عہد اکبر کے انتظامات کا جائزہ

akbar_badshah
EjazNews

اکبری عہد کے آئین، دیوانی اورفوجی محکمے، سلطنت کی انتظامی تقسیم، مال گزاری، پیداور وغیرہ تمام ضروری موضوعات پر ابوالفضل کی مشہور کتاب ’’آئین اکبری‘‘ معلومات کا لازوال خزانہ اور مصنف علام کی وسعت اور حدت نظر جدت فکر کا بے مثال آئینہ ہے۔ یہ زمانہ حاضرہ کے گزیٹر کا نقش اول ہے کیونکہ ممالک ہند میں پہلے کوئی کتاب سرکاری طورپر اتنی جامعیت کے ساتھ مدون نہیں ہوئی تھی ان سب خوبیوں کے باوصف یاد رکھنا چاہئے کہ مصنف اپنے بادشاہ کوبڑھانے کی خاطر دوسروں کو گھٹانے میں کمی نہیں کرتا۔ سلاطین پیش پیش کے فاضل اکبر کے سر منڈھتا ہے۔ سابقہ آئین و انتظام نئے بنا کے سامنے لاتا اور کبھی کبھی پرانے نام بدل کر ناظرین کو مغالطے میں ڈال دیتا ہے۔ اس کی کتاب میں سب سے زیادہ تفصیل ان کارخانوں کی ملتی ہے جن کا بادشاہ کی ذات سے تعلق تھا۔ہاتھی گھوڑے، اسلحہ ، لباس و طعام سے لے کرشاہی دربار، خلوت جلوت، نشست برخاست تک اکبر کی روز مرہ زندگی کی سبھی جزائیات آئین اکبری میں موجود ہیں۔ لیکن یہاںہمیں ملکی انتظامات سے بحث ہے اور اس سلسلے میں ہم سب سے اول منصب اور منصب دار کی اصطلاح سنتے ہیں جیسے غالباً ابو الفضل ہی نے ہندوستان میں سرکاری ملازمت اور ملازمین کےلئے رائج کیا تھا۔
منصب اور منصب دار:
خاص جدت یہ کی تھی کہ تنخواہ کی بجائے ہر عہدہ دار کے لئے ایک فوجی جمعیت کی تعداد مقرر کر دی جاتی تھی اور اسی جمعیت کے مطابق اپنے پنج ہزاری، سہ ہزاری،یک ہزاری منصب داری کہتے تھے مطلب یہ تھا کہ وہ اتنی تعداد فوج کا سردار ہے یا اتنی فوج مرتب کرنا اس کا فرض ہے سب سے چھوٹا منصب دار ’’وہ باشی ‘‘ (یعنی دس سپاہی کا سردار) کہلاتا تھا اور سب سے بڑا منصب (اکبر دور میں)پنج ہزاری تھا اگرچہ شہزادوں کو اس سے بھی بڑے منصب مل جاتے تھے، ہر منصب کی نقد تنخواہ کی شرح الگ مقرر کی تھی۔ بہت سے منصب دار محض دیوانی خدمتیں انجام دیتے تھے نہ فوج بھرتے کرتے نہ اسے لا کرلڑاتے ۔ ان کا منصب دراصل صرف تنخواہ اور مرتبہ ظاہر کرتا تھا۔ زمانہ حال میں ہم منصب کو گریڈ سسٹم کہہ سکتے ہیں اسی کے ساتھ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ مغل حکومت بھی سابقہ اسلامی حکومتوں کی طرح فوجی نوعیت رکھتی تھی اور زیادہ تر منصب دار وہی ہوتے تھے جو فوج کی مقررہ تعدادتیار کر تے اور طلبی کے وقت اسے لے کر شاہی لشکر میں حاضر ہوجاتے تھے۔ اس قسم کے منصب داروں کو خزانے سے جو تنخواہ ملتی تھی اسی میں فوجی جمعیت کے مصارف اس پر اسلحہ شامل ہوتے تھے۔ جمعیت کی تعداد سرکاری مقرر کرتی تھی اور اس کا پابندی سے معائنہ ہو تا رہتاتھا۔
تنخواہوں کا معیار بہت بلند تھا۔ اتنی بڑی تنخواہی ان دنوں شاید کسی اور ملک نہ دی جاتی ہوں گی ۔ آئین اکبری کے نقشوں کو سامنے رکھ کر انگریزی مترجم بلوخ مین نے حساب لگایا ہے کہ پنج ہزاری منصب دار کو جسے ماہانہ تیس ہزار روپیہ تنخواہ شاہی خزانے سے وصول ہوتی تھی۔ تقریباً بیس ہزار روپیہ فوجی مصارف میں خرچ کرنا پڑتا تھا اور دس ہزار سے کچھ زیادہ روپیہ اس کے ذاتی خرچ کے لئے بچ جاتا تھا۔ لیکن مور لینڈ کے حساب سےوہ فوج پر صرف دس ہزار خرچ کرتا اور بیس ہزار اپنے لئے بچا لیتا تھا۔ ہم بلوخ مین کا تخمینہ صحیح تسلیم کریں تو بھی کچھ شک نہیں کہ دس ہزار روپیہ مہینہ ، جو آج کل کے روپے میں دو لاکھ بن جائے گا، اتنی بڑی تنخواہ تھی کہ ہمارے زمانے میں دولت مند امریکہ بھی سب سے اعلیٰ عہدہ داروں کو ادا نہیں کر سکتا۔ اگرچہ ہزار سے اوپر کے منصب معدودے چند امیروں کو ملتے تھے۔ چہار صدی اور اس سے اعلیٰ منصب دار طبقہ امرا میں داخل اور خان کے مغلی لقب سے ملقب ہوتے۔ امرائے کبار کو خان اعظم، خان خاناں جیسے خطاب دئیے جاتے تھے۔ ’’مرزا‘‘ صرف شاہی خاندان کے افراد استعمال کرتے تھے۔ بجز اس کے کہ بادشاہ کمال خصوصیت سے کسی کو یہ شرف عطا فرمائیں۔
منصب داروں کو اصولاً خزانے سے نقد تنخواہ ادا ہوتی تھی لیکن عملاً وہ عہدہ دار جو مال گزاری یا انتظامی خدمتوں پر مقرر کئے جاتے تھے، انہی علاقوں میں پر گنے یا جاگیریں نامزد کر دی جاتیں کہ وہ ان کی مال گزاری اپنی تنخواہ میں وصول کرلیں۔ظاہر ہے کہ یہ جاگیریں محض سرکاری خدمت سے متعلق تھیں اور منصب دار مال گزاری وصول کرنے میں بھی عام سرکاری شرح اور ضوابط کے پابندی ہوتے تھے۔ عہدہ دار کے تبادلے پر وہ وفات پانے پر ایسی جاگیریں بحق سرکار ضبط ہو جاتی تھیں۔
انتظامی تقسیم اور عہدے:
پوری سلطنت (اکبر کے آخر زمانے میں) پندرہ صوبوں پر تقسیم تھی۔ (۱) کابل(۲) لاہور (پنجاب بشمول کشمیر)،(۳) ملتان (بشمول سندھ) ، (۴)دہلی(۵)آگرہ، (۶)اودھ(۷)الٰہ آباد، (۸)اجمیر(۹)احمد آباد(گجرات)(۱۰) مالوہ (۱۱) بہار(۱۲)بنگال(بشمول اڑیسہ)، (۱۳)خان دیس (۱۴) برار(۱۵) احمد نگر۔
ہر صوبے میں آٹھ دس سرکاریں ہوتی تھیں۔ یہ ہمارے زمانے کے اضلاع سے بڑی اور کمشنری (یا قسمت)ے ذرا چھوٹی ہوتی تھیں ہر سرکار عموماً ۲۵ پرگنے یا محال میں بٹی ہوئی تھی۔ یہی پر گنے آگے چل کر تحصیل اور تعلقہ کہلائے۔ مگر اس زمانے کے پر گنے میں عموماً ایک سو سے زیادہ گائو ں شامل نہ ہوتے تھے ۔ پہلے بارہ صوبوں میں سرکاروں کی کل تعداد ۱۰۵ اور کچھ کم تین ہزار پر گے بتائی گئی ہے۔ صوبے کے حاکم ا علیٰ کے لئے ابو الفضل سپہ سالار کا لفظ لکھتا ہے لیکن یہ جدت قبول عام نہ پا سکی اور پھر سرکاری کاغذات میں بھی اسے صوبہ دار، ناظم یا نواب ہی لکھنے لگے۔ نواب لفظ نائب کی جمع ہے۔ اسے صوبہ دار کے لئے از رہ تعظیم صیغہ واحد میں بولنے لگے اور سچ یہ ہے کہ مغل صوبہ دار نہ صرف بادشاہ کے نائب بلکہ اسی کی طرح اتنے جامع اور وسیع اختیارات کے مالک ہوتے تھے کہ ان کے حق میں یہ مبالغہ کچھ بے جا نہ تھا۔ البتہ یہ تاریخی فرق جتانے کے قابل ہے کہ ترک بادشاہوں کے دور میں صوبہ دار عدالتی مقدمات میں بے اختیار ہوتا تھا مگر انتظامی اور مالی معاملات میں اسے زیادہ آزادی حاصل ہوتی تھی ۔ پہلے محمد تغلق نے پھر شیر شاہ سوری نے مال گزاری کے ہمہ گیر ضابطے بنائے کہ صوبہ دار ان سے تجاوز نہ کر سکتے تھے۔عہد اکبری میں ضوابط کی یہی یکسانی حکام صوبہ کے اختیارات کو محدود کرتی تھی۔ لیکن جب قاضیوں اور مفتیوں سے بادشاہ کی چشم ا لتفات پھری تو عدالتی مقدمات بھی مغل صوبہ دار اپنی عقل و رائے سے فیصلہ کرنے لگے جس نے مسلمان شہریوں پر ان کا رعب داب اور بڑھا دیا۔ ہندوئوں کے باہمی تنازعے بدستور سابق برادری یا گائوں کی پنچایت چکاتی تھی اور مذہبی مسائل میں پنڈت کی رائے قول فیل مانی جاتی تھی۔
سرکار ی بڑے بڑے شہروں میں انتظامی اختیارات فوج دار کے سپرد ہوتے اور انہیں بھی اکثر بادشاہ مقرر کر تا تھا۔ مالی اور دیوانی مقدمات کے واسطے عامل اور منصف الگ رکھے جاتے تھے اور غالباً ہر صوبے میں میر عدل کا شاہی عہدہ قائم کیا تھا جہاں ان مقدمات کا مرافعہ (یعنی اپیل)سماعت کیا جاتا تھا جرائم کی تفتیش اور معمولی تعزیر بھی کوتوال شہر کے اختیار میں دی گئی تھی۔ لیکن تھانہ دار، فوج دار یاعامل کے ماتحت ہوتے تھے اور صرف تفتیش اور امن و انتظام قائم رکھنا ان کا کام تھا۔ چوکی دار۔ سپاہی اور سوار کی ایک نیم فوجی جمعیت ،تھا نہ داروں، کوتوالوں کے تحت میں رکھی جاتی تھی جسے ابو الفضل نے سپاہ زمیں دار کا نیا نام دیا اور سلطنت میں اس کی مجموعی تعداد چوالیس لاکھ سے بھی زیادہ بتائی ہے۔
آئین مال گزاری:
مال گزاری کے آئین و ضوابط ایک عرصے کی بے ربطی کے بعد شیر شاہ سوری کے عہد میں مرتب ہوئے تھے۔ اس کے دربار میں ابوالفضل جیسا کوئی منشی نہ تھا کہ آئین شیر شاہی یادگار چھوڑ جاتا لیکن یہ صحت کے ساتھ معلوم ہے کہ دسویں صدی ہجری میں اسی افغان بادشاہ نے شمالی ہند اور پنجا ب کے تمام دیہات کی یکساں پیمائش کرائی اور مزروعہ اراضی پر اس کی حیثیت اور پیداوار کے مطابق سرکاری مالیہ مقرر کیا جو زیادہ سے زیادہ چوتھائی پیداوار ہوتا تھا۔ چند پرگنوں سے ایک سرکار بنانا بھی اسی نے تجویز کیا تاکہ دیہات کے عمال (یعنی پٹواری ،قانون گو اورکارکن) کے کام کی نگرانی اور مقامی مقدمات سرکار ی میں طے ہو سکیں۔ صوبہ دار کو براہ راست ان کی دیکھ بھال نہ کرنی پڑے۔ کم وبیش یہی انتظام اکبر کے زمانے میں جاری رہا اور صیغہ مال گزاری کی اصلاح اول مظفر خاں تربیتی نے کی جو 981ہجری میں خطاب جملۃ الملکی سے سرفراز ہوا اور زمام حل و عقد امور چہار دانگ ہندوستان بید اقتدارتفویض یافتہ چار سال بعد وہ عتاب میں آیا تو یہ اہم خدمت راجہ ٹو ڈرمل کے سپرد ہوئی اور اس کی تیز مزاجی کی اصلاح کے لئے خواجہ شاہ منصور وزیر کو بدرقہ بنایا گیا۔ان دونوں نے آئین مال گزاری کی تجدید اور ’’دہ سالہ بندوبست‘‘ کی تکمیل کر دی جو ٹوڈرمل کے نام سے منسوب ہوا اور وقتی ترمیم و اصلاح کے بعد انگریزوں کے زمانے تک پاکستان و بھارت میں نافذ رہا۔
سکہ اور اس کی قوت خرید:
اس بندوبست میں زمین کی پیمائش، مالئے کی تشخیص اور وصول مال گزاری کا اصلی ذمہ دار ہر سرکار میں عامل کو بنایا گیا تھا جیسا کہ اوپر بیان ہو ا اسے بعض انتظامی اختیارات حاصل تھے۔ خزانے کا دفتر اسی کی نگرانی میں رہتا تھا اور یہی عہدہ دار تھا جو آگے چل کر انگریزی میں کلکٹر کہلایا ۔ تشخیص کے مراحل طے ہونے کے بعد اکبری سلطنت کے بارہ صوبوں کی (یعنی شمالی ہند، پاکستان اور کابل کی) مجموعی مال گزاری پونے چار ارب دام یا نوکر وڑ روپے سے کچھ زیادہ قرار پائی۔جس میں دکن کے تین صوبے شامل ہونے سے آئندہ مزید اضافہ ہوا۔ اس رقم کے بارے میں انگریز تاریخ نویسوں نے طرح طرح کی موشگافیاں کی ہیں اور انگریزوں کی زیادہ ستانی پر غلط بیانی اور سلاطین ماضیہ سے بدگمانی کے پردے ڈالے ہیں۔ اس بارے میں ہمیں آئندہ تنقیح اور مقابلہ کرنے کا موقع ملے گا۔ یہاں مقدم یہ ہے کہ اس زمانے کے سکے اور اصلی قیمت یاقوت خرید کا صحیح اندازہ لگایا اور یہ د یکھا جائے کہ اس وقت کا ایک روپیہ ہمارے زمانے کے کتنے روپے کے برابر ہوتاتھا۔
اکبر کے عہد میں بیس بائیس قسم کی اشرفیاں اور چاندی اور تانبے کئی سکے رائج کئے گئے تھے جن پر طرح طرح نقش و نگار اور دلچسپ اشعار کندہ کئے جاتے تھے اور ضرب سکہ کی صنعت پہلے کی نسبت نمایاں ترقی کر گئی تھی لیکن سکے کی اصلاح کا فخر بھی شیر شاہ سوری کو حاصل ہے۔ اسی نے دور لا مرکزیت کے اسقام و تناقض کو دور کرکے تمام شمالی ہند میں چاندی کی اصلی قیمت کے مطابق تقریباً ایک تولے کا سکہ چلایا اور اس کا نام روپیہ قرار دیا۔ کہ چار سو برس گزرنے کے بعد بھی بھارت اور پاکستان میں یہی نام چلتا ہے۔ ابو الفضل نے اکبری روپے کو (جلال الدین کی نسبت سے جلالہ نامز د کیا تھا ۔ درب ، اٹھنی ، چرن، چونی۔ اشٹ، دونی کے لئے تجویز ہوئے تھے ۔ یہ سب کتابوںکے اوراق میں دب گئے روپے کا وزن ساڑھے گیارہ ماشہ ہوتا تھا اور بازار کی قیمت کے مطابق اس کے چالیس دام ملتے تھے۔ روپے کی قوت خرید کا اندازہ یوں کیجئے کہ ایک روپے میں دومن گیہوں، تین من جو یا چنے پندرہ سیر عمدہ گوشت گو سفند، آٹھ سیر گھی، من بھر دودھ، چھ سیر مصری سیر قند سفید اور اسی نسبت سے ترکاریاں، پھل اور دوسری چیزیں مل جاتی تھیں۔ اجناس کی ان شرحوں کو دیکھ کر مورلینڈ نے تخمینہ لگایا ہے کہ قوت خرید میں اکبری عہد کاا یک روپیہ 1912ء کے سات روپیہ کے برابر ہوتا تھا۔ پس یہ کہنا کچھ غلط نہ ہو گا کہ وہ 1950کے کم و بیش 20روپے کے ہم قیمت ہوا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اکبر کی نوکر اورمال گزاری آج کل کے حساب سے تقریباً سوا ارب روپیہ ہوتی تھی۔ انگریزوں کے عہد میں ان اکبری صوبوں کی آبادی بڑھی۔ مزروعہ زمین بڑھی۔ آب پاشی کے وسائل بڑھے۔ شرح مال گزاری بڑھی۔ لیکن عجیب بات ہے کہ وہ اکبری محاصل کی آدھی رقم بھی کبھی وصول نہ کر سکے ! سبب بظاہر یہی ہے کہ ملک دولت مند عام کسان خوش حال تھے۔ شیر شاہ کو پیدا وار کا ایک چوتھائی اور اکبر کو ایک ثلث تک وصول ہو جاتا تھا۔ انگریزوں نے بہترین بندوبست کئے لیکن عام افلاس اور بد حالی کی بدولت اس رقم کی تین چوتھائی بھی ان کے ہاتھ نہ آئی۔
فوج باقاعدہ:
بے قاعدہ، نیم مسلم فوج کا شمار ابو الفضل نے چوالیس لاکھ بتایا ہے لیکن باقاعدہ، مستقل فوج کی صحیح تعداد کسی مورخ نے نہیں لکھی۔ شاید معین ہی نہیں کی گئی۔ البتہ منصب داروں کی مبینہ فوجوں کی میزان تقریباً ایک لاکھ سوار جڑتی ہے۔ مزید برآں ، بادشا ہ کی فوجی رکاب میں بارہ ہزار بندوقچی اور برق انداز نوکر تھے۔ تیر اندازوں، شمشیر باز پیادوں کی تعداد ان سے بھی زیادہ تھی۔ یکہ داروں کو احدی کا نیا نام دیا گیا تھا۔ یہ منصب داروں میں شامل نہ تھے مگر کئی کئی گھوڑے رکھتے اور معزز سپاہی مانے جاتے تھے۔ آئین اکبری میں بعض کی تنخواہ پانچ سو روپیہ ماہوار تک مذکور ہے۔
اکبر کو ہاتھیوں کا بہت شوق تھا۔ خود فیل بانی سیکھی تھی مستک پر بیٹھ کر مست ہاتھی لڑاتا تھا۔ اچھے سے اچھے ہاتھی دور دور سے منگاتا تھا۔ عبد اللہ خاں ازبک سے ناراضی کی وجہ یہی ہوئی تھی کہ اس نے مالوے کے مال غنیمت سے کئی بڑے ہاتھی حضور میں نہیں بھیجے تھے۔ پٹنے کی جنگ میں دادو کر رانی بھاگا تو یہ سن کر کہ ایک بنگالی سردار بہت سے عمدہ ہاتھی لے کر نکل گیا، خود بادشاہ سلامت تعاقب میں دو ڑ پڑے تھے۔ غرض سواری ، شکاری، بار برداری اور لڑائی کے پانچ ہزار سے زیادہ ہاتھی جمع کئے تھے جن کی تربیت اور نگہداشت پر لاکھوں روپیہ خرچ ہوتا تھا۔ اسی طرح جدید آتشی اسلحہ کا شوق باپ دادا سے بڑھ کر تھا۔ آئین اکبریی میں لوہے کے صاف کرنے، پگھلانے اور توپ بندوق ڈھالنے کے جزئیات تک لکھ دی ہیں یہ جنگی صنعت شمالی ہند میں بابر نے شروع کی تھی۔ اکبر کے عہد میں اسے حیرت انگیز ترقی ہوئی۔ بندوقوں، زنبورکوں وغیرہ کا کیا ذکر ہے۔ تو پیں اتنی بڑی بڑی بنائی جانے لگیں جنہیں کھینچنے کے لئے کئی کئی ہاتھی، صد ہا بیل درکار ہوتے تھے اور سات من تک کا گولہ چلا یا جاسکتا تھا۔ یہ ایجاد بھی ابو الفضل کا ر آگہی کشور خدیو کا نتیجہ بتاتا ہے کہ بغیر فتیلہ آتش کے صرف گھوڑا گرانے سے چلنے والی بندوق آگرے میں ڈھلنے لگی تھی۔ مگر تعجب ہے مختلف اصلاح یافتہ قسموں کے ذکر میں ابوالفضل دو نالی بندوق کے متعلق کچھ نہیں لکھتا۔ حالآنکہ کہ ہمیں صحت سے معلوم ہے کہ جنگ چوسہ کے وقت ہی ہمایوں بادشاہ کے پاس ایسی بندوق موجو د تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں