لالچی ریچھ اورعقلمند گلہری

Greedy-bears

پیارے بچو ! اایک جنگل بہت ہرا بھرا تھا ایسے جنگل میں جانور بھی مزے سے رہ رہے ہوتے ہیں۔ اس جنگل میں ایک ندی بھی بہتی تھی، جہاں جنگل کے سب جانور نہاتے اور پانی پی کر اپنی پیاس بجھاتے تھے۔ وہیں ہر طرف جھاڑیوں کے جھنڈ بھی تھے، رنگ برنگ پھولوں کی بیلیں بھی اور سرسبز و شاداب پھل دار درخت بھی تھی۔ ان میں بادام، اخروٹ بھی شامل تھے۔ پھولوں کی بہتات سے جنگل ہر وقت مہکتا تھا۔ درختوں میں جگہ جگہ شہد کے چھتے لگے ہوئے تھے۔ شہد ایک مکمل غذا ہے جور یچھ کوبہت مرغوب ہے۔ شہد کا چھتا دیکھ کر ریچھ کے منہ میں پانی بھر آتا ہے۔
اس جنگل میں ایک کمزور سے درخت پر گلہری نے اپنا گھر بنا لیا تھا، گلہری بڑیمحنتی سے اپنے لیے کھانا جمع کرتی تھی۔ وہ سارا دن ادھر ادھر بھاگتی پھرتی اور بادام، اخروٹ اورشہد کا ذخیرہ رکھتی تاکہ وقت پر کام آسکے۔ یہ گلہری چوں کہ بہت صاف ستھری تھی اس لیے اپنے ارد گرد کوز رد پتو ں اور ٹہنیوں سے صاف رکھتی تھی۔
ایک روز وہ صفائی کر رہی تھی کہ ایک ریچھ بھٹکتا ہوا خوراک کی تلاش میں ادھرآنکلا۔ اسے دیکھ کر گلہری درخت پر چڑھ گئی۔ ریچھ کا دھیان اس کے گھر کی طرف گیا۔ اس نے دیکھا کہ وہاں بہت سے بادام، اخروٹ اور شہد جمع ہے۔ اس نے گلہری سے کہا کہ مجھے ان میں سے کچھ کھانے کو دے دو۔
گلہری نے کہا : ”میں نے یہ چیزیں برے وقت کے لیے سنبھال کر رکھی ہیں۔“
ریچھ نے کہا: ”اب سمجھ لو کہ تم پر برا وقت آگیا ہے۔ اگر تم نے مجھے یہ سب نہ دیا تو میں اس کمزور درخت کو اس زور سے ہلاﺅں گا کہ یہ سب چیزیں نیچے گر پڑیں گی۔ تم منہ دیکھتی رہنا پھر تمہارا اپنی جان بچانا بھی مشکل ہو جائے گی۔ “
بے چاری گلہری یہ دھمکی سن کر بہت پریشان ہوئی اور سوچنے لگی کہ اس مصیبت سے کیسے نجات حاصل کی جائے، کیونکہ وہ دیکھ رہی تھی ریچھ بڑے ڈیل ڈول والا ہے، اگر غصے میں آگیا تو واقعی چیزیں گرا سکتا ہے جس سے سردیوں میں مشکل پیش آئے گی۔ وہ کافی دیرتک سوچ میں پڑی رہی۔
آخر ایک ترکیب اس کے ذہن میں آئی، وہ فوراً مسکرائی اور ریچھ سے میٹھے لہجے میں بولی: ”تمہیں یہ اشیاءدینے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر یہ تعداد میں تھوڑی سی ہیں، جس سے تمہارا پیٹ بھی نہیں بھرے گا اور میرے پاس بھی کچھ نہیں رہے گا۔ مجھے ایک جگہ کا علم ہے جہاں بہت سا شہد بھی ہے اور ڈھیروں بادام اور اخروٹ بھی ہیں۔“
گلہری کی یہ بات سن کر ریچھ کے منہ میں پانی بھر آیا، اس نے بے قراری سے کہا: ”جلدی سے مجھے اس جگہ کے بارے میں بتا دو۔ “
گلہری نے کہا : ”میں تمہارے اوپر بیٹھتی ہوں اور ہم دونوں اس جگہ تک چلتے ہیں۔“
ریچھ خوشی خوشی مان گیا ۔ گلہری اس کے سر پر بیٹھ گئی اور کہا : ”سیدھے چلو۔۔۔دائیں چلو۔۔۔بائیں چلو۔۔۔ادھر سے بائیں۔۔۔سیدھے۔۔۔ادھر سے دائیں۔ ۔۔ذراتیز چلو دائیں چلو۔۔۔بائیں چلو۔۔۔ادھر سے بائیں۔۔۔سیدھے۔۔۔ادھرسے دائیں۔۔۔ذرا تیز چلو۔۔۔بائیں۔۔۔“ غرض وہ ریچھ کو اسی طرح جنگل میں گھماتی رہی۔
ریچھ کا سانس پھول چکا تھا۔ ایک غار کے سامنے پہنچ کر گلہری نے اسے رکنے کو کہا اور اس کے اوپر سے اترتے ہوئے بولی: ”سیدھے اس غار میں گھس جاﺅ، ہاں شہد کا بڑا ذخیرہ ہے۔ خوب جی بھر کر کھانا۔“
ریچھ جلدی سے غار میں جا گھسا ، وہ غار شیروں کا مسکن تھا۔ جب انہوں نے ریچھ کو بلا اجازت غار میں گھستے دیکھا تو وہ اس پر جھپٹ پڑے ۔ بھوکے ریچھ نے ان کا بڑا مقابلہ کیا مگر وہ زیادہ دیر تک شیروں کے سامنے نہ ٹھہر سکا اور جان کی بازی ہار گیا۔ گلہری نے کچھ انتظار کیا، جب غار کے اندر سے آنے والی شیروں کی آوازیں مدھم ہوئیں تو وہ سمجھ گئی کہ لالچی ریچھ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ اس کے بعد وہ مزے سے جنگلی پھول دار پھل کھاتی اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں