مذمت دنیا

islam_tarkduny

دنیا میں لہو و لعب اور کھیل و تماشہ ہے۔ اچھے لوگ دنیا سے نہ دل لگاتے ہیں نہ اس کے کھیل تماشوں میں مصروف و مشغول ہوتے ہیں بلکہ اس سے کنارہ کش رہتے ہیں۔ قرآن مجید میںا للہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ:اور دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشہ ہے اور سچی زندگی تو آخرت کی زندگی۔اگر یہ لوگ جانتے ہوتے۔ (عنکبوت)
یعنی دنیا کے لیے بقا و دوام نہیں ہے بلکہ اس کے لیے فنا و زوال ہے۔ دنیاوی زندگی کو کھیل تماشہ سے تشبیہہ دی گئی ہے جس طرح کھیل و تماشا کے لیے زوال ہے کہ چند منٹوں کےلئے ،پھر ختم یہی دنیا کی زندگی کا حال ہے۔ یا دنیا کی زندگی پانی کا بلبلہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے:
ترجمہ: دنیا کی زندگی کی مثال تو بالکل بارش جیسی ہے جسے ہم آسمان سے برساتے ہیں، پھر اسی سے زمین کا سبزہ اور روئیدگی مل جل کر وہ چیزیں اگتی ہیں جو انسان بھی کھاتے ہیں اور چوپائے بھی۔ یہاں تک کہ جب زمین سر سبز ہو کر آراستہ پیراستہ ہو گئی اور وہاں کے رہنے والوں نے اندازہ لگا لیا کہ اب ہم نفع پانے پر قادر ہو گئے کہ ناگہاں امر الٰہی اس پر رات کو یادن کو آپہنچا اور ہم نے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا اس طرح کہ گویا کل کچھ بھی نہ تھا۔ غورو فکر کرنے والوں کے لیے ہم اس طرح کھول کھول کر اپنی نشانیاں بیان فرما دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف بلا رہا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست پرلا کھڑا کر دیتا ہے۔ (یونس)
دنیا کی ٹیپ ٹاپ اور اس کی دوگھڑی کی سہانی رونق پر اس کی بربادی اوربے رونقی کی مثال زمین کے سبزے سے بیان کی گئی ہے کہ ابر سے پانی برسا اور زمین لہلہا اٹھی ۔ طرح طرح کہ سبزیاں، چارے، پھل پھول،کھیت اورباغات پیدا ہو گئے۔ انسانوں کے کھانے کی چیزیں ، جانوروں کے چرنے چگنے کی چیزیں چو طرف پھیل پڑیں۔ زمین ہری بھری سر سبز ہو گئی۔ ہر چہار طرف ہر یالی ہی ہریالی نظر آنے لگی۔ کھیتی والے خوش ہوگئے۔باغات والے پھولے نہیں سمائے کہ اب کی بار پھل اور اناج بکثرت ہے۔ ناگہاں آندھیو ں کے جھکڑ چلنے لگے ،برف باری ہوئی، اولے گرے پالہ پڑا۔ پھل چھوڑ تنے بھی جل گئے۔ درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔ تازگی خشکی سے بدل گئی۔ پھل ٹھٹھڑ گئے، جل گئے ۔ کھیت و باغات ایسے ہو گئے کہ گویا تھے ہی نہیں اور جو چیزیں کل تھیں بھی آج نہیں تو گویا کل بھی نہ تھیں۔ یہی حال دنیا کا ہے۔
مسلم کتاب المنافقین باب صبح انعم اہل الدنیا میں ہے بڑے دنیا دار کروڑ پتی کوجو ہمیشہ نازو نعمت میں ہی رہا تھا، لاکر جہنم میں ایک غوطہ دے کر پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کہو تمہاری زندگی کیسی گزری؟ ۔وہ جواب دے گا کہ میں نے تو کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی۔ کبھی آرام کا نام بھی نہیں سنا۔ اسی طرح دنیا کی زندگی میں ایک گھڑی بھی جس پر آرام نہیں گزری اسے لایا جائے گا۔جنت میںایک غوطہ کھلا کرپوچھا جائے گا کہ کہو دنیا میں کیسے رہے۔ وہ جواب دے گا کہ پوری عمر میں نے کبھی رنج و غم نہیں سنا۔ کبھی تکلیف اور دکھ دیکھا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس طرح عقلمندوں کےلئے واقعات کھول دیتا ہے کہ وہ عبرت حاصل کر لیں۔ ایسا نہ ہو اس فانی اور چند روزہ دنیا کے ظاہری چکر میں پھنس جائیں اور اس ڈھل جانے والے سائے کو اصلی اور پائیدار سمجھ لیں اس کی رونق دو روزہ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو اپنے طالبوں سے بھاگتی ہے اور نفرت کرنے والوں سے لپٹتی ہے۔ دنیا کی ز ندگی کی مثال اسی طرح اور بہت سی آیتوں میں بیان ہوئی ہے۔ مثلاً:
ترجمہ: ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کر جیسے کہ پانی جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں اس سے زمین کو روئیدگی ملتی ہے۔ پھر آخر کاروہ چوراہو جاتی ہے۔ جسے ہوائیں اڑا ئے لیے پھرتی ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مال و اولاد تو دنیا کی زندگی کی ہی زینت ہے۔ ہاں البتہ باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ازروئے ثواب کے اور آئندہ کی اچھی توقع کے بہت عمدہ ہیں۔(الکھف)
ترجمہ: لوگوں کے لیے نفسیاتی خواہشوں کی چیزوں کوزینت دی گئی ہے جیسے عورتیں اور بیٹے اور جمع کیے ہوئے خزانے سونے چاندی کے اور نشان دار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی، یہ دنیا کی زندگی کافائدہ ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانا تو اللہ ہی کے پا س ہے۔ تو کہہ کیا میں تمہیںا س سے بہت ہی بہتر چیز نہ بتاﺅں۔تقویٰ والوں کے لیے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں اور خدا کی رضا مندی ہے، سبب بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں۔(آل عمران)
بہرحال متاع دنیا خواہش نفسانی اور مال و دولت سے متمتع ہونا ہے جو فانی اور زوال پذیر ہے۔ اس لیے اہل اللہ ان باتوں کی طرف زیادہ توجہ نہیں کرتے اور جو شخص بھی گہری نظر سے دنیا کا مطالعہ کرے گا تو وہ دنیا کو مردہ اورسڑی ہوئی لاش سے بھی زیادہ برا سمجھے گا۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تشریف لے جارہے تھے اور صحابہ کرام بھی آپ کے ساتھ تھے توآپ کا گزر بکری کے مرے ہوئے بچے کے پاس سے ہوا جس کے چھوٹے چھوٹے کان تھے۔ آپ نے اس کے کان کو پکڑ کر فرمایا اس مرے ہوئے بکری کے بچے کو ایک درہم میں کوئی لینا پسند کرتا ہے۔ لوگوں نے کہا ہم کسی قیمت پر لینا پسند نہیں کرتے اور اس مردے کو لے کر ہم کیاکریں گے۔ آپ نے فرمایا اچھا پھر مفت ہی لے لو۔ ان لوگوں نے کہا کہ اگر زندہ ہو تا تب بھی عیب دار تھا اس کے چھوٹے کان ہیں۔ اب اس مردہ بچے کو لے کر کیا کریں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس مردہ لاش سے بھی ز یادہ ذلیل و خوارہے۔ (مسلم کتاب الزہد)
پرہیز گار اور سمجھ دار لوگ اس دنیا کوسڑی، گلی اور مردہ لاش جان کر اسے کسی طرح لینا پسند نہیں کرتے بلکہ اس کی طرف دیکھتے بھی نہیں ہیں۔ اس دنیا سے بے رخی کو زہد کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا خدا کے نزدیک بہت ذلیل ہے اس کی کوئی عزت نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دنیا کی عزت اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اس سے ایک گھونٹ پانی کسی کافر کو نہ پلاتا۔ (ترمذی کتاب الزہد باب ماجاءفی ہوان الدنیا)
چونکہ اس کی کوئی قدر نہیں ہے اس لیے ہر کس و ناکس اس سے فائدہ اٹھالیتا ہے اوردنیا کی ہر چیز میں خرابی اور نقصان ہے ،صرف یاد الٰہی میں فائدہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا خود مردود اور ملعون ہے، سوائے ذکر الٰہی اور جو چیزیں اس ذکر کی معاون و مددگار اور عالم و متعلم کے سب ملعون ہے۔ (ابن ماجہ کتاب الزہد باب مثل الدنیا)
یعنی ذکر الٰہی اور اس کے معاون علم میں خیر و برکت ہے۔ باقی چیزوں میں بھلائی نہیں ہے۔
اللہ سے غفلت کے سارے کام دنیا میں داخل ہیں اور آخرت کے حاصل کرنے کے سارے کام آخرت میں شمار ہوتے ہیں ”والباقیات الصالحات خیر “ باقی رہنے والی نیکیاں بہتر ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا آخرت کے مقابلہ میں ایسی اقل قلیل ہے جس طرح ان میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبا کر نکالے تو دیکھے کتنا پانی اس کی انگلی میں ساتھ نکلا ہے۔ (مسلم کتاب الجنة باب فناءالدنیا)
یعنی آخرت ایک سمندر ہے اور دنیا ایک قطرے سے بھی کم ہے ۔لہٰذا آخرت کو ترجیح دینا چاہیے۔ اور دنیا سے زہد اختیار کرنا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت کی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا۔ دنیا فانی اور آخرت باقی رہنے والی ہے تو باقی کو فانی پر ترجیح دو۔ (احمد ج۴)
اسی لیے قرآن مجید میں دنیا کو عاجلہ کہا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
ترجمہ: جس کا ارادہ اس جلدی والی (دنیا) ہی کا ہو اسے ہم یہاں جس قدر چاہیں سردست دیتے ہیں بالآخر اس کے لیے ہم جہنم مقر ر کردیتے ہیں جہاں وہ برے حالوں اور دھتکار ا ہوا داخل ہوگا اور جس کا ارادہ آخرت کا ہوا ور جیسی کوشش اس کےلئے ہونی چاہیے وہ کرتا بھی ہو اور ہو بھی وہ باایمان پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی خدا کے ہاں پوری قدر دانی کی جائے گی۔ (الاسرآئ)
کوئی ضروری نہیں کہ طالب دنیا کی ہر ہر چاہت پوری ہو جس کا جوارادہ خدا پورا کرنا چاہے کر دے لیکن ہاں ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ جائیں گے۔ یہ تو وہاں جہنم کے گڑھے میں گھرے ہوئے ہوں گے۔ نہایت برے حالوں، ذلت اور خواری میں ہوں گے کیونکہ یہاں انہوں نے یہی کہا تھا کہ باقی پر فانی کو، آخرت پر دنیا کو ترجیح دی تھی۔ اس لیے وہاں رحمت خدا سے دور ہیں۔
مسند احمد میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”الدنیا دار من لا دار لہ ولھا یجمع من لا عقل لہ “ (احمد ج۶)۔دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میںگھر نہ ہو۔ یہ اس کا مال ہے جس کا آخرت میں مال نہ ہو۔ اسے وہی جمع کرتا رہتا ہے جس کے پاس اپنی گرہ کی عقل بالکل نہ ہو۔ اسی لیے اللہ والے دنیا سے محبت نہیں کرتے اور نافرمان لوگ دنیا سے محبت کرتے ہیں۔
جیسا کہ فرمایا:
ترجمہ: یہ کافر تو دنیا کو پسند کرتے ہیں (اور قیامت کے) سخت دن کو انہوں نے اپنی (پیٹھ) پیچھے چھوڑدیا ہے (الدھر)
اور آخرت کی تیاری نہیں کرتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ: نہیں نہیں(لوگو) تم (آدمیوں کا قاعدہ ہے) جلد بازی پسند کرتے ہو اور انجام کا خیال نہیں رکھتے۔ (القیمة)
ترجمہ: لیکن تم دنیا کا جینا سامنے رکھتے ہو اور آخرت بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والی ہے۔ یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیںاور ابراہیم و موسیٰ کی کتابوں میں بھی ۔ (الاعلیٰ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دنیا میں مسافر یا راستہ طے کرنے والے کی طرح ہو ا ور اپنے آپ کو مردوں میںشمار کرو ۔ (بخاری )
حقیقت یہی ہے کہ دنیا عبرت کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک اور مقرب بندوں نے ہمیشہ سے اس سے کنارہ کشی کی ہے۔
اللہ کے سمجھ دار بندوں نے دنیا کو چھوڑ دیا اور فتنہ سے اندیشہ کیا۔ دنیا میں نظرو غور کر کے دیکھا تو انہوں نے جان لیا کہ دنیا کسی زندہ آدمی کے لیے وطن نہیں ہے۔ بلکہ دنیا کو گہرا سمندر سمجھا اور نیک عملوں کو کشتی بنایا۔
یہ دنیا دارالعمل ہے اور یہی اعمال کشتی کی طرح نجات دینے والے ہیں۔ آخرت کے لحاظ سے مومن کے حق میںدنیا جیل خانہ ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”الدنیا سجن المومن وجنة الکا(مسلم کتاب الزہد) یعنی دنیا مومن کے لیے جیل خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت کے ساتھ تین چیزیں قبرستان تک جاتی ہیں جس میں سے دو چیزیں واپس آجاتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ قبر میں باقی رہ جاتی ہے۔ میت کے جنازے کے ساتھ ساتھ اس کے اہل یعنی برادری کے لوگ اور مال یعنی غلام اور ملازم وغیرہ اور اس کے اعمال تو بھائی بندہ اور ملنے جلنے والے دوست و احباب اور نوکر چاکر ملازم واپس آجاتے ہیں اور اس کے اعمال اس کے پاس باقی رہ جاتے ہیں۔ (بخاری کتاب الرفاق باب سکوت الموت )
اگر اس کے اعمال اچھے ہیں تو اس کے لیے اچھائی ہے اور اس کے اعمال برے ہیں تو اس کے لیے برائی ہے۔ انسان دنیا میں مال و دولت جمع کرتا ہے تو یہ بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے اور بھائی بند بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ بیوی بچے بھی کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ صرف اس کے اعمال اس سے چمٹے رہتے ہیں۔ سمجھ دار انسان اعمال کے لیے کوشش کرتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے دریافت کیا کہ کون شخص ایسا ہے کہ اس کے وارث کا مال اس کے مال سے زیادہ پیارا ہو؟ لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہر شخص کا اپنا مال اس کے وارث کے مال سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کا مال وہی ہے جو اس نے آگے بھیجا یعنی اپنی زندگی میں اللہ کے راستے میں خرچ کیا۔ یہی اس کا اپنا مال ہے جو مرنے کے بعد کام آئے گا اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو پیچھے چھوڑ جائے گا۔ (بخاری کتاب الرفاق باب ماقدم من مالہ فہولہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون ہے جو مجھ سے ان باتوں کو سیکھ کر عمل کرے یا عمل کرنے والے کو سکھا دے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ میں ایسا کر سکتا ہوں۔ آپ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر ان پانچ باتوں کو گنا۔ (۱)آپ نے فرمایا تم حرام سے بچو تو سب سے زیادہ عابد بن جاﺅ گے۔ (۲) اور اپنی قسمت اور تقدیر سے راضی رہو تو سب سے زیادہ غنی شمار ہو گئے۔ (۳) اور اپنے پڑوسی کے پاس نیکی کرو تو کامل مومن بن جاﺅ گے۔ (۴) اور جو چیز اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرو تو کامل مسلمان بن جاﺅ گے۔ (۵) اور زیادہ مت ہنسو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ بنادیتا ہے۔ (ترمذی کتاب الزہد باب من اتقی المحارم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کونصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ان پانچ باتوں کو پانچ چیزوں سے قبل غنیمت سمجھ لو۔ (۱) اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے۔(۲) اور اپنی تندرستی کو اپنی بیماری سے پہلے (۳) اور اپنی تونگری کو اپنی مفلسی سے پہلے (۴) اور اپنی فارغ البالی کو اپنی مشغولیت سے پہلے (۵) اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے۔
(۶) حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر سو گئے۔ جب اٹھے تو چٹائی کا نشان آپ کے جسم مبارک پر پڑ گیا تھا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ اگر آپ فرماتے تو ہم آپ کےلئے بچھونا بچھا دیتے اور دیگر آرام کا سامان مہیا کردیتے۔ آپ نے فرمایا، مجھے دنیا سے کیا تعلق میری اور دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مسافر سوار کسی درخت کے نیچے سایہ لینے کےلئے اتر پڑے اور پھر چھو ڑکر چلتا ہو جائے یعنی دنیا سایہ کی طرح ہے جو زوال پذیر ہے۔ (ابن ماجہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن خدا کے دربار سے نہیں ٹل سکتا یہاں تک کہ ان پانچ باتوں کی پوچھ گچھ نہ کرلیا جائے اور ان باتوں کا صحیح صحیح جواب نہ دے لے۔(۱) اس کی عمر کی بابت پوچھا جائے گا کہ کس چیز میں اس نے خرچ کیا ہے۔(۲) اس کی جوانی کی بابت کہ کس چیز میں اسے ضائع کیا۔(۳) اور مال کہاں سے حاصل کیا۔ (۴) اور کس جگہ خرچ کیا۔ (۵) اور علم جو سیکھا اس پر کیا عمل کیا۔ (ترمذی کتاب صفة القیامة باب فی القیامة)

اپنا تبصرہ بھیجیں