ملیریا ایک خطرناک بیماری جس سے بچاؤ ممکن ہے

malaria
EjazNews

بلاشبہ بارش اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ برسات انسانوں، حیوانوں، پودوں، درختوں اور تمام جاندار اشیاکے لئے بیحد ضروری اور اہمیت کی حامل ہے۔ مگر صفائی کے شدید فقدان کے باعث بے شمار خطرناک بیماریاں ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئی نظر آتی ہیں۔ بارش کا پانی جب گلی محلوں میں جگہ جگہ ٹھہر جاتا ہے تو وہاں مچھر اور زہریلے جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں جو مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
مگر بارش کے پانی سے پیدا ہونے والی بیماری ’’ملیریا‘‘ انسانی صحت کیلئے بیحد خطرناک بیماری ہے۔ ملیریا انسان کی قوت اور ہمت کو جس قدر تباہ و برباد کر دیتا ہے اس کے مقابلے میں اس کی ہلاکت خیزی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔
ملیریا کیوں ہوتا ہے ؟:
تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ ملیریا ان جراثیم کے باعث پیدا ہوتا ہے جو انسان کے خون میں داخل ہو جاتے ہیں۔ خون میں ان جراثیم کے داخل ہونے کا باعث ایک خاص قسم کا مچھر ہوتا ہے جو ’’اینو فیلز‘‘ (Anopheles) کہلاتا ہے۔ یہ بیماری اینو فیلز کی مادہ کے کاٹنے سے انسانوں تک پہنچتی ہے۔ جب اس کاجرثومہ ’’پلازموڈیم فیلسی پرم‘‘ انسانی خون میں داخل ہو تا ہے تو اس کی افزائش میں اس خطرناک شرح سے اضافہ ہوتا ہے کہ خون کی شریانیں بند ہو جاتی ہیں اور دماغ کو آکسیجن کی سپلائی رک جاتی ہے ۔ مریض کی 48گھنٹے کے اندر موت واقع ہو جاتی ہے اور اس سے پہلے کہ اس کے مرض کی تشخیص کی جاسکے مریض مر جاتا ہے۔

آئیے ملیریا کے بارے میں جانتے ہیں

ملیریا کی بیماری مادہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے، جس کے کاٹنے سے ایک خاص قسم کے پیراسائٹ انسان کے خون میں منتقل ہو جاتے ہیں، اس بیماری کو پیدا کرنے والے پروٹوزون کو ’’پلازموڈیم‘‘ کہتے ہیں یہ پیرا سائٹ چار قسم کے ہوتے ہیں۔
(۱) پلازموڈیم ملیریا (Plasmodium, Malaria) (۲) پلازموڈیم فالسی پیرم (Plasmodium Falciparum) ، (۳) پلازموڈیم وائی ویکسن ( Plasmodium, vivax)، (4) پلازموڈیم اوویل ( PlasmodiumOvale) ۔
یہ پیراسائٹ مچھر کے پیٹ میں تقریباً 7سے 20دن تک پرورش پاتے ہیں، اس کے بعدجگر سے نکل کر خون کے سرخ خلیوں میں پہنچ جاتے ہیں جب یہ پیراسائٹ ان سرخ خلیوں سے بار نکلتے ہیں تو پھر بیماری کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔اس پورے عمل میں کچھ ہفتوں سے ایک مہینہ لگ سکتا ہے۔
ملیریا کے مرض میں اینیمیا کی شکایت بھی عام ہے، پھر عموماً تلی کا سائز بڑھ جاتا ہے اور خون میں پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ اس ضمن میں ملیریا یا فالسی پیرم سب سے زیادہ خطرناک ہے، جس میں گردے فیل ہو سکتے ہیں، دما غ میں انفیکشن ہو سکتا ہے، پلمونری اڈیما اور بلڈ شوگر کی مقدار کم ہو سکتی ہے۔
ملیریا کی علامات:
ملیریا جراثیم سے متاثرہ مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے اور اس بخار کو پھیلانے والی مادہ اینو فیلز کئی مختلف وجوہ کے سبب اپنے شکار کی جانب راغب ہوتی ہے۔ مثلاً سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ ، حرارت ، ہوا کا چلنا ، جسم کی خوشبو۔ یہ جسم میں خون کی باریک ترین (خون کی چھوٹی وریدیں) تلاش کرتی ہے۔ پھر ایک خاص قسم کا لعاب اس میں داخل کر دیتی ہے جس سے خون جمنے نہیں پاتا اور جراثیم کے بدن میں داخل ہونے کیلئے مستقل طورپر ایک راستہ کھل جاتا ہے۔ اپنے شکار کے جسم سے اپنے غذا حاصل کرنے کے بعد مادہ اینو فیلز اپنے جسم میں انڈوں کی پرورش کرتی ہے اور پھر کسی سازگار ماحول میں جا کر ہزاروں کی تعداد میں انڈے دیتی ہے۔ اس مرض کی علامات میں ایک علامت سردی سے بخار چڑھنا ہے۔

ملیریا سے احتیاطی تدابیر اپنا کر حفاظت ممکن ہے

اگر بارشوں کاموسم ہو تو جن علاقوں میں یہ بیماری عام ہے، وہاں کسی شخص کو بھی بخار چڑھنا شروع ہو تو اس مرض کی تشخیص کو ضرور مدنظر رکھنا چاہئے۔ عموماً پروٹوزون کے جسم میں داخل ہونے کے ساتھ دن سے چالیس دنوں کے بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ مریض کو سخت بخار چڑھتا ہے، سردی لگتی ہے اوریہ سردی اتنی شدید لگتی ہے کہ مریض تین چار کمبل اوڑھ کر بھی سردی سے کانپتا رہتا ہے۔
یہ تیز بخاری تقریباً آدھے گھنٹے تک رہنے کے بعد اتر جاتا ہے جس میں مریض کو بہت زیادہ پسینہ آتا ہے۔ اسی طرح بخار اترنے اور چڑھنے کا یہ عمل 48گھنٹوں یعنی دو دن کے بعد پھر دوبارہ ہوتا ہے۔ مریض کو سخت بخار چڑھتا ہے، سردی لگتی ہے ، جسم کا درجہ حرارت بڑھ کر 104سے 106ڈگری تک بھی ہو سکتا ہے سر میں شدید درد ہوتا ہے۔ سارے جسم میں تھکاوٹ سی محسوس ہوتی ہے۔ جوڑوں اور عضلات میں درد محسوس ہوتاہے۔ مریض کو انفلوئنزا کی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ کبھی کبھار مریض کو قے بھی ہو سکتی ہے۔ کمر اور پیٹ میں درد ہوتا ہے اور کئی بار دست بھی آنے لگتے ہیں۔ منہ کا ذائقہ کڑوا ہو جاتا ہے۔
ملیریا کے دورے کے دوران پہلے مریض کو سردی اور کپکپاہٹ محسوس ہوتی ہے ، پھر جسم گرم ہو جاتا ہے اورتیز بخار چڑھتا ہے اس کے بعد بے حد پسینہ آتا ہے اور بخار اتر جاتا ہے۔ پہلے یہ حملہ آٹھ سے بارہ گھنٹے تک رہتا ہے پھر یہ کیفیت وقفے کے بعد بار بار ہونے لگتی ہے۔ ملیریا کی مختلف قسموں کے ساتھ ان کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
ملیریا وائی ویکس میں بخار ہر د ود ن کے بعد چڑھتا ے۔ ملیریا اور ویل میں بخار ہر تین دن بعد اور پلازموڈیم ملیریا میں ہر چار دن بعد بخار چڑھتا ہے، جبکہ ملیریا فالسی پیر میں بخار روزانہ چڑھتا ہے۔پلازم موڈیم ملیریا سے جو ملیریا ہوتا ہے اس قسم ے ملیریا میں بچوں کے گردوں پر بھی برا اثر پڑ سکتا ہے۔
ملیریا فالسی پیرم میں عموماً مریض کے معائنے پر یرقان کی سی کیفیت نظر آتی ہے۔ جلد کا رنگ پیلا پڑ جاتا ہے، جگر اورتلی کا سائز بڑھا ہوتا ہے اور ان کو دبانے پر درد محسوس ہوتا ہے۔ پلازموڈیم فالسی پیرم کی وجہ سے ہونے والا ملیریا سب سے شدید اور خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ ملیریا میں زیادہ تر مریض اسی قسم کے انفیکشن ہی کی وجہ سے مرتے ہیں۔ اس مرض کے ا یک فیصد مریضوں کو نروس سسٹم یا دماغ کی سوزش بھی ہو جاتی ہے جو ایک خطرناک صورت ہے۔
ایس مریضوں پر غنودگی چھانے لگتی ہے۔ کئی بار ایک طرف بازو اور ٹانگ میں کافی کمزور ی سی آجاتی ہے ، پھر مریض کے خون میں شوگر کم ہو جاتی ہے جو کہ بذات خود دماغ کے فعال پر اثر انداز ہو کر بے ہوشی یا مستقل مرض کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بلڈ پریشر کم ہونے کی وجہ سے مریض شاک کی حالت میں بھی جاسکتا ہے۔
ملیریا وائی ویکس میں زیادہ تر مریضوں کی موت سخت قسم کے اینیمیا یا تلی کے پھیل کر پھٹ جانے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ پلا ز موڈیم وائی ویکس اورپلازموڈیم اوویل میں انفیکشن جگر کے خلیوں میں کئی سال تک چھپا رہ سکتا ہے جہاں سے یہ خون کے سرخ ذرات کو متاثر کر کے وقفو ں کے بعد کئی بار ملیریا کا سبب بن سکتا ہے۔

ملیریا عالمی طور پر خطرناک سمجھا جاتا ہے

ملیربا سے بچائو کے طریقے:
پاکستان میں چونکہ ملیریا بہت زیادہ عام ہے، اس کے لئے بخار کا کوئی بھی مریض اگر ملیریا کی علامات کے ساتھ نظر آئے تو ملیریا کے بارے میں ضرور سوچنا چاہئے اور معالج سے لازمی رجوع کرنا چاہئے۔
ملیریا کی تشخیص کے لئے خو ن کا ایک ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس میں مریض کے خون کی سلائیڈیں تیار کی جاتی ہیں اور خرد بین سے اس کا معائنہ کر کے خون میں موجود ان پیرا سائٹس کا پتہ لایا جاتا ہے اور پھر ٹیسٹ کے نتیجے کے لحاظ سے مریض کا علاج کیا جاتا ہے۔
ملیریا کی اگر بروقت صحیح تشخیص ہو جائے تو اس کا علاج انتہائی آسان ہے جو صرف تین دن پر مشتمل ہے۔ جس میں ایک خاص وقفے سے اور ایک خاص مقدار میں گولیاں کھانے سے یہ مرض مکمل ختم ہو جاتا ہے، لیکن اگر صحیح وقت پر تشخیص اور علاج نہ ہو تو یہ مرض خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً سات سو ملین افراد مچھر کے کاٹنے سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والی بیماریوں میں ملیریا، ڈینگی فیور، فیور جیسی مہلک بیماریاں شامل ہیں۔ ملیریا جیسی مہلک بیماری کے عالمی پیمانے پیر پھیلائو کی وجہ سے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم اس بیماری کی روک تھام کے موثر طریقوں کے بارے میں عوام الناس کے شعور کو بڑھائیں۔
بازار میں مختلف قسم کے کوائل میٹ، بجلی کے ویپورائزر، مچھر دانیاں، پردے، اسپرے کے لئے ایروسول اور مچھر بھگانے والی ادویہ دستیاب ہیں۔ لیکن ان طریقوں کے استعمال سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ دراصل کیڑے مار ادویہ کیا ہوتی ہے اور یہ کس طرح کام کرتی ہیں۔ یہ ادویہ صرف کیڑے مکوڑوں کو تلف کرنے ہی کامکام نہیں کرتیں بلکہ ان میں ایسی ادویہ بھی شامل ہیں جو کیڑوں کی افزائش کوروکنے اور ان کو انسانی جسم سے دور بھگانے کے مقصد کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔
زیادہ تر دوائیں ٹاکس یا نیوروٹاکس کے زمر میں آتی ہیں جن کا اصل کام کیڑوں کے اعصابی نظام کو مفلوک کر کے ان کو ختم کرنا ہے۔ ان دوائو ں کی کارکردگی کا پیمانہ بایوایفی کیسی کہلاتا ہے۔ جس کو KD50کے حوالے سے جانچا جاتا ہے۔ یعنی یہ دوان کیڑوں مکوڑوں کی نصف تعداد کو (جن پر دئیے ہوئے طریقے سے دوا استعمال کی گئی) تلف کرنے میں کتنے سیکنڈ کا وقت لیتی ہے۔ اس کے علاوہ مچھروںسے اپنی حفاظت خود کرنے کے دیگر کئی طریقے بھی موجود ہیں۔ جو انسانی صحت یا ماحول پر کسی قسم کے مر اثرات بھی نہیں ڈالتے۔ مثلاً کوال، یہ اپنی حفاظت کیلئے استعمال ہونے والا سب سے کم خرچ اور مقبول طریقہ ہے۔ ایک زمانے میں کوائل پائیر یتھرم پائوڈر اور لکڑی کے برادے کو ملا کر تیار کئے جاتے تھے لیکن اب ان کی جگہ اسی سے ملتے جلتے لیکن کہیں زیادہ موثر کمپائونڈ استعمال کئے جارہے ہیں۔
جب ہم کوائل کے سرے کو جلاتے ہیں تو کوائل میں موجود یہ دوائیں فضا میں تحلیل ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور مچھروں کو بھگانا، بے ہوش کرنا اور ختم کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ عموماً مچھر کمروں میں اندھیرا پھیلنے سے داخل ہونا شروع ہوتے ہیں اور جب لوگ سو جاتے ہیں تو ان کوکاٹنا شروع کر یدتے ہیں۔ کچھ زیادہ دلیر مچھر جاگتے لوگوں پر بھی حملہ آور ہوتے ہیں اس لئے کوائل کو اس وقت جلایا جائے جب مچھروں کے کمرے میں داخل ہونے کا وقت شروع ہوتا کہ ان کا اثر کم از کم چھ سے دس گھنٹے تک رہے اس دوران یہ ضروری ہے کہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں تاکہ گھر میں موجود مچھر باہر نکل جائیں۔
مچھروں سے بچائو کیلئے اگر میٹ استعمال کیاجائے تو یہ انتہائی ضروری ہے کہ صرف معیاری میٹ استعمال کیا جائے جو آٹھ سے بارہ گھنٹے تک چلے جبکہ ویپو رائزر یونٹ عام طورپر تیس دن تک تسلی بخش کام کرتا ہے۔
دیگر ا حتیاطی تدابیر:
چونکہ ملیریا کی بیماری مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے اس لئے مچھروں سے بچائو کے لئے تمام ذرائع بروئے کار لانے چاہئیں۔ گھروں میں پردوں، مچھر دانی اور مچھرم اور ادویہ کے اسپرے کا انتظام ہوناچاہئے۔ خاص طور پر بارشوں کے بعد مچھر مار ادویہ کا اسپرے باقاعدگی سے ہونا چا ہئے اگر عوام الناس اپنی مد د آپ کے تحت ساکن پانی پر مٹی کا تیل چھڑک دیں تو وہ مچھروں کی افزائش سے پاک ہو جائے گا۔
مچھروں کو تلف کرنے کیلئے آج کل ایرو سول اسپرے کا استعمال بھی مقبول ہو رہا ہے یہ عام طور پر پانی یا کسی دوسرے محلول یا مچھروں کوپہلے بے سدھ اور پھر مکمل ختم کرنے والے کیمیکل حل کرکے بنائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس محلول میں ایک اور کیمیکل شامل کر کے مچھر مار دوائوں کا اثر مزید بڑھا دیا جاتا ہے۔ ایرو سول اسپرے براہ راست کمروں کے اندر کیا جاتا ہے اور جب مچھر کمروں میں داخل ہوتے ہیں توپہلے وہ ایرو سول میں شامل ایک قسم کے کیمیکل کے اثر سے بے سدھ ہو جاتے اور پھر دورسے قسم کے کیمیکل ان کو پوری طرح تلف کر دیتا ہے ، مگر یاد رہے کہ اسپرے سے پہلے تمام کھڑکیوں ، دروازوں کو بند کرنا ضرور ی ہے۔
ایرو سول کے استعمال میں احتیاط کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور صرف ایسا ہی ایرو سول استعمال کرنا چاہئے جو عالمی ادارہ صحت سے منظور شدہ ہو خصوصاً گھروں میں بچوں کی موجودگی میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ صرف معیاری ایرو سول استعمال کئے جائیں تاکہ چھوٹے بچوں پر اس کے مضر اثرات نہ ہوں۔
ملیریا سے بچائو کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ مچھروں کی افزائش کو روکا جائے اور اپنے اطراف میں نظررکھی جائے کہ کہیں بھی گندا پانی وغیرہ جمع نہ ہونے پائے تاکہ مچھروں کو پروان چڑھنے سے روکا جائے۔
ملیریا پیدا کرنے والے مچھروں کو ان کی نشوونما سے پہلے ان کی زندگی کے ہر دور میں ہلا ک کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان حالات اور ماحول کو ختم کیا جائے جن کے اندر رہ کر مچھر نشوونما پاتے ہیں۔ گھر کے اندر اور باہر پانی کو کھڑا نہ رہنے دیا جائے۔ اپنے گھروں میں ایسا انتظام کیاجائے کہ مچھر گھرمیں داخل ہی نہ ہو سکیں۔ یعنی کھڑکیوں وغیرہ میں باریک جالی لگا دی جائے اس کے علاوہ گھروں میں اورگھرسے باہر صفائی کا خاص خیال رکھا جائے تو ملیریا سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
نسرین شاہین

اپنا تبصرہ بھیجیں