عمروکی چالاکی

umro_ayar_bag
EjazNews

امیر اپنے گھر والوں سے رخصت ہوئے اور تیسں (30) ہزار کا شکر لیکر ایران کے شہرمدائن کی طرف چلے۔ کافی چلنے کے بعد ایک دوراہے پر پنہچ کربزرگ امیدسے دوراہوں کا حال پوچھا تو انہوں نے کہا کہ دونوں راستے مدامن کو جاتے ہیں ایک راستہ چھوٹا ہے اور اس پر جانے سے جلدی کی جائیں گے مگر پانچ سال سے اس طرف ایک شیرآ گیا ہے۔ اس شیر کے ڈر سے لوگ اس راستے پرنہیں جاتے اور لمبے راستے سے جاتے ہیں۔ عمرونے یہ سن کر کہا۔” ہمیں مدائن جاتا ہے۔ اس راستے سے جا ئیں گے تو خطرے میں پڑیں گے ہم کیوں خطرے میں پڑیں۔ صرف یہ ہے کہ اس راستے سے جلدی جائیں گے۔ ہمیں جلدی جانے کی کوشش کر کے اپنے آپ کو خطرہ میں نہیں ڈالنا چاہئے وہ دور کا راستہ اچھا ہے جہاں سے ہم بڑے آرام سے گزر جائیں گے۔ لیکن امیر حمزہ نے دل میں سوچا کہ اگر میں نے یہ راستہ اختیار نہ کیا تولوگ کہیں گے کہ شیر سے ڈر گیا۔ مجھے اسی راستے سے جانا چاہئے تا کہ شیر کو مار کر لوگوں کو اس شیرسے بچائیں۔ انہوں نے اپنے لشکر والوں سے کہا کہ تم سب کے راستے سے جاؤ۔ میں اس چھوٹے راستے سے جاؤں گا اور شیر کو مار کرتم لوگوں سے ملوں گا۔ سب لوگوں نے امیرحمز کومنع کیا مگر وہ نہ مانے اور ان کے پاس جواسلحہ تھا اسے بدن پر سجایا اور اپنے کالےگھوڑے قیطاس پر سوار ہوئے اور جنگل کی راہ لی کی جس میں شیر رہتا تھا۔
عمرو نے بھی گھوڑے کا شکار بند پکڑا اور امیر حمزہ کے ساتھ چل پڑا۔ عمرو نے امیرحمزہ سے کہا۔ ”اے امیر میں نے بھی شیر نہیں دیکھا۔ اب دیکھنا چاہتا ہوں کہ شیر ہوتا کیا ہے۔ امیر نے ہنس کر کہا۔ تم ساتھ ہوگے تو ہمارا بھی دل بہلے گا اورتم سے باتیں کر کے وقت کا پتہ نہ چلے گا کہ کب گزرگیا“۔اب امیر اور عمرو ساتھ چلے۔ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ عمرو کو رفتار کی قوت عطا ہوئی تھی اور وہ امیر کے گھوڑے کے برابر بھاگ سکتا تھا تو یہ دونوں بڑے آرام سے سفر کرنے لگے۔ عمرو کو بہت اچھی اچھی باتیں آتی تھیں وہ تھوڑی دیر میں روتے ہووں کو ہنسا سکتا تھا۔ اس کی باتوں سے بھی بوربیت نہیں ہوتی تھی۔ اس لئے تمام دن باتیں کرتے گزرگیا۔ میدان بھی پارکرلیا اور رات وہیں گزاری صبح ہوئی توچل پڑے۔ تیسرا پہر ہوا تو جنگل نظر آنے لگا۔ جنگل خوب ہرا بھرا تھا۔ امیرنے عمرو کی طرف دیکھ کر کہا۔ ”لگتا ہے شیراسی جنگل میں ہوگا‘‘ عمرو نے کہا۔ ”واقعی اسی جگہ ہے جہاں شیر کو ہونا چاہئے۔ ہمیں انہیں شیر کا انتظار کرنا چاہئے۔ امیر گھوڑے سے اتر کر زین پوش بچھا کر بیٹھے اور شیرکا انتظار کرنے لگے۔ عمروگھوڑے کو چرانے لے گیا۔ وہاں جو اس نے رنگ برنگے پھول دیکھے تو یہ پھول اسے بہت پسند آئے اور پھولوں کو توڑ توڑ کر ان کا گلدستہ بنانے لگا۔ جب گلدستہ بن جاتا تو اس کو امیر کو دکھانے کو لاتا اور پھر دوسرا گلدستہ بنانے چلا جاتا۔ امیر کو خطرہ تھا کہ کہیں یہ پھول توڑتا رہے اور شیر اس پر عمل نہ کر دے اس لئے امیر بھی عمرو کے ساتھ پھرنے لگے۔ اتنے میں پانی کا چشمہ نظر آیا اور امیر چشمہ کے کنارے بیٹھ کر پانی کا تماشا دیکھنے لگے۔ عمروگھوڑے کو درختوں کی آڑ میں چرارہا تھا۔ جنگل میں سرسراہٹ ہوئی تو عمرو اس طرف دیکھنے لگا۔ یہ سرسراہٹ اس لئے ہوئی تھی کہ شیر نے آدمی کی بو سونگھ لی تھی اور اب وہ دبے پاؤں جھاڑیوں کی طرف بڑھ رہا تھا۔ بڑھتے بڑھتے شیر جھاڑیوں سے باہرنکل آیا۔ عمرو نے تمام زندگی شیر دیکھا نہ تھا۔ شیرکودیکھتے ہی ڈر گیا اور گھوڑے کو چھوڑ کر بھاگ کر درخت پر چڑھ گیا۔ اب عمرو نے درخت پر سے کہا حمزہ آپ بھی درخت پر چڑھ جائو ورنہ شیر حملہ کردے گا“۔ امیر یہ سن کر ہنسنے لگے اور کہا۔ ”اومکار!پاگل ہوئے ہو، مجھے کہتے ہو کہ درخت پر چڑھ کر جان بچائوں میں تو شیر کو مارنے آیا ہوں۔ پھر اس سے بھاگ کر کیوں جاؤں۔ میں درخت پر چڑھ گیا تو یہ میرے گھوڑے کو کھا جائے گا اور میرا گھوڑامیری جان کے برابر ہے۔
اب امیر حمزہ شیر کی طرف بڑھے اور عمرو نے درخت کے اوپر سے مذاق اڑانا شروع کیا کہ ذرا دیکھوتو یہ پاگل عرب شیرکو مارنے بڑھ رہا ہے۔ شیر کو دیکھو اور اس کو دیکھو، کیا اتنا بڑا شیر اس اتنے سے عرب سے مر پائے گا۔ فضول کوشش ہے۔ ہاں بھئی فضول کوشش ہے۔ خواہ مخواہ شیر پرحملہ کر کے زخمی ہوجائے گا اور اس جنگل میں اس زخمی کو کون پوچھے گا۔ کیا شیر اس کی خیریت معلوم کرنے آیا ہے اس سے ملنے آیا ہے کہ یہ شیر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امیر نے عمرو کی کسی بات پر دھیان نہیں دیا اور شیر کی طرف بڑھتے رہے۔ جب قریب گئے تو دیکھا کہ شیر سر سے لیکر دم تک چالیس (40)ہاتھ لمبا ہے اورشیرکی صورت بھی کافی رعب دار ہے شیر نے آدمی کو اپنے سامنے دیکھا تو ان پر چھلانگ لگادی۔ شیر نے امیر کا سردانتوں میں دبانا چاہامگر امیر نیچے بیٹھ گئے اور شیرامیر کے اوپر سے چل کر آگے جاپڑا۔ امیر نے پھرتی سے شیر کے دونوں پچھلے پیروں کو پکڑا اور سر کے اوپر چکر لگوانے لگے اور اسی طرح گھما کر اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر شیر کو زمین پر دے مارا۔ زمین پر اس طرح پڑھے جانے سے شیراسی وقت مرگیا۔ عمرو کی جان میں جان آئی اور وہ درخت سے اترا اور امیر کی تعریف کرنے لگا۔ عمرو نے جنگل میں سے سوکھے درختوں کی لکڑیاں کاٹیں اور ان کی گاڑی بنائی۔ اس گاڑی پرعمرو نے شیرکوڈالا امیر سے کہا۔”دیکھئے میں کیا کرتا ہوں۔ اس وقت شام ہورہی تھی یہ دونوں گاڑی کے ساتھ راستہ طے کرنے گئے اور صبح کے وقت مدائن پہنچ گئے شہر سے باہر قلعہ کے سامنے ایک اونچی جگہ تھی عمرو نے شیر کو اس اونچی جگہ پر بٹھا دیا اور خود امیر کے ساتھ جنگل میں چلا گیا۔
صبح شہر کا دروازہ کھلا تو جولوگ محنت مزدوری کرتے تھے وہ شہر سے باہر نکلے کوئی لکڑیاں کاٹنے چلا تو کوئی گھاس کاٹنے کے لئے آگے بڑھا۔ ان مزدوروں میں سے ایک نے سامنے دیکھا تو اسے شیر نظر آیا۔ اس نے چیخ کر اپنے ساتھیوں کو بتایا اور خود بے ہوش ہو گیا۔ اس کے ساتھ جو مزدور تھے وہ اپنی جانیں بچا کر شہر کی طرف بھاگے اور چیخنے چلانے لگے کہ دروازہ بند کر دو نہیں تو شیر شہر میں آجائے گا۔ چوکیداروں نے فورا دروازہ بند کر دیا اور بادشاہ کو اطلاع دی کہ جنگل سے شیر آ کر سامنے پہاڑی پر بیٹھا ہوا ہے۔ بادشاہ قلعہ کے برج پر چڑھ گئے اور دیکھا کہ اونچی جگہ پر واقعی شیر بیٹھا ہوا ہے۔ شہر کے تمام لوگ بھی قلعے کی فصیل سے تماشا دیکھنے لگے۔ بادشاہ بختک اور خواجہ بزریمر اور دوسرے وزیرامیر بھی دیکھ رہے تھے۔ تمام لوگ شیر کو دیکھ کر ڈر گئے تھے کوئی ایسا نہ تھا جوشیر کو مارنے کا ارادہ کرتا۔
مقبل وفادار روز بادشاہ کو سلام کرنے آتا تھا۔ اس روز بھی جیسےہی قلعہ کے قریب آیا تو شور کی آوازیں سن کر حیران ہوا کہ آخر کیا ہو گیا ہے کہ لوگ شور مچارہے ہیں اس نے غور سے دیکھا تو لوگ ایک طرف اشارے کررہے ہیں اس نے اس طرف دیکھا تو پتہ چلا کہ ایک اونچی جگہ پر شیر بیٹھا ہوا ہے۔ وہ اپنا گھوڑا بھگا کے شیر کی طرف چلا گیا۔ قریب گیا تو سوچنے لگا کہ شیر ایک ہی جگہ کیوں بیٹھا ہے اور ہلتا جلتا کیوں نہیں۔ جب شیر کے بالکل پاس گیا تو پتہ چلا کہ شیر تو مرا ہوا ہے۔ اس کو یقین ہو گیا کہ یہ وہی شیر ہے جس کو امیر حمزہ مارنے چلے تھے۔ اس نے سوچا کہ امیر حمزہ نے اس شیر کو مارا ہے اور عمرو نے اپنی چالاکی اور ہوشیاری سے اس کو یہاں بٹھایا ہے اب وہ واپس پلٹا اور بادشاہ کو جا کر بتایا کہ شیر زندہ نہیں ہے بلکہ یہ تو جنگل کاوہی شیر ہے جس کے ڈر سے لوگ اس راستے پرنہیں جاتے تھے اسے امیر حمزہ نے مار دیا ہے اور عمرو نے اپنی ہوشیاری سے اس کو یہاں لا بٹھایا ہے۔ بادشاہ بہت خوش ہوا۔ شہرکا دروازہ کھلوایا اور جاکر شیرکو قریب سے دیکھا۔ اتنے بڑے شیر کے مارے جانے کی خوشی میں جشن کا انتظام کروایا اور مقبل کو انعام اور خلعت دی۔ جب دربار ختم ہوا تو مقبل نے بادشاہ سےرخصت لے کر قیمتی کپڑے پہنے ہوئے بہت اچھے گھوڑے پر سوار ہو کے امیر حمزہ کو ملنے چلا۔
امیر حمزہ اور عمرو شہر سے باہر ہی رک گئے تھے کہ سب لشکر آ جائے تو سب مل کے مدائن چلیں گے۔ ایک روز امیرحمزہ نے عمرو کو کہا کہ جا کر معلوم کرو کہ سب لوگ آگئے ہیں یا کوئی پیچھے رہ گیا ہے۔ عمرو امیر حمزہ سے الگ ہو کے قلعے کی طرف چلا تو اس نے دیکھا کے مقبل بڑی شان سے چلا آرہا ہے۔ عمرو کھڑا ہوگیا کہ اتنے دنوں بعد مل رہے ہیں یہ گھوڑے سے اتر کر مجھے گلے ملے گا اور میرا حال پوچھے گا لیکن مقبل گھوڑے سے اترنہ ان اس کا حال پوچھا بلکہ عمرو کو دیکھ کر ہنسا اور پوچھا۔ ”امیر کہاں ہیں اور تو یہاں کہاں آوارہ پھر رہا ہے۔ تجھے تو امیر کے ساتھ ہونا چاہئے تھا‘‘ عمرو کو اس کی یہ بات بہت بری لگی۔ اس نے کہا۔ ”سن او بد بخت! تجھ کو امیر نے بادشاہ کے پاس بھیجا تھا۔ اب بادشاہ کو چھوڑ کے کس کے حکم سے باہر آیا ہے، مقبل نے کہا ”میں نے اندازہ لگایا ہے کہ امیر شہر کی طرف آرہے ہیں اس لئے ان کو سلام کرنے کے لئے آیا ہوں‘‘ – عمرو نے کہا۔ ”تو نے بہت برا کیا جو شہر سے باہر آیا، مقبل نے کہا۔ ” تو مجھ سے کیوں برابری کررہا ہے۔ میں تو بادشاہ کو بتا کر آیا ہوں تو خوامخواہ مجھ سے ضد بحث کرتا ہے۔ عمروتو بہانہ ڈھونڈ رہا تھا کہ کوئی موقع ملے اور اس سے الجھ پڑوں۔ کہنے لگا۔ سن اے غلام !تم ہوکس قابل کہ مجھ کو کہتے ہو کہ میری برابری مت کر تمہیں یہ ہمت کیسے ہوئی کہ میرے منہ لگو۔ یہ کہتے ہی اپنے لباس سے غلیل نکالی اس میں پتھر رکھا اور نشانہ باندھ کر مقبل کو مارا۔ وہ مقبل کے ماتھے پر لگا اور خون بہنے لگا مقبل بہتے خون کے ساتھ امیر حمزہ کے پاس آیا اس کے ماتھے سے خون بہتے دیکھا تو امیر یہ سمجھے کہ مقبل کو مدائن والوں نے مارا ہے مقبل نے امیر کے قدم چومے اور بتایا کہ مجھے عمرو نے بغیر کسی قصور کے مارا ہے۔ امیر نے مقبل کوتسلی دی اور عمرو کی اس حرکت پر ان کو بہت ہنسی بھی آئی۔ انہوں نے مقبل کو کہا۔ ”ابھی عمروآئے گا تو اس سے پوچھیں گے کہ اس نے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسی حرکت کیوں کی‘‘۔ امیر کوہنسی اس لئے آئی کہ وہ عمروکی حرکتیں جانتے تھے وہ سمجھ گئے کہ کسی بات پر ان کی تکرار ہوگئی ہے اور عمرو زبان کے ساتھ ہاتھ چلانا بھی خوب جانتا تھا اور کوئی موقع ضائع نہیں کرتا تھا۔ ابھی امیرمقبل سے باتیں ہی کررہے تھے کہ عمرو بھی آگیا۔ امیر نے کہا۔ ”عمروتم نے مقبل کا سرکیوں پھاڑا‘‘عمرو نے جواب دیا۔ ”امیرآپ ہمارے مالک ہیں۔ انصاف کریں۔ اگر دو ساتھیوں کی بہت دنوں بعد ملاقات ہوتو آدی توقع رکھتا ہے کہ میرا ساتھی مجھ سے خوش ہو کے ملے گا۔ مجھے بھی توقع تھی کہ یہ گھوڑے سے اتر کر مجھ سے گلے ملے گا اور میراحال پوچھے گا۔ اس لئے میں اسے دیکھ کر کھڑا ہوگیا مگر نہ یہ گھوڑے سے اترا اورنہ سلام دعا کی بلکہ غرور کے ساتھ بیٹھا رہا۔ اسے قیمتی لباس اور سونے کے صندوق پرغرور ہے اور اس غرور میں یہ سب کچھ بھول گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ خدا کم ظرف کو اس کی اوقات سے زیادہ نہ دے ورنہ وہ اپنی اوقات بھول جاتا ہے۔ امیر نے جب سب حال سنا تو مقبل سے کہا۔ ”قصور تمہارا ہے اور تم نے عمرو کو بے کار ناراض کیا۔ اب یہ ضروری ہے کہ آپس میں صلح کرلو مقبل صلح کرنے پر تیار ہوگیا لیکن عمروصلح کرنے پر تیار نہ ہوا۔ کہنے لگا۔ کہ یہ مال والا آدمی ہے اور میں غریب اور غریب پر کوئی ویسے بھی بھروسہ نہیں کرتا یہ مجھ پرکیسے بھروسہ کرے گا اس کا اور میرا کیا جوڑ ہے۔ امیر اور غریب بھی برابر ہوتے ہیں جو اب ہوں گے۔ جب مقبل نے دیکھا کہ عمر صلح پر تیار نہیں ہے تو اس نے امیر سے کہا۔ یہ اس مال کے صندوق پرنظر رکھے ہوئے ہے۔ جب تک اسے مال نہیں ملے گا یہ نہیں مانے گا آپ اس صندوق میں سے اسے کچھ دے دیں تا کہ یہ مجھ سے صلح کرلے۔ امیرنے ایک صندوق عمرو کو دیا۔ عمرو نے جیسے ہی صندوق میں سونا دیکھا تومقبل کو گلے لگا لیا اورصلح کرلی۔ عمروکی تو بچپن سے عادت تھی کہ وہ سونے کی چیزیں بڑے شوق سے لیتا تھا اب بھی سونا پاکراسے بڑی خوشی ہوئی۔ اس صلح کے بعد سب خوش خوش مقبل کے لائے ہوئے میوے کھانے لگے۔ رات گزاری۔صبح امیر نے بزرگ امید کو مدائن بھیج دیا اور اس کے جانے کے تیسرے دن اپنے لشکر سمیت امیر بھی مدائن کو چلے۔عمرو امیر حمزہ کے گھوڑے کے ساتھ ساتھ چلا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں