معزالدین اور پرتھوی راج کی جنگ

battel_of_perthvi

غزنی کے شمال مشرق میں کوہ سفید کا سلسلہ شرقاً غرباً پھیلا ہوا ہے۔ چوتھی صدی ہجری میں اس کے پہاڑی قلعوں میں ترک و تاجیک نسل کے قبائل آباد تھے۔ انہی میں غوری قبیلہ خالص ترک اور قدیم سے مسلمان ہونے کا دعویدار تھا۔ اگرچہ محمود غزنوی نے ان کی قزاقی سے تنگ آکر یہ سب قلعے اور بستیاں فتح کیں تو جابہ جابت پرستی کے آثار پائے اور یہاں سلطانی انتظام کے ساتھ اشاعت اسلام کا بھی اہتمام کیا گیا ۔ ان تدبیروں سے یہ کوہستانی مدنیت کے میدان میں آئے اور بعض شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ امن و فراغت نے ان کی آبادی میں بہت جلد اضافہ کر دیا۔
سلاطین غزنی کمزور ہوئے تو غوریوں میں زور بھرا ۔ ادھر سلجوقی ترکوں نے ایران میں ایک بڑی سلطنت قائم کی۔ خراسان آل سبک تگیں سے چھین لیا اور دوسری مصیبت یہ نازل ہوئی کہ غز (یا یوز) قوم کو ترکستان سے کابل کی طرف دھکیل دیا۔ یہ جنگ جو غزنی کے بادشاہ بہرام شاہ کے قابو میں نہ آتے تھے۔
غوریوں نے انہیں نکالا مگر خود غزنی پر قابض ہو گئے ۔ بہرام شاہ اپنے پاکستانی علاقے سے فوج لایا اور غوری امیر سیف الدین کو پکڑ کر سولی پر چڑھا دیا ۔اسی کا بھائی علاء الدین حسین تھا جس نے بہرام شاہ کو شکستیں دے کر پھر غزنی پر قبضہ کیا اور حکم دیا کہ شہر کو لوٹ کر آگ لگا دی جائے ۔ کہتے ہیں سات روز تک برابر شہر جلتا اور شہریو ں کا خون گلیوں میں بہتا رہا اور علاء الدین ایک محل میں بیٹھا عیش و طرف کا لطف اٹھاتا رہا۔
آٹھویں رات جاں بخشی کا اعلان ہوتے ہوتے بھی کم سے کم ستر ہزار باشندے مارے جا چکے تھے۔ پھر غزنی اور مضافات کی وہ عمارتیں کہ ان کا دنیا میں مثل کم ہوگا، توڑ کر کھنڈر بنا دی گئیں۔ انتقال کے تیشے سلطان محمود ، مسعود اور ابراہیم کے مقبرے مستثنا رہے۔ ورنہ سلاطین غزنوی کی قبریں تک نہ بچیں۔ اسی علاء الدین کو جو غزنی میں آگ لگانے سے ’’جہاز سوز‘‘ مشہور ہوا سلطان سنجر پکڑ کر لے گیا تھا اور وہ بہت دن اس کے لشکر میں تنور سلگا کر پیٹ کی آگ بجھاتا رہا۔ پھر چھوٹ کر وطن آیا بھی تو زیادہ دن نہ جیا اور حکومت غور پر اس کے ایک بھائی، پھر بھتیجے غیاث الدین کا انتخاب ہوا۔ مگر پاکستان و بھارت کو سلطان غیاث الدین سے سابقہ نہیں پڑا بلکہ وہ اس بادشاہ کا چھوٹا بھائی شہاب الدین تھا، جس نے معز الدین محمد بن سام کے لقب سے پہلے مغربی پاکستان پر قبضہ کیا پھر شمالی بھارت پر فوج کشی کی۔ اس کی حکومت کا آغاز غزنی کی صوبہ داری سے کیا جاتا ہے۔ اگرچہ بڑے بھائی کی زندگی میں اس نے کبھی خود مختاری کا دعویٰ نہیں کیا۔
غزنی کو غزوں کی ترک تاز اور عام بد امنی سے محفوظ کرنے کے بعد معز الدین پہلے بلوچستان و سندھ کے علاقے دوبارہ حکومت غزنی کے زیر نگیں لایا اوربھائی کی فرمائش سے ملتان کوباطنیوں کی شورش سے نجات دلائی۔ اچھ میں ایک بھاٹیہ حاکم آزاد راجا بن گیا تھا، اسے مغلوب کیا اورکچھ مدت بعد اسی سمت سے گجرات پر فوج کشی کی۔ اسلامی تاریخوں میں یہاں کے راجا کا نام بھیم دیو لکھتا ہے۔ حالیہ تحقیقات مول راج بتاتی ہے ۔ مگر نام جو بھی ہو،وہ ان دنوں شمالی ہند میں سب سے قوی راجا مانا جاتا تھا۔(آکسفور ڈ ہسٹری )
ادھر غزنی کی فوج میں اب وہ جفا کش جاں فروش لڑنے والے نہ رہے تھے۔نہ لڑانے والا محمود تھا کہ حریف کی قوت اور مشکلات سفر کو اچھی طرح جانچ لیتا۔ معز الدین تھر کے ریگستان کو طے کر کے انہل واڑہ کے علاقے میں پہنچا تو سپاہی خستہ و مضمحل ہو چکے تھے راجا کے لشکر کثیر پر غلبہ نہ پاکے۔ غوری سپہ سالار بے نیام مرام واپس چلا گیا۔ البتہ اس بے سود، مہم سے اتنا فائدہ ہوا کہ آئندہ معز الدین کی توجہ پنجاب کی طرف منعطف ہو گئی اور چند حملو ں میں یہ ملک اور پا ئے تخت لاہور اس کے قبضے میں آگئے۔
ترائن کے معرکے:
چار سال بعد معز الدین ستلج کے پار بھٹنڈہ کے مشہور قلعے پر بڑھا اور بغیر کسی سخت مزاحمت کے اسے اپنی عمل داری میں داخل کر لیا۔ قلعہ میں جو فوج تعینات کی گئی وہ ہزار گیارہ سو جوانوں پر مشتمل تھی جس سے قیاس ہوتا ہے کہ غوری بادشاہ کو ہندو حریفوں کی قوت کا صحیح اندازہ نہ تھا اور یا وہ ان کو خاطر میں نہ لاتا تھا۔ حالانکہ اسی زمانے میں اجمیر کے چوہان راجپوت ریاست دہلی کے وارث ہو گئے تھے اور ان کا راجا پرتھوی راج (رائے پتھورا) بہت من چلا سپاہی تھا۔ (پرتھوی راج کی بہادری کے ابھی تک گیت گائے جاتے ہیں۔ انہی میں اس کا یہ کارنامہ بہت مشہور ہے کہ اپنے خالہ زاد بھائی جے چند راجا قنوج کی بیٹی کو بھگا لایا تھا!)۔
اسے بھٹنڈہ پر اپنی ملکیت کے دعویٰ تھا اور مسلمانوں کی آمد سن کر بڑے لشکر کے ساتھ تھانیسر پہنچ گیا تھا۔ (ٹاڈ لکھتا ہے کہ ایک سو آٹھ راجا پرتھوی راج کے باج گزار تھے)۔ معز الدین کسی بڑی لڑای کے لیے تیار ہو کر نہ آیا تھا مگر ہندی فوج کے آمادہ بہ جنگ ہونے کی خبر سن کر لاہور جاتے جاتے پلٹ پڑا اور خود سو میل کے قریب آگے بڑھ کر ترائن (ضلع کرنال) کے میدان میں حریف سے جا بھڑا جس کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں تقریباً بارہ گنا زیادہ تھی۔ (تاریخ فرشتہ بحوالہ ’’زین الماثر‘‘ لکھا ہے کہ ہندو لشکر میں دو لاکھ سوار، تین ہزار جنگی ہاتھی تھے اور اس کے مقابلے میں معزالدین کی فوج 12سے14ہزار سوار سے زیادہ نہ تھی)۔ یہ بے جا دلیر ی نقصان و ناکامی کا باعث ہوئی ۔ لڑائی میں خود سلطان زخم کھا کے بے ہوش ہو گیا اور اسے بمشکل چند غلام میدان سے نکال کر لائے۔ پھر لا ہور میں کئی ہفتے وہ صاحب فراش رہا۔ (فرشتہ کے انگریزی ترجموں میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کا چالیس میل تک تعاقب کیا گیا۔ اور اسی کو رال فنس ٹن اور بعد کے انگریز تاریخ نویسوں نے طرح طرح کے مضحکہ انگیز مبالغوں کے ساتھ دہرایا ہے۔ تاریخ فرشتہ میں ’’تعاقب ‘‘ کا لفظ تک نہیں آیا۔ نہ دوسری تاریخوں میں۔ اسی پر راورٹی نے انگریز محققوں کی بری طرح خبر لی ہے)۔ بھٹنڈہ کی مسلمان فوج ایک سال تک قلعہ میں گھری رہی۔ آخر اس شرط پر کہ ان سے تعرض نہیں کیا جائے گا ،قلعہ پرتھوی راج کے حوالے کر دیا۔ ان کامیابوں سے راجا کی شجاعت کی ہندوستان میں دھوم مچ گئی اور دوسری لڑائی میں پہلے سے بھی زیادہ حلیف اس کا ساتھ دینے پر تیار ہوگئے۔
ادھر سلطان معز الدین کو اس شکست کا اتنا غم تھا کہ عیش وآرام اپنے اوپر حرام کر لیا اور کئی مہینے کی مسلسل جدوجہد سے ایک جرار فوج مرتب کی۔ لاہور پہنچ کر اس نے پرتھوی راج کو اطاعت اور قبول اسلام کا پیغام بھیجا تھا لیکن راجا نے بہت سخت جواب دئیے اور اپنا لائو لشکر لے کر مقابلے میں روانہ ہوا۔ ہم عصر تاریخوں میں اس کی سپاہ کا تخمینہ تین لاکھ سواربتایا ہے۔ جنگی ہاتھی، تیر انداز اور پیادہ سپاہی ان کے علاوہ تھے۔ ڈیڑھ سو راجا اور راج کمار اپنے چیدہ دستے لے کر آئے اور قسمیں کھا کر شریک جنگ ہوئے تھے کہ ماریں گے یا مر جائیں گے، میدان سے قدم نہ ہٹائیں گے۔ ہندوئوں کے جوش و خروش کااندازہ چاند بھاٹ کے گیتوں سے بھی ہو سکتا ہے جس نے ان واقعا ت کو اپنی رزمیہ نظم ’’پرتھوی راج راسو‘‘ میں مفصل بیان کیا تھا اگرچہ بعد کی تحریفات نے اس کی تاریخی وقعت باقی نہیں رہنے دی۔
عام روایت کے مطابق یہ جنگ بھی اسی ترائن کے میدان میں ہوئی جہاں پہلا معرکہ پڑا تھا۔ فریقین کی فوجی تعداد زیادہ صحت و تفصیل کے ساتھ محفوظ رہی کیونکہ طبقات ناصری اور قریب العصر تاریخوں کے علاوہ صاحب تاج المآثر نے اسی لڑائی سے اپنی تاریخ کا آغاز کیا ہے۔ ان سب کو پڑھ کر ہم آ ج بھی اس خوں ریز مقاتلے کا تصور ذہن میں قائم کر سکتے ہیں جس نے ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ کیا۔ معز الدین کی فوج میں ایک لاکھ سے زیادہ سوار شامل تھے اور دھر سے ان کا پرا گزرتا ۔ وہاں برچھوں کی کثرت سے نیزوں کا بن نظرآنے لگتا تھا۔ چند ہاتھی بھی تھے مگر انہیں خیمہ و خرگاہ کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیا تھا اور وہیں فوج ردیف کے دستے رہنے دئیے تھے۔ باقی لشکر چار حصوں میں آگے بڑھا اور اس کے دونوں طرف تیر اندازوں کے دستے لگا دئیے گئے کہ غنیم کے جنگی ہاتھیوں کو نشانہ بنائیں اور جب وہ بڑھیں تو یہ ہٹ کر تیر باری سے انہیں پریشان و منتشر کر تے چلے جائیں۔
فرشتہ کے بیان سے مترشح ہوتا ہے کہ جنگ سے دو تین دن پہلے فریقین میں جونامہ و پیام ہوئے ان سے راجپوت اور بھی مفرور و مطمئن ہو گئے اور انہیں مسلمانوں کی طرف سے پیش دستی کا اندیشہ نہیں رہا تھا۔ اسی لیے جب صبح کے وقت طبل و دمامہ پر چوٹ پڑی اور دور سے سرخ و سیاہ پرچم لہراتے نظر آئے جن پر ’’نصر من اللہ ‘‘ جلی حروف میں تحریر تھا، تو وہ گھبرائے اور بہت جلد صفیں باندھ کر میدان میں آئے۔ انہوں نے جاں بازی دکھانے میں کوئی کمی نہیں کی لیکن معز الدین کی سپہ سالاری کے سامنے کثرت اور خالی بہادری کی پیش نہ جاسکی۔ صبا رفتار گھوڑوں پر اس کے سدھے ہوئے تیر انداز ہندی بازوئو ں کی صفیں الٹ الٹ دیتے تھے اور جب وہ پیچھے ہٹتے تو اسلامی شہ سوار ان کے قلب لشکر پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ پرتھوی راج کے جنگی ہاتھی اس دوطرفہ مار کی روک تھا م کے لیے دوڑتے دوڑتے تھکے جاتے تھے۔ ان عظیم الحبہ حیوانات کا سونڈوں کو پیچ و تاب دے کر چنگھاڑیںمارنا بہادروں کا دل ہلائے دیتا تھا۔ ا ن کی جھولوں میںجو آئینے لگے تھے وہ سورج کی کرنوں سے چمک چمک کر آنکھوں کو خیرہ کیے دیتے تھے لیکن غوری سواروں کے دلوں میں اس کالی بلا کا خوف تھا بھی تو جلد زائل ہوگیا اور تیر اندازوں کی چابک دستی نے خود ہاتھیوں کو مضمحل اور خوف زدہ کر دیا ۔ ہندی فوج سمٹ سمٹ کر وسط میں جمع ہونے لگی اور بڑھ کر حملہ کرنے کے قابل نہیں رہی تھی جبکہ معز الدین نے فوج خاصہ کو جسے اب تک الگ لیے کھڑا تھا حملے کا حکم دیا۔ بارہ ہزار سواروں نے اپنے برچھے سیدھے کیے اور گھوڑے اڑا کر دشمن کے قلب پر آگرے۔ تازہ دم رسالے کا یہ حملہ بہت سخت تھا۔ بے دل راجپوت اس کی تاب نہ لاسکے بلکہ پہلی ہی ٹکر میں پیٹھ پھیر دی اور ہندی لشکر کا شیرازہ بکھر گیا۔ خودی پرتھوی راج فرار ہوا مگر میدان جنگ سے چند کوس کے فاصلے پر گرفتار ہو کے مارا گیا۔ فریقین کے نقصان کی ٹھیک تعداد معلوم نہیں۔ ’’تاج المآثر‘‘ میں ہندی مقتولوں کا شمار ایک لاکھ بتایا گیا ہے۔ مگر اس کتاب کا مصنف انشا پر دازی کے زور میں احتیاط نہیں کرتا۔ اس ضمن میں یہ بات لکھنے کے لائق ہے کہ جنگ میں پرتھوی راج کی طرف سے افغان اجیر سپاہی (ٹاڈ کا بیان ہے کہ گجرات اور قنوج کے ہندو راجائوں کی فوج میں ترک سپاہی رکھے جاتے تھے)۔ اور معز الدین کی جانب سے راجا جموں کا بیٹا اپنے ہم مذہبوں کے خلاف لڑنے آئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں