عمرو کی استاد کے ساتھ شرارتیں(۱)

Umro-Aur
EjazNews

اگلے دن عمرو سب لڑکوں سے پہلے مدرسے آیا۔ اس نے مدرسے میں جھاڑو دی، صفائی کی اور بستہ کھول کر قاعدہ پڑھنے لگا۔ تھوڑی دیر میں استادبھی آگیا۔ وہ بہت غصے میں آیا تھا کہ جب عمرو آئے گا تو اس کی خوب پٹائی کروں گا مگریہاں تو عمرو سب سے پہلے موجود تھا اور سب لڑکوںسے پہلے آکر مدرسے کی صفائی کر کے اپنا سبق یاد کر رہا تھا۔ استاد نے یہ دیکھا تو سوچا شاید اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے، اسی لئے سب سے پہلے آکر مدرسے کی صفائی کی اور اپنا سبق بھی اچھی طرح یاد کر رہا ہے اب اس کو کیا مارنا۔ یہ سدھر گیا ہے جب ہی تو اتنی اچھی طرح سبق پڑھ رہا ہے اگر اسے مارا پیٹا گیا تو یہ بگڑ جائے گا اور ضد پر آجائےگا کہ جب میں ٹھیک ہو گیا ہوں تو پھر استاد نے کیوں مارا۔یہ سوچ کر استاد نے عمرو سے کچھ نہ کہا اور عمرو اچھے بچوں کی طرح سبق پڑھنے لگا۔ استاد بھی اب عمرو سے خوش رہنے لگا اور اپنے کام بھی اس سے کروانے لگا۔ کوئی چیز گھر بھیجنی ہوتی یا گھر سے کچھ منگوانا ہوتا تو عمرو ہی کو بھیجتا ۔ کیونکہ اس نے دیکھاکہ عمرو سب بچوں سے زیادہ ہوشیار ہے اور ہر کام جلدی جلدی کرتا ہے۔ اب عمرو بھی استاد کے کام دوڑ دوڑر کے کرنے لگا ساتھ ہی سبق بھی اچھی طرح پڑھنے لگا۔ استاد کو اب عمرو کی طرف سے اطمینان ہو گیا تھا۔ مگر عمرو کی شرارتی طبیعت اسے آرام سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی۔ کچھ دن اچھا بچہ بننے کے بعد وہ بور ہونے لگا۔ اسے یہ زندگی بہت پھیکی نظرآتی۔ اس زندگی میں کوئی شرارت نہیں تھی روز کا سیدھا سادہ معمول تھا جو عمرو کو پسند نہیں آیا اسے تو روز ایک نئی بات سوجھتی اور وہ نئی نئی باتوں پر دماغ لڑاتا اور سوچ سوچ کر خوش ہوتا کہ اس بات میں کتنا مزہ آئے گا۔ تو یہی سوچیں اس سے ایک اور نئی شرارت کروانا چاہ رہی تھیں اور عمرو بھی اس دن کی تلاش میں رہنے لگا جب ایک نئی شرارت اس کو خوش کردے گی اور ایسا موقع آہی گیا۔
استاد اپنے سفید بالوں کو کالا کرنے کے لئے خضاب لگایا کرتا تھا۔ ایک دن استاد نے چاہا کہ آج بالوں پر خضاب لگانا چاہئے اور خضاب کے بعد غسل بھی کرنا ہے تو استاد نے خضاب تیار کرکے عمرو کو دیا کہ فلاں حمام میں لے جا۔ میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔ اب استاد تو نماز پڑھنے لگا اور عمرو نے خضاب میں بال صاف کرنے کی دوا ملا دی اور خضاب کو حمام میں جاکر رکھ دیا۔ کچھ دیر بعد استاد صاحب آئے تو عمرو نے ان کو بتا دیا کہ اس جگہ خضاب رکھا ہے۔ استاد نے عمرو کو گھر جانے کا کہا اور خود حمام میں چلے گئے۔ اندر جا کر انہوںنے اپنی داڑھی مونچھوں پر خضاب لگایا اور تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ گئے اس کے بعد انہوںنے کپڑے اتار کر نہانا شروع کیا اور گرم پانی اپنی داڑھی اور مونچھوں پر ڈالا کہ خضاب اتر جائے اوربال کالے ہو جائیں۔ جیسے ہی انہوںنے داڑھی مونچھوں پر پانی ڈالا وہیں ان کے بال ہاتھ میں آگئے ۔ ان کی مونچھیں اور داڑھی کے بال صاف ہو گئے اور استاد بغیر داڑھی مونچھوںکے رہ گئے۔ یہ دیکھ کر استاد کو عمرو پر بہت زیادہ غصہ آیا۔ اگر وہ اس وقت وہاں ہوتا تو وہ مار مار کر اس کی کھال ادھیڑ دیتے مگر وہ تو کب کا جا چکا تھا اور استاد ایک بڑی مشکل میں پھنس گیا تھا ۔ اب اس حال میں باہر نکلتا ہے تو اس کی یہ حالت دیکھ کر لوگ کیا سوچیں گے اور کیا کہیں گے کہ استاد نے اپنی داڑھی مونچھ کیوں صاف کر دی۔ سوچ سوچ کے استاد کو شرم آنے لگی۔ لوگوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی اور حمام میں زیادہ دیر بیٹھا بھی نہیں جارہا تھا۔ آخر منہ پر کپڑا لپیٹ کر باہر نکلے اور سیدھا خواجہ عبدالمطلب کے گھر کا رخ کیا۔ خواجہ عبد المطلب کے سامنے جا کر استاد نے اپنا منہ سے کپڑا ہٹایا اور عبد المطلب کو دکھایا کہ دیکھیں عمرو نے میری کیا حالت بنائی ہے۔ مجھے لوگوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ اس لڑکے نے میرا ناک میں دم کر رکھا ہے اس کو نئی نئی شرارتیں سوجھتی ہیںاور میرا حال برا ہے آپ اس کی شرارتوں پر اس کو سزا دیں اور میری اس سے جان چھڑائیں۔ خواجہ عبدالمطلب نے استاد کو تسلی دی کہ وہ فکر نہ کریں عمرو کو اس کے کئے کی سزا ملے گی اور وہ آئندہ ایسی حرکت کبھی نہیں کرے گا۔
استاد کی تسلی ہوئی تو وہ گھر چلے گئے ان کے جانے کے بعد خواجہ عبد المطلب نے عمرو کو بلایا۔ وہ ڈرا ڈرا آیا تو عبدالمطلب نے اس کو خوب ڈانٹا اس کے دونوں ہاتھ باندھ کر اس کو لٹکا دیا اور اس کو جو تیاں ماریں اور ڈنڈے سے پٹائی کی وہ روتا تھا کہ اب ایسا نہیں کروں گا جب اس کا رونا پیٹنا حد سے بڑھ گیا تو جب جا کر خواجہ عبدالمطلب نے اس کو چھوڑا۔ پھر امیر حمزہ کو بلا کر منع کیا کہ تم الگ الگ بیٹھا کرو۔ یہ خود تو بگڑا ہوا ہے ساتھ تمہیں بھی بگاڑ کر رکھ دے گا۔ اگر اب تم ایک دوسرے سے بات بھی کرو گے تو میں تم سے ناراض ہو جاﺅں گا۔ اس کے بعد امیرحمزہ کو کہا کہ عمرو کے ہاتھ کھول دو اور اسے یہاں سے نکال دو۔ اب یہ یہاں نہیں رہے گا۔ تم اس کے بغیر رہو۔ عمرو یہاں سے اپنے باپ کے پاس چلا گیا اور امیر حمزہ اپنے گھر میں اکیلے رہ گئے۔ عمرو کے بغیر امیر حمزہ کی حالت بری ہو گئی اس کی جدائی میںانہیں بھوک نہیں لگتی تھی ۔ انہوں نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور ہر وقت اداس رہتے اور عمرو کو یاد کرتے۔ جب انہوں نے دو دن تک کھانا نہ کھایا تو تنگ آکر خواجہ عبدالمطلب نے عمرو کو بلوایا اور امیر حمزہ کے حوالے کیا۔ امیر حمزہ عمرو کو دیکھ کر خوش ہو گئے اور اس کے ساتھ مل کر کھانا کھایا اور کھیل کود میں لگ گئے۔ دوسرے دن امیر حمزہ کے کہنے پر عمرو کو معاف کر دیا اور عمرو پھر مدرسے پڑھنے کے لئے آنے لگا اور ایسابن گیا جیسے اس جیسا اچھا بچہ کوئی اور نہیں ہے۔ استاد نے بھی یہ دیکھ کر اطمینان محسوس کیا کہ ایک بگڑا بچہ سدھر گیا ہے اور بہت اچھی طرح پڑھنے لگا ہے۔ اب پھر عمرو استاد کے گھر کے کام بھی کرنے لگا اور استاد جو چیز لانے یا لے جانے کے لئے کہتے وہ دوڑ دوڑ کر کر تا اور اس کی فرمانبرداری سے استاد اس سے بہت زیادہ خوش ہونے لگا اور عمرو کو بہت اچھی طرح پڑھانے لگا۔ مگر عمرو کی شرارتی طبیعت اسے کسی نئی شرارت پر اکساتی رہی اور عمرو موقع تلاش کرنے لگا کہ جب نئی شرارت کر کے وہ خوش ہو اور خوشی کا یہ موقع اسے بہت جلد مل گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں