غریب ملکوں میں آفات سے نمٹنے کے لیے ناکافی انتظامات بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی بڑی وجہ رہے۔ سب سے زیادہ متاثر ہ پہلے دس ممالک میں ہیٹی سرفہرست ہے جہاں دو لاکھ 29 ہزار 699 اموات ہوئیں، انڈونیشیا میں ایک لاکھ 82 ہزار 136، میانمار میں ایک لاکھ 39 ہزار 515 اموات ہوئیں۔ دیگر ملکوں میں چین، بھارت، پاکستان، روس، سری لنکا، ایران اور وینزویلا شامل ہیں۔
دنیا کی نصف آبادی کو غذائیت کا خطرات کی پیش گوئیاں بھی ہیں:
ماحولیات کی تبدیلی سے پیداوار میں کمی سے دنیا کو غذائی قلت کا خطرہ درپیش ہے۔گرمی میں اضافے کے سبب دنیا بھر میں چاول کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔’’نیشنل اکیڈمی آف سائنس‘ ‘میں شائع تحقیق کے مطابق چاول کی پیداوار10 سے20 فیصد کم ہو رہی ہے۔2004ء میں فلپائن میں ایک تحقیق سے پتہ چلا تھا کہ رات میں ایک ڈگری درجہ حرارت میں اضافے سے پیداوار میں 10 فیصد کی کمی ہوئی تھی۔ جیسے جیسے دن میںدرجہ حرارت میں اضافہ کم سے کم ہورہا ہے، یا راتیں زیادہ گرم ہورہی ہیں، اسی مناسبت سے چاول کی پیداوار میں کمی ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دن کے وقت بھی درجہ حرارت بہت زیادہ ہو جائے تو پیداوار میںمزید کمی شروع ہو جائے گی۔ 2007کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا تھاکہ درجہ حرارت میں اضافے سے بعض علاقوں میں پیداوار بڑھ سکتی ہے،تاہم تین ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ اضافہ ہوا تو یہ سبھی علاقوں کی فصلوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ماحولیات کی تبدیلی اور درجہ حرارت میں اضافہ سے اس صدی کے اختتام تک دنیا کی نصف آبادی کو غذائیت کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اقومِ متحدہ کی خوارک و زراعت کی عالمی تنظیم’’ ایف اے او‘‘کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر موسمی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 2007 اور 2008 کی طرح کی خوراک کا بحران پیدا نہ ہو جائے جس سے غریب ممالک بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ برازیل میں بے موسمی بارش، امریکہ میں خشک سالی اور روس میں پیداوار کی مشکلات کے باعث خوراک کی عالمی قیمتوں میں اضافہ کی پیشنگوئیاں بھی ہوتی رہی ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں