عیادت اور بیمار پرسی

Habits_and_sickness

دنیا میں ہر کمزور انسان بلکہ جاندار جو اپنی خدمت آپ نہیں کر سکتا وہ ہماری ہمدردیوں کا زیادہ محتاج ہے۔ بیماروں کی دیکھ بھال، ان کی غم خواری، تیمار داری اور خدمت گزاری کو عیادت و بیمار پرسی کہتے ہی، یہ عبادت بقدر ہمت ہر تندرست انسان پر فرض ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماروں کی عیادت کی خاص تاکید فرمائی ہے۔ اس کے آداب اور دعائیں سکھائی ہیں اوراس کا ثواب بھی بتایا ہے۔
آپ فرماتے ہیں: بھوکے کو کھانا کھلاﺅ اور بیمار کی عیادت اور خدمت کرو اور قیدی کو چھڑواﺅ (بخاری کتاب المرض باب وجوب عیادت المریض)۔
ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔ سلام کا جواب دینا ، بیمار کی بیمار پرسی کرنا،جنازے کے پیچھے جانا، دعوت قبول کر لینا ، چھینکنے والے کا جواب دینا۔ (بخاری کتاب الجنائز باب الامرباتباع الجنائز)۔
جو مسلمان کسی مسلمان کی بیمار پرسی کےلئے صبح کو جائے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے حق میں دعائے مغفرت مانگتے رہتے ہیں اور جب وہ شام کو بیمار پرسی کے لیے جاتا ہے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے بارگاہ الٰہی میں دعا کرتے رہتے ہیں اور اسے پختہ میووں والا جنت کا ایک باغ ملے گا۔ (ترمذی و ابوداﺅد)
جو شخص کسی بیمار کی خدمت کو جائے اس کی تیمار داری کرے تو آسمان سے فرشتہ اس کو پکارتا ہے کہ تم نے بہت اچھا کام کیا ہے، تمہارا چلنا پھرنا تمہیں مبارک ہو تم نے اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا ہے۔ (ابن ماجہ، کتاب الجنائز)۔
اور آپ نے فرمایا کہ جب کسی کی عیادت کےلئے جاﺅ تو اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر تسلی دو اور اس کے شفا پانے کی دعا کرو ۔ (ابوداﺅد)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی عیادت کےلئے تشریف لے جاتے تھے بلکہ غیر مسلموں مشرکوں ،یہودیوں کی بیمار پرسی کے لیے بھی جایا کرتے تھے۔ (بخاری ، کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصبی)
حضرت سعد بن معاذ انصاریؓ جب جنگ خندق ۵ہجری میں زخمی ہو گئے تھے تو آپ نے ان کا خیمہ مسجد میںنصب فرمایا تھا تاکہ نمازی آسانی سے ان کی عیادت کر سکیں ۔ (ابوداﺅد ، کتاب الجنائز باب فی العیادة مرارا )۔
حضرت رفیدہ ؓ صحابیہ جو ثواب کی خاطر زخمیوں کا علاج اوران کی خدمت کیا کرتی تھیں، ان کا خیمہ بھی اسی مسجد میں رہا کرتا تھا تاکہ لڑائیوں کے زخمی مسلمانوں کی تیمار داری اور مرہم پٹی کریں، سیرت ابن ہشام میں ان کا حال بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ چونکہ زخمیوں کی مرہم پٹی اور بیماروں کی تیمار داری عورتیں ہی اچھی طرح کر سکتی ہیں اس لیے غزوات اور لڑائیوں میں بعض ایسی بیبیاں ساتھ رہتی تھیں جو بیماروں کی خدمت اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔ (سیرة ابن ہشام ج۳)
بیماروں کے سلسلے میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! میں بیمار پڑا تو نے میری عیادت نہیں کی ، وہ کہے گا اے میرے پروردگار تو تو سارے جہان کا پروردگار ہے، میں تیری عیادت کیونکر کرتا ؟۔ فرمائے گا کیا تجھے خبر نہ ہوئی کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا مگر تو نے اس کی عیادت نہ کی اور اگر کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ (مسلم کتاب البرباب فضل عیادة المریض)

اپنا تبصرہ بھیجیں