عورت اور نماز نبویﷺ

islam_women
EjazNews

اے مسلمان بہن، نمازوں کی حفاظت کیاکرو،نمازوں کو مکمل اطمینان ، سکون ، ارکان و واجبات کے ساتھ ادا کیاکرو۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنوں کی ماؤں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے ’’اور تم نماز قائم کرو‘‘ زکوۃ ادا کرو،اور اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو‘‘۔(احزاب۳۳:)
یہ حکم امہات المومنین کے ساتھ ساتھ تمام مسلمان عورتوں کو بھی ہے ۔نماز اسلام کا دوسرا رکن ہے ۔بلکہ یہ اسلام کاستون بھی ہے۔ نماز کو ہمیشہ چھوڑ دینا ملت اسلام سے نکلنے کاسبب بنتا ہے۔ کوئی بھی مرد ہو یا عورت اسکے پاس اگر نماز نہیں دین اسلام بھی نہیں ہے ۔
نماز کو بغیرعذر اسکے وقت سے تاخیر کرکے پڑھنا غلط ہے ۔فرمان الٰہی ہے ’’پھر انکے بعد ایسے لوگ آئے جنہوں نے نماز کو ضائع کردیا ۔وہ خواہشات کے پیچھے پڑ گئے ۔سو عنقریب وہ جہنم میں جائیں گے ۔مگر جنہوں نے توبہ کی ‘‘۔ (مریم۶۰:)۔
امام ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں تمام مفسروں کاقول نقل کرتے ہیں کہ نماز کو اپنے وقت سے تاخیر سے پڑھنا نماز کو ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔
خواتین کے مخصوص احکام نماز:
(۱) عورت پر اذان اور اقامت فرض نہیں ہے کیونکہ عورت کے لئے آواز کوبلند کرنا منع ہے اس بارے میں کوئی اختلاف بھی نہیں۔ (المغنی۶۸/۲)۔
(۲) نماز میں عورت کو چہرے کے علاوہ دیگر اعضاء ڈھانپنے چاہئیں پاؤں اور ہاتھوں میں علماء کااختلاف ہے ۔چہرے کاپردہ اس وقت معاف ہے جب کوئی غیر محرم نہ دیکھ رہا ہو وگرنہ عام مردوں کے سامنے نماز میں ، یانماز کے علاوہ ہروقت چہرے کاپردہ کرنا چاہیے۔نماز میں تمام سر کے بالوں کو چھپانا لازمی ہے ۔رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے ’’بالغہ عورت کی نماز بغیر دوپٹے کے قبول نہیں ہوتی‘‘۔ (سنن ابو داؤد، جامع ترمذی)۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒفرماتے ہیں ۔’’ عورت اگراکیلی نماز پڑھ رہی تو بھی بغیر دوپٹے کے نہ پڑھے۔وگرنہ گھر میں نماز کے علاوہ سر ننگے ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔نماز میں مکمل زینت کو اختیار کرنالازمی ہے ۔کسی مرد و عورت کے لئے تنہائی میں بھی عریاں ہوکر نماز پڑھنا جائز نہیں ہے‘‘۔ (مجموع فتاوی ۲۲/۱۱۳)۔
(۳) امام نووی فرماتے ہیں ’’ امام شافعی ؒکے نزدیک عورت و مرد کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے۔ فرمانِ نبویﷺ ہے؛ ترجمہ: نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘۔ یہ حکم مرد و عورت کے لئے یکساں ہے۔
(۴)نمازی اگر صرف خواتین ہوں تو ان میں کوئی ایک انکی امامت کرواسکتی ہے اکثر علماء کایہی قول ہے اور حدیث نبوی سے دلیل ملتی ہے۔ (ابو داؤد ، ابن خزیمہ) اگر کوئی غیر محرم نہ سن رہا ہو تو امامت کروانے والی عورت اونچی آواز میں قرات بھی کر سکتی ہے ۔
(۵) خواتین کے لئے جائز ہے کہ وہ مساجد میں آکر نماز ادا کریں ۔لیکن انکی گھر والی نماز ان کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ فرمان نبویﷺ ہے ’’تم عورتوں کو مسجد میں آنے سے منع نہ کرو۔اور انکے گھر انکے لئے بہتر ہیں‘‘۔ (مسند احمد،ابو داؤد) (آج کل باپردہ ہوکر جمعۃ المبارک کے خطبے کے لئے آئیں اور مساجد میں انکے لئے تسلی بخش انتظام ہوتو صرف جمعہ کے لئے مسجد میں آنا بھی بہت بہتر ہے )
(۶)اگر خواتین مساجد میں آئیں تو ان امور کاخیال کریں ۔
1 مکمل حجاب اختیار کریں۔ 2خوشبو لگا کر نہ آئیں۔رسول اللہﷺ نے خواتین کو خوشبو لگاکر مساجد آنے سے منع فرمایا ہے (ابو داؤد)۔ 3 زیورات اور بھڑکیلے لباس پہن کر نہ آئیں۔امام شوکانی ؒفرماتے ہیں ’’ایسے کاموں سے اجتناب برتا جائے جو حرام کاموں کی طرف لے جائیں ۔تہمت کے مقامات سے بچنا چاہیے۔مردوں کاعورتوں کے ساتھ راستوں میں مخلوط ہونا کسی طریقے سے درست نہیں ہے‘‘۔ (نیل الاوطار ۲/۳۲۶)۔
امام نووی ؒفرماتے ہیں ’’خواتین کی نماز باجماعت کے متعلق چند امور اہم ہیں۔ 1جس طرح مردوں کو تاکیداً باجماعت پڑھنے کاحکم ہے خواتین کو ایسا تاکیدی حکم نہیں دیاگیا ہے۔ 2خواتین کی جماعت میں ان کاامام درمیان میں ہوگا(خاتون امامت کرائے تو صف کے درمیان میں وگرنہ مر دامامت کروائے تو مصلیٰ پر ہوگا)۔ 3اکیلی عورت امام کے پیچھے نماز پڑھ رہی ہوتو وہ اکیلی صف میں کھڑی ہوگی۔4اگر مرد و خواتین اکھٹے باجماعت پڑھیں تو خواتین کے لئے سب سے آخری صف ہونی چاہیے کیونکہ اختلاط مرد وزن قطعی حرام ہے ۔
خواتین اور نماز عید :
اُمّ عطیہ ؓفرماتی ہیں ہمیں حکم دیاگیا ہے کہ ہم نماز عید فطر اور عید قربان کے لئے گھروں سے نکلیں ۔کنواری ، بالغہ، اور باپردہ تمام عورتیں نکلیں لیکن حائضہ خواتین نماز نہ پڑھیں۔ مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں(ابو داؤد:ترمذی:نسائی)۔
امام شوکانی لکھتے ہیں ’’ اس حدیث نے ایک اصول قائم کر دیا ہے کہ تمام خواتین نماز عید کے لئے نکلیں جب تک کوئی شدید عذر نہ ہو انکے لئے یہی حکم ہے‘‘ (نیل الاوطار ۳/۳۰۶)۔
خواتین کو نماز عید کے لئے نکلنے کاحکم شاید اس لئے ملا ہے کہ یہ موقع سال میں صرف دو بار آتا ہے اور دیگر نمازوں کی طرح نماز عید کاکوئی بدل بھی نہیں ہے جس طرح جمعہ کی دورکعت کے بجائے گھر میں چاررکعت پڑھ لیتی ہیں اسی طرح حج بیت اللہ کی طرح باہر نکل کر مسلمانوں کے اجتماع اور دعا میں شریک ہونے کی سعادت بھی مل جاتی ہے ۔
امام نووی ؒفرماتے ہیں ’’امام شافعی اور دیگر سلف صالحین فرماتے ہیں کہ خواتین نماز عید کے لئے آئیں تو بناؤ سنگھار اور میک اپ کرکے نہ آئیں۔امام شافعی ایسی خواتین کا نماز عید کے لئے آنا ناپسند فرماتے تھے۔ (المجموع۵/۱۳)۔
خواتین سادگی کو شعار بنائیں۔بھڑکیلے اور خوشبویات میں معطر لباس پہن کر عبادت کے لئے نہ آئیں بلکہ اس حالت میں تو بازاروں و پارکوں میں بھی نہ جائیں ۔جوانی بذات خود ایک بڑا فتنہ ہے اور اگر میک اپ ، بے پردگی ، ہوتو فتنہ دوچند ہوجاتا ہے ۔سیدہ عائشہ ؓفرماتی تھیں کہ ’’اگر رسول اللہﷺ کو خواتین کی موجودہ حالت کا علم ہوجاتا تو آپ عورتوں کو مساجد آنے سے منع فرما دیتے ۔جس طرح بنی اسرائیل کی خواتین کو منع کیاگیا تھا‘‘۔ (بخاری و مسلم )۔ مگر خواتین کو روکا نہیں گیا ،لہٰذا آج بھی نہیں روکا جا سکتا کیونکہ مساجد میں آنے کی اجازت قیامت تک ہے۔
خواتین اور رمضان المبارک :
رمضان کے روزے ہر مردو عورت پرفرض ہیں ۔’’اے ایمان والو تمہارے اوپر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں‘‘۔ (بقرہ:۱۸۳)۔
جب ایک عورت بلوغت کی عمر تک پہنچ جائے تو ا س پر روزے فرض ہیں وہ اب روزہ چھوڑے گی تو بہت بڑے گناہ کی مرتکب ہوگی۔ایسے چھوڑے گئے روزوں کی قضاء اس پر لازم ہے ۔رمضان کاچاند نظر آنے پر روزہ رکھنا فرض ہوجاتا ہے ۔لیکن مرد و عورت اگر اس قدر بوڑھے ہیں کہ روزہ رکھنے کی تاب نہیں تووہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو اپنے معیار کے مطابق کھانا کھلادیں۔فرمان الٰہی ہے ’’اور جو طاقت رکھتے ہیں تو ایک مسکین کو بطورفدیہ کھانا کھلادیں‘‘۔ (سورۃ البقرہ:۱۶۴)۔
سیدنا ابن عباس ؓفرماتے ہیں یہ اجازت اس بوڑھے شخص کو ہے جو اب شفا کی امید نہیں رکھتا۔ (بخاری) ایسا مریض جو دائمی بیمار ہووہ بھی اسی کے حکم میں شامل ہے ۔خواتین کو بعض حالات میں روزہ رکھنے سے منع کیاگیا ہے اور بعض حالات میں رخصت ہے ۔وہ حالات درج ہیں ۔
(۱)حیض و نفاس :
حیض اور ولادت کے بعد(نفاس )والے ایام میں روزہ رکھنا منع ہے اسکے بعد قضاء دینا فرض ہے ۔سیدہ عائشہ ؓفرماتی ہیں ۔’’ہمیں روزہ کی قضا دینے کاحکم تھا لیکن نماز کی قضا کاحکم نہیں تھا۔(بخاری و مسلم )۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:’’حیض کے ایام میں خون نکلتا رہتا ہے ان حالات میں روزہ رکھنا بدن کو کمزور کرنے کاسبب بن سکتا ہے اسی باعث ایام حیض میں روزہ منع ہے‘‘۔ (مجموع الفتاوی ۲۵/۲۵۱)۔
(۲)حمل و رضاعت:
ایام حمل اور دودھ پلانے کے دنوں میں بھی روزہ کوچھوڑنے کی رخصت ہے ۔پھر ماں دیکھے کہ اب بعد میں روزہ رکھنے سے بچے کو نقصان ہوسکتا ہے اور ماں بھی کمزور ہے تو علماء کہتے ہیں کہ وہ ان روزوں کافدیہ (ایک مسکین کاکھانا)دے دے ۔ اگر ماں اور بچے کوضرر کا اندیشہ نہ ہوتو پھران روزوں کو قضاء کرکے پورا کریں۔ یہ قول حافظ ابن کثیر اور امام ابن تیمیہ ؒدونوں کاہے۔(فتاویٰ ۲۵/۳۱۸)۔
(۳) بعض عورتوں کے ایام حیض کے علاوہ دنوں میں بیماری کی وجہ سے خون آتا رہتا ہے جس کو ’’استحاضہ ‘‘کہتے ہیں ۔ان ایام میں بھی روزہ رکھنا فرض ہے ۔امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں ’’مستحاضہ عورت روزہ کو چھوڑ نہیں سکتی ۔کیونکہ اسکا کوئی وقت مقررہ نہیں ہوتا۔اور یہ روزے کے منافی بھی نہیں ہے‘‘۔(۲۵/۲)
(۴) حاملہ اور حائضہ عورت قضاء روزوں کو جلد از جلد ادا کریں ۔اگلے سال کا انتظار نہ کریں۔ شوہر کی موجودگی میں اسکی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے جائیں ۔البتہ رمضان کے روزوں کے لئے کسی کی اجازت ضروری نہیں ہے ۔
(۵)رمضان کے دوران حیض ختم ہونے پر مذکورہ عورت اگلے دن سے روزہ رکھنا شروع کردے چھوٹے ہوئے روزوں کو بعد میں قضاء کرلے۔اور دوران روزہ حیض شروع ہونے پر روزہ افطار کرسکتی ہے ۔یہ روزہ شمار نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں