مسافروں کو انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور نہ ہی سب کے ٹیسٹ کیے جائیں گے لیکن سب قرنطینہ میں رہیں گے:معید یوسف

moeed yusuf
EjazNews

وطن واپس آنے والے پاکستانیوں کے حوالے سے پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اب صرف ان کا ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ ہوا جن میں یا ان کے ساتھ رہائش پذیر افراد میں بیماری کی علامات پائی جائیں گی جبکہ بقیہ کو بغیر ٹیسٹ کے گھر بھجوادیا جائے گا۔
مشیر قومی سلامتی معید یوسف کا میڈیا بریفنگ میں کہنا تھا کہ جون کے بعد سے روزانہ 2 ہزار پاکستانی وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ ہمارا چیلنج بہت بڑا ہے ہم اتنے صبر کے ساتھ انتظار کرنے پر بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں کیونکہ بدقسمتی سے یہاں کچھ حلقے یہ بات کررہے تھے کہ پروازوں کو دوبارہ بند کردیں کیونکہ باہر سے آنے والے وبا لارہے ہیں۔ وطن واپس آنا ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے اور بیرونِ ملک سے واپس آنے والے پاکستانی وبا کے پھیلاؤ کا ذریعہ نہیں بنے بلکہ پاکستان میں مقامی سطح پر وائرس منتقلی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اس وقت 70 ممالک میں بیرونِ ملک سے وطن واپسی کے خواہشمند 98 ہزار 700 پاکستانیوں نے اپنا اندراج سفارتخانوں میں کروا رکھا ہے جو پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی کیٹیگری میں ہیں جبکہ ہم نے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے پراسس کا آغاز بھی نہیں کیا۔بیرونِ ملک سے ایک لاکھ سے زائد پاکستانی طالبعلم وطن واپس آئیں گے جن کے والدین یہاں پریشان ہیں اور ان کے پاس اخراجات نہیں اس طرح وطن واپسی کے خواہشمندوں کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔ اگر بین الاقوامی سفر روک دیا جائے تو ان افراد کی دیکھ بھال کون کرے گا اس اعتراض کہ باہر سے آنے والے وبا لارہے ہیں کہ جواب میں انہوں کا کہاتھا آغاز میں 100 فیصد وبا باہر سے آئی تھی لیکن اب 96 فیصد مقامی منتقلی کے کیسز ہیں۔
ان کا کہنا تھا باہر سے آنے والے افراد وبا کے پھیلاؤ کا ذریعہ اس لیے نہیں ہیں کیونکہ ان میں سے صرف 3 فیصد کا رزلٹ مثبت آیا جنہیں ٹیسٹ کے بعد قرنطینہ کردیا گیا۔ہم نئی جامع پالیسی لارہے ہیں جس میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر اور صوبوں کی مشاورت شامل ہے۔ایئرپورٹ پر مسافروں کا تھرمل اسکین اور بخار چیک کیا جائے گا اور ان سے ڈاکٹرز سوالات کریں گے اگر انہیں محسوس ہوا کہ کوئی مسافر یا ان کے ساتھ رہنے والے افراد میں بیماری کی کوئی علامت پائی گئی تو ان کا اسی طرح ٹیسٹ کیا جائے گا جس طرح پہلے ہورہے تھے اور قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔تاہم جن افراد میں کوئی علامت نہیں پائی گئی وہ بھی قرنطینہ میں جائیں گے لیکن گھروں میں 14دن قرنطینہ میں رہیں گے اور جن کا ٹیست مثبت آئے انہیں حکومت صحت کی سہولتوں میں رکھے گی۔جس طرح ملک کے دیگر شہریوں کے ساتھ ہورہا ہے کہ علامات والے افراد کو ٹیسٹ کیا جارہا ہے وہی اب بیرونِ ملک سے آنے والوں کے ساتھ بھی کیا جائے گا۔ابھی بھی ہماری پالیسی باقی پاکستانیوں نے زیادہ مضبوط ہے لیکن تمام مسافروں کو انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور نہ ہی سب کے ٹیسٹ کیے جائیں گے لیکن سب قرنطینہ میں رہیں گے۔فی الحال ملک میں 6 ایئرپورٹس فعال ہیں لیکن اب کوئٹہ اور سیالکوٹ کو بھی فعال کرکے ان کی تعداد 8 کردی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا پہلے ہمارے پاس ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم موجود نہیں تھا لیکن اب وہ سسٹم ہمارے پاس ہے وہ فون کر کے پتا کریں اور گھروں پر بھی چیک کیا جائے گا جو قرنطینہ توڑے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس وقت روزانہ 2 ہزار جبکہ ہفتے میں 14 ہزار افراد وطن واپس آرہے ہیں تاہم اس پالیسی سے 40 سے 45 ہزار افراد واپس آسکیں گے اس طرح ایک ماہ میں تمام خواہشمند ملک واپس آسکیں گے۔ 20 جون سے 25 فیصد ایئر اسپیس کھول رہے جس میں تمام ایئر لائنز کو پاکستان آنے کی اجازت دی جائے گی اور صرف سفارتخانے میں اندراج کروانے والوں کو نہیں بلکہ جو کوئی آنا چاہے وطن واپس آسکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں