عمرو اور کھجوروں کا باغ

umro_ayar_bag
EjazNews

خواجہ عبدالمطلب امیر حمزہ، مقبل اور دوسرے لڑکوں کو لے کر شہر میں آگئے اور تاکید کر دی کہ عمرو اگر گھر میں آنا چاہے تو اسے گھر کے اندر نہیں آنے دینا۔ دوتین روز گزر گئے امیر حمزہ کی عمرو سے ملاقات نہ ہوئی تو امیر حمزہ بہت پریشان ہو گئے۔ انہیں عمرو سے بہت محبت تھی اور اس کے بغیر ان کا گزارہ نہیں تھا۔ وہ عمرو سے ملنے کے لئے بیقرار ہو گئے۔خواجہ نے کہا ’’جو کچھ بھی ہو عمرو کو کسی صورت گھر میں نہیں آنا ہے۔ چاہے کچھ بھی کہے ۔ عمرو اس گھر میں نہیں آسکتا ‘‘۔ جب سات دن ہوگئے اور امیر حمزہ اور عمرو کی ملاقات نہیں ہوئی اورامیر حمزہ بہت بے چین ہو گئے اب انہوں نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور عمروکو ہر وقت یاد کرنے لگے۔ جب خواجہ عبدالمطلب کو پتہ چلا کہ امیر حمزہ نے کھانا کھانا چھوڑ دیا ہے تو وہ خود ان کو سمجھانے آئے۔ انہوں نے کہا ’’دیکھو بیٹا اس عمرو کی وجہ سے تمہاری بھی بدنامی ہوتی ہے۔ شرارتیں وہ کرتا ہے اور نام تمہارا ہوتا ہے کیونکہ تم اس کا ساتھ دیتے ہو تم کھانا کھائو اور سکون سے رہو۔ عمرو کا خیال چھوڑ دو ۔ وہ اپنے گھر ٹھیک ہے۔ یہاں آئے گا تو تمہیں بھی بگاڑ دے گا۔‘‘ امیر حمزہ نے کہا میرا ’’دل عمرو کے بغیر نہیں لگتا۔ میں اس کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہوں۔ اگر وہ نہیں آتا تو میں کھانا بھی نہیں کھائوں گا۔ جب میرا کچھ کرنے کو دل نہیں چاہتا تو کھانا کھانے کو بھی دل نہیں چاہتا۔ بس میں بغیر کھائے ٹھیک ہوں۔‘‘ خواجہ نے امیر حمزہ کو بہت سمجھایا مگر اس کی تو ایک ہی رٹ تھی عمرو کو بلائیں۔ آخر خواجہ نے کہا ’’ٹھیک ہے میں عمرو کو بلاتا ہوں مگر تم عمرو کا کہنا مت ماننا اور شہر سے باہر مت جانا۔ ‘‘ پھر خواجہ نے عمرو کوبلوایا اور اسے امیر حمزہ کے حوالے کیا۔ امیر حمزہ عمرو کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ دووں نے ساتھ مل کر کھانا کھایا اور اکٹھے رہنے لگے اور کھیل کود جاری ہوگیا۔ خواجہ نے امیر حمزہ کو کہہ دیا کہ اگر سیر کو جانے کا دل کرے تو اپنے کھجوروں کے باغ میں چلے جانا عمرو کے کہنے پر کسی اورطرف نہ جانا۔ امیر حمزہ نے کہا۔’’ایسا ہی ہوگا میں اور کہیں نہیں جائوں۔‘‘
امیر حمزہ، مقبل اور عمرو ساتھ رہتے اور کھاتے پیتے ، کھیلتے کودتے۔ دس دن تک کوئی نیا واقعہ نہیں ہوا اور یہ بچے آرام اور سکون سے رہے۔ دس دن بعد امیر حمزہ، مقبل اور عمرو بازار کی سیر کرنے نکلے۔ بازار کی سیر کرنے کے بعد اپنے کھجوروں کے باغ میں چلے گئے اور خوب گھومے پھرے۔ عمرو اس باغ سے انہیں کسی اور باغ میں لے گیا ۔ وہاں درختوں میں کھجوریں لگی ہوئی تھیں۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ باغ میں سنگ مرمر کا ایک تخت بنا ہوا تھا۔ امیر حمزہ بہت تھک گئے تھے انہوں نے مقبل کے زانوں پر سر رکھا اور سو گئے۔ عمرو ادھر ادھر پھرنے لگا پھرتے پھراتے ایک درخت کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ اس کی کھجوریں پکی ہوئی ہیں۔ اتنی خوبصورت پکی ہوئی کھجوریں دیکھ کر عمرو کے منہ میں پانی بھر آیا۔ وہ اسی وقت درخت پر چڑھ گیا بہت سی کھجوریں توڑ لایا اور تخت پر بیٹھ کر کھانے لگا۔ اسی وقت امیر حمزہ جاگے۔ انہوں نے عمرو کو کھجور یں کھاتے دیکھا تو ’’پوچھا یہ کھجوریں کہاں سے لائے ہو‘‘۔عمرو نے کہا’’میں خود درخت پر چڑھا اور یہ کھجوریں تو ڑ لایا‘‘۔ امیر حمزہ نے کہا دیکھنے ’’میں تو بہت میٹھی لگتی ہیں، ذرا ہمیں بھی چکھائو‘‘۔ عمرو بولا ’’میں کیوں دوں‘ میں درخت پر چڑھ کے توڑ کے لایا ہوں۔ آپ کو کھانی ہیں تو آپ بھی درخت پر چڑھ کر توڑ لائیے‘‘۔
امیر حمزہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے درخت کے قریب گئے اوپر دیکھا اور درخت پر چڑھنے لگے ۔ عمرو بھی ساتھ ہی چلا آیا تھا۔ امیر حمزہ کو درخت پر چڑھتے دیکھا تو کہا ’’درخت پر چڑھنا تو ہم جیسے دبلے پتلے کا کام ہے اور ہم درخت پر چڑھ کر پھل اتارتے ہیں مگر پہلوان تو درخت اکھا ڑکر کھاتے ہیں۔ آپ تو پہلوان ہیں پہلوانوں والا کام کریں اور درخت اکھاڑ کر کھجوریں کھائیں‘‘۔ امیر حمزہ کو عمرو کی یہ بات بری لگی اور ان کو غصہ آگیا۔ غصہ میں آکر انہوں نے درخت اکھاڑ ڈالا اور اس کی کھجوریں کھانے لگے۔ عمرو نے یہ دیکھا تو امیر حمزہ کی طاقت دیکھ کر حیران رہ گیا۔ مگر داد دینا تو اسے آتا ہی نہیں تھا۔ کیوں کہتا کہ بھئی واہ تم تو بہت طاقتور ہو۔ عمرو امیر حمزہ کو دق کرنے کے لئے بولا۔ ’’اس درخت کو تو کیڑے نے کھایا ہوا تھا۔ ایسے کیڑا کھائے ہوئے درخت کو تو مجھ جیسا دبلا پتلا آدمی اکھاڑ کر پھینک سکتا ہے۔ کسی مضبوط درخت کو اکھاڑئیے تو جب پتہ چلے کہ آپ میں بہت طاقت ہے۔‘‘ امیر حمزہ کو یہ سن کر بہت غصہ آیا اور انہوں نے غصے میں ایک اور درخت کو اکھاڑ دیا۔ عمرو کو اس بار بھی بہت حیرت ہوئی مگر حمزہ کو چڑانے کو بولا۔ ’’اس درخت کو تو پانی نہیں دیا گیا اس لئے کمزور ہو رہا ہے۔ ایسے کمزوردرخت کو اکھاڑنا بھی کوئی اکھاڑنا ہے کوئی اور درخت اکھاڑتے تو جانتے ‘‘۔ امیر حمزہ کو اور زیادہ غصہ آگیا اور غصے میں انہو ں نے تیسرا درخت اکھاڑ دیا اور چوتھا درخت اکھاڑنے چلے۔ اب عمروچلا اٹھا۔ ’’او عرب دیوانہ ہو گیا ہے جو باغ اجاڑ رہا ہے۔ کسی کا تجھے ڈر نہیں۔ یہ تیرا باغ تو نہیں کہ درخت اکھاڑتا پھرے اور کوئی تجھے کچھ نہ کہے۔‘‘ امیر حمزہ نے یہ سنا تو رک گئے اور عمرو سے کہا ۔ یہ سارے درخت میں نے تیرے کہنے پر اکھاڑے۔ تو مجھے غصہ نہ دلاتا تو یہ درخت نہ اکھاڑتا یہ حرکت تیری وجہ سے ہوئی ہے ۔
عمرو بھاگا بھاگا باغ کے مالک کے پاس گیا اور کہنے لگا ’’کھجوروں کا یہ باغ آپ کا ہے ‘‘۔ مالک نے کہا ’’میرا ہی ہے۔ کیوں کیا بات ہے ‘‘۔ عمرو نے کہا ’’ایک آندھی آئی تھی اس آندھی کی وجہ سے اب باغ کے کئی درخت جڑ سے اکھڑ گئے ‘‘۔ مالک نے کہا ’’باغ میں ہوا نہیں چل رہی۔ جب ہوا کا نام نہیں تو آندھی کہاں سے آگئی۔ باغ میں ہوا نہیں آندھی کیسی آسکتی ہے ‘‘۔ عمرو نے کہا ’’ یہ تو مجھے معلوم نہیں۔ خدا جانے آندھی کیسے آئی مگر میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ بالکل سچ ہے۔ میرے ساتھ آئو میں تمہیں اکھڑے ہوئے درخت دکھاتا ہوں۔‘‘
مالک کے ساتھ چل کر اس جگہ پر آیا دیکھا تو تین درخت جڑ سے اکھڑے پڑے ہیں۔ یہ دیکھ کر مارے دکھ اور افسوس کے مالک رونے لگا۔ کیونکہ ان ہی درختوں کی کھجوریں بیچ کر وہ گزارا کرتا تھا ۔ اب تین پھلوں سے لدے ہوئے درخت گرے پڑے تھے اور اس کی روزی کا ذریعہ ختم ہو گیا تھا۔ مالک درختوں کو دیکھ دیکھ کر رو رہا تھا۔ وہ جتنا درختوں کی طرف دیکھتا اتنا زور سے روتا اور کہتا جاتا ’’میری تو روزی کا ذریعہ ختم ہو گیا ۔ اب میں بھوکا مروں گا۔ ہائے میرے درخت میں اتنے بڑے اور مضبوط درخت اب کہاں سے لائوں گا۔ میری تو قسمت خراب ہے کہ میرے اتنا اچھا پھل دینے والے درخت جڑ سے اکڑھ گئے۔ ہائے میرے پھلدار درخت۔ ہائے ہائے ‘‘۔امیر حمزہ نے جو اس آدمی کوایسے روتے دیکھا تو انہیں اس آدمی پر بہت رحم آیا۔ انہوں نے کہا ’’آپ روئیے مت‘‘ مالک نے کہا’’کیسے نہ روئوں میرے درخت گر پڑے ہیں میری روزی کا ذریعہ ختم ہو گیا ، اب میں کیا کروں گا اور یہ نقصان کیسے پورا کروں گا۔‘‘ امیر حمزہ نے کہا یہ درخت میں نے اکھاڑے ہیں اور میں ہی ان درختوں کا نقصان پورا کروں گا۔ میں آپ کو ہر درخت کے بدلے ایک اونٹ دوں گا۔‘‘ یہ سن کر و ہ آدمی خوش ہوگیا اور امیر حمزہ کو دعائیں دینے لگا اور کہنے لگا ۔’’آپ کتنے اچھے ہیں کہ سچ بولتے ہیں اور کسی کو دکھی نہیں دیکھ سکتے۔ اپنی غلطی کو مان کر نقصان پورا کر نے پر تیار ہیں۔ ایسا لڑکا تو میں نے پہلا دیکھا ہے جو اتنا اچھا ہے۔‘‘ امیر حمزہ نے کہا اب باتیں چھوڑیں میرے ساتھ آئیں میں آ پ کو تین اونٹ دیتا ہوں۔‘‘امیر حمزہ اس آدمی کو اپنے ساتھ لے آئے اور اپنے اونٹوں میں سے تین اونٹ اس کو دے دئیے۔ وہ آدمی دعائیں دیتا ہوا اونٹ لیکر اپنے باغ کی طرف چل پڑا۔ عمرو بھی اس آدمی کے ساتھ چل پڑا۔ اس آدمی سے عمرو کہنے لگا ’’ سنو، درخت تو آندھی سے اکھڑے اور لڑکے کی خوشامد کر کے اونٹ لیتے ہو۔ میں جانتا ہوں کہ یہ غلط ہے اس لئے میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ ان اونٹوں کو واپس کرو یہ تمہار ا حق نہیں ہی۔ لڑکے سمجھ کر بیکار دھونس جمارہے ہو اور اتنے قیمتی اونٹ فضول سے درختوں کے بدلے لے رہے ہو۔ ‘‘ مالک نے کہا ’فضول کیوں، میرے درخت کھجوروں سے لدے ہوئے تھے۔‘‘ عمرو نے کہا ’’پھروہ کھجوریں یہ لڑکا لے تو نہیں لے آیا۔ وہ کھجوریں تمہارے باغ ہی میں ہیں۔ تم ان کو بیج کرپیسے کما سکتے ہو۔‘‘
مالک نے کہا ’’مگر میرے درخت تو جڑ سے اکھڑے گئے اب اگلے سال تو وہ پھل نہیں دیں گے۔ میرا یہ نقصان کون پورا کرے گا۔‘‘ عمرو نے کہا ’’آندھی پورا کرے گی۔ ہوا سے کہو، وہ نقصان پورا کرے ، جس نے درخت اکھاڑے ہیں۔ ‘‘عمرو نے مالک سے اتنی تکرار کی کہ وہ تنگ آیا اور اس سے پیچھا چھڑانے کے لئے اس نے ایک اونٹ عمرو کو دے دیا۔ کیا کرتا۔ اگر وہ عمرو کو اونٹ نہ دیتا تو عمرو اسے آگے نہ بڑھنے دیتا۔ مالک نے ایک اونٹ دے کر عمرو سے پیچھا چھڑایا اور دو اونٹ لے کر چلا گیا۔ اب عمرو بھی اونٹ لے کر بازار چلا گیا اور اونٹ بیچ کر پیسے کمائے اور خوش خوش گھر کی طرف چلا۔ گھر آیا تو امیر حمزہ عمرو کا انتظار کر رہے تھے اسے دیکھتے ہی کہنے لگے ’’یہ تم اچانک کہاں چلے گئے تھے اور یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ‘۔ عمرو نے کہا ’’پیسے ہیں‘‘۔ حمزہ نے کا ’’اتنے پیسے کہاں سے آئے ‘‘۔عمرو بولا ’’اونٹ بیچ کر‘‘ حمزہ نے کہا اونٹ کہاں سے لائے تم۔ اب عمرو نے امیر حمزہ کو پورا واقعہ سنا دیا۔ امیر حمزہ نے کہا تم نے بہت برا کیا۔ غریب آدمی سے اونٹ لے لیا۔ عمرو نے کہا کوئی غریب نہیں ہے۔ اس نے تمہیں ٹھگ لیا تھا۔ میں اس سے اونٹ واپس لے آیا۔ حساب برابر ہوگیا۔ امیر حمزہ نے کہا کسی کو تو بخش دیا کرو ہرایک کو پریشان کر دیتے ہو۔ مگر وہ عمرو بھی کیا جو مان جائے۔ ہاں اگلی مرتبہ اس کی شرارت کا رنگ جدا ہوتا تھا۔ وہ ایک ہی شرارت بار بار نہیں کرتا تھا اور وہ جو کہتا تھا کہ آئندہ یہ بات نہیں کروں گا تو وہ سچ ہی کہتا تھا۔ اگلی مرتبہ اس کی شرارت پہلی سے بھی زور دار ہوتی تھی۔ اس کی شرارتی طبیعت اسے چین نہیں لینے دیتی تھی۔ وہ کوئی نہ کوئی شرارت کرتا ہی رہتا اور یہی سوچتا رہتا کہ اب کیا کرے۔ اور یہی بچار اس کو خوشی اور اطمینان دیتی اور ہر شرارت کے بعد وہ بہت خوش ہوتا۔
وقت گزر رہا تھا اور یہ تینوں لڑکے ساتھ رہتے دوستیاں نبھاتے ایک دوسرے سے اپنی کہتے اور ایک دوسرے کو سناتے او ر عمرو کی نئی نئی شرارتیں دیکھتے ہوئے بڑے ہو رہے تھے۔ امیر حمزہ ایسی باتیں کرتے جو طاقتوروں کے کرنے کی ہوں مقبل نے کمان لے لی تھی اور تیر چلاتے رہتے۔ انہوں نے تیر چلانے میں مہارت حاصل کرلی تھی اور عمرو تو سدا سے شرارت کا پتلا تھا۔ اس کو شرارت کے بغیر چین نہیں تھا اور ان ہی شرارتوں کی وجہ سے دوستوں میں رونق رہتی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں