لعن طعن

lan-tain

”لعنت “ کے معنی خدا کی رحمت سے دور ہونے اور ہٹانے کے ہیں۔ جب کوئی کسی پر لعنت کرتا ہے تو وہ اس کے حق میں بددعا کرتا ہے کہ خدا کی رحمت سے دور ہو۔
بلا وجہ کسی انسان یا حیوان پر یا کسی اور چیز پر لعنت کرنااوربددعا کرنا اچھا نہیں ۔ جس کے اوپر لعنت کی بددعا کی گئی ہے اگر وہ لعنت کا مستحق نہیں ہے تو وہ لعنت لوٹ کر لعنت کرنے والے پر پڑ جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو یہ لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے۔ سو آسمان کے دروازے اس کے آگے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ جب آسمان کی طرف چڑھنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ زمین کی طرف اترتی ہے تو زمین کے دروازے بھی اس کے آگے سے بند کر دئیے جاتے ہیں تو زمین میں گھسنے کا بھی کوئی راستہ نہیں ملتا وہ لعنت دائیں بائیں طرف پھرتی ہے ادھر بھی اسے کوئی راستہ نہیں ملا تو وہ لعنت ا س شخص پر لوٹا دی جاتی ہے جس پر لعنت کی گئی ہے اگر وہ اس لعنت کا مستحق ہے اگر وہ اس لعنت کا مستحق نہیں ہے تو وہ لعنت لعنت کرنے والے پر لوٹا دی جاتی ہے۔ (ابوداﺅد کتاب الادب باب فی اللعن)
اور لعنت کرنے والا ملعون ہو جاتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب بالکل صاف ہے کہ جب کوئی کسی پربددعا اور قہر الٰہی کی دعا کرتا ہے تو وہ لعنت نہایت تیزی کے ساتھ آسمان کی طرف چڑھنے کی کوشش کرتی ہے جب ادھر جانے کا اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو زمین پر اتر آتی ہے اور جب زمین سے اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو ادھر ادھر پھرتی ہے اور جب اسے کہیں راستہ نہیں ملتا تو مجبوراً اسی پر لوٹ آتی ہے۔ بشرطیکہ اس لعنت کا مستحق ہو۔ اگر وہ اس لعنت کے لائق نہیں تو لعنت کرنے والے پر لعنت لوٹ آتی ہے اور یہ لعنت کرنے والا خود لعنت کامورد بن جاتا ہے۔ سچ ہے ، ”چا ہ کن راچاہ درپیش“۔ اس لیے ہر ممکن طریقے سے کسی پر لعنت مت بھیجو۔ یہ سنگین جرم ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے اوپر اللہ کی لعنت مت بھیجو اور نہ بددعا کرو خدا کے غصے کے ساتھ اور نہ جہنم کے آگ کے ساتھ۔ (ابوداﺅد باب اللعن، ایضاً ترمذی)
کیونکہ اگر وہ اس بددعا کا مستحق نہیں ہے تو بددعا کرنے والا اس بددعا کا مستحق ہو جائے گا۔ حضرت جرموذرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے کچھ وصیت کیجئے تو آپ نے فرمایا کہ میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ تم کسی پر لعنت نہ کرو۔ (طبرانی: المجمعج 8، ایضا احمد ج5)
حضرت عمران ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے اور ایک انصار یہ عورت اونٹنی پر سوارتھی۔ اس نے اونٹنی کو جھڑکا اور لعنت بھیج، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کرفرمایا کہ جو اونٹنی پر سامان ہے اتار لو اور اس کو آزاد کر دو۔ کیونکہ اس پر لعنت پڑ چکی ہے۔ عمرانؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس اونٹنی کو دیکھا کہ ادھر ادھر ماری ماری پھرتی ہے کوئی اسے نہیں چھوتا۔ (مسلم کتاب البرباب النہی عن اللعن ، ایضا ابوداﺅد)
آپ نے فرمایا کہ ماں باپ پر لعنت کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ لوگوں نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماں باپ پر بھلا کون لعنت کرے گا تو آپ نے فرمایا: کسی کے باپ کو گالی دے گا تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دیگا اس کے ماں کو گالی دے گا تو دوسرا بھی اس کی ماں کو گالی دے گا۔ (بخاری کتاب الادب باب لایسب الرجل والدیہ)
تو گویا اس نے اپنے ماں باپ کو برا بھلا کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامل مومن نہ تو کسی پر طعن کرتا ہے نہ تو کسی پر لعنت کرتا ہے اور نہ زبان درازی کرتا ہے۔ (ترمذی کتاب البرباب فی اللعنة )
آپ نے فرمایا:
یعنی کسی پر لعنت کرنے والے قیامت کے روز نہ کسی کی سفارش کر سکیں گے اور نہ کسی کی گواہی دے سکیں گے۔ (مسلم، ابوداﺅد)
بہر حال ان تمام حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بلا وجہ کسی پر لعن طعن کرنا برا ہے اور اگر کوئی اپنے برے کارناموں کی وجہ سے لعنت کا مستحق ہے تو لعنت کرنابھی جائز ہے۔
چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ (بخاری)
عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں ۔ اس بیان سے آپ اپنی امت کو (قبر پرستی) کے اس لعنتی فعل سے رکنے کے لیے متنبہ کرتے ہیں۔ (الحدیث)
معلوم ہوا کہ قبروں کو سجدے کرنے والے لعنت کے لائق ہیں اور وہ ضرور ملعون ہیں بزبان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم: ان لوگوں پر خدا کاسخت تر غضب نازل ہو جنہں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں (سجدہ گاہیں ، عبادت گاہیں) بنا لیں ہیں۔ (موطا جامع الصلاة)
خدا کے نافرمانوں اور کافروں اور یہود و نصاری اور مکاروں اور دھوکے بازوں پر لعنت کرنا قرآن مجید کے رو سے جائز ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ، بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر داﺅد اور عیسیٰ ابن مریم کی بددعا سے خدا کی طرف سے ان پر لعنت کی گئی۔ یہ لعنت ان پر اس لیے آئی کہ وہ نافرمانی کرتے اور حدیں پھاندنے والے تھے۔ (المائدہ)
اسی طرح قرآن مجید میں مشرکوں، کافروں، منافقوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی خدا سے سرکشی، بغاوت ، کفر ، طغیان، انکار ، نافرمانی اور دین سے ٹھٹھا ، مخول، مذاق ، استہزائی، احکام الٰہی میں تحریف و تبدیل، کاٹ، چھانٹ، حیلہ سازیوں اور فریب کاریوں کی وجہ سے ان پر بکثرت لعنت اور پھٹکار آئی ہے اور اس لعنت اور پھٹکار کے تذکرہ سے امت محمدیہ کو سبق سکھانا مقصود ہے کہ جو بھی افعال مذکور ہ کا مرتکب ہوگا وہ سزا اور پھٹکار قرار پائے گا ۔ اوپر آپ نے متعدد حدیثیں پڑھی ہیں کہ جن میں کسی کو پھٹکار نے اور اس پر لعنت کرنے کی ممانعت آئی ہے اور قرآنی آیات اور بعض احادیث میں کافروں اور یہودیوں وغیرہ پر لعنت بھیج گئی ہے۔ یہ دونوں باتیں کوئی متضاد چیز نہیں ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی لعنتی فعل کا مرتکب ہو جاتا ہے تو ارتکاب کے بعد اسے ملعون کہنا رواہے۔ جیسے یہودی ارتکاب جرائم کے بعد ملعون قرار دئیے گئے اور لعنت کے لائق کاموں کو کرنے کے بغیر کسی کو پھٹکار نا اس پر لعنت بھیجنا سخت ہے۔ اشتہشا و قرآنی کے سوا ملعون کہنا بڑا گنا ہے۔ بدوون تحقیق لعنت کا پتھر مارنا ظلم ہے۔ (ملحض از ریاض)

اپنا تبصرہ بھیجیں