فیشل ماسک کی اہمیت

facial mask
EjazNews

شاید کوئی بھی دور ایسا نہیں گزرا کہ جس میں خواتین نے خود کو زیادہ پر کشش بنانے کے لئے ہر ممکنہ طریقے نہ آزمائے ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ قلوپطرہ اپنی جلد کو نکھارنے کے لئے دود ھ میں نہایا کرتی تھی اور دنیا بھر کی قبائلی عورتیں اپنے چہروں کو حسین بنانے کے لئے ان پر مختلف مرکبات لگاتی ہیں۔
موجودہ دور میں حسن کے نکھار کی بیشتر مصنوعات مرتبانوں اور بوتلوں میں آتی ہیں اور دکانوں کے کائونٹر ز پر فروخت ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی بیشتر خواتین گھریلو ساختہ مرکبات اور آمیزوں کو ترجیح دیتی ہیں جو کہ با آسانی دستیاب ہونے والے سستے اور با اعتماد اجزاء سے بنائے جاتے ہیں۔
انتہائی وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والا بیوٹی کا نسخہ فیشل ماسک ہے۔ آپ شاید حیران ہوں کہ یہ کیا ہے؟ ۔یہ ایک پیسٹ ہے جو کئی اجزاء کو یکجا کر کے بنایا جاتا ہے اور کچھ دیر کے لئے چہرے پر پھیلانے کے بعد اسے پانی سے دھو لیا جاتا ہے۔
یہ ماسک ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ یا کسی خاص موقع سے پہلے لگائے جاتے ہیں جب آپ چاہتی ہیں کہ آپ بہترین اور دلکش دکھائی دیں۔ آپ کی جلد کی کیفیت سے اس بات کا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کو کتنی مرتبہ ماسک کی ضرورت ہو گی لیکن احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اسے بہت زیادہ یا جلدی جلدی استعما ل نہ کیا جائے۔
فیشل ماسک کے استعمال کا مقصد طرح طرح کا ہے۔ یہ مسامات کی صفائی کرتا ہے، نمی میں اضافہ کرتا ہے اور عام طور پر جلد کو جوان کرتا ہے۔ اس میں شامل اجزاء کی بنیاد پر ماسک جلد کو چست کرتا ہے ۔(تنائو پیدا کرتا ہے)، جلد کے مردہ خلیوں کو چست کرتا ہے (تنائو پیدا کرتا ہے)، جلد کے مردہ خلیوں کی پرت اتارتا ہے اور چہرے کی دمک بڑھاتا ہے۔ حتیٰ کہ کئی ماسک سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں کے سبب پیدا ہونے والے سنولائے پن کو ختم کر دیتے ہیں۔
چونکہ اکثر ماسک قدرتی پھلوں اور سبزیوں سے بنائے جاتے ہیں یہ مکمل طورپر محفوظ ہوتے ہیں۔
یہاں پر ایک بات احتیاط کی ہو جائے۔ بعض خواتین کو ماسک کے اجزاء میں سے کسی ایک سے الرجی بھی ہوسکتی ہے۔ چاہے اسے ویسے اس پھل یا سبزی کو کھانے سے الرجی ہوتی ہو! ۔مثال کے طورپر کسی خاتون کی جلد آڑو کے ماسک کے استعمال عبد سرخ اور برانگیختہ ہو جاتی ہے جبکہ اسے آڑو کھانے کے بعد کبھی کوئی شکایت نہیں ہوتی۔
ایک فیشل ماسک کے اچھے اثرات کب تک قائم رہتے ہیں؟ بد قسمتی سے اس کا اثر کم مدت کا ہوتا ہے۔۔۔جیسے 7یا10دن تک۔ اسی بناء پر یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس عمل کو وقفے وقفے سے دہرایا جائے۔ جہاں تک نوعمر لڑکیوں اور نوجوان خواتین کی بات ہے ان کی جلد پر اثر نہ صرف دیر پا ہوتا ہے بلکہ انہیں فیشل کرانے کی ضرورت بھی جلدی جلدی نہیں پڑتی۔ بڑی عمر کی خواتین جن کی رنگت عمر کے لحاظ سے متاثر ہوتی ہے انہیں باقاعدگی سے فیشل کرانے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ وہ اچھی دکھائی دیں۔
ان فیشل ماسک کی ضرورت کن خواتین کو ہوتی ہے؟۔
20سال کی عمر کے بعد تقریباً ہر ایک کو اور بعض اوقات تو اس عمر سے پہلے ۔ آسان الفاظ میں یہ بیرونی طور پر جلد کو غذائیت فراہم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ وہ بھی قدرتی عطیات کی عمدگی سے تاکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی چمک دمک دوبارہ حاصل کر لے۔
گھریلو تیار کردہ ماسکس:
کیا ماسک گھر میں محفوظ طریقے سے بنائے جاسکتے ہیں؟بلاشبہ اور یقینی طور پر۔
حقیقت میں گھریلو ساختہ ماسک آئیڈیل ہوتے ہیں کیونکہ آپ کو ان اجزاء کے اعلیٰ معیار کے بارے میں پورا یقین ہوتا ہے جو آپ اس میں ڈالتی ہیں۔ آج کل آپ کو ماسک ٹیوبز اور شیشوں میں مختلف برانڈ ناموں سے ملتے ہیں جو کہ معروف بیوٹی کمپنیوں کے تیار کر دہ ہوتے ہیں یہ بھی محفوظ ہوتے ہیں۔ البتہ غیر معروف برانڈز سے گریز کریں۔
اس کے علاوہ اس کے اجزاء کی جو فہرست کارٹن پر لکھی ہوتی ہے اسے بھی چیک کر لیں کہ کہیں آپ کو ان میں سے کسی سے الرجی تو نہیں۔ اس کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ بھی چیک کر لیں۔ اسے لگانے کے بارے میں ہدایات کا باریک بینی سے مطالعہ کریں اور اس پر احتیاط سے عمل کریں۔ اسے صاف ستھری جگہ رکھیں اور اس کے اجزاء کو گندی انگلیوں یا کفچوں کی مدد سے آلودہ نہ کریں۔
اگر آپ ایک گھریلو ساختہ ماسک تیار کر رہی ہیں تو اس بات کا اطمینان کر لیں کہ پھل، سبزی یا کوئی بھی دوسرا جزو ترکیبی اعلیٰ معیار کا ہو، اسے استعمال کرنے سے پہلے اچھی طرح سے دھولیا اور خشک کر لیا جائے اور یہ کہ وہ ماسک ایک صاف ستھرے کنٹینر میں رکھا جائے۔ اکثر پیسٹ ریفریجریٹر میں کم از کم 15دن کے لئے حفاظت سے سٹاک کئے جاسکتے ہیں ۔ اگر اس میں سٹراند؍بو آنے لگے یا خراب ہو جائے تو اسے پھینک دیں۔ مزید یہ کہ اگر آپ کو فنگس (پھپھوندی) لگتی دکھائی دے تو کسی قسم کا خطرہ مول نہ لیں بس اسے ضائع کر دیں۔
فائزہ سلیم

اپنا تبصرہ بھیجیں