علاء الدین کی انتظامی صلاحیتیں

History_pakistan_india
EjazNews

697ھ میں قتلغ خواجہ کے شکست کھانے اور دہلی سے ناکام جانے سے خود نیم خواندہ بادشاہ کے دماغ میں غرور کی ایسی ہوابھری کہ نشے کی ترنگ میں دوردور کی سوجھنے لگی کبھی سکندر اعظم کی طرح ساری دنیا کو فتح کرنے کے منصوبے باندھتا اورخود غرض خوشامدی یقین دلاتے کہ جو بات اس یونانی بادشاہ سے نہ بن پڑی، آپ کی ہمت و تدبیر کر دکھائے گی، حتیٰ کہ القلب شاہی میں سکندر ثانی کا اضافہ کردیا گیا ۔ کبھی علاءالدین کونصرت خاں ،الغ خاں وغیرہ چار یاروں کی مددسے ایک نیا دین جاری کرنے کی سوجھتی تھی ۔ غنیمت ہے ابوالفضل و فیضی جیسے ذہین مصاحب نہ ملے ورنہ ممکن تھا کہ دین الٰہی اکبر شاہی کا نقش اول تین صدی پہلے تیار ہو جاتا۔ برنی کا بیان ہے کہ اس کا چچا علاءالملک جو علاءالدین کا قدیم خیر خواہ اور معتمد علیہ تھا، ایک بار یہ منصوبے سن کر خاموش نہ رہ سکا اور ڈرتے ڈرتے بادشاہ کو سمجھایا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ رسالت رسول آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکی۔ اگر آپ کسی نئے مذہب بنانے کی بات متبہ سے نکالیں گے تو اہل اسلام آپ سے بے زار و متنفر ہو جائیں گے۔ رہا دنیا کو فتح کرنا سو مناسب ہے کہ اس کا آغاز ممالک ہند سے کیا جائے اور گجرات، مالوہ وغیرہ پھر ممالک دکن کی خاطر خواہ تسخیر فرمائی جائے تاکہ اپنا ملک چھوڑ کر باہر جانے میں بادشاہ کوگھر کی فکر نہ رہے۔
موٹے علاءالملک کی یہ موٹی موٹی باتیں علاءالدین کی سمجھ میں آگئیں۔ ادھر اطلاع ملی کہ بادشاہ کے بھائی الغ خاں کی سعی و محنت رن تھنبور کے فتح کرنے میںناکام رہی جس کے قریب انہی دنوں راجپوتوں نے ایک اور نیا قلعہ بنایا یا اتنا مضبوط کر لیا تھاکہ اسے لیے بغیر رن تھنبور کی تسخیر دشوار تھی ۔ یہ جہائن تھا جس کا اب ٹھیک پتا نہیں چلتا۔ راج پوتوں کو مزید تقویت اس لیے پہنچ گئی تھی کہ محمدشہ نامے نو مسلم مغل سردار ملک نصرت سے لڑ جھگڑ کر اپنی جمعیت سمیت رن تھنبور کے راجا ہمیر دیو کے پاس چلا آیا۔ بادشاہ نے دہلی میںاس کے اہل و عیال کوظالمانہ سزائیں دیں اور ہمیر دیو نے ان پناہ گیروں کی ایسی قدرو منزلت بڑھائی کہ راجا کے گرویدہ وجاں نثار ہو گئے۔ جب ہمیر دیو مارا گیا اور زخمی محمدشہ بادشاہ کے روبرو پیش ہوا تو اس وقت بھی وہ ہمیر کی وفاداری کا دم بھرتا ہوا جان سے گزر گیا۔ (کہتے ہیں علاءالدین خلجی نے محمدشہ سے سوال کیا کہ اگر زخم اچھاہو جائے اور تو شفا یاب ہو گیا تو کیا کرے گا؟۔ اس نے کہا: تجھے مار کر ہمیہ کے بیٹے کو رن تھنبور کا راجا بناؤں گا۔ بد مزاج علاءالدین نےیہ سن کر اسے قتل کرادیا مگر پھر اس کی وفاداری کے اعتراف میں شاہانہ تجہیز و تکفین کا حکم دیا)۔
بادشاہ کو دہلی اور بداؤں سے فتنہ و فساد کی خبریں ملیں، مگر اس نے محاصر ے سے ہاتھ نہ اٹھایا۔ رن تھنبور کی گہری خندق میں اتنی ریت کی بوریاں ڈلوائیں کہ وہ بھرتے بھرتے اصل فصیل کے برابر اونچی ہو گئی۔ مدافعین تیر برساتے ، آگ پھینکتے رہے۔ جان ہار مسلمان مرتے کھپتے، یہ خطرناک کام کیے گئے اور بالآخر اسی ریت کے پشتے سے کود کود کر قلعے میں گھس گئے۔ راجا مارا گیا۔ بڑے کشت و خون کے بعد رن تھنبور تسخیر ہو گیا۔
نئے قوانین:
انہی چار پانچ سال کی مدت میں دومرتبہ علاءالدین خلجی پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ ایک دفعہ اس کے عزیز اکت (اکد) خاں نے شکار میں زخمی کیا اور مردہ سمجھ کر اپنی بادشاہی کا اعلان تک کرادیا۔ لیکن چند ہی گھنٹے میں گرفتار ہو کر مار اگیا۔ محاصرہ رن تھنبور کے دوران میں جبکہ کوتوال شہر علاءالملک بادشاہ کے ہمراہ گیا تھا، اس کے نائب کو ایک غلام حاجی مولانے ہلاک کر دیا۔ اور علوی نام کے ایک سید کو جو ماں کی طرف سے شمس الدین التمش کا نواسہ ہوتا تھا، جبراً تخت پر بٹھایا۔ مولاکے بہت سے شورہ پشت رفیق شہر کے چند محلات پر قابض ہو گئے اورخزانہ شاہی ان کے تصرف میں آگیا۔ لیکن ایک ہی ہفتے میں دوسرے امیروں نے فساد پر قابو پالیا۔ مولاکے ساتھ بےگناہ سید بھی مار اگیا۔ ممکن ہے اس شورش میں کچھ مذہب کی لاگ ہو۔ لیکن اکت خاں یا بداو ں کے فساد محض سیاسی نوعیت رکھتے تھے۔ انہیں ہمسایہ اضلاع کے شاہی حکام نے دفع کر دیا۔ تاہم علاءالدین کویہ احساس ضرور ہو گیا کہ مسلمانوں کے مختلف طبقے اس کی حکومت سے ناراض ہیں۔ دوسرے یہ کہ بے فکرے دولت مند عموماً شراب خواری کے نشے میں اس قسم کے منصوبے سوچتے اورفتنہ و فساد برپا کرتے ہیں۔ لہٰذا اپنے خیر خواہوں کے مشورے سے بادشاہ نے سخت انسدادی قوانین نافذ کیے۔ اول تو وہ جاگیریں، انعامات، معافیاں جو زائد از ضرورت قرار دیں ضبط ہو ئیں۔ ان میں اکثر وہ عطیات تھے کہ آغاز حکومت کے وقت تالیف قلوب کے لیے بہت دریا دلی سے لوگوں کو دئیے گئے تھے۔ بعض محصول اور زر ستانی کے نئے ابواب کا اضافہ کیا گیا۔ پھر قمار بازی اور مسکرات کی ممانعت کر دی اور بادشاہ نے سب سے پہلے خود شراب خواری سے توبہ کی۔
شاہی میز خانے میں مے گساری کے جس قدر ظروف تھے، سب تڑوا دئیے۔ شراب بیچنے اوراعلانیہ پینے کی سخت سزائیں مقرر کیں اورنکتہ چیں برنی کو اقرار ہے کہ مسکرات کی علانیہ خرید و فروخت موقوف ہو گئی۔ (فتوح السلاطین میں لکھا ہے کہ ایک روز بادشاہ کی مجلس نشاط گرم تھی۔ کسی نے آکر خبر سنائی کہ غلے کی کمیابی کی وجہ سے آج ایک انبوہ منڈی میں گھس آیا اور دو تین بڈھے اس ہجوم میں کچلے گئے۔ بادشاہ کو یہ سن کر سخت ندامت ہوئی اور اسی وقت شراب سے توبہ کی)۔
امرا کے اندرونی حالات سے واقفیت اور سیاسی سازشوں کے انسداد کی نئی نئی تدبیریں نکالی گئیں۔ خفیہ پولیس یا جاسوسی کا نہایت وسیع محکمہ بنا اور یہ ضابطہ جاری ہوا کہ امرا بادشاہ کی اجازت کے بغیر باہم شادی بیاہ اور زیادہ میل جول نہ رکھیں۔ برنی کہتا ہے یہ نگرانی اتنی شدید تھی کہ امیر امرا گھروں میںبھی باآواز بات کرنے سے ڈرتے تھے۔ لیکن پولیس کی نئی تنظیم وتوسیع سے ایک بالواسطہ فائدہ یہ ہوا کہ آمدو رفت کے راستے نہایت محفوظ ہو گئے۔ سوداگروں، مسافروںکی زیادہ پاسبانی ہونے لگی۔ سندھ و کشمیر ، لاہور و کابل، تلنگا نہ اور ملیبار تک کی سڑکیں،دہلی کے گلی کوچوں کا نمونہ بن گئیں۔
بندوبست مال گزاری و شرح اجناس:
دیہات میں سرکاری مال گزاری وصول کرنے والے چودھری مبردا وغیرہ جتنا سرکار کے خزانے میں داخل کرتے اسی کے برابر فریب سے روپیہ لے کر اپنا گھر بھرتے تھے۔ محکمے کے سرکاری عہدے داروں کو رشوتیں اورنذرانوں کی عادت پڑ گئی تھی۔ بادشاہ نے ان دونوں گروہوں سے سخت محاسبہ کیا۔ صدہا سرکاری ملازمین یک قلم برخاست کر دئیے۔ پھر دوآب ، مالوہ اور پنجاب کے تمام اضلاع کی پیمائش اور از سر نو مال گزاری تشخیص کرائی۔ نائب وزیر شرف قای نے جو دیانت و قابلیت میں ممالک ہند میں نظیر نہ ر کھتا تھا خود ایک ایک گائوں کی جمع بندی کا ملاحظہ کیااور کئی سال کی مشقت سے چرائی اور مال گزاری کی رقوممقرر کیں۔ دیہی عمال کی لوٹ مار کا ایسا انسداد ہوا کہ بہت سے مفت خورے یہ کام چھوڑ کربیٹھ گئے اور جن سے چودھراہٹ نہ چھوڑی گئی وہ محض اعزازی چودھری رہ گئے۔ برنی کہتا ہےکہ چند ہی سال میں ان کی ساری اکڑ جاتی رہی۔ گھوڑے کی سواری اور قیمتی لباس پہننا، اسلحہ لگانا اور پان چباتے پھرنا، سب موقوف ہو گیا۔
مگر ان اصلاحات سے بھی زیادہ حیرت انگیز علاء الدین کے شرح اجناس کے ضابطے تھے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے اشارہ کیا اسے چند ہی مہمات اور مغلوں کے پے در پے حملوں سے اف نظر آگیا کہ جب تک فوجی تعداد اور جنگی سازو سامان میں اضافہ نہ کیا جائے گا اس وقت تک دنیا کی فتح تو ایک طرف ، خود اپنا ملک محفوظ رکھنا دشوار ہے۔ نظر برائیں ، آمدنی اور خرچ کی اچھی طرح جانچ پڑتال کی گئی ۔ دفاعی قلعے اور نئی چھائونیاں بنانے اور فوج کی تعداد بڑھانے کی مفصل تجاویز مرتب ہوئیں ۔ اسی سلسلے میں ضروری معلوم ہوا کہ استعمال ا شیاء اور اجناس کی قیمتیں منضبط کی جائیں تاکہ فوجی ملازمین کی جوتنخواہیں مقرر ہوں ان میں وہ بہ آسانی گزارہ کر سکیں۔ یہ انضاط اس ’’کنٹرول‘‘ سے جس کا گزشتہ عالم گیر جنگ میں نفاذ ہوا شاید زیادہ ہمہ گیر تھا۔ اشیائے خوردونوش، پارچہ، ظرفوف ،مویشی ، اونٹ گھوڑے غرض بازار میں بکنے والی کوئی چیز مشکل سے ایسی ہوگی جس کی قیمت مقرر نہ کی گئی ہو۔ عام اجناس کے بڑے بڑے انبار خانے حکومت کی طرف سے قائم ہوئے کہ قحط و خشک سالی میں بھی غلے کا نرخ بدلنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔ شہر کے بداوں دروازے کے اندر ایک بڑی سرائے ’’سرائے عدل‘‘ کے نام سے تعمیر ہوئی۔ یہیں کپڑے کی منڈی تھی۔ قیمتوں کے تعین کی طرح بِکری کے اوقات مقرر تھے۔ ظہر کے بعد اور کسی دوسری جگہ کپڑا فروخت نہ ہو سکتا تھا۔ ہم عصر مورخ شہادت دیتا ہے کہ فی الواقع علاء الدین کے جیتے جی اس کے مقررہ نرخ و ارزانی میں فرق نہیں آیا جو اس بادشاہ کی حیرت انگیز انتظامی قابلیت کا ثبوت ہے۔
نرخوں کی نگرانی کے لیے لازماً ایک نیا محکمہ تیار کرنا پڑا۔ ہر بڑی منڈی میں سرکاری شحنہ مقرر ہوئے جن کی سختی نے تھوڑے ہی عرصے میں تجارت پیشہ لوگوں کو نئے ضوابط کا پابند بنا دیا۔
برنی لکھتا ہے کہ گوشت ،ترکاری، دھنیے ، پودینے تک کی قیمتیں معین کی گئی تھی۔ سوئی، کنگھی ، جوتی ا ور برتنوں میں مٹی ا مٹکا، ٹھلیا تک نہیں چُھٹے تھے۔ اسی طرح حلوائی کی اعلی اورادنی مٹھائیاں اور نان بائی کی تافتان سے لے کر سوکھی روٹی تک سرکاری ضوابط کی پابندی بنا دی گئی تھیں۔ کسی ظریف مصاحب نے بادشاہ کو خوش دیکھ کر ایک دن عرض کیا کہ شاہی احکام نے تمام اہل بازار کے ہوش درست کر دئیے ہیں مگر ارباب نشاط اور زنان بازاری ابھی تک مطلق العنان ہیں۔ بادشاہ ہنسا اور کوتوال کوبلا کر ان کے مجروں اور گانے بجانے کی مفصل اجرتیں مقرر کرنے کا حکم دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں