موریا خاندان

Pakistan_history

ریاست میسور کے سرکاری کتب خانے سے کتاب ’’ارتھ شاستر‘‘ کا قلمی نسخہ برآمد ہوا تو تحقیق دانوں کیلئے بہت سے راز آشکار ہوئے۔ یہ سنسکرت زبان کا ’’سیاست نامہ‘‘ یعنی اصول حکمرانی پر بہت دلچسپ رسالہ ہے۔ اس کی تصنیف کو راجا چندر گپت کے وزیر کوتلیا(چانک)سے منسوب کرتے ہیں۔ اس شخص کی نسبت بعض روایتوں میں مذکور ہے کہ وہ جس قدر بدسرشت تھا، اسی قدر بد صورت تھا۔ وہ حکومت کے لیے ہر قسم کے مکرو فریب اور جبر و تعدی کو جائز قرار دیتا ہے اور شاید اسی وجہ سے چندر گپت کی بد اعمالیاں اسی کے نامہ اعمال میں لکھ دی گئی ہیں۔ (آکسفورڈ ہسٹری)
اتنی بات یقینی معلوم ہوتی ہے کہ چندر گپت نے جو نند خاندان کی کسی اونا عورت کے بطن سے تھا سازش اور چالاکی سے تخت شاہی پر قبضہ کیا اور حملہ سکندری کے بعد ہی مگدھ میں بڑی وسیع سلطنت قائم کر لی۔ (321 ق م) سکندر کی سلطنت کو یونانی سرداروں نے آپس میں لڑ جھگڑ کر بانٹ لیا تھا۔ عراق، ایران اور باختر سل یوکوس کے حصے میں آئے اور اس نے لولایت ’’ہند‘‘ پر فوج کشی کی لیکن چندر گپت نے اسے شکست دی۔ سل یوکوس کو دب کر صلح کرنی پڑی اور اس نے یہ علاقے چندر گپت کے حوالے کر دئیے۔ دوستانہ تعلقات جوڑنے کے لیے شاید اپنی ایک بیٹی سے راجاکا پیوند کر دیا۔ پھر مگاس تھنیز کو سفیر بنا کے پاٹلی پترا بھیجا جس نے ’’ہند‘‘ کے حالات پر ایک کتاب لکھی۔ وہ ناپید ہو گئی البتہ اس کے اقتباسات دوسری یونانی کتابوں کی وساطت سے ہم تک پہنچے اور اس عہد کے متعلق بہت قیمتی ماخذ مانے جاتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مگدھ کے علاوہ ان دنوں مشرق میں کلنگا اور جنوب میں تل کٹا اور آندھرا کی طاقتور حکومتیں قائم تھیں مگر افسوس ہے پاٹلی پترا کےسوا، شمالی ہند یا پاکستان کے اور شہروں کا کچھ حال یونانی کتابوں میں درج نہیں ۔ صرف چندر گپت اور اس کے پائے تخت کی خاصی تفصیلی کیفیت مگاس تھنیز سے منقول ہے ۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ راجا محل کے اندر اپنی خواصوں میں گھرا رہتا تھا مگر دن میں ایک دفعہ ضرور باہر آتا اور مقدمات کا فیصلہ کرتا تھا۔ اسے شکار اور ہاتھی گینڈے ، سانڈ اور مینڈھے کی لڑائی دیکھنے کا بہت شوق تھا اور کبھی کبھی اس کے سامنے پہلوانوں کی کشتیاں ہوا کرتی تھیں۔
شاہی محلات ایرانی طرز کے بنے ہوئے تھےلیکن آرائش میں ایرانی محلوں سے بڑھے چڑھے تھے۔ شہر کی آبادی عرضاً کم مگر طولاً دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے گرد پتھر کے بجائے شہتیروں کی مضبوط شہر پناہ بنائی گئی تھی۔ 64درواز ے اور کئی سو برج تھے۔ سامنے بہت گہری اور چوڑی خندق سون کے پانی سے بھری رہتی تھی۔ شہری انتظام کے لیے کئی مجلسیں قائم تھیں۔ اہل شہر کی ولادت و اموات تک کے اعداد جمع کیے جاتے تھے ۔ملک میں جرائم کم لیکن سزائیں بہت سخت تھیں۔ اصولاً آنکھ کے بدلے آنکھ، کان کے بدلے کان کا قانون رائج تھا اور معمولی قصور پر اعضا کی قطع و برید جائز سمجھی جاتی تھی۔ ایک عجیب سزا یہ تھی کہ خاطی کا سر مونڈ دیا جائے لیکن ارتھ شاستر کی تعزیرات کا سب سے خوفناک حصہ وہ ہے جس میں اقبال جرم کرانے کے لیے ملزم کو اذیت دینے کی اٹھارہ شکلیں بیان کی گئی ہیں۔
مگاس تھنیز کے بعض اقوال مشکوک ہیں۔ تاہم مگدھ کے وسیع اور باضابطہ سلطنت ہونے میں کوئی شک نہیں اور اس کا بانی تاریخ ہند کا پہلا مسلم الثبوت بادشاہ ہے اگرچہ قرینہ کہتا ہے کہ نہ نسلاً وہ آریا تھا نہ مذہباً برہمنی مت کا معتقد ۔ جینی اسے اپنے مذہب کا پیرو بتاتے ہیں اور انہی کی روایت ہے کہ اس نے چوبیس برس حکومت کرنے کے بعد دنیا ترک کر دی۔ کسی گرو کے ساتھ دکن کے جنگلوں میں نکل گیا اور وہیں فاقہ کشی کر کے اپنی جان دی۔ (298 ق م)
چندر گپت کے بعد اس کا بیٹا بندو سرتخت نشین ہوا۔ اس کے نام اور سنین میں بھی اختلاف ہے لیکن بظاہر میں کوئی ضعف نہیں آیا ا ور جب وہ مرا تو اس کا فرزند اسوکا یا اشوک ایک وسیع اور طاقتور سلطنت کا وارث ہوا۔ (272ق م) وہ قدیم ہند کا سب سے مشہور فرماں روا گزرا ہے۔ اس کے بہت سے حالات ہمیں ان عجیب کتبات سے معلوم ہوئے، جنھیں چٹانوں یا پتھر کی لاٹھیوں پر اس نے کندہ کرایا ۔ ان میں اس کے احکام اور اخلاقی تعلیم درج ہے۔ اور ان کا دور دور پھیلا ہونا ظاہر کرتا ہے کہ غالباً کشمیر سے میسور اور گجرات سے آسام تک اسی کی عمل داری تھی۔ بعض اہل تحقیق موجودہ افغانستان اور پاکستان کو سلطنت اشوک میں شامل سمجھتے ہیں ۔اگرچہ مغربی پنجاب کے آگے کوئی اشوکی کتبہ دریافت نہیں ہوا۔ اور یہ بھی لازم نہیں کہ جہاں سے ایسا کتبہ نکلے وہ علاقہ مگدھ کی سلطنت میں ضرور داخل ہو۔
لیکن اشوک کی ناموری کا سبب ملکی اقتدار نہ تھا بلکہ اس کی نیکی اور نیکی نیتی کہ بودھ مت کا پرجوش پیرو بن جانے کے بعد اس نے اپنی زندگی کا مقصد ’’دھم‘‘ یعنی حق شناسی کی اشاعت قرار دیا اور ایسے الفاظ میں جن سے صداقت ٹپکتی ہے۔ یہ اعلان کیا کہ :
’’رعایا کی خدمت میرا فرض ہے۔ میری زندگی کام کے لیے ہے۔ مجھ سے پہلے بھی اکثر بادشاہوں نے رعایا کو آرام پہنچایا لیکن میری کوشش کی غایت یہ ہے کہ لوگ پرہیزگاری کے قانون پر عمل کریں۔‘‘
اس حق شناسی کے قانون کی کتبات میں جگہ جگہ صراحت کی گئی ہے۔ جس کے بنیادی عقیدے تین تھے۔
(۱) اہمسا ۔ یعنی کسی ان دار کو تکلیف نہ دینا۔
(۲) والدین، استا د اور بزرگوں کی اطاعت۔
(۳) راست بازی۔
مذہبی قوانین پر عمل کرانے کی غرض سے ایک محکمہ احتساب قائم تھا اور سرکاری عہدہ داروں کا فرض قرار دیا گیا تھا کہ وہ ہر جگہ جلسے کر کے لوگوں کو دھم کی تعلیم دیں۔ اسی مذہبی جوش کا اقتضا تھا کہ اشوک نے بیرونی ملکوں میں بودھ مت کے داعی بھیجے اور کچھ شک نہیں کہ اسی بادشاہ کی کوشش سے کم از کم ایشیا کے کئی ملکوں میں یہ مذہب شائع ہوا اور اپنے وطن سے گم ہو جانے کے باوجود ابھی تک لنکا ، برما، تبت، ممالک چین وجاپان وغیرہ میں اس کے کروڑوں ماننے والے موجود ہیں۔
چٹانوں کے کتبات چھوڑ کر، وہ مینار یا لاٹھیں جن پر کتبے کندہ کرائے گئے۔ ہند کی قدیم سنگ تراشی کا لاجواب نمونہ ہیں ۔ ان میں سے بعض 16-17 گز تک لمبی ہیں اور گول پتھر کو تراش کر بہت گہری نصب کی گئی تھیں۔ انہی سے اندازہ ہوتا ہے کہ عہد اشوک میں پتھر سے عمارتی کام لینے کا رواج خوب ترقی کر گیا تھا ورنہ پہلے محلات شاہی تک میں زیادہ تر لکڑی استعما ل کرتے تھے۔
اشوک کے سن وفات کاٹھیک پتا نہیں چلتا نہ اس کے وارثوں کا صحیح حال معلوم ہے ۔ لیکن قیاس چاہتا ہے کہ یہ دین دار تاج دار 236 ق م میں فوت ہوا اور اس کے انتقال کے بعد ہی موریا خاندان کو زوال آگیا۔ تقریباً دو سو برس تک یہاں سنگا اور کانوا خاندان کے راجا حکومت کرتے رہے۔ اور اس کے بعد دکن کے آندھرا خاندان نے بڑی قوت حاصل کی اور غالباً مگدھ کو بھی اپنا باج گزار بنا لیا۔
آندھرا حکومت کا مجمل ذکر مگاس تھنیز ، یونانی کی تحریروں میں آیا ہے جو وسط ہند اور شمالی دکن میں کافی وسیع اور قوی تھی۔ اس کا پائے تخت پراتشتان دریائے گو داوری کے کنارے واقع تھا اور آج کل پٹن کے نام سے ضلع اورنگ آباد کا ایک ویران قصبہ رہ گیا ہے۔ جنوبی ہند میں پانڈیا، چیرا، چولا کی آزاد ریاستیں قائم تھیں۔ ان کی بحری تجارت اور دولت مندی کی شہادتیں ملتی ہیں لیکن تاریخی حالات مفقود ہیں۔
نیم یونانی بادشاہ :
جس زمانے میں اشوک دنیا کو اہمسا اور بے آزادی کا وعظ سنا رہا تھا، اس کے مغربی ہمسایہ ممالک میں خوں ریزی ہو رہی تھی۔ سلیوکوس یونانی کا پوتا ان تیوکوس جو شام و عراق، ایران و باختر میں دادا کا وارث ہوا۔ اپنے آپ کو خداوند کہلواتا اور سجدہ کراتا تھا۔ حالانکہ بیرونی حریف ایک طرف اندرونی سرکشوں ہی کو قابو میں رکھنے کی قابلیت نہ تھی۔ باختر کا والی اور پارتھیہ (یعنی خراسان) کی رعایا اس سے منحرف ہو گئی۔ باختر ان دنوں بدخشاں اور شمال مشرقی افغانستان پر مشتمل تھا ۔ یہاں ایک نیم یونانی سلطنت قائم ہوئی۔ پارتھیہ کے جنگ جو اشکان کی قیادت میں، یونانی تسلط سے آزاد ہوئے اور اسی نے دولت اشکانیہ کی بنیاد ڈالی۔ شاہ نامے کی ایرانی روایتوں میں ان بادشاہوں کی حکومت اور مدت کو بہت کم بتایا گیا ہے لیکن در حقیقت یہ پارتھی (یا پہلوی) خاندان پانچ سو برس تک بڑی شان کے ساتھ ایران میں بادشاہی کرتا ر ہا۔ ان دونوں نئی حکومتوں میں پہلے باختر کے یونانیوں نے کابل و قندھار پر اور پھر اقطاع پاکستان پر قبضہ جمایا اور تقریباً دو سو برس تک دادی سندھ میں جولانیاں دکھاتے رہے۔ کبھی کبھی وہ جمنا بلکہ دوآب کے علاقوں میں چھاپے مارتے تھے اور بعض شواہد سے نربدا تک ان کے پہنچنے کا سراغ ملتا ہے۔ ان میں سب سے مشہور بادشاہ مناندر گزرا ہے جس نے کابل کو مستقر بنا کر تقریباً سارے پنجاب پر قبضہ کر لیا تھا۔ (150 ق م ) پاکستانی علاقوں سے جو سکے دستیاب ہوئے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں دوسری اور پہلی صدی قبل مسیح میں کئی نیم یونانی ریاستیں بنیں جو اپنی اپنی جگہ خود مختاری کا دعوی کرتی تھیں۔ بودھ اور ہندو مت کی قدیم کتابوں میں ان حملہ آوروں کا ’’یون‘‘ (یا یونا) کے نام سے تذکرہ آیا ہے اور گو ان کی تحریری تاریخ محفوظ نہیں رہی تاہم فنون عمارت وسنگ تراشی اور دوسری صنعتوں میں ان کے اثرات باقی رہ گئے۔ بعض باختری سکوں میں مقامی زبان کے الفاظ یونانی حروف میں تحریر ہیں۔ ممکن ہے یہ اسی قسم کی کوشش ہو جیسی قریب زمانے میں انگریز اردو کو رومن تحریر میں رواج دینے کے لیے کرتے رہے۔ بعض سکوں میں مقامی زبان برہمی رسم الخط میں ملتے ہیں جس کے بعد کی صورت موجودہ دیو ناگری ہے۔
تاتاری اقوام اور کشان بادشاہ:
انہی نیم یونانی ملوک طوائف کے زمانے میں ایران کے اشکانی بادشاہو ں نے قندھار و بلوچستان بلکہ موجودہ صوبہ سرحد پر قبضہ کر لیا اور ان کا ایک صوبہ دار تک سیلا میں مقرر ہوا۔ لیکن پہلی صدی ق م میں یوچی اور سکا قوموں کا ٹڈی دل وسط ایشیا سے آیا اور بلخ و بدخشاں کے علاقوں میں پھیل گیا۔ ترکستان و باختر سے یونانیوں کو یوچیوں نے نابود کیا اور مشرقی ایران و مکران پر سکا قوم کے لوگ قابض ہو گئے۔سکستان (سجستان اور آخر میں سیستان) اسی قوم کی نقل مکانی کی یادگار ہے۔ معلوم ہوتا ہے سندھ کے راستے سے یہ لوگ گجرات اور مالوہ میں پہنچ گئے۔ جہاں صدیوں تک ان کے والیوں اور حاکموں کا تسلط پایا جاتا ہے۔ لیکن شمال میں یوچیوں کی شاخ ’’کشان‘ ‘ کو غلبہ حاصل ہو گیا اور انہوں نے پہلی صدی عیسوی میں ایک زبردست سلطنت قائم کی جس کا پائے تخت پر ش پور، یعنی ہمارا پشاور تھا اور ترکستان، افغانستان ، مغربی پاکستان کے علاوہ شمالی ہند کے اقطاع شہر بنارس کے آگے تک زیر نگیں ہو گئے تھے۔ ان میں کنشک اور اس کا فرزند ہو شک بڑے طاقتور بادشاہ گزرے ہیں۔ لیکن زیادہ شہرت کنشک یا کنش کا کو نصیب ہوئی جو علم و فن کا مربی اور بودھ مت کا سرپرست تھا۔ وہ چالیس برس کے قریب بادشاہی کر کے 162 ء کے قریب فوت یا اپنے سرداروں کے ہاتھ سے ہلاک ہوا اور اس کے بیٹےکے بعد خاندان کشان کی قوت میں زوال آگیا۔سلطنت کئی آزاد ریاستوں میں بٹ گئی۔ پنجاب و کابل میں چوتھی صدی عیسوی تک کشان یا ’’شاہی‘‘ خاندان کے فرماں روا حکومت کرتے رہے ، لیکن گمان غالب یہ ہے کہ وہ ایران کے ساسانی بادشاہوں کے خراج گزار بن گئے تھے۔ یہ ساسانی پارتھیوں کے جانشین ہوئے تھے اور ان کے اولو العزم بادشاہوں نے عہد کیانی کی یاد تازہ کر دی تھی۔ تیسری صدی عیسوی میں بہرام گور ساسانی کے مغربی پاکستان و ہند پر حملوں کا پتا چلتا ہے مگر تفصیل نہیں ملتی۔
ایک اور شہادت رومی تاریخوں میں رہ گئی ہے کہ جب شاہ پور ثانی نے 360 ء میں قلعہ دیار بکر پر رومیوں کو شکست دی تو ہند کے ہاتھی اور کشان خاندان کا راجا ایراین لشکر کے ساتھ تھے۔
کشانیوں کی تاریخ صحت و تفصیل سے محفوظ نہ رہنے کا اس لیے اور بھی ا فسوس ہوتا ہے کہ ایک اعتبار سے یہ پاکستانی سلطنت تھی۔ دوسرے نسل و نژاد اور مزاج کی افتاد میں یہ لوگ کسی قدر تیموری بادشاہوں سے مشابہ ہیں اور کئی باتوں میں کنشک اکبر بادشاہ کا نقش اول نظر آتا ہے۔ ہر چند کہ وہ کئی یونانی اور زر تشتی دیوتائوں کا پرستار تھا اور اسی مخلوط گروہ میں ہندی دیوی دیوتا شریک کر لینے میں اسے کچھ تکلف نہ تھا۔ لیکن معلوم ہوتا ہے اس کی عنایت و عقیدت کا اصلی مورد بودھ مت رہا اور اس مذہب کے علما کی ایک بڑی مجلس بھی اس نے کشمیر میں منعقد کرائی جیسی کئی سو برس پہلے اشوک کے ایما سے پاٹلی پتر میں ہوئی تھی۔ مجلس مذکور کے مباحث کا مجموعہ چینی زبان میں محفوظ ہے۔ اسے سیاسیات سے تعلق نہ تھا اور اس کے مشاورات سے مناظرات کی صورت اختیار کرلی تھی مگر ان کے مطالعے سے اس انقلاب کا پتا چلتا ہے جو بدھ مت کے عقائد میں پیدا ہوگیا تھا ۔ضمناً لوگوں کے دماغی اور اخلاقی حالات روشنی میں آجاتے ہیں۔چنانچہ اول تو ایک بڑا تغیر یہ واقع ہوا کہ بودھ مت کے پیرد اب اپنے مذہب کے بانی کو خدا ئی صفات سے متصف جاننے اور اس کا باقاعدہ بت بنا کے پوجا کرنے لگے تھے۔ دوسرے ان کے علما میں بہت سے اندونی اختلافات ا ور ملحدانہ فرقے پیدا ہو گئے جو ایک دوسرے پر سب و شتم کرتے رہتے تھے۔
بودھ مت کے تین مشہور شارح کنشک کے عہد میں گزرے ہیں۔ اور ہندی طب کا نامی مصنف چرک بھی اسی سرکار کا ملازم تھا۔ بعض اہل تحقیق کا گمان ہے کہ اس نے حکیم بقراط کی طبی تصانیف سے استفادہ کیا ہوگا کیونکہ پاکستان و باختر میں ان دنوں یونانی اور نیم یونانی صاحبان علم و فن موجود تھے۔ پشاور و تک سیلا کے کھنڈروں سے جو بت برآمد ہوئے وہ منہ سے بولتے ہیں کہ اس فن پر یونانی سنگ تراشی کابڑا اثر پڑا تھا۔ گوتم بودھ کے بعض مجسمے یونانیوں کے اپالو دیوتا کا مثنی ہیں۔اور کشانی سکوں پر خود یونانی دیوتائوں کی تصویریں کندہ ہیں۔طرفہ تر یہ کہ گو کشاں بادشاہوں کی زبان پہلوی سے قریبی تعلق رکھتی تھی لیکن سکوں پر وہ اپنے نام یا الفاظ یونانی حروف میں کندہ کراتے تھے اور کنشک نے شاید رومی بادشاہوں کا لقب ’’قیصر‘‘ بھی اختیار کرلیا تھا۔
مغربی افکار و اثرات کے نفوذ کا ایک اورقوی سبب بیرونی تجارت کو سمجھنا چاہئے کہ ملک شام کا قدیم شہر پا میرا (تدمر) اندنوں مشرق و مغرب کی تجارت کا مرکز بن گیا تھا اور وہاں سے کئی راستے ایران ہو کر مغربی پاکستان تک آتے تھے بلکہ چین کا تجارتی مال انہی راستوںسے گزر کر شام و مصر اور جنوبی یورپ میں پہنچتا تھا۔ ان بری راستوں کے علاوہ یہی زمانہ ہے جب کہ بحری تجارت نے فروغ پایا اور موسمی ہوا یا ’’مون سون‘‘ کے سہارے بادبانی کشتیوں کو سواحل ہند تک لانے کا فن عرب ملاحوں نے سیکھ لیا۔ سلطنت رومہ کے تاجر بھی ان کے ذریعے اپنا مال بھیجتے اور جنوبی ہند سے گرم مسالے، موتی اور جواہرات منگواتے تھے حالیہ کھدائیوں میں رومی قیصروں کی بہت سی پرانی اشرفیاں ساحل ملیبار کی قدیم بندرگاہوں سے دستیاب ہوئیں اور لاطینی تصانیف میں کورو منڈل کی بندرگاہوں کا تذکرہ ملا گو کہ سمندر کے پیچھے ہٹ جانے کی وجہ سےا دھر کے ساحلی مقام خشکی میں رہ گئے اور اب ویران کھنڈر ہو گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں