لاک ڈاؤن صرف اس صورت میں کامیاب ہو گا، جب لوگوں کو بنیادی ضرورتیں گھر میں ملیں گی: وزیراعظم

imran khan
EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں کویہ بیماری ہو گی ان سو میں سے ایک شخص مر سکتا ہے۔ جب بھی کہیں پر زیادہ لوگ جمع ہو ں گے یہ بیماری تیزی سے پھیلے گی۔ کئی علاقوں میں اس کی پرواہ نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر ملک میں اس کا پھیلائو مختلف ہے۔ابھی تک صرف 40لوگ مرے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ہمارے پاکستانیوں کی قوت مدافعت زیادہ ہے یا شاید ہمیں یہ بیماری اثر نہیں کرے گی۔لوگ احتیاط نہیں کر رہے کہ شاید پاکستانیوں کو فر ق نہیں پڑے گا۔ یہ بیمار ، بزرگوں کیلئے بڑی خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خوف کہ جس طرح یہ بڑھ رہی ہے ۔ ہمیں خطرہ ہے کہ ہمارے پاس وینٹی لیٹرز نہیں ہیں اور ہم اس طرح علاج نہیں کر سکیں گے جس کی ضرورت ہوگی۔اور پریشر بڑھ جائے گا۔ اس کیلئے جتنی ہم آج احتیاط کریں گے تو ابھی ہسپتال میں جگہ ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تین ہفتے پہلے ہم نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد ہم نے سکول، یونیورسٹیز کے بعد فیکٹریاں دکانیں وغیرہ بند کردی تھیں لیکن یورپ، امریکہ اور چین میں ہونے والے لاک ڈاؤن سے ہمارا لاک ڈاؤن مختلف ہے۔پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ تقریباً پانچ کروڑ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں تو ہمیں لاک ڈاؤن کا یورپ اور چین کی طرح نہیں سوچنا چاہیے کیونکہ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ اگر ہم ان کی طرح لاک ڈاؤن کریں گے تو اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ جو روزانہ دیہاڑی کمانے والے ہیں، رکشہ چلانے والے، چھابڑی والے، دکاندار وغیرہ پر لاک ڈاؤن کا سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے کیونکہ وہ سارا دن دیہاڑی کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ اس لیے ہم نے کوشش کی کہ کسی طرح سے توازن قائم ہو جائے، لاک ڈاؤن بھی ہو تاکہ بیماری نہ پھیلے اور اس کمزور طبقے پر بھی مشکلات نہ پڑ جائے اور یہی وجہ ہے تمام صوبوں اور وفاق کا ردعمل مختلف تھا۔ امریکہ جیسے ملک میں بھی مختلف ریاستوں میں مختلف رویہ ہے، کئی نے پورا لاک ڈاؤن کردیا ہے، کئی نے کم لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے، یورپ میں بھی سوئیڈن کا مختلف ہے جبکہ جرمنی کا سپین اور اٹلی سے مختلف ہے۔انگلینڈ نے پہلے کچھ کیا تھا بعد میں بدل دیا۔ ایسی بیماری پہلے کبھی نہیں ہوئی اس لئے سب کا رد عمل مختلف ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے زراعت کے شعبے میں لوگوں کو مکمل کام کرنے دینا ہے کیونکہ ہمیں یہ بھی دھیان رکھنا ہے کہ ہمارے 22کروڑ لوگ ہیں جنہیں ہمیں کھانا پینا بھی دینا ہے خصوصاً اب گندم کی کٹائی شروع ہو چکی ہے تو ہم نے دیہاتوں میں کہا ہے کہ کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہے۔ہم نے اصل لاک ڈاؤن شہروں میں کیا ہے، اب شہروں میں بھی سب کو خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں کہ لوگوں کے حالات برے ہیں، مزدوروں اور دیہاڑی کمانے والوں کے برے حالات ہیں تو اس کی وجہ سے ہم نے فیصلہ کیا کہ شعبہ تعمیرات کو کھول دیا جائے تاکہ لوگوں کو نوکریاں ملیں۔
اس وقت ہمارا سب سے بڑا چیلنج ہے کہ ہم اپنے سب سے غریب طبقے کا کیسے خیال رکھیں تو اسی سلسلے میں ہم کل سے احساس پروگرام شروع کرنے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام میں ساڑھے تین کروڑ لوگوں نے درخواست دی ہے کہ وہ انتہائی غریب ہیں اور ان کی مدد کی جائے اور اس پروگرام میں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہے۔ اس نظام میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا اور یہ نادرا کی جانب سے فراہم کیے ڈیٹا کی بنیاد ہر خودکار نظام کے تحت میرٹ پر چل رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہر خاندان میں ایک فرد کو 12ہزار روپے دیے جائیں گے اور پورے پاکستان میں 17ہزار جگہیں ہیں جہاں سے یہ پیسہ تقسیم کیا جائے گا جس کے تحت اگلے دو سے ڈھائی ہفتے میں ایک کروڑ 20لاکھ خاندانوں کو یہ پیسہ دیا جائے گا۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اس میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا یہ سارا کمپیوٹرائز ڈیٹا ہے۔

ان کا کہنا تھا جو مستحق رہ جائیں گے ان کو تلاش کر کے پیسے تقسیم کیے جائیں گے۔ جو ایس ایم ایس نہیں کر سکے اگر پھر بھی کوئی رہ گئے تو وزیراعظم کے فنڈ سے بھی رقوم جاری کر دی جائیں گی۔ ٹائیگر فورس بھی مسلسل بریفنگ دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈائون صرف ایک ہی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جب لوگوں کوگھر میں کھانا مہیا ہو گا۔ان کاکہنا تھا کہ صحیح سیاست تو عبادت ہے ۔میرے تمام ایم این ایز شرکت کریں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔اگر ہم دنیا کے ساتھ موازنہ کریں تو ان کی آبادی بھی کم ہے اور ان کے ریلیف پیکج ہم سے بہت زیادہ ہیں۔ اس کیلئے ہمیں آپ کے خدمات اور پیسوں کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں