فضیلت تعمیر مساجد

Islam_mashwara
EjazNews

فرمانِ رسول ﷺ ہے: ’’جو شخص صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے مسجد بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری:۴۵۰)
مسجدوں میں جانے کی فضیلت: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص مسجد میں جائے اور اسکا مقصد صرف نیکی کو سیکھنا اور سکھانا ہو تو اس کیلئے ایک مکمل ترین حج کا ثواب ملتا ہے (ترغیب و ترہیب:۸۱)۔
فرمانِ رسولِ مقبول ﷺ ہے: ’’جو شخص مسجد جاتا ہے تو اس کا ایک قدم ایک گناہ مٹاتا اور ایک نیکی کو لکھتا ہے۔ مسجد میں آتے اور جاتے دونوں وقت ہوتا ہے‘‘۔ (صحیح ترغیب:۲۹۵)۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص باوضو ہو کر فرض نماز کے لئے اپنے گھر سے نکلے تو اس کا اجر اتنا ہے کہ جیسے ایک حج کرنے والے کا ہوتا ہے۔ جو شخص چاشت کی نماز پڑھنے جاتا ہے تو اس کے لئے ایک عمرہ کرنے والے کا ثواب ملتا ہے۔ اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے درمیان اگر کوئی لغو کام نہ ہو تو یہ عمل عِلِیِّیْن کی کتاب میں لکھا جاتا ہے‘‘۔ (صحیح ترغیب:۳۱۵)۔
اذان کی فضیلت: سیدنا ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص بارہ برس تک اذان دے، اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ اس کی اذان کے بدلے ہر روز ساٹھ (۶۰) نیکیاں ملتی ہیں، ہر اقامت کے بدلے تیس (۳۰) نیکیاں ملتی ہیں (صحیح ترغیب:۲۴۰)۔
فرمانِ رسول ﷺ ہے: ’’موذن کو اس کی اذان بخشوا دے گی۔ اور ہر رطب و یابس اس کے لئے بخشش کی دعا کرتے ہیں‘‘ (مسند احمد ۲/۱۳۶)۔
مسجد میں نماز کا انتظار کرنا: 1 فرمانِ رسول ﷺ ہے: ’’جب باوضو ہو کر کوئی شخص مسجد میں آئے پھر نماز کا انتظار کرے، تو اس کے کاتب اس شخص کے ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں لکھتے ہیں۔ اور نماز کا انتظار کرنا، دعا کی طرح لکھا جاتا ہے۔ اس شخص کو گھر سے نکلنے سے واپس آنے تک نمازی (یعنی حالت نماز میں) لکھا ہے۔ (صحیح ترغیب:۳۸۴)۔
2رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرتا ہے تو میں بھی یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک بازو بھر اس کے قریب ہوتا ہوں۔ اور اگر وہ ایک بازو بھر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک گز اس کے قریب ہوتا ہوں۔ اگر وہ چل کر آئے تو میں دوڑ کر اس کے پاس آتا ہوں‘‘۔ (صحیح بخاری:۷۴۰)۔
3رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ذکر الٰہی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے جو بندے کو اللہ کے عذاب سے نجات دے‘‘۔ (مسند احمد)۔
4رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے‘‘۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔
5رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان پر بھاری ہیں اور رحمن کو بہت محبوب ہیں، وہ یہ ہیں ’’سُبْحَانَ اﷲِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اﷲِ الْعَظِیْم‘‘ (صحیح بخاری)
6فرمانِ رسولِ مقبول ﷺ ہے: ’’دو عمل ایسے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان ان کی حفاظت کرتا ہے تو وہ ضرور جنت میں جائے گا۔ یہ عمل بہت آسان ہیں لیکن عمل کرنے والے بہت کم ہیں: (۱) ہر نماز کے بعد دس مرتبہ تسبیح یعنی سبحان اﷲ، دس مرتبہ الحمد ﷲ اور دس مرتبہ اللہ اکبر۔ اس طرح یہ عمل زبان پر ایک سو پچاس ہو گا اور میزان میں پندرہ سو۔ (یعنی اس کا اجر اس قدر بڑھ جائے گا)۔ (۲) اسی طرح چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ الحمد ﷲ اور تینتیس مرتبہ سبحان رات کو بستر پر جاتے وقت پڑھو، یہ عمل زبان پر سو اور میزان پر ایک ہزار تک ہو جائے گا۔ اب بتاؤ تم میں سے کون ہر روز ڈھائی ہزار گناہ کرتا ہے‘‘۔ (ترغیب:۶۰۳)۔
7سیدنا ابوموسیٰ اشعری ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: ’’تم لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ کہو یہ جنت کا خزانہ ہے۔ (صحیح بخاری)۔
8رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص یہ دعا صبح و شام ایک سو مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دے گا اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں، وہ دعا یہ ہے: ’’سُبْحَانَ اﷲِ وَ بِحَمْدِہٖ‘‘۔
ذکر الٰہی کی فضیلت
1رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص ’’سُبْحَانَ اﷲِ وَ بِحَمْدِہٖ‘‘کہے تو اس کے لئے جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔ (صحیح الجامع:۶۴۲۹)۔
2رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص دن میں سو بار ’’سُبْحَانَ اﷲِ وَ بِحَمْدِہٖ‘‘ پڑھے تو اس کے تمام گناہ مٹ جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں‘‘۔ (صحیح بخاری)۔
3سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم میں سے کوئی ہر روز ایک ہزار نیکیاں نہیں کما سکتا؟ دریافت کیا کہ کیسے؟ فرمایا: ’’تم سو بار اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو، تمہارے لئے ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور ہزار گناہ مٹ جاتے ہیں‘‘ (مسلم:۲۶۹۸)۔
4رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ دعا گناہوں کو ایسے جھاڑتی ہے جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں، ’’سُبْحَانَ اﷲِ وَ الْحَمْدُ ﷲِ وَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَ اﷲُ اَکْبَرْ‘‘ (صحیح الجامع:۲۰۸۹)۔
5سیدنا ابوہریرہ ؓشجر کاری کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ قریب سے گذرے، دریافت فرمایا: اے ابوہریرہ کیا بیچ رہے ہو؟ عرض کیا درخت لگا رہا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں اس سے بہتر شجر کاری کی خبر نہ دوں؟ تم یہ دعا پڑھو: ’’سُبْحَانَ اﷲِ وَ الْحَمْدُ ﷲِ وَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَ اﷲُ اَکْبَرْ‘‘ اس کے بدلے تمہارے لئے جنت میں ایک درخت لگایا جائے گا۔ (صحیح ابن ماجہ:۳۰۸۴)۔
6۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’یہ جو تم اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا، بزرگی اور تہلیل بیان کرتے ہو تو یہ سب اذکار عرش کے گرد گھومتے ہیں اور اپنے پڑھنے والے کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ تمہارا بھی ذکر عرش پر ہوتا رہے‘۔ (سنن ابن ماجہ، صحیح:۳۰۸۶)۔

اپنا تبصرہ بھیجیں