قصہ دو قلندروں کا

دو قلندر_بادشاہ
EjazNews

ایک بار خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں دو قلندر آئے۔ خلیفہ نے ان کی حالت دیکھ کر پوچھا کہ وہ اس حالت کو کیوں کر پہنچے ہیں؟۔تب پہلے قلندر نے ہاتھ باندھ کر عرض کی اور اپنی آپ بیتی یوں شروع کی:
خداوند! میرے والد مرحوم بڑے رئیس اور امیر کبیر تھے۔ علم و فضل میں بھی بے مثل و بے نظیر تھے۔ اس فقیر حقیر کو بھی بچپن ہی سے لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ کھیل کود سے نفرت اور پڑھنے لکھنے سے نہایت محبت تھی۔ میری ذہانت اور صلاحیت کو دیکھ کر ابا مرحوم نے میری تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ بڑے بڑے نامور عالم میرے اتالیق مقرر ہوئے اس کے ساتھ سپہ گری کے فن میں بھی کمال حاصل کیا خوش نویسی میں بھی ایسا طاق ہوا کہ بڑے بڑے استاد دیکھتے تو عش عش کر اٹھتے۔
علوم و فنون اور سپہ گری میں جو غلام اتنا مشہور ہوا تو ہندوستان کے بادشاہ نے ایلچی بھیج کر مجھے بلوایا۔ میں سمجھا کہ خوش نصیبی نے یہ روز سعید دکھایا۔ تقدیر نے پلٹا کھایا۔ اپنے کمال اور قابلیت پر مغرور ہوا۔ یہ نہ سمجھا کہ غرور برے دن دکھائے گا۔ تکبر ذلت کے گڑھے میں گرائے گا۔
غرض میں ہر قسم کا ضروری سامان لے کر ہندوستان روانہ ہوا۔ ایک ماہ تک بخیر و خوبی سفر کٹا، راہ میں کسی چوری ا ڈاکو سے پالا نہ پڑا۔
اس کے بعد روز کیادیکھتا ہوں کہسامنے گردو غبار اٹھا ہے اور اس کے سبب سے ایک اندھیرا سا چھایا ہوا ہے حیرت تھی کہ یا الٰہی ! یہ کیا اسرار ہے۔ نظر کا دھوکا ہے یا واقعی گردو غبار ہے۔تھوڑی دور چلا تھا کہ اس بیابان میں گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز آئی۔ فوراً ہی پچاس لمبے تڑنگے سوار گھوڑے دوڑاتے دم سے دم ، سم سے سم ملاتے زہر میں بجھے نیزے ہلاتے نظر آئے۔ وہ پچاسوں قزاق تھے، لوٹ مار اور ڈاکا زنی میں مشاق تھے، انہوں نے ہم پرحملہ کر دیا۔ ہم قافلے والے ان کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ زخمی ہوئے اور کچھ کٹ کر مرگئے۔ جو خوش قسمت تھے جان بچاکر بھاگ گئے سپہ گری کا ایک فن بھی یا دنہ آیا۔ سیکھا سکھایا اسب سپہ گری کا ایک فن بھی یاد نہ آیا ۔ سیکھا سکھایا سب بھلا دیا۔ میں بھی جان بچا کر بھاگا اور جھاڑی میں جا کے چھ پرہا۔ قزاقوں نے میدان خالی پا کر سب کچھ لوٹ لیا۔
جب تمام قزاق چلے گئے تو میں جھاڑی سے باہر نکلا۔ ادھر ادھر دیکھا، کسی کو نہ پایا۔ کافی دیر تک وہیں بیٹھا سوچتا رہا کہ اب کیا کروں ؟ کدھر جاﺅں ’۔ آخر اللہ کا نام لے کر ایک طرف کو چل دیا۔ پیدل چلنے کی کبھی عادت نہ تھی۔ پھر بھی اس بیابان میں جدھر سینگ سمائے چل کھڑا ہوا۔ معلوم نہ تھا ہ کہاں جاتا ہوں ، کہاں جاﺅں گا۔ کہاں کہاں اس میدان میں ٹھوکریں کھاﺅں گا۔
چلتے چلتے ایک پہاڑ پرجا پہنچا۔ چونکہ تھکا ماندہ تھا لہٰذا ایک کھوہ میں پڑا رہا۔ جلد ہی آنکھ لگ گئی۔ جب روز روشن ہوا، آفتاب جہاں تاب نکلا تو بیدار ہوا۔ آنکھ ملتے ہوئے اٹھا۔ دیکھا تو آدمینہ آدم زاد۔ اپنی حالت زاد پر بہت روای کہ یا خدا کس بلا میں گرفتار ہوا۔ کاش موت آتی، رات ہی کو جان نکل جاتی تو اس مصیبت سے تو چھوٹ جاتا۔
رو دھو کر وہاںسے اٹھا اور خدا کانام لے کر چلا تو چلتے چلتے ایک شہر پر بہار میں داخل ہوا۔ شکر خدا بجا لایا۔ یہاں کسی قدر مستر ہوئی۔ دل کوف رحت ہوئی کہ کہاں وہ صحرا اور کہاںی ہ جنت، جان میں جان آئی۔ سبزہ وگل کے نظارے سے تازگی پائی۔ خوب سیر کی اور لطف اٹھایا۔ بازاروں میں گشت کی چکر لگایا اس قدر پھرا کہ تھک گیا اور قدم ڈگمگانے لگے۔ ایک تو پہلے ہی سے تھکا ماندہتھا اور بھی پریشان ہوا سخت حیران ہوا کہ کس کے پاس ٹھہروں۔ کس کے پاس جاﺅں ؟ اور اپنی آپ بیتی کسے سناﺅں ؟۔ سوچا کہ کسی سے صاحب سلامت کرنا چاہیے کہ ذرا بیٹھنے کا سہارا ہو۔
ایک دکان پر درزی بیٹھا نظر آیا۔ش کل و صورت سے بھلا مانس پایا۔ میاں خلیفہ کو سلام کہہ کے آگے بڑھا۔ اس نے انسانیت سے جواب دیا اور کہا میاں آﺅ! بیٹھ جاﺅ۔
اتنی جوشہ پائی تو بے تکلف قدم بڑھایا۔ درازی نے مونڈھا دیا۔ تعظیم کے ساتھ بٹھایا۔ پوچھا آپ کس ملک سے تشریف لائے ہیں؟ میں نے اپنا تمام حال سنایاے۔ قزاقوں کے ہاتھ سے جو مصیبت اٹھائی تھی اور تباہی آئی تھی کہہ سنائی۔ کوئی بات اس درزی سے نہ چھپائی۔ اپنے باپ کانام بتایا تو درزی نے سن کردانتوں تلے انگلی دبائی اور آہستہ سے مشورہ دیا کہ خبر دار ! اب کسی سے یہ راز نہ کہنا۔ زبان مت کھولنا۔ ہمارا بادشاہ تمہارے والد کا دشمن جانی ہے ۔ اس سے کچھ کہنا حماقت کی نشانی ہے۔ خدا نے بڑی خیر کی کہ تمہاری مجھ سے ملاقات ہوئی۔ بڑی عمدہ بات ہوئی۔ ورنہ اگر بادشاہ سن پاتا تو خدا جانے تمہاری کیا گت بناتا ۔ اس میں شک نہیں کہ جلاد کو تمہارے قتل کا حکم دیتا اور تمہارے باپ کی دشمنی کا بدلہ لیتا۔
یہ گفتگو سنی تو آنکھوں میں آنسو بھر آئےدرزی نے کہا آپ گھبرائیے نہیں خدا نے چاہا تو کوئی تدبیر کی جائے گی۔
درزی اندر گیا اور کچھ کھانے کو لایا۔ ہاتھ دھلایا اور اصرار کرکے اپنے ساتھ کھلایا پلایا۔ جہاں میں بیٹھا تھا اسی کے قریب ایک کوٹھڑی میں فرش بچھا دیا اور ایک پلنگ پربچھونا کیا مجھ ک وہاں لے گیا اوکہا یہاں آرام فرمائیے اورخوب مزے سے سوئیے کہ آپ کئی دن کے تھکے ماندے ہیں۔
میں نے اس کی مہربانی کاش کریہ ادا کیا اور سا کو دعائیں دیں کہ خدا تم کو اس کا اجر دے۔
وہ بڑا میاں آدمی تھا اس نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ جو دال دلیا میسر ہے اس میں عذر نہ وہگا۔ آپ امیر زادے ہیں آپ کی خدمت کرنا عین سعادت ہے۔
تین دن تک بندہ آرام سے رہا۔ چوتھے روز درزی نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیوں صاحبزادے! بھلا کوئی ہنر اور کﺅی کرتب بھی یاد ہے کہ تم سے سیکھوں اور دل بہلاﺅں ؟ شاگردی کروں اور کچھ نو کچھ سیکھ جاﺅں ؟۔
میں نے کہا میں ایک عالم فاضل انسان ہوں خوش نویسی میں کامل ہوں۔ سپہ گری میں ماہر ہوں بانک پٹے میںش ہر ئہ آفاق ہوں۔
درزی نے کہا اس میں شک نہیں کہ یہ سب کمالات میں عالی ہیں مگر اس شہر میں کوئی ان کاق در دان نہیں ۔ یا یوں کہو کہ کوئی انسان نہیں۔ افسو کہ تم نے ایسا کوئی ہنر یا پیشہ نہیں سیکھاجس سے زندگی بسر کر سکو اور رزق پیدا کر سکو! میرا مشورہ اب یہ ہے کہ تم تھوڑی سی تکلیف گوارا کر کے جنگل میں جاﺅ اور وہاں سے لکڑی کاٹ لاﺅ۔ بازار میں جا کے بیچو، دام کھرے کرو، کسی کے محتاج اور دست نگر نہر ہو گے۔ خدا اسی میں برکت دے گا۔
میں نے اس دوست مہربان کی بات دل و جان سے قبول کی اور شکریہ ادا کیا کہ بات معقول کہی۔ اس نے مجھے ایک رسی اور ایک کلہاڑی لے دی۔ اور ایک لکڑ ہارے کے سپر د کیا اور اس سے کہہ دیا کہ مجھے لکڑیاںکاٹنا سکھا دے۔ ساتھ لے جایا کرے
میں دوسرے روز لکڑ ہارے کےس اتھ جنگل میں گیا۔ سارا دن لکڑی کاٹی، شام کو بازار میں جا کر کوڑے کیے اور دام لیے پھر درزی کی دکان پرآیا اور اس کے ہاتھ میں دے دئیے۔ میاں خلیفہ کی باچھیں کھل گئیں کہنے لگا تم بڑے سعادت مند ہو کیوں نہ ہو امیرادے ہو۔ شاباشچ ہر روز اسی طرح جایا کرو اور لکڑی کاٹ لایا کرو۔
میں ہر روز لکڑ ہاوں کے ہمراہ جنگل جاتا اور لکڑیاں کاٹ لاتا سال بھر تک اسی مصیبت میں رہا جب پورا ایک برس گزر گیا تومیں ایک ماہر لکڑ ہارا بن گیا۔ اب میں کافی پیسے کما لیتا تھا اور اطمینان سے جیتا تھا۔ درزی بھی بہت خوش تھا ایک تو میں اس پر بوجھ نہیںرہاتھادوسرے میں کچھ اس کی جھولی میں ڈالا کرتا تھا۔
ایک روز میں جب حسب معمول جنگل میں گیا۔ ایک مقام پر درختوں کا جھنڈ دیکھا۔ گھس پیٹھ کے اندر گیا۔ ایک بڑے پرانے درخت کی شاخیں کاٹیں اور آس پاس لگی ہوئی مٹی کو صاف کیا۔ مٹی صاف کرنے سے لوہے کاایک توا نظر آینا۔ میں نے حیران ہو کر توا ہٹا تو ایک کھڑکی دیکھینے میں آئی۔ اس پر اور بھی حیرت ہوئی۔ پٹ کھولے تو ایک کھڑی دکھائی دی۔ فوراً سیھڑی کے ذریعے سے کھٹ کھف کرتا ہوا نیچے اتر گیا۔ دیکھا کہ ایک شان دار مکان ہے جیسے کسی بادشاہ کا ہوتا ہے جا بجا قیمتی سازو سامان سجا ہے۔ حیرت تھی کہیا خدا زمین کے کھوہ اور درخت کی جڑ میں یہ کیسا پری خانہ دکھایا ! ابھی ابھی میں جنگل میں لکڑ کاٹ رہات ھا اور اب اس عظیم الشان مکان میں کھڑا ہوں اور جنگل میں اسی منگل ہونے لگا۔ جدھر دیکھتا ہوں غضب کی تیایر ہے۔ جو چیز بھی ہے قیمتی اور بھایر ہے۔
تھوڑی سا آگے گیا تو ایک نوجوان لڑکی پر نظر پڑی ۔ میں اور ھبی حیران ہوا کہ جنگل میں تہہ خانہ اوتہہ خانہ میں پری خانہ۔ الٰہی تیرے کام نیارے ہیں۔ وہ لڑکی مجھے دیکھ کر آگے بڑھی اور آتے ہی پوچھا تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟۔ جن ہو یا آدم زاد؟۔ غلام ہویا آزاد ہو؟۔
میں نے جوا بدیا میں انسان ہوں اوراس انوکھی جگہ کو دیکھ کر سخت حیران ہوں؟۔
وہ کہنے لگی بھلا یہاں کیوں کر آنا ہوا؟ مدت سے حضرت انسان کی شکل تک نظر سے نہیں گزری۔
میں نے جوا ب دیا یہ بس اتفاق ہی جانوکہ میں اس جگہ آن پہنچا ورنہ مجھے تو اس جگہ کا نام نشان تک پتا نہیں ہے۔
وہ بولی تمہاری خوش قسمتی تھی کہ تم یہاں تک آئے ورنہ ناممکن ہے کہآدم زاد ادھر آئے۔ یہاں تو فرشتوں کے پر جلتے ہیں۔
میں نے ساری سرگزشت سنائی۔ کوئی بات اس سے نہ چھپائی۔ پھر اس سے کہا کہ وہاپنا حال من وعن بتائے اور اس راز سے پردہ ہٹائے کہی ہ کیا معارملہ ہے؟ کیسا انوکھا ماجرا ہے ؟ یہاں انسان کا یہاں گزر نہیں تم کو دنیا کی اور دنیا کو تمہاری خبر نہیں۔
لڑکی نے بڑے دکھ بھرے لہجے میں جواب دیا مجھے بھی اس جادو یک دنیا میں رہنا اچھا نہیں لگتا۔ لیکن کیا کرو مجبور ہوں۔ تم نے ابو تیمرس نامی بادشاہ کا نا سنا ہو گا جو جزیرہ ابو نی کا حکمران تھا۔ بڑا عادل اور رحم دل بادشاہ تھا میں اسی بادشاہ کی بیٹی ہوں۔ اس کے ملک میں آبنوس کی لکڑی پیدا ہوتی تھی۔ خلفت اس کی آمدنی سے فائدہ اٹھاتی تمی۔ میرے باپ نے میری شادی اپنے بھائی کےل ڑکے سے طے کر دی۔ شادی کے روز میرے باپ کا محل رن گو نور کی باشر میں نہلا گیا بے مثال طریقے سے سجایا گیا۔ اس کے علاوہ شہر بھر میں ہر جگہ چراغاں کیا گیا۔ قبل اس کے کہ میں پالکی میں بٹھ کر اپنے شوہر کے گھر جاتی اانک ممیرے کمرے میں ایک جن نمودار ہوا اور مجھے وہاں سے لے اڑا۔ میں اسی دم بے ہو شہوگئی۔ بولنے کی طاقت نہ رہی۔ سننے کی ہمت نہ رہی۔
جب ہوش میں آئی تو اپنے آپ کو سا جگہ پایا، جہاں کہ اس وقت بیٹھی ہوں۔ جب سے اسی مکان میں اس جن کے پاس رہتی ہوں۔ آرام و آسائش سے کام نہیں، رنج سہتی ہوں اس جن نے مجھے پوشیدہ طور پریہاں رکھا ہے اور یہ راز دوسرے تمام جنات سے بھی چھپا رکھا ہے۔ دس دن میں صرف ایک دن یہاں آتا ہے باقی دنوں میں مجھے صوتر نہیں دکھاتا ہے۔ آج چوتھا دن ہے چھٹے روز آئے گا۔ اگر اس عرصے میں مجھے کوئی ضرورت درپیش ہو تو اس کی بتائی ہوئی تدبیر پر عمل کرتی ہوں تو وہ فور اً حاضر ہو جاتا ہے۔ تدبیر یہ ہے کہ وسامنے والے گنبد پرجو جس سطریں لکھی ہوئی ہیں ان پر ہاتھ رکھ دیتی ہوں کچھ کہتی نہ سنتی ہوں ایک منٹ میں جن دوڑا آتا ہے جو حکم دیتی ہوں بجا لاتا ہے تم اس کے آنے تک یہاں ٹھہرو اگر اس کے آنے سے پہلے یہاں سے کوچ نہ کو گے تو بے شک مارے جاﺅ گے۔
میں نے جواب دیا تمہاری اس نوازش کا شکر گزار ہوں۔ چار روز یہاںق یام کرنے کے بعد رخصت ہو جاﺅںگا۔
اس کے بعد شہزادی نے دستر خوان بچھایا اور ہم دونوں نے مل کر کھایا کھانے کے بعد خوش بو دار میٹھا شربت پیا اور خدا کا شکر ادا کیا۔ پھر ہم دونو ں ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ میں باتوں باتوں میںڈینگیں مارنے لگا کہ تم اس پلید جن سے کیوں ڈرتی ہو۔ ہم جن کے نام پر لاحول پڑھتے ہیں ابھی اس گنبدپر چڑھتے ہیں اور ابھی اس مکان کو ہلا دیتے ہیں۔ جن کو چیونٹی کی طرح مل دیتے ہیں اگر وہ سامنے اور ذرا بھی ٹرائے تو ہ پٹخنی دوں کہ تمام عمر نہ بھولے۔ یہ سن کر اس کا رنگ فق ہو گیا اور مارے ڈر کے کلیجا شق ہو گیا ۔ ہاتھ جوڑ کر گڑا گڑانے لگی نیک وبد سمجھانے لگی کہ ایسے کلمات اب زبان سے نہ نکالنا بیٹھے بٹھائے اپنے آپ کو مصیبت میں نہ ڈالنا۔
سکون میں خلل مت ڈالو۔ قسم کھال وکہ اب اس خیال خام سے باز آﺅ گے۔
لیکن میں تو ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا۔ برا بھلا کب پہچانتا تھا کسی کا کہا کب مانتا تھا۔ شیخی بگھارتا ھٹا ااور جا کے اس گنبد پر لات جمائی۔ شہزادی اس پر تھر تھرائی۔ اس کا رنگ زرد پڑ گیا۔ کلیجا منہ کو آنے لگا۔
گنبد پر لات پڑتے ہی ایک ہیبت ناک صورت جن نکل آیا اور شہزادی سے پوچھا بتا! کیا بات ہے؟۔
اس نے بات بنائی مگر بن نہ پڑی جن کو یقین نہ آیا۔ اس پر بہت جھنجھلایا ۔ ادھر ادھر دیکھا تو میری کلہاڑی نظر پڑی گئی۔ وہ دہاڑ کر بولا یہ کلہاڑی کس کی ہے؟۔
شہزادی نے جواب دیا خدا گواہ ہے کہ میں نے کلہاڑی ابھی دیکھی ہے اس سے پیشتر کبھی نظر نہ آئی۔
جن بہت بگڑا اور گرج کر بولا ۔ بس زبان سنبھال اور ایسے کلمات منہ سے نہ نکال۔ یہ کہہ کر مار مار کر پوچھنے لگا۔ جلدی بتا! یہاں کون آیا ہےڈ۔
شہزادی تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی اور اسے روتا دیکھ کر میرا برا حال تھا اورب ڑا ملال تھا کہ مجھسے یہ کیسی ناپسندیدہ حرکت سرزد ہوئی۔ بے چاری کا کہا نہ مانا اور آخر کار ذلت اٹھائی۔
وہاں سے مارے خوف کے بھاگا اوردرزی کی دکان پر آیا۔ وہ مجھے دیکھتے ہی کھل اٹھا اورکہا الحمد للہ ! کہخدا نے تمہایر صورت دکھائی اور ملاقا ت کی نوبت آئی۔ خوف تھا کہ کہیں کسی درندے نے نقصان نہ پہنچایا ہو۔ جواب میں نے بھی اس کا شکریہ ادا کیا اور اپنے کمرے میں جاکر سوچنے لگا کہ یہ کیا لغو حرکت سرزد ہوئی! اتنے میں درزی نے مجھے بلایااور کہا کہ ایک اجنبی یہاں آیا ہے اور تمہاری کلہاڑی کہیں سے اٹھا لایا ہے۔ جنگل میں جو لوگ لکڑی کاٹتے ہیں ان سے پتا پوچھتا ہوا یہاں تک پہنچا اور اس وقت میری دکان پر بیٹھا ہے۔
میں نے جو یہ فقر ہ سنا تو دل سرد ہو گیا۔ چہرہ زرد ہو گیا۔ سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں میرے کمرے کی دیوار شق ہوئی۔ رنگت فق ہوئی او وہ جن زمین کے اندر سے نکلا۔ آﺅ دیکھا نہ تاﺅ۔ فوراً مجھے لے اڑا اور اسی مکان میں لایا جہاں سے میں بھاگ آیا تھا۔ دیکھا تو شہزادی کے بدن سے لہو جاری ہے۔ سخت پریشانی اور بے قراری ہے۔
جن نے اس کی طرف مخاطب ہو کر کہا کیوں ؟ یہی ہے نا وہ شخص جو یہاں آیا تھا اور میرے ڈر سے بھاگ گیا تھا؟۔
شہزادی بولی میں نے تو اس کی صورت بھیکبھی نہیں دیکیھ تھی۔ خدا جانے تو اسے کہاں سے اٹھا لایا ہے ؟۔
تب جن نے کہا اچھا! اگر تو سچی ہے تو یہ لے تلوار اور اس شخص کی گردن بھٹے کی طرح اڑا دے اور اسے جہنم پہنچا دے۔
وہ بولی اس بے چارے نے میرا کیا بگاڑا ہے جو میں اسکی گردن اڑا دوں ؟۔
یہ سنتے ہی جن آگ بھبھوکا ہو گیا اور چشم زد ن میں شہزادی کو جلا کر خاک کردیا۔ پھرمیری طرف مخاطب ہو کرکہا اے آدم زاد! اب کہو! کیا سزا دوں تجھے؟ جس طرح کہے گا اسی طرح سزا دوں گا۔ مگر یہ امید نہ رکھنا کہ زندہ چھوڑ دوں گا۔ پھر نہ جانے اس کے دل میں کیا آئی کہ بولا کہو تو کتا بنا دوں۔ کہو گھوڑا، گدھا یا لنگور بنا دوں جو کہو وہکردکھاﺅں۔
میں نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا اگر حضور جان بخشیں اور معاف فرما دیں تو عین احسان ہے۔ اس طرح میرا کام اور حضور کانام ہوگا۔
جن نے کہا اچھا ! میں تجھے قتل نہ کروں گا۔ کوئی دوسری سزا دوں گا۔
یہہ کہہ کر وہ مجھے لے اڑا اور اس قدر اونچا ہوگیا کہ دنیا ایک ابر کا ٹکڑا سا نظر آنے لگی سخت مصیبت کا سامنا تھا، گرفتار بلا تھا اور حیران تھا کہ ظالم مجھے کہاں لیے جارہا ہے!

اپنا تبصرہ بھیجیں