ملکہ خیر النساء (گاماں بی بی)کی ذہانت

cholistan-history-gama

چولستان کی لوک کہانی ’’ گاماں بی بی کی ذہانت میں قلعہ ڈراور کی یاد دلاتی ہے۔ جو تاریخ میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔
ڈراور کے شاہی قبرستان میں گاماں بی بی کے مزار کا پروقار گنبد جب دور سے صحرانشینوں کو دکھائی دیتا ہے تواحترام سے وہ سروں کو جھکا لیتے ہیں ۔ کون نہیں جانتا کہ دیہات میں پل کر جوان ہونے والی دوشیزہ کی جرأت و بیباکی نے اسے والی ریاست کی ملکہ بنا کر شاہی محلات میں منتقل کر دیا۔ گاماں بڑی خوش جمال اور جی دار خاتون تھی، غریب پروری اس کا شیوا تھا۔ وہ سودخور ساہو کار سے اسباب پہن کر بے کس اور بے سہارا لوگوں میں تقسیم کر دیتی ۔ ایک بار وہ زنداں میں تھی۔ ان دنوں والی ریاست کی تشریف آوری ہوئی تو تلاوت کلام پاک میں مشغول تھیں۔ پوچھنے پر بولیں میرے سامنے دو جہانوں کا بادشاہ قرآن پاک رکھا ہے۔ قرآن پاک کا احترام زیادہ ضروری ہے۔ گاماں کا یہ جواب سننا تھا کہ والئی ریاست اتنے مسحور ہوئے کہ اسے اپنی زوجیت میں لے کر ملکہ بنا دیا۔ شاہی ایوانوں میں پہنچ کرگا ماں نے ملکہ خیر النساء کا خطاب پایا۔ والئی ریاست کو خدا نے ملکہ خیر النساء کے بطن سے فرزند عطا کیا جو ولی عہد بنایا گیا ۔ اس کا نام رحیم یارخان تھا۔ بہاولپور کے ایک شہر کو بھی اسی نام سے موسوم کیا گیا مگر تخت و تاج کے اس وارث کی زندگی نے وفا نہ کی ۔ شب برات کا تہوار منانے کے لئے آتش بازی کا سامان جمع تھا۔ ولئی عہد کے ایام طفولیت تھے۔ اکیلے میں شہزادے نے آتش بازی کے سامان کو آگ لگا دی۔ آگ یک لخت اس تیزی سے بھڑک آئی کہ اس نے شہزادے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شہزادہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ کہتے ہیں اس صدے سے گاماں بی بی پھر کبھی نہ سنبھل سکی تھی ۔ ایک روایت کے مطابق جوانی کے دنوں میں گاماں کے برق رفتار گھوڑے سے ٹکرا کر ایک مسافر بچہ جاں بحق ہو گیا تھا، شہزادے کی جدائی کاغم اس حادثہ کے نتیجے میں ظاہر ہوا۔
صحرانشینوں کی مجالس میں گاماں بی بی کی ذہانت کا یہ واقعہ بڑے شوق سے سنا اور سنایا جاتا ہے۔ ایک باروالئی ریاست روہی میں شکار کی غرض سے جاتے ہوئے گا ماں کو بھی ہمراہ لے گئے ۔ وہاں ایک صحرائی عورت ویرانے میں تنہا دردزہ میں مبتلا پائی گئی ۔ تھوڑی دیر کی سعی کے بعد اس عورت نے بچے کی پیدائش کا سارا معاملہ خود ہی نمٹا لیا۔ ہمت سے کھڑی ہوئی اور اپنے نوزائیدہ بچے کو اٹھا کر چل دی۔ والئی ریاست نے حیرت سے پوچھا۔ کیا اسی مقصد کے لئے امراء کی خواتین کو دائیوں طبی امداد اور کئی ہفتوں کی دیکھ بھال درکار ہوتی ہے۔ ادھر آپ نے دیکھا ایک صحرائی عورت کو کسی امداد کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ کیا امراء کی بیگمات کے پیچھے بلا وجہ کے لچھن محض دکھاوے کے نہیں ہوتے ۔ اس وقت تو گاماں بی بی خاموش ہوگئیں۔ مگر کچھ دن بعدمحل کی چھت پر کھڑے ہوئے گاماں بی بی کو جواب دینے کی سوجھی ۔ انہوں نے دو نیزوں کو زمین پر ہاتھ پھیلائے کھڑا کر دیا۔ ایک کنیز نے دونوں ہاتھوں میں کھدر کا کپڑا پھیلایا ہوا تھا۔ دوسری کنیز نے اپنے ہاتھوں میں ململ پھیلا رکھی تھی ۔ اس کے علاوہ دو کنیزوں نے چھت پر سے دو وزنی پتھران کھلے ہوئے کپڑوں پرنشانہ باندھ کر پھینکے۔ یہ اہتمام اس وقت کیا گیا جب والئی ریاست بھی اتفاقاً وہاں موجود ہونے کی وجہ سے اس منظر کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ ململ چھٹ گئی اور کھدرنے پتھر کوتھام لیا۔ تب گاماں بی بی نے والئی ریاست کو یاد دلایا کہ اس مثال میں سخت جان صحرائی عورت اور نازک اندام بیگمات کے متعلق ان کے سوال کا جواب پنہاں ہے۔ والئی ریاست گاماں بی بی کا سادہ مگر بامعنی جواب سن کر مسرور ہوئے۔
یہ چولستان کی وہ داستانیں ہیں جو یقیناً چولستان کی داستانوں کی امین ہیں ۔ سو یہ داستانیں جس طرح ہماری تہذیبی زندگی کا ایک جہان آباد کرتی چلی جاتی ہیں اسی طرح چولستان بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں