ماں کا دل آخر ماں کادل ہے

mother

کسی گاؤں میں ایک بیوہ رہتی تھی۔ اس کا ایک نوجوان اورانتہائی خوبصورت بیٹا بھی تھا۔ وہ اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتی تھی اور اس کی ہر خواہش کو پورا کرنا اولین فرض سمجھتی تھی۔
وقت یوں ہی گزرتا رہا تھا کہ وہ لڑکا گاؤں ہی کی ایک لڑکی کو دل دے بیٹھا اور پھر ایک روز اپنے دل سے مجبور ہو کر اسے کہنے لگا، ”اگر تم میری بیوی بن جاؤ تو میں تمہارے لیے اپنی جان بھی دے دوں۔“
اس کی بات سن کر لڑکی ہنس دی اور بولی، ”تم جیسے لڑکے صرف باتیں ہی بنانا جانتے ہیں، وعدے وفا نہیں کرتے۔“
لڑکے نے کہا،”تم آزما کر دیکھ لو؟“
لڑکی نے کہا، یہ بات ہے تو میری ایک شرط ہے۔ جس گھر میں تم مجھے بیاہ کر لے جاؤ گے وہاں صرف ہم دونوں ہی رہیں گے۔ تم اپنی ماں کوگھر سے نکال دو۔
لڑکی کی بات سن کر لڑکے کو تو جیسے سانپ ہی سونگھ گیا اور وہ بغیر کچھ کہے وہا ں سے چلا گیا۔
گھر پہنچ کربغیر ماں کوسلام دعا کیے، ایک طرف جا کر لیٹ گیا۔ ماں سے زیادہ اولاد کو کون جاتا ہے بھلا۔ بس ماں کو معلوم ہو گیا کہ اس کا بیٹا کسی وجہ سے پریشان ہے۔ وہ بیٹے کے پاس گئی اور اسے کہا، میرا بیٹا کس وجہ سے اداس ہے۔ بیٹا کچھ نہ بولا۔ ماں نے جب اصرار کیا تو لڑکے نے اسے سارا قصہ سنادیا۔
اس کی بات سن کر ماں نے کہا، بیٹا میں تو بوڑھی ہو چکی ہوں۔ پتہ نہیں کتنے دن زندہ رہنا ہے۔ میں تو کسی مزار پر بھی رہ لوں گی۔ تو جا کر اس کو بیاہ لا۔ یہ کہہ کر ماں نے اپنا سامان اٹھایا اور گھر سے باہر نکل گئی۔
لڑکا تو بس اس لڑکی سے شادی کے لیے دیوانہ ہو رہا تھا۔ اس لیے اسے یہ خیال بھی نہ آیا کہ اب اس کی ماں رہے گی کہاں۔ وہ اپنے گھر سے نکلا اور اس لڑکی کے گھر چلا گیا۔ یہاں آکراس نے لڑکی کوبتادیا کہ اب ماں گھر سے جا چکی ہے، تم میرے ساتھ بیاہ کرو۔ لڑکی نے جو یہ سنا تو وہ لڑکے کو نفرت آمیزنظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔ تم اگر میرے لیے اپنی ماں کو گھر سے نکال سکتے ہو تو کل کوکسی اور لڑکی کے کہنے پر مجھے بھی گھر سے نکال باہر کرو گے۔یہ کہہ کر لڑکی نے اسے اپنے گھر سے باہرنکال دیا۔
اب لڑکے کو اپنی خود غرضی کا احساس ہوا مگراب نہ اس کے پاس ہمیشہ خیال رکھنے والی ما ں تھی نہ شادی ہو سکی۔ بس اسی دکھ میں گم سم وہ جارہا تھا کہ ایک پتھر سے ٹکر اکر گر پڑا۔ اسی لمحے اسے ماں کی آواز سنائی دی۔”تمہیں کہیں چوٹ تو نہیں لگی میرے لعل۔“
یہ آواز سن کر لڑکا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور ماں کے قدموں میں گر کرمعافی مانگنے لگا۔ ماں توآخر ماں تھی اس ے لڑکے کو گلے لگایا اور دونوں گھر آگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں