لاہور گزیٹئر1883-84:لاہور کیساتھا؟(۲)

Lahore
EjazNews

ڈیک:
دریائے ڈیک جموں کی پہاڑیوں سے نکلتا ہے۔ ہندو شاستروں میں اسے ڈوکا کہا گیا ہے جو سیالکوٹ کی ظفروال اور پسرورتحصیلوں سے گزر کر بادشاہی سڑک پر واقع شاہ دولہ کے پل کے نیچے سے بہتا ہوا پتی والا گائوں ضلع لاہور کے حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہاں سے اس کی دو شاخیں نکلتی ہیں۔ ایک شاخ کوٹ پنڈی داس اور دوسری کتھیالہ اور خان پور کے دیہات سے گزرتی ہے۔ آخر الذکرشاخ کو چھوٹی ڈیک کہتے ہیں۔ ڈھینگا کے مقام پر یہ دونوں شاخیں پھر آپس میں مل جاتی ہیں اورضلع منٹگمری سے ہوتی ہوئی آخرکار دریائے راوی میں گر جاتی ہیں۔ لاہور اور پشاور روڈ پر واقع کالا شاہ کاکوگائوں کے نزدیک کوٹ پنڈ کے گاؤں کے قریب ایک ڈیک کو باگھ بچہ یا شیر کے بچے کے نام سے موسوم کیا جا تا ہے۔ اس نام کی وجہ یہ ہے کہ کوٹ پنڈ کے گاؤں کے قریب ایک گھاٹ میں بہت سی انسانی جانیں ضائع ہوگئی تھیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس نام کا تعلق گوتم بدھ کی زندگی کے ایک واقعے سے ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں سروے رپورٹس XIV 53,48 II 205,203 ایشنٹ جیا گرانی آف انڈیا195-197)۔ پنڈی داس اور ہڈیالہ کے مقامات پر شاہ جہاں اور جہانگیر نے ڈیک پر پل بنوائے تھے۔ دریامیں مچھلی پکڑنے کے حقوق کی نیلامی سے ہر سال تین ہزار روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ چترنگ،نا گواہ، رشید واہ اور چاند پور یہ سب دریا کی شاخیں ہیں۔ اول الذکر دونوں شاخیں خاصی اہمیت کی حامل ہیں ۔ کٹھیالہ کے مقام پر ڈیک پر نہانے کی جگہ (گھاٹ ) موجود ہے جسے سری رام چند کی پوڑی کہا جاتا ہے۔ اس مقام پر ہر سال مقامی میلہ لگتا ہے۔ ڈیک کے پانی کا انحصار پہاڑوں پر ہونے والی بارش پر ہے اس لیے دریا میں پانی کی فراہمی کی صورت حال غیریقینی ہوتی ہے۔ بعض اوقات اس میں زبردست طغیانی آجاتی ہے اور اس کا تیز رفتار پانی دریاسے نکل کر وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں دریا تقریباً خشک ہو جاتا ہے۔ ادیری گاؤں کے اوپر جھلاروں یا کنوؤں کے ذریعے دریا سے آبپاشی کے لیے پانی حاصل کیا جاتا ہے البتہ زیر یں علاقے دریا کے قدرتی بہاؤ سے سیراب ہوتے ہیں ۔ سیلاب کے بعد زیر آب آنے والی زمینوں پر بہترین چاول کاشت ہوتا ہے۔ بالائی علاقوں میں ضلع لاہور کے کوئی ایک سو دیہات ڈیک سے سیراب ہوتے ہیں ۔ مسٹر سونڈر کی سیٹلمنٹ رپورٹ میں پانی میں ان دیہات کے حصے کا واضح تعین کیا گیا ہے۔
ماجھے کے زیر میں علاقے:
باری دوآب کے نیچے کی طرف واقع علاقے کو مقامی بولی میں روہی کہتے ہیں۔ یہاں بارش کا جمع پانی کافی مدت تک کھڑا رہتا ہے لیکن صرف طوفانی بارشوں کے وقت آگے بہتا ہے اور وہ بھی محض چند گھنٹوں کے لیے۔ ان میں سب سے بڑا ہڈیارہ نالہ ہے جو امرتسر کی سرحد پر واقع ہڈیارہ گاوں پرضلع لاہور میں داخل ہو کر بل کھاتا ہوا جنوب مغربی سرحد پر ملتان روڈ پر ہلہ نامی گاؤں سے گزر کر راوی میں گر جاتا ہے۔ کور نالہ امرتسر کی سرحد پر سرسنگھ گاؤں کے قریب ضلع لاہور میں داخل ہوتا ہے اور قصور کے زیریں علاقے میں بہتا ہے۔ یہ سب سے اہم نالہ ہے جو عام طور پر پانی سے بھرا رہتا ہے۔ یہی نالہ ضلع گورداسپور بٹالہ اور ضلع امرتسر میں منوں والا اور ترن تارن کے مقامات سے گزرتا ہے۔ تیسرا پٹی نالہ ہے جو اس نام کے گاؤں ضلع لاہور میں داخل ہوتا ہے اور سبراوں کے نزدیک ستلج میں گر جاتا ہے۔ نہر باری دوآب اور ریلوے کے پشتوں کی تعمیر کے باعث بعض مقامات پر ان نالوں کا رخ قدرے تبدیل ہوگیا ہے۔ ان نالوں کے ساتھ کنوئیں کھودے گئے ہیں جن سے میٹھا پانی حاصل ہوتا ہے لیکن ان نالوں سے ایک میل دور پانی کھاری اور نمکین ہے جوزری مقاصد تک کے لیے استعمال میں نہیں لایا جاسکتا۔
نہر باری دوآب:
ضلع لاہور کی سب سے بڑی نہر باری دوآب ہے ۔ یہ نہر بڈھانہ کے قریب ضلع لاہور میں داخل ہوکر تحصیل چونیاں میں وااں کھارا سے گزرتی ہے۔ اسی شہر کی لاہور شاخ وا ہگہ میں داخل ہو کر لاہور اور میاں میر کے درمیان گزرتی ہے اور لاہور شہر کے جنوب مغرب میں آٹھ میل دور نیاز بیگ گاؤں کے مقام پر دریائے راوی میں گرتی ہے۔ اس کی لمبائی ساڑھے انسٹھ میل ہے۔ نہر کی قصور برانچ مغل کے مقام پرضلع میں داخل ہو کر ان ہر دو پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اسی طرح سبراؤں برانچ بھٹن بھانی کے مقام پر داخل ہوتی ہے اور بھاگو پرتک بہتی ہے۔ گزیٹر سیریز کی صوبائی جلد میں اس نہرا کر پوری تفصیل کے ساتھ درج ہے۔
ہسلی نہر:
یہ نہر شاہ جہاں کے دور میں لاہور سے پانچ میل دور شالامار باغ کو سیراب کرنے کے لیے علی مردان خان نے تعمیر کرائی تھی۔ بااثر سرداروں کو جن کی زمینیں اس نہر کے کنارے واقع تھیں ،نہر سے آبپاشی کے لیے پانی حاصل کرنے کی اجازت تھی۔ اب یہ نہر بھی نہر باری دوآب کی انتظامیہ کے پاس ہے۔
متذکرہ بالامستقل نہروں کے علاوہ اپر ستلج کے نام سے تین نہریں موجود ہیں جن میں سیلاب کے دوران خاصا پانی جمع ہو جاتا ہے۔ ستلج اور ماجھے کے درمیانی علاقے کے لیے ان نہروں کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ نہری ضلع منٹگمری تک بہتی ہیں اور وسیع رقے کوسیراب کرتی ہیں۔
اب ہم ان چارنہروں کا ذکر کریں گے جن کی تفصیلات ذیل میں درج ہیں

لوئر سوہاگ نہ صرف ضلع منٹگمری میں بہتی ہے اور اسے ایک زمیندار نے الحاق پنجاب کے بعد تعمیر کرایا تھا۔ کٹور اپرانی نہر ہے جس کی تعمیر نو برطانوی حکومت نے 71-1870ء میں کرائی تھی۔ نہر کا ہیڈ ورکس فیروز پور کے بالمقابل گنڈا سنگھ والا گاؤں کے قریب واقع ہے۔
خان واہ سب سے اہم شہر ہے۔ یہ پرانی نہر ہے جس کی تعمیر کے دور کا تعین کرنا مشکل ہے۔ اس کی تعمیر کے زمانے اور تیر کرانے والے شخص کے بارے میں بہت سے قصے کہانیاں مشہور ہیں ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نہرمغل شہنشاہ اکبر کے وزیر خان خاناں نے تعمیر کر ائی تھی۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ اس شہر کوخان بہادر نامی شخص نے بنوایا تھا۔ 1811ءتک اس نہر کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ اس سال نہر کا ہیڈ ورکس ریت بھر جانے سے ناکارہ ہو گیا، چنانچہ مہاراجا کھڑک سنگھ نے 1812ء میں اس شہر کی طرف توجہ دی اور مقامی زمینداروں ٹیکس لگا کر نہر کی صفائی کرائی۔ کچھ برسوں کے بعد نہر میں مٹی اور ریت دوبارہ بھر گئی۔ 1843ء میں مہاراجا شیر سنگھ کے حکم پر فقیر عزیز الدین نے شہر کی صفائی کا کام اپنے ذمے لے لیا۔ اس مرتبہ تمام اخراجات سرکاری خزانے سے کیے گئے اور بعد میں 8آنے فی ایکڑ ششماہی کے حساب سے آبیانہ وصول کیا جانے لگا۔ الحاق پنجاب کے وقت یہ نہر ضلع منٹگمر ی کے قصبے دیپالپورتک بہتی تھی جس کے بعد جنوب کی سمت میں اس نہر میں اٹھارہ میل تک توسیع کی گئی ہے۔ برطانوی حکومت نے نہر پر درج ذیل تین راجباہ تعمیر کیے ہیں:
1۔شمالی راجباہ لمبائی 18میل
2۔جنوبی راجباہ لمبائی 12 میل
3۔ بہاول داس راجباہ لمبائی 5 میل
ضلع منٹگمری میں پردبن آباد کے مقام پر چھ میل لمبی ایک اور راجباہ ہے جو اسٹڈ فارم کی ملکیت ہے۔ اس شہر کا ہیڈ ورکس تحصیل چونیاں میں مامو کے قریب ہے۔ پچھلے زمانے میں نہر کا انتظام وانصرام ضلع لاہور کے دیہات کے پاس تھا تا ہم الحاق کے بعد محکمہ انہاراس نہر کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔
سوہاگ نہر تحصیل چونیاں کے بھدروگائوں سے نکلتی ہے۔ یہ نہر ضلع منٹگمری میں پاک پتن تک ہوتی ہے جس کے بعد ریت میں گم ہو جاتی ہے۔ سیلاب کے موسم کے سوا باقی سارا سال یہ نہر خشک رہتی ہے۔ 72-1871ء میں اس نہرکا نیا ہیڈ ورکس تعمیر کیا گیا۔ 1827ء میں موکل کے جاگیردار سردار گوبند سنگھ نے مقامی لوگوں کی مدد سے نہر کی مرمت کرائی۔یہ کام جبری مشقت سے لیا گیا۔ اب محکمہ انہار اس کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ اس کے دوراجباہ ہیں جو دوزمینداروں بمن شاہ اور باباکھیم سنگھ کی ملکیت ہیں۔یہ راجباہ انداز اًسولہ میل لیے ہیں۔
ہر ضلع میں ان شہروں سے سیراب ہونے والے رقبے کے اعداد و شمار محکمہ انہار کے پاس موجود ہیں ۔ پچھلے پانچ سال میں ہر نہر سے سیراب ہونے والے رقبے کی تفصیلات یہ ہیں:

لا ہور بلکہ عمومی طور پر پنجاب کی آب و ہوا کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ سال کے مختلف موسموں اور دن کے مختلف اوقات میں زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ نومبر دسمبر جنوری اور فروری میں صبح کے وقت دھند چھائی رہتی ہے اور حرارت حاصل کرنے کے لیے دن بھر آگ جلائی جاتی ہے۔ ان مہینوں میں طلوع آفتاب سے پہلے درجہ حرارت 21 فارن ہائٹ اور گھروں کے اندر کم سے کم درجہ حرارت 50 سے 60 ڈگری کے درمیان ہوتا ہے۔ جنوری 1874ء میں یہاں چند منٹ تک برفباری بھی ہوئی تھی۔ پنجاب میں مئی اور جون میں سارا دن لو چلتی رہتی ہے اور حالت یہ ہوتی ہے کہ اس کی مٹیاں، جو ہندوستان میں مکانوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں پنجاب کے میدانی علاقوں میں زیادہ سود مند ثابت نہیں ہوتیں۔ پھر بھی جولوگ خس کی ٹٹیاں خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں، ان سے کسی حد تک گھروں کو ٹھنڈا کر لیتے ہیں ۔ دن کو عام گھروں میں جنہیں مصنوعی طریقے سے ٹھنڈا نہیں کیا جاتا، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 90 سے 98فارن ہائٹ کے درمیان ہوتا ہے۔ جون میں رات دس بجے درجہ حرارت 105 فارن ہائٹ تک جاتا ہے۔ جولائی میں وقفوں وقفوں سے بارش کی وجہ سے درجہ حرارت قدرے کم ہوجاتا ہے البتہ اگست اور ستمبر میں درجہ حرارت بتدریج کم ہوتا جاتا ہے۔ جب بارشیںختم جاتی ہیں تو درجہ حرارت دوبارہ بڑھ جاتا ہے اورنم آلودزمین پر سورج کی تمازت کے نتیجے میں ملیریا بخار عام ہوجاتا ہے۔ 15 ستمبر تک صبح اور شام کو ٹھنڈ ہونا شروع ہو جاتی ہے اور 15 اکتوبر تک سردیوں کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اس طرح وسط اکتوبر سے وسط اپریل تک موسم معتدل اور سال کے باقی مہینوں میں گرمی پڑتی ہے۔ ان ناموافق موسمی حالات کے باوجود لاہور کی آب و ہوا کو ہندوستان کے بیشتر شہروں کے مقابلے میں بہت اعلیٰ تصور کیا جاتا ہے۔ سردیوں کا موسم بہت توانائی بخش اور موسم بہار فرحت انگیز ہے۔ خشک موسم کی وجہ سے گرمیوں اور سردیوں کے موسموں میں حد درجہ تفاوت صحت کے لیے زیادہ مضرت رساں نہیں۔ ضلع لاہور میں بہت کم بارشیں ہوتی ہے اور زیادہ بارشیں جولائی اور اگست کے مقابلے میں سردیوں میں ہوتی ہیں۔ ضلع کے شمالی علاقوں میں سالانہ 15 سے 20 انچ بارش ہوتی ہے جبکہ جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں میں سال میں اس کا تناسب بارانی سے زیادہ نہیں ہوتا۔ توقع ہے کہ مزید رقبے کے زیر کاشت آنے اور روئیدگی کے باعث بارشوں کی مقدار میں اضافہ ہو جائے گا۔ بیشتر ذہین زمیندار اس سے پہلے ہی یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ سکھوں کے زمانے کے مقابلے میں اب پہلے سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔
صحت و صفائی:
عام بیماریوں میں ملیریا بخار ( دوسرے تیسرے اور چوتھے دن) باری کا بخار ،پیچس اسہال اور دست شامل ہیں۔ گلے کی سوزش اور نمونیا بھی عام ہیں۔ سردیوں میں نمونیا جان لیوا ہوتا ہے۔ معدے کا السر اور جلد کی بیماریاں بھی بہت ہیں ۔ ضلع کے ایک حصے شر ق پور میں گلہڑ کی بیماری عام ہے۔ سینیٹری کمشنر کی طرف سے اموات کے بارے میں جاری ہونے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضلع لاہور میں 1882ء میں ختم ہونے والے تین برسوں کے دوران پنجاب کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں لاہور میں بخار سے زیادہ اموات واقع ہوئی ہیں۔ ہیضے سے 1882ء میں صرف تین اور 1880ء میں لاہور شہر اور پورے ضلع لاہور میں چودہ اموات واقع ہوئیں۔ 1881ءمیں 1643 افراد مہینے سے مر گئے جن میں شہر میں 772 مضافات میں 329 اور باقی ضلع میں 542 اموات شامل ہیں۔ لاہور شہر ضلع میں پچھلے چھ برسوں میں چیچک سے ہونے والی اموات کا گوشوار درج ذیل ہے:

1881ء کے موسم سرما میں پنجاب میں حفاظتی ٹیکے لگانے کا ایک نیا نظام متعارف کرایا گیا۔ ہر ضلع میں ٹیکے لگانے کا ایک الگ محکمہ قائم کیا گیا جبکہ اس سے پہلے صوبے میں اس مقصد کے لیے عملہ متعین تھا جو تین چار سال بعد ہر ضلع کا دورہ کیا کرتا تھا۔ موجودہ نظام کے تحت صوبے کے ضلع میں ہر سال ٹیکے لگائے جائیں گے۔ ٹیکے لگوانے کے سلسلے میں لاہور کے شہریوں کے مقابلے میں ضلع کے باشندوں کا رویہ زیادہ مثبت ہے ۔ضلع میں یہ کام خاموش اور بڑی مستعدی کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں کسی طبقے نے مخالفت نہیں کی تاہم لاہور شہر کی صورت حال مختلف ہے۔ عام شہری بڑی حد تک ٹیکوں کی افادیت کے قائل ہیں اور وہ عموماً اپنے بچوں کو ٹیکے لگوانے پرکوئی اعتراض نہیں کرتے ۔ ذات پات اور تعصب کے بغیر تعاون کیا جارہا ہے البتہ ہندو خاص طور پر اپنے بچوں کو ٹیکے لگوانے کی مخالفت کرتے ہیں اور جب انسداد چیچک کے ٹیکے کے نتیجے میں آبلے پک جائیں اور ان کے معائنے کا وقت آجائے تو وہ اپنے بچوں کو گھروں میں تالے لگا کر بند کر دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ شہر میں کام سست روی کا شکار ہے اور ٹیکے لگوانے کی وجہ سے 1882ء میں لاہور شہر میں شرح اموات ضلع کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں زیادہ رہی ۔ اس سال کی اموات کا گوشوار درج ذیل ہے:
پہلے چار مہینوں میں اموات کی تعداد7792
دوسرے چار مہینوں میں اموات کی تعداد7965
تیسرے چار مہینوں میں اموات کی تعداد 12, 555
گزشتہ چھ برسوں میں پچھلے چار ماہ انتہائی ہلاکت خیز ثابت ہوئے جس کی تفصیل یہ ہے
پہلے چار مہینوں میں اموات کی تعداد 12402
دوسرے چار مہینوں میں اموات کی تعداد 10275
تیسرے چار مہینوں میں اموات کی تعداد9195
شرح اموات میں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ 1878کے موسم خزاں میں بخار کی وبا پھیل گی تھی جس نے 1879کے وسط میں پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سال میں سب سے زیادہ بیماریاں اگست، ستمبر اور اکتوبر میں اس وقت پھیلتی ہیں جب ملیریا بخار عام ہو جاتا ہے۔ سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینے نومبر، دسمبر اور جنوری ہیں۔ یہاں ضلع کے دیہات میں صحت و صفائی کے تذکرے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس حوالے ان کی حالت پنجا بکے دوسرے ضلعوں کے دیہات سے مختلف نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں