منفرد فلمیں بنانے والاایک نادر فلم سازعباس کیا رستمی

Abbas_Kiarostami
EjazNews

یورپ میں منفرد فلمیں بنائی جاتی ہیں یہ تو سب جانتے ہیں بالخصوص اٹلی اور فرانس منفرد فلمیں بنانے میں نمایاں ہیں۔لیکن یورپ کے علاوہ ایشیاء کا ایک ملک ایران بھی ہے جو فلمی دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ ایرانی فلم سازوں کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ نئے سے نئے تجربات کرتے رہتے ہیں اور یہی تجربات دنیا کے بڑے بڑے میلوں میں سکرینوں پر نظر بھی آتے ہیں۔
ایرانی فلم ساز عباس کیا رستمی اس دنیا میں تو نہیں رہے 2016ء میں ان کی وفات ہو گئی تھی لیکن ان کی بنائی گئی اچھوتے موضوعات کی فلمیں آپ کو حیران کر دیں گی۔
کیا رُسمتی کی قابلِ ذکر فلمز میں شامل 2001ء کی فلم،’’ABC AFRICA‘‘ یوگنڈا کے یتیموں کے بارے میں ہے۔ 2002ء میں بننے والی فلم، ’’TEN‘‘ یا ’’دس‘‘ بھی ایک منفرد فلم ہے۔ یہ پوری فلم ایک کار میں بنائی گئی ہے، جس میں ایک خاتون ڈرائیور 10مختلف کرداروں سے دوران سفر گفتگو کرتی ہے اور ہر مسافر اپنی کہانی سنانے میں گُم ہو جاتا ہے۔ اس فلم میں 10خواتین اپنے اپنے مسائل بیان کرتی ہیں، جن میں سے ایک نئی دُلہن ہے، جسے دولہا چھوڑ گیا ہے۔ ایک طوائف ہے اور ایک ایسا خواتین کا جوڑا ہے، جو عبادت کے لیے روانہ ہوتا ہے۔ 2008ء میں بننے والی فلم، ’’شیرین‘‘ میں ایران اور دُنیا کی 100مختلف اداکارائوں نے حصّہ لیا، جو ایک تھیٹر میں بارہویں صدی کی مشہور داستان، ’’خسرو و شیریں‘‘ دیکھ رہی ہیں۔ یہ تمام اداکارائیں کچھ بولتی نہیں، بلکہ صرف اپنے چہرے کے تاثرات سے داستان کے جملوں پر ردِعمل کا اظہار کرتی ہیں۔ پوری فلم میں داستان کے مکالمے سنائی دیتے ہیں، جبکہ کیمرے پر صرف ناظر خواتین کے چہرے نظر آتے ہیں۔ چہروں کے تاثرات میں مسکراہٹ بھی شامل ہے اور رونا بھی، خوشی بھی ہے اور افسردگی بھی اور اسی طرح فلم ختم ہو جاتی ہے۔
عباس کیا رستمی کی اس کے علاوہ بھی فلمیں ہیں اور ایسی ہی نادر فلمیں ہیں۔شاید وہ فلمیں معاشرے کی ان حقیقتوں کو دکھانے کیلئے بناتا تھا جو آج کہیں گم ہو گئی ہے اور ایسے ہدایت کار اورفلم ساز بھی جو فلم کو ایک جذبے کے ساتھ بناتے تھے اور اس کے پیچھے کوئی مقصد ہوتا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں