عہد اکبری کا آغاز

عہد_اکبری_کا_آغاز
EjazNews

بیرم خان نے چار برس بادشاہ کی اتالیقی کی۔ جون پور تک دوآب کو پٹھانوں سے صاف کر دیا۔ مالوے میں وہاں کاموروثی حاکم باز بہادر خود مختار ہوگیا تھا اور سارنگ پورمیں دن رات سارنگی ستار، گانے بجانے میں محورہتا تھا۔ اس مقام کے کھنڈر (ریاست دیواس میں)ابھی تک عیش و طرب کے متوالوں کانوحہ پڑھتے ہیں۔ مغلوں نے باز کا آشیانہ اجاڑ دیا مگر پوری طرح بادشاہی انتظام کے جمانے میں دیر لگی۔ کیونکہ مرکزمیں ایک با اثر جماعت اتالیق سلطنت کی جڑیں اکھاڑنے میں مصروف تھی اوروہ تنگ آکر جنگ پر آمادہ ہوا تو ساری فوج اسے گھیرنے کے لیے سیمٹنی پڑی۔ بیرم خاں نے سر اطاعت خم کر دیا مر ذلت کی زندگی پر ہجرت کو ترجیح دی اور حجاز کے ارادے سے گجرات جارہا تھا کہ راستے میں خونیوں نے ثواب حج کے ساتھ شہادت کو اس کی زاد آخرت بنایا۔ شہید شد محمد بیرام ‘‘ تاریخ وفات ہے۔ وہ سازشی مشیر جو بیرم خاں کی معزولی کا باعث ہوئے تھے۔ اس انقلاب سے زیادہ دن تمتع نہ حاصل کر سکے بلکہ دو سال کے اندر باہمی عداوت اور قتل و علالت نے ان کا خاتمہ کر دیا۔ تب نوجوان اکبر کو صحیح معنی میں بادشاہی کا بھاری بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانا اور بعض سرکش امیروں کو جبراً قابو میں لانا پڑا۔ یہ ازبک سردار تھے جو اس مرتبہ بڑی تعداد میں مغلوں کے ہمراہ ہندوستان آئے اور حق یہ ہے کہ بڑی جواں مردی، جاں فشانی سے مغل حکومت قائم کرنے میں حصہ لیا تھا۔ زیر نظر سنین میں مشرق کی سرحدی چھاونیوں میں اسی جنگ جو قوم کے سردار و سپاہی مقرر اور بہار و بنگال کے افغانی امیروں سے دست و گریبان ہو رہے تھے۔ اسی طرح مالوے میں عبد اللہ خاں ازبک اسی کی شمشیر و تیر نے باز بہادر کو دوبارہ اڑایا اور اکبری پرچم لہرایا تھا۔ ازبکوں کی شورش کا آغاز اسی عبد اللہ خاں سےہوا۔ الزام یہ تھا کہ مالوے کا مال غنیمت آگرے بھیجنے میں لیت و لعل کرتا ہے۔ اکبر نے باز پرس کا نیا طریقہ نکالا کہ بندھیل کھنڈ کی طرف شکار کھیلتے کھیلتے اچانک مالوے میں داخل ہوا۔ عبد اللہ خاں یہ سن کر ایسا گھبرایا کہ شاہی ملازمت کو خیر بادکہی اور گجرات چل دیا۔فوجی حلقوں میں افواہ پھیل گئی کہ بادشاہ نے مغلوں کے پرانے دشمن (ازبکوں ) کے استیصال پر کمر باندھی ہے۔ لہٰذا وہ بھی جگہ جگہ لڑنے مرنے پر تیار ہو گئے۔ تین سال تک بغاوت کی آگ رہ رہ کر بھڑکتی رہی اور ان کے نامی گرامی سرکردہ صوبہ دار خان زماں خاں کے خون ہی سے فرد ہوئی۔ (972تا 974ہجری 1566ء) اس دوران میں اکبر کے چھوٹے بھائی عبد الحکیم نے کابل سے نکل کر پاکستان پر جھپٹا مارا تھا مگر کچھ نہ بگاڑ سکا اور اکبر کے آنے کی خبر سنتے ہی لاہور کا محاصر ہ چھوڑ کر الٹے پائوں چلا گیا۔
مرزا عبد الحکیم اکبر کا سوتیلا بھائی تھا۔ ہمایوں کابل سے دوبارہ لاہور و دہلی کی طرف چلا تو وہاں کی حکومت اس بچے کے نام لکھ دی اور ماں کو اتالیق مقرر کیا۔ 973ہجری میں اس کا دارالحکومت ایک مغل رشتہ دار مرزا سلیمان دائی بدخشاں نے دھوکے سے ہتھیا لیا تھا۔ وہ برادر اکبر سے مدد کیلئے پاکستان آیا۔ یہاں بعض اہل غرض نے چنگ پر چڑھایا اور لاہور پر چڑھالائے۔ بارے سلیمان مرزا کابل سے چلا گیا۔ عبدالحکیم کو دوبارہ یہ شہر مل گیا۔اکبر سے معافی مانگی اور پھر تازندگی انحاف نہ کیا۔ اس کے انتقال کے بعد ہی صوبہ کابل سلطنت مغلیہ کا جز بنا (994ھ) اور پھر محمد شاہ کے زمانے تک یہاں مغل بادشاہوں کے صوبہ دار مقر رہوتے رہے۔
راج پوتو ں سے تعلقات اور فتوحات راج پوتانہ:
ممالک ہند میں جنگ و سپاہ گری راج پوت قوم کا پیشہ تھی۔ مسلمان حملہ آوروں نے شروع سے ان کی جاں بازی کے تماشے دیکھے ۔ شمشیر زنی کے مزے پائے تھے۔ مگر بادشاہ پرستی اور وفاداری جو ان کی فطر ت کے جوہر تھے، ان دفینوں کا اکبر سے پہلے کسی کو بھید نہ کھلا تھا۔ ممکن ہے پچھلی چار صدی کی پہیم تیغ آزمائیوں اور بار بار کی لڑائیوں نے راج پوتوں کو مسلمانوں کی جواں مردی کا قائل اور سپاہی کو سپاہی کی طرف مائل کر دیا ہو اور اس میلان سے بھی جوہر شناس اکبر نے فائدہ اٹھایا ہو۔ بہ ہر تقدیر ، آغاز بادشاہی میں ہی نئی حکمت عملی کا آغاز ہوا۔ امبیر (جے پور) کے راجہ بہادر امل نے خود تحریک کی اور اکبر نے خوشی سے اس کی بیٹی سے شاد ی کی (969ہجری بمطابق 1562ء) اور وہی آئندہ وارث سلطنت یعنی جہانگیر کی ماں بنی۔ راجہ کا فرزند بھگوان داس اکبری امرا میں شامل ہوگیا اور بڑے بڑے معرکوں میں شریک رہا۔ پھر اس کے بھتیجے مان سنگھ نے راج پوتی بہادری اور آقا پرستی کے ایسے نقش جمائے کہ آخر تک مغل بادشاہوں کے دل سے نہ مٹے۔ مذہبی اختلافات کے باوجود جنگ کی رفاقتوں نے راج پوت اور مغل سپاہیوں کو ایک دوسرے سےاتنا مربوط کر دیا کہ شاید دو غیر قوموں میں ایسی یک دلی یکجہتی کی کہیں مثال نہ ملے گی۔ ادھر اکبر نے ان کی رعایت سے جزیہ موقوف اور ہندو یاتریوں پر جو کریں لگی تھیں منسوخ کردیں۔ آہستہ آہستہ بہت سی ہندوانی رسموں کورواج دیا۔ گائے کے گوشت ، اور لہسن پیاز کا محل سرا میں قدغن ہوا اور آگے چل کرا علانیہ گائو کشی کرنے کی ممانعت کر دی۔ اس خاندان کو بھاٹوں نے بہت بانس پر چڑھایا اور پنڈتوں نے خدا معلوم کون کون سے بنسیوں سے شجرہ ملایا تھا۔ حالیہ تحقیقات نے سارے پول کھول دئیے ثابت ہوا کہ رام چندر جی کی اولاد احفاد میں ہونا ایک طرف، نسل بھی آریہ نہیں ۔ غالباً تاتاری ہونوں کی شا خ سے ہیں۔ (ٹاڈ نے بھی راج پوتا نے کے ممتاز ترین خاندانوں کو ’’سیدی ‘‘(یعنی تاتاری) نسل سے لکھا ہے لیکن اودے پورے کے گھیلوٹ راج پوتوں کے دعاوی کا بھانڈا ڈی آر بھنڈارکرنے خوب پھوڑا)۔
تاہم ان کا غرور مدت سے مشہور تھا اکبر نے فیصلہ کیا کہ چتوڑ کی گردن توڑے۔ خود فوج لے کر گیا۔ رانا (اودے سنگھ) نے خلاف توقع بزدلی دکھائی۔ جنگلو ں، پہاڑوں میں جا چھپا لیکن ایک جیوٹ عزیز جے مل نامی نے قلعہ بند ہو کر خوب مقابلہ کیا۔ آس پاس کے علاقے تاراج کر ڈالے تھے کہ شا ہی لشکر کو رسد میسر نہ آئے قلعے میں آٹھ ہزار چیدہ سپاہی کھانے پینے کا وافر سامان اور دفاعی ہتھیاروں کے ذخیرے بھر لئے تھے۔ اکبر جیسا ہٹیلا بادشاہ ان مشکلا ت کو کب خاطر میں لاتا تھا۔ ناکہ بندی کے ساتھ صدہا نجار و سنگ تراش کی مد دسے مضبوط سایاط (یعنی پردے کی دیواریں)بنوائیں انہیں اوپر سے پاٹتے جاتے تھے ۔ قریب پہنچ کر زمین کے نیچے ہی نیچے نقب لگائی اور دو برجوں کی بنیادوں میں بارود بچھا کر بتی دکھائی کہ ہولناک دھماکے سے پہلے ایک برج پاسبانوں سمیت اڑا ۔ بادشاہی سپاہی بے صبری سے دوڑے۔ اتنے میں دوسرے سرنگ نے دوسرا برج اڑا دیا۔ اس میں قلعہ والوں سے زیادہ حملہ آور ہلاک ہوئے ۔ محصوروں نے جس طرح بن پڑا ان رخنوں کو بھرا۔ تیروتفنگ اینٹ پتھر، آگ اور جلتے تیل سے یورش کو روک لیا۔ یہ معرکے کئی مہینے جاری رہے۔ یہاں تک کہ خود جے مل جو مورچے دیکھتا بھالتا پھرتا تھا، ایک رات قضا کی گولی کا نشانہ بنا۔ محصوروں کے جی چھوٹ گئے۔ عورتوں کو سپرد آتش کیا اور خود لڑ کر مارے گئے۔ ابوالفضل کا بیان ہے کہ اکبر نے قلعے میں گھس کر قتل عام کا حکم دیا تھا۔ قریب تیس ہزار آدمی قتل یا قیدہوئے ۔ (اکبر نامہ جلد دوم میں لکھاہے کہ علاء الدین خلجی کے زمانے میں یہاں کی رعایا نے لڑائی میں حصہ نہیں لیا تھا۔ قلعہ فتح ہوا تو عام شہری ایمن رہے۔ لیکن اس محاصرے میں یہ سب لوگ شریک جنگ تھے اس لئے انہیں امان نہیں دی گئی۔ ملا عبد القادر نے مقتولوں کی تعداد آٹھ ہزار بتائی ہے۔ فرشتہ نے دس ہزار)۔
ریاست میواڑ ضبط اور صوبہ اجمیر کی ایک سرکار قرار دی گئی۔ شاہی عامل مقرر ہوئے ۔ تاہم رانا اور اس کے من چلے راج پوت برابر مغل صوبہ داروں سے قزاقانہ جنگ کرتے رہے۔ مگرمغلو ں کے مقابلے میں یہ مایو سانہ جدوجہد کامیاب نہ ہو سکتی تھی۔ آخر جہانگیر کے عہد میں رانا امر سنگھ نے سراطاعت جھکایا، باج گزاری کا اقرار کیا تب اس کی خاندانی ریاست واگزاشت ہوئی۔
خود اکبر کو چتوڑ کے بعد راج پوتوں کے بچے کھچے آزادی کے گڑھ فتح کرنے میں زیادہ زحمت نہ پیش آئی۔ اگلے سال رن تھنبور کا مشہور قلعہ شاہی توپوں کی مار نہ سہہ سکا۔ چند گولے راجہ کے محل پر پڑے تھے کہ وہ گھبرا کر نکل آیا۔ اطاعت قبول کرلی۔ رن تھنبور کی داستان شہری ہی جدید آلات حرب کے سامنے قصہ پارینہ ہو گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں