ملاپ

queen_prince

ایک روز بستان، اسعد سے تھوڑی دیر کے لیے رخصت ہو کر دروازے میں کھڑی ہوئی تو سنا کہ ایک شخص منادی کرتا جاتا ہے کہ اگر کسی کے یہاں اس حلیے کا نوجوان ہو تو پیش کرے ۔ اسے مال و زر سے نہال کر دیاجائے گا۔ بہت کچھ انعام پائے گا اور اگر کسی کے گھر میں ہوا اور اس نے چھپایا تو سولی پر چڑھایا جائے گا اور اس کی دولت اور جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔ مکان ڈھا دیا جائے گا اور وہ ہر قسم کی تکلیف اٹھائے گا۔
جب ڈھنڈورا پیٹنے لگا تو بستان فوراً سمجھ گئی اور اسعد سے جا کے حال بیان کیا وہ اسی دم وزیر کے پاس گیا اور پہچانا تو اسی کا بھائی امجد ہے۔ اس کے قدموں پر گر پڑا ۔ امجد نے بھائی کو پہچانا اور دونوں خوش خوش بغل گیر ہوئے ۔ مارے خوشی کے سکتے میں رہ گئے۔
جب ہوش آیا تو امجد اپنے بھائی کو سلطان کے حضور لایا اور کل حال کہہ سنایا۔ بادشاہ کے حکم سے اس مجوسی کا مکان لوٹ لیا گیا اور اس کی لڑکی بستان کو عزت سے بلایا اور رتبہ بڑھایا۔ مجوسی کے قتل کا حکم دیا۔ بہرام نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ غلام مذہب اسلام قبول کرتا ہے تب فوراً کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگیا۔ پھر ان دونوں بھائیوں نے اپنا حال بیان کیا تو بہرام نے کہا چلیے کہیں کا سفر کریں۔ جب ان دونوں کو روتے ہوئے دیکھا تو کہا حضور! دل کو ذرا تسکین دیں ،خدا آپ کو ضرور بچھڑے ہوئے عزیزو ں سے ملائے گا۔ اور روز مسرت دکھائے گا۔
دوسرے روز رعایا کے غل مچانے کی صدا آئی۔ لوگوں نے دہائی مچائی اور اہل کاروں نے زمین بوس ہو کر عرض کیا کہ پیرو مرشد! کسی بادشاہ کا لشکر چڑھائی کرتا آتا ہے۔
امجد نے کہا میں ابھی ابھی جائوں گا اور اس لشکر کشی کا سبب دریافت کرتا آئوں گا۔
یہ کہہ کر امجد شہر سے باہر آیا تو واقعی ایک لشکر جرار کوپایا۔ لشکری امجد کو اپنے بادشاہ کے روبرو لے گئے تو امجد نے دیکھا کہ بادشاہ نہیں، ایک برقع پوش عورت ہے۔
امجد نے عرض کیا فرمائیے! کس غرض سے لشکر کا آنا ہوا؟۔
وہ بولی میرے آنے کا صرف یہ سبب ہوا کہ مجھے ایک ایسے خدمت گار کی ضرورت ہے جس کے ابھی ڈاڑھی مونچھ نہ نکلی ہو۔ اگر دو تو میری خوشی کا باعث ہے ، ورنہ سخت خوں ریزی ہوگی اور میں نے خوب ٹھان لی ہے کہ میں ضرور اس کو لے کر جائوں گی ۔ ایک نہ مانوں گی۔
امجد نے کہا اے ملکہ! اس نوجوان کا نام اور پتا بتائیے اور جو کچھ حال ہو زبان مبارک سے بیان فرمائیے !۔
وہ بولی اس کا نام اسعد اور میرا نام مرجانہ ہے ۔ و ہ بہرام مجوسی کے ہمراہ آیا تھا بہرام نے اس کے بیچنے سے انکار کیا تھا اور مجھے جل دیا تھا۔
امجد سمجھ گیا کہ یہ میرے بھائی کا ذکر ہے۔ بولا اے ملکہ! حضور کا سایہ رعایا پر تا قیامت قائم رہے۔ جس شخص کا نام آپ نے لیا ہے وہ اس غلام کا حقیقی بھائی ہے۔
اس کے بعد کل حالات بیان کیے ، جلا وطنی، قید اور جزائر آبنوس سے بھاگ آنے کا کچا چٹھا کہہ سنایا۔
ملکہ مرجانہ نے اسعد کی خیریت کا حال سنا تو بہت خوش ہوئی اور امجد کو خلعت عطا کیا۔
امجد نے بادشاہ سے ملکہ کے آنے کا سبب بیان کیا اور سب کی فکر دور ہوئی۔ بادشاہ مع وزیر اور امجد کے ملکہ مرجانہ کے ملاقات کو گئے اور نہایت تپاک سے خوش خوش ملے۔
یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ سامنے دھول اڑتی نظر آئی، جس نے دیکھا اس کی عقل چکرائی۔ دیکھتے ہی دیکھتے گرد اس قدر بلند ہوئی کہ آسمان کے تلے گردو غبار کا ایک اور آسمان بن گیا۔ غور کر کے دیکھا تو فوج کثیر چلی آتی ہے۔امجد و اسعد نے کہا خدا ہی خیر کرے ! وہی مالک اور نگہبان ہے ! یہ لشکر جرار کیوں آتا ہے؟ اب اگر ملکہ مرجانہ سے میل کر کے ہمارا اور ملکہ کا لشکر مقابلہ نہ کرے گا تو دشمن ملک چھین لے گا۔ اب ہم کو جا کے دریافت کرنا لازم ہے کہ غنیم کیوں آتا ہے اور کس بنیاد پر فوج لاتا ہے۔
وہ مرجانہ کی سپاہ لے کر روانہ ہوا اور جب دوسری فوج کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اس کے نانا جان شاہ الغیور یعنی ملکہ بدور کے والد بزرگوار کی سپاہ ہے۔
امجد نے بادشاہ کے حضور میں زمین بوس ہو کر لشکر کشی کا سبب دریافت کیا تو اس نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا:
میں اپنی بیٹی ملکہ بدور اور اس کے شوہر قمر الزمان کی تلاش میں آیا ہوں کہ جب سے میرا اور اس کا ساتھ چھوٹا آج تک اس کی خبر نہیں ۔ بیٹی اور داماد کی جدائی جسے شاق نہ گزرے، ایسا کوئی بشر نہیں۔
جب امجد کو اور بھی یقین ہو گیا کہ یہ نانا جان ہیں تو دست بستہ عرض کیا کہ غلام ہی حضور کا نواسہ ہے۔
یہ سنا تو بادشاہ خوشی سے اچھل پڑا اور بغل گیر ہو کر دونوں زار زار روئے۔ بادشاہ الغیور نے کہا بیٹا خدا کاشکر ہے کہ ایک مدت کے بعد بچھڑے ہوئے ملے اور خوشی کا یہ دن آیا۔
امجد نے کہا آپ کی لڑکی ملکہ بدور اور جناب والد قمر الزمان دونوں بخیر و عافیت میں رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ بھی بیان کیا کہ والد بزرگوار بے وجہ، بے سبب ہم دونوں بھائیوں سے ناراض ہو گئے۔ یہاں تک کہ خازن دار کو حکم دیا کہ جنگل میں لے جا کر مار ڈالے مگر خازن دار کو رحم آیا اور ہم کو پنجہ اجل سے رہا کیا۔
سلطان الغیور نے کہا اب تم دونوں میرے ہمرا ہ چلو۔ میں تمہیں باپ سے ملا دوں گا اور اصل حال بتا دوں گا۔
جب اس شہر کے بادشاہ کو حال معلوم ہوا تو اس نے شاہ الغیور کو بے شمارتحفے، تحائف پیش کیے۔ ملکہ مرجانہ کے پاس بھی وہی تحفے بھیجے۔
یہ معاملہ ہو ہی رہا تھا کہ پھر گرد بلند ہوئی اور اس کے سبب روز روشن، تاریک ہوگیا۔ چاروں طرف غبار ہوگیا۔ شوروغل اور گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز آئی۔ سنگینوں اور تلواروں کی چمک سے چکا چوند کا عالم ہوگیا۔ چاروں طر ف غبار ہوگیا۔ شوروغل اور گھوڑوں کی چمک سے چکا چوند کا عالم ہوگیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ بدلی میں بجلی چمک گئی۔
جب یہ لشکر شہر میں داخل ہوا تو اس شہر کے بادشاہ نے کہا آج کا دن بڑا مبارک اور سعید ہے جس طرح ان دونوں فوجوں سے صلح ہو گئی، شاید اس لشکر سے بھی مقابلے کی نوبت نہ آئے۔
پھر امجد سے کہا تم اپنے بھائی کو لے کر جائو اور ا س بادشاہ سے لشکر کشی کا سبب دریافت کرو۔
امجد اور اسعد حکم پاتے ہی روانہ ہوئے، شہر پناہ کا پھاٹک جو فوج کے خوف سے بند کر دیا گیا تھا۔کھلوایا اور جا کے دیکھا تو قمر الزمان ان کا باپ فوج کے ساتھ آیا ہے۔ قمر الزمان کو معلوم ہوگیا تھا کہ لڑکے بفضل خدا زندہ سلامت ہیں یہ دیکھتے ہی باپ کے قدموں میں گر پڑے اور سب کے سب پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ قمر الزمان نے اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار کیا اور سخت پشیمان ہوا۔
کہا بیٹا! تمہار ی جدائی بہت شاق گزری۔ زندگی سے بے زار تھا روز و شب غم کا بخار تھا۔
جب قمر الزمان کو معلوم ہوا کہ شاہ الغیور آیا ہے تو پورے لشکر اور اپنے بیٹوں کے ہمراہ اس کی ملاقات کو چلا ۔ جب سواری قریب پہنچی تو ایک لڑکے نے جا کے اطلاع دی اور شاہ الغیور استقبال کو آیا۔
دونوں بادشاہ باہم ملے اورواقعہ عجیب پر سخت حیران ہوئے۔ شہر کی رعایا نے انواع و اقسام کی شیرینی اور تحفے ان دونوں بادشاہوں کی خدمت میں پیش کیے اور انہوں نے بخوشی قبول کیے۔
اب سنیے کہ پھر دور سے گردو غبار نظر آیا اور معلوم ہوا کہ شہر بھر پر تاریکی چھا گئی۔ گھوڑوں کی ٹاپوںسے زمین ہلنے لگی۔ شان و شوکت کی سپاہ تھی۔ ان کا بادشاہ بھی درمیان میں گھوڑے کی پشت پر بیٹھا تھا۔
شہر کے بادشاہ نے کہا خدا کا شکر ہے کہ اس قدر فوج کثیر میرے شہر میں جمع ہو گئی۔ مگر یہ لشکر جو سامنے نظر آتا ہے اس سے خوف معلوم ہوتا ہے۔
بادشاہوں نے کہا آپ کوئی خوف محسوس نہ کریں ہم تینوں کی فوجیں مل کر اس کو فوراً شکست دے دیں گی۔
اتنے میں ایک ایلچی آیا۔ شاہ الغیور، ملکہ مرجانہ اور اس شہر کے بادشاہ کو سلام کیا اور کہا حضور! ہمارے بادشاہ عجم سے آئے ہیں۔ عرصے سے ولی عہد سلطنت کا کہیں پتا نہیں ہے۔ ادھر ادھر تلاش کیا مگر کہیں نہ پایا۔
قمر الزمان نے پوچھا اس بادشاہ کا کیا نام ہے ؟ اور عجم کا کون مقام ہے۔
ایلچی بولا خداوند! ہمارے بادشاہ کا نام شاہ زمان ہے اور ملک ان کا جزائر خالدان ہے۔
قمر الزمان جو والد بزرگوار کا نام سنا تو مارے خوشی کے غش آگیا۔ جب غشی کی حالت دور ہوئی تو لڑکوں سے کہا بیٹا! اس قاصد کے ہمراہ جائواور دادا جان کو سلام کر آئو۔ یہ میری جدائی سے سوگوار تھے۔ جاکے میری خیریت بیان کرو کہ ان کو خوش کرنے کی یہی سبیل ہے۔
امجد اور اسعد نے اپنے دادا جان کو جا کے سلام کیا۔ پھر اپنا اور اپنے باپ قمر الزمان کا کل حال سنایا۔ شاہ زمان جامے میں پھولا نہ سمایا۔ جب قمر الزمان اپنے والد سے ملا تو مارے خوشی کے غش آگیا۔ جب ہوش میں آیا تو باپ سے کل ماجرا کہہ سنایا۔
مرجانہ اور اسعد ، امجد اور بستان کی باہم شا دی ہوئی، خانہ آبادی ہوئی۔ امجد کو اپنے نانا کی حکومت ملی اسعد ارمانوس کا بادشاہ مقرر ہوا۔ قمر الزمان اپنے والد کے ہمراہ جزائر خالدان گیا اور وہاں خوشی کے شادیانے بجنے لگے۔ پھر سب اپنی اپنی جگہ سکھ چین سے رہنے لگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں