لاہور تاریخ کے آئینے میں

Greater Iqbal Park

یہ شہر دارالحکومت و دارالسلطنت پنجاب کا ہے یہ دریائے راوی کے بائیں کنارے پر فاصلہ تین میل واقع ہے۔ پہلی تاریخوں میں اس کا نام کہیں لو پور کہیں نہا پور اور کہیں لاہو درج ہے۔ شہر کے بانی کا نام کسی کو معلوم نہیں ،عموماً کہا جاتا ہے مہاراجہ رام چندر جی کے دو بیٹے تھے ایک کا نام لاہو تھا جس نے شہر لاہور کی بنیاد رکھی دوسرے کا نام کثو تھا جس نے قصور کی بنیاد رکھی۔
سطح سمندر سے شہر لاہور کی بلندی تقریباً 705فٹ ہے۔ قدیم شہر میں کئی تہذیبیں آئیں اور مٹ گئیں ۔ بدھ مت آئے، ہندو، جین مت اور سکھ آئے لیکن سب زوال پذیر ہو گئے۔ 389ھ میں شہریر چچ خاندان کے راجہ راجپوت بھٹی جن میں تندرت و نہرت اور چندرت تھےنے اس پر حکومت کی ان کے بعد راجہ جے پال آیا ۔ انند پال آیا ان کے خاندان نے 1014ء تک اس علاقے پر حکمرانی جمائے رکھی۔ اس وقت منصور ساسانی غزنی کے علاقے پر حکمران تھا اس کے غلام اپتگین نے کچھ اختلافات پر اپنے آقا سے علیحدگی کی اور غزنی کو اپنی سلطنت میں لے لیا اس کے انتقال پر سبتگین حکمران بنا۔
اس زمانے میں مسلمانوں کی سلطنت اس قدر پھیل چکی تھی کہ راجہ جے پال کو تشویش ہوئی اور اس نے غزنی پر حملہ کر دیا ۔ سبتگین جو اس وقت پہلے ہی جنگی تیاریاں کر چکا تھا،اس نے راجہ جے پال کو جوابی کارروائی میں مات دی اور راجہ کے کئی علاقوں پر قبضہ جمالیا ۔ دوبارہ راجہ نے سبتگین پر بھرپور حملہ کر دیا ایک دفعہ پھر سبتگین نے راجہ جے پال کو شکست دی ۔اس حملے میں بہت سے سپاہی مارے گئے ہر طرف لاشیں ہی لاشیں بکھر گئیں ۔راجہ جے پال نے ایک لاکھ تاوان ادا کیا اور جان چھڑائی ،انہی دنوں سبتگین کا انتقال ہوگیا اس کے بڑے بیٹے محمود غزنوی اور دوسرے بیٹے اسماعیل کے درمیان تخت حاصل کرنے کے لیے لڑائی ہوئی۔ بڑا بیٹا محمود غزنوی فتح حاصل کر کے 387ء میں تخت پر بیٹھا۔ محمود غزنوی کے پاس با کمال صلاحیتیں تھیں وہ ذہین اور محنتی تھا۔ جب راجہ جے پال نے اس کے ساتھ لڑائی کی تو اس نے راجہ کو ذلت آمیز شکست دی، اس کے سپاہیوں کو جنگی قیدی بنا لیا، راجہ کے گلے میں سولہ قیمتی مالائیں تھیں جنھیں لے لیا ۔ راجہ اس ذلت آمیز شکست کے بعد لاہور آیا اور صدمے سے انتقال کرگیا، اس کے بیٹے کو باپ کی شکست کی وجہ سے بہت دکھ ہوا اس نے ہندوستان کے ہندو راجائوں اور مہاراجائوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور انھیں اپنے ساتھ جنگ میں شرکت کی دعوت دی اور بڑا لشکر لے کر حملہ آور ہوا دوسری جانب محمود غزنوی جو مسلم ریاست کی وسعت کے بارے میں سوچ رہا تھا اس نے مہاراجہ کے بیٹے انندپال کو بہترین حکمت عملی سے شکست دی اور لاہور پر قبضہ جمالیا۔ یہ 405ھ کا ذکر ہے۔

لاہور کی مسجد وزیر خان

محمود غزنوی نے لاہور کو جو اس وقت مندروں کا شہر تھا اسے دین اسلام کا قلعہ بنانے کا فیصلہ کیا اس کے دور میں بزرگان دین کی بڑی تعداد نے شہر لاہور کی طرف رخ کیا۔ سید اسماعیل محدث ؒ، سید یعقوب زنجانیؒ، سید میراں حسین زنجانیؒ اور سید علی ہجویری ؒ نے شہر میں اسلام کی تبلیغ شروع کر دی۔ پھر وہ شہر جس میں مندروں کی گھنٹیاں ٹن ٹن بجتی تھیں اس میں دین اسلام کی درسگاہیں قائم ہونے لگیں مندرو ں کی جگہ مسجدوں نے لے لی ۔ اذان کی آواز اللہ اکبر اللہ اکبر پورے شہر میں گونجنے لگی اسلامی سلطنت کا سورج طلوع ہوا پھر وہ شہر جس پر ہندوئو ں، بدھ متوں، جین متوں کا راج تھا اور اس وقت تک ایک مسلمان بھی شہر میں موجود نہ تھا اس میں بڑی تعداد میں اولیاء اللہ کی تبلیغ سے متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے۔
محمود غزنوی جس کے سراس ویو ہیکل شہر کو آزاد کرنے کا سہرا بندھا تھا۔ وہ 431ھ کو انتقال کر گیا اس کے بعد محمودغزنوی کا بیٹا جلال الدین الدولہ تخت پر بیٹھا یہ زیادہ با اثر شخص نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ امراء نے اس کے خلاف بغاوت کر دی اور اسے تخت چھوڑنا پڑا ،چھ ماہ بعد اس کا بھائی مسعود تخت نشین ہوا جس کا 1047ء میں قتل کر دیا گیا، اس کے بعد 1187ء تک اسی انداز کے یکے بعد دیگرے تیرہ حکمران بنے ۔ لیکن کوئی بھی ز یادہ کامیاب ثابت نہ ہوا۔
لاہر پر غوری اور غلاماں خاندان 582ھ تک تخت نشین رہے ۔ غوری خاندان سے قطب الدین ایبک پہلے مسلمان بادشاہ، آرام شاہ، شمس الدین، رکن الدین، فیروز شاہ، رضیہ سلطان، بہرام شاہ، رغیاث الدین، بلبن کیقبار، معز الدین اور کیمورت شمس الدین حکمران تھے۔ بعد از 721ھ تک خلجی خاندان سے فیروز شاہ ، جلال الدین ، ابراہیم شاہ رکن الدین، احمد شاہ ابدالی، عمر شاہ شہاب الدین نے حکومت کی۔ اس دوران لاہور کے ہر گھر میں اسلام کے دئیے روشن ہو چکے تھے تاہم گلی محلو ں میں کہیں کہیں آج بھی تاریکی چھائی ہوئی تھی ۔اسلام کی تعلیمات اور حسن اخلاق سے دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے متاثر ہو کر اسلام قبول کر رہے تھے۔
بعد از جب مغل بادشاہوں کا دور آیا تو انہوں نے لاہور کو اس کا خاص مقام عطا کیا ۔ ظہیرالدین محمد بابر نے 1524ء میں دوبارہ فتح ہوئی اور یوں سلطنت مغلیہ کا سورج طلوع ہوا ہی تھا کہ نصیر الدین محمد 1530ء میں انتقال کر گئے۔
اس کا بیٹا ہمایوں 1530ء میں تخت نشین ہوا شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دی اور وہ بذریعہ قندھار اشران پہنچا ۔ایران کے حکمرانوں کے ہمایوں کے ساتھ تعلقات خوشگوار تھے۔ انہوں نے ایران پہنچنے پر ہمایوں کا شایان شان استقبال کیا ۔ ہمایوں کو بادشاہ کے ہاں شاہی مہمان ٹھہرایا گیا اور اس کی مدد کی۔ شیر شاہ سوری کے انتقال کے بعد ہندوستان پر اس کا جانشین اسلام شاہ سوری تخت نشین ہوا اس کے انتقال پر ہندوستان میں انتشار پیدا ہو ا، یہ ماحول ہمایوں کے لیے سازگار تھا ۔ ہمایوں نے 1555ء میں لاہوپر قبضہ کرنے کے بعد دہلی پر بھی قبضہ جمالیا۔
ہمایوں وہ واحد شخص تھا جس نے ا پنی کھوئی سلطنت واپس حاصل کی۔ 1556ء میں ہمایوں دہلی کے پرانے قلعے میں نماز مغرب کے وقت سیڑھیوں سے نیچے اتر رہاتھا کہ اس کا پائوں پھسلا اور وہ انتقال کر گیا ہمایوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس کا نام اکبر رکھا اکبر کے لیے ایران سے اساتذہ منگوائے لیکن اس نے تعلیم حاصل نہ کی۔ اکبر نے لاہور شہر میں موجود شاہی قلعہ کی ازسر نو تعمیر کروائی اور اسے اس قدر پختہ بنوایا تاکہ اس کا خاندان یہاں محفوظ رہے۔ اکبر کے ہاں 1569ء میں بچہ پیدا ہوا جس کا نام سلیم رکھا گیا (المشہور جہانگیر) ۔ سلیم کو اکبر نے اپنا جانشین بنایا۔ اکبر کے 1605ء میں انتقال کے بعد جہانگیر تخت نشین ہوا۔ مغلوں نے شہر کے گرد فصیلیں بنائیں اور 12دروازے تعمیر کروائے شہر کے نظم و نسق کا خاص خیال رکھا جانے لگا، 1627ء میں جہانگیر کی طبیعت اچانک خراب ہوئی اور وہ لاہور میں ہی انتقال کر گیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا شہاب الدین محمد شاہ جہاں تخت پر بیٹھا اس کا اصل نام خرم تھا وہ 1592ء میں لاہور ہی میں پیدا ہوا۔ شاہ جہاں کو لاہور سے جو لگائو تھا اس کی مثال شاہی قلعہ میں موجود شیش محل ، نو لکھا محل، شالا مار باغ ہیں۔ لاہور سے متصلہ علاقے میں جہانگیر نے اپنے والد کا مقبرہ ، مسجد وزیر اندرون شہر مقبرہ آصف باجوہ شاہدر لاہور میں تعمیر کروائے۔ شاہ جہاں کے بعد اس کے بیٹے کے درمیان تخت نشینی کے لیے کئی معرکے ہوئے اور اس کا بیٹا اورنگزیب عالمگیر تخت پر بیٹھا اورنگزیب شاہ جہاں کا تیسرا بیٹا تھا وہ 1618ء میں پیدا ہوا ۔ اس کی اسلامی عقیدے کے مطابق تربیت کی گئی تھی۔ لہٰذا اس نے اسلامی قانون رائج کیے بادشاہی مسجد اسی کی تعمیر کروائی ہوئی یادگار عمارتوں میں سے ایک ہے۔ مغلیہ سلطنت کے زوال تک لاہور بے مثال حسن کا مالک شہر بن چکا تھا۔ کہیں باغات تھے تو کہیں مقبرے کہیں بادشاہی مسجد سے روشنی اٹھتی ہوئی دکھائی دیتی تھی تو کہیں شاہی قلعے میں مسلمانوں کے اقبال چمکنے کی محفلیں جم رہی تھیں۔
شہر سالوں پرانا تھا لیکن اس میں دم اب بھی تازہ تھا دریائے راوی آب و تاب سے رواں دواں تھا۔ شہر کے اندر سے نہر لاہور اب بھی جاری تھی جس کے گرد باغات کا حسن نمایاں تھا ،باغات میں اخروٹ ، بادام ، آم، کنوں کے درخت بہ کثرت تھے شہر میں حویلیاں کافی تھیں۔
مغلوں نے دیانت داری سے لاہور پر پیسہ خرچ کیا تھا اس کے حسن کی رودادیں سمیٹے ہوا کے جھونکے دوسرے برے اعظموں میں جارہے تھے۔ لوگوں میں ہمدردی تھی ، عالموں، شاعروں ، ادیبوں ، مصوروں ، موسیقار، فنکاروں کا رخ لاہور کی سمت میں ہونے لگا تھا کہ مغلیہ سلطنت زوال پذیر ہو گئی۔ سکھوں نے لاہور میں لوٹ کھسوٹ شروع کر دی۔ شہر پر قبضہ کرنے کے لیے مورچہ بندیاں کر دی گئیں تو پوں کا استعمال ہونے لگا شہر سے قیمتی پتھر اور اشیاء لوٹ کر سکھ بیچنے لگے۔

لاہور میں سکھوں کا گوردوارہ

ان سکھوں میں سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص صرف رنجیت سنگھ تھا وہ 1780ء میں پیدا ہوا، یہ بہادر فرض شناس اور چوکنا انسان تھا۔ یہ مہمان سنگھ کا بیٹا تھا احمد شاہ ابدالی کا پوتا ، 1797ء میں پنجاب پر قابض ہوا وہ پنجاب کو فتح کر کے واپس جارہا تھا کہ دریائے جہلم میں طغیانی آگئی۔ بادشاہ خود تو چلا گیا لیکن اپنی بارہ توپیں چھوڑ گیا اس نے بعد میں رنجیت سنگھ سے کہا کہ اگر وہ توپیں نکال کربا دشاہ کو پیش کرے تو اسے انعام میں لاہور دیا جائے گا ۔رنجیت نے آٹھ توپیں دلدل سے نکالیں اور بادشاہ کو پیش کیں، لہٰذا بادشاہ نے وعدے کے مطابق اسے لاہور کا پورا ضلع عطا کیا اس وقت لاہور میں سکھ سرداریاں قائم تھیں جن کے نام یہ ہیں آہلو والیہ بھنگی، گہا، رام گڑھیہ سنگھ پوریہ، کردڑا سنگھیہ، نشانیہ، سکر چالیہ، ولیل والا، ان میں بس رنجیت سنگھ ذہین شخص تھا اس نے ان تمام سرداریوں کو ختم کر دیا ۔رنجیت سنگھ نے پنجاب پر قبضہ کر لیا اور لاہور کو دارالخلافہ کا درجہ دیا اس نے اپنی فوج کی جدید دور کے مطابق تربیت کی رنجیت سنگھ بھی دوسرے سکھوں کی طرح لالچی نکلا، اس نے بھی لاہور سے بے شمار فائد حاصل کیے ۔ یہاں سے کئی چیزیں چرالیں 27جولائی 1839ء میں وہ مر گیا اس کے بعد تیر سنگھ، جواہر سنگھ، دھان سنگھ ، ہیرا سنگھ لاہور کے مہاراجہ تھے۔دلیپ سنگھ خاندان کا آخری حکمران تھا۔
سکھوں نے شہر لاہور کے حسن کو ٹھیس پہنچائی ،جب 1849ء کو انگریز شہر میں داخل ہوئے تو شہر میں تباہی اور لوٹ مار کے آثار نمایاں تھے گلی کوچوں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے انگریزوں نے پہلے اندرون کھنڈر نما شہر کو ٹھیک کروایا بعد میں بیرون کی طرف مغربی طرز کی عمارتیں سڑکیں بنوائیں ، میا ں میر کے علاقے کی طرف چھائونی بنائی جس کے اردگرد نیا لاہور بن گیا۔
1857ء کی جنگ کے بعد انگریزوں نے شہر پر خاص توجہ مرکوز کروئی یہاں ریلوے اسٹیشن بنوایا ، اسی طرح سول سٹیشن کے علاقے میں انگلستان کے سرکاری ادارے قائم کیے جن کے ساتھ ہی شہر لاہور کے دل یعنی مال روڈ پر تجارتی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔
انگریز نے شہر میں ہسپتال، سکول و کالج بنوائے۔ مال روڈ پر منٹگمری و لارنس ہال بنے اسی طرح لاہور عجائب گاہ ، پنجاب یونیورسٹی ، ایچی سن کالج، لاہور ہائی کورٹ کی عمارات بنوائیں ۔ شہر میں میونسپل کمیٹیاں ، انجمنیں وجود میں آئیں صحت و صفائی کے محکموں نے ترقی کی۔
میو ہسپتال، رلاٹ صاحب کا بنگلہ (گورنر ہائوس) ، جنرل پوسٹ آفس، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، چڑیا گھر، گورنمنٹ کالج بھی اسی وقت کی یادگار یں ہیں۔
ہندوستان انگریزوں کے لیے سونے کی چڑیا تھا اسے چھوڑنے کا تو کبھی انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا وہ اپنے ساتھ یہاں موٹر کاریں، موٹرسائیکلیں لائے، غریب عوام کے لیے سائیکل اور ریلوے متعارف کروایا۔ انگریزوں نے اپنے ہمنوائوں کو جاگیروں اور جائیدادوں سے نوزا جبکہ عام آدمی کو خوب پسپا کیا گیا ،لوگوں کے دلوں میں انگریزوں کے خلاف زہر بھر تا گیا۔ 1919ء تک پہلی جنگ عظیم کے ختم ہونے تک برصغیر میں آزادی کا نعرہ بلند ہو چکا تھا لوگ شہر لاہور میں بھی نو آبادیاتی نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ انگریز اب یہ جان چکا تھا کہ اسے زیادہ دیر ہندوستان چھوڑنے میں نہیں لگے گی۔ 1935ء تک ہندوستان کے عوام خواب غفلت سے جاگ چکے تھے ۔ ہندوستان کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے انگریزوں نے آخری حربے استعمال کرنا شروع کیے لیکن ناکام رہا۔ 1940ء کے مسلم لیگ کے سالانہ جلسہ منعقد ہ لاہور میں منعقد ہوا اور اس جلسے میں مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا صرف سات سال کے بعد عظیم جدوجہد کے بعد عظیم لیڈر قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانوں نے الگ وطن حاصل کیا۔ لاہور شہر پاکستان کے حصے میں آیا اور زندہ دلوں کا شہر کہلایا۔
(سجاول)

اپنا تبصرہ بھیجیں