علاءالدین کی تخت نشینی

علاءالدین_کی_ تخت_ نشینی
EjazNews

علاءالدین خلجی نے جیسی سنگ دلی کے ساتھ اپنے چچا اور ولی نعمت کو قتل کرایا، اس نے لوگوں کوقدرتی طور پرسخت متنفر کر دیا، ہم عصر برنی کے ہر ورق سے یہی بے زاری ٹپکتی ہے اور دوسری قریب العصر یا بعد کی تاریخیں سب اس پر لعنت و نفرین بھیجتی ہیں مگر خود کڑے کے لوگ تاویل کرتے تھے اور صاحب فتو ح السلاطین بھی ادھر مائل نظر آتا ہے کہ جلال الدین خلجی مال و دولت پر قبضہ کرنے کے علاوہ علاءالدین کو اپنے لشکر میں لے جا کر قید یا قتل کرنے کی فکر میں تھا۔ (فتوح)
ایک مجذوب جنہیں کڑے والے کڑک صاحب کہتے ہیںاور بعض تاریخوں، تذکروں میں کڑک نام آیا ہے۔علاءالدین کے سرپرست تھے۔ انہوںنے یہ ہانک لگائی تھی کہ ہر کہ آرد باتو جنگ۔ تن در کشی سردرگنگ۔ (فرشتہ نے بھی ”معتبر لوگوںسے“ یہ روایت نقل کی ہے اور لکھا ہے کہ جلا ل الدین کا ایک قاتل تو دیوانہ ہوگیا دوسرا جذام کے مرض میں مبتلا ہو کر مرا)۔
یہ تو مجذوب صاحب کی کرامت ہوئی۔ دہلی کی بادشاہی ملکہ جہاں کی حماقت نے علاءالدین کو دلوائی۔جلال الدین کابڑا بیٹا ارکلی خاں ملتان میں سندھ و پنجاب کی حفاظت پر مامور اور بہادری میں مشہورتھا۔ ملکہ نے اس کی بجائے چھوٹے بیٹے قدر خاں کی بادشاہی کا اعلان کردیا۔ امیر وزیروں سے بادل ناخواستہ نذریں دلوائیں۔ خود ”کوشک سبز“ میں آکر عہدے اور منصب تقسیم کیے۔ نوجوان بادشاہ ”رکن الدین ابراہیم “ ملقب ہوا۔ ارکلی خاں ملتان سے دہلی آرہا تھا۔ یہ خبریں سن کر بہت بگڑا اور وہیں رک گیا۔ سلطنت اپنے سب سے قوی بازو کی مدد سے محروم ہو گئی۔ ادھر علاءالدین اگرچہ چچا کو مار کر خود مختاری کا نقارہ بجوا چکا تھا لیکن پائے تخت پر بڑھنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ لکھنوتی جانے کا ارادہ کررہا تھا۔ ماں بیٹوں میں اختلاف کا حال سنا تو فوراً دہلی کی طرف چلا اور اس شان سے چلا کہ تمام راستے سونے چاندی کے پھول نچھاور کرتا جاتا تھا۔ ہاتھی پر ایک چھوٹی سی منجنیق رکھوالی تھی۔ وہ یہ ”احترزر“ دور تک پھنکتی اور خلقت انہیں لوٹ کر اپنی جھولیاں بھرتی تھی۔ امیر خسرو ؒ فرماتے ہیں کہ اسی زر افشاں منجنیق سے دہلی کا قلعہ فتح ہوا۔
لکھا ہے کہ بداوں پہنچتے پہنچتے ساٹھ ہزار فوج زیر علم جمع تھی۔ برسات کے کیچڑ پانی سے راستے خراب تھے مگر علاءالدین کا عزم و ہمت کسی دشوار کو خاطر میں نہ لایا۔ نہ صرف بداﺅں کا صوبہ دار فرار ہوا بلکہ خود دہلی کے حکام خوف زدہ ہو گئے ۔ ملکہ جہاں ناتجربہ کار بادشاہ اور نئے امیر و وزیر کو لے کر ملتان بھاگی۔ شہر میں ان کے جانے سے شور مچ گیا اور جلال الدین کے قتل کا ماتم تازہ ہوگیا۔

سلطان شمس الدین ال تمش

علاءالدین بڑے کرو فر سے شہر میں داخل ہوا۔ اور اسی سال (695ھ۔ 1295ء) کے آخری مہینے میں تاج پوشی کی رسم دھوم دھام سے منائی گئی۔ عیش و طرب کے جملہ سامان مہیا اور بادشاہ کی طرف سے وسیع پیمانے پرعوام و خواص کی مہمانی کااہتمام ہوا۔ قدیم عمائد و امرا کے مناصب و جاگیرات میںاضافے کیے گئے۔ مساکین و مستحقین کوصدقہ و خیرات میں لاکھوں روپے ملے اور ہر طبقے کے لوگوں میں اتنے انعام بٹے کہ محتاج فارغ البال اور خوش حال مالا مال ہو گئے۔ ان رنگ رلیوں میں کسی کو یاد نہ رہا کہ جس شخص کی اطاعت گزاری کا آج حلف اٹھا رہے ہیں کل اسے کتنی گالیاں دیتے تھے۔ ضیاءالدین برنی لکھتا ہے کہ ساری خلقت روپے کی دیوانی اور نئے نئے سانگ تماشوں میں ایسی محو تھی کہ علاءالدین کے فعل قبیح اور کفران نعمت کا کوئی ذکر ہی زبان پر نہ لاتا تھا۔
سلطان مقتول کے وارثوں کی طرف سے خلش باقی تھی، وہ چند ہفتے میں دور ہوگئی۔ علائی لشکر کے مقابلے میں ملتان کی شاہی فوجوں نے لڑنے سے انکار کر دیا۔ ارکلی خاں اس کی ماں، بھائی اور جملہ رفیقوں کو جاں بخشی کے وعدے پر اطاعت قبول کرنی پڑی۔ بڑے شہزادے اندھے کر کے قلعہ ہانسی میں اور خواتین شاہی دہلی میں نظر بند کی گئیں۔
مغلو ں کے حملے:
یہ مہم علاءالدین کے بھائی الماس بیگ اور ملک ہز بر الدین ظفر خاں نے سر کی تھی۔ وہ سلطان کے سب سے دلیر و معتمد علیہ امیر تھے اور انہی کو مغلوں کے مقابلے میں بھیجاگیا جوسلطنت دہلی کی افراتفری سن کر دوبارہ سندھ بلکہ چناب کے پار اتر آئے تھے۔ شاہی فوجوں نے جالندھر سے آگے بڑھ کر انہیں روکا اور حوالئی لاہور میں سخت شکست دی۔ (696ھ۔۔ 1296ئ) فارسی تاریخوں میں ان کے حملوں کو ایسی بے ترتیبی سے تحریر کیا ہے کہ ان کی تعداداور کیفیت کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔ مناسب ہوگا کہ ہم ان سب کو ایک جگہ بیان کردیں کیوں کہ ہمارے خیال میں یہ مغلوں کے کسی واحد منصوبے ہی کے اجزا تھے۔
یہ حملے خراسان کی طرف سے ہوتے تھے۔ جہاں زیر نظر عہد میں قتلغ شاہ حکمران تھا۔ وہ ایران کے مغل بادشاہ غازان محمود کا مشہور سپہ سالار گزرا ہے اور ہماری تاریخوں میں بظاہر اسی کو قتلغ خواجہ کہا گیا یا کسی دوسرے قتلغ سے خلط ملط کر دیا ہے جو ماوراءالنہر کا مغل شہزادہ تھا۔ حوالئی لاہور میں شکست کھا کریہ حملہ آور موجودہ بلوچستان و سندھ میں جا گھسے اور سیوستان کے بعض قلعوں پر قبضہ کر لیا۔ وہیں ظفر خاں نے 697ھ میں انہیں گھیر گھیر کر مارا اور بہت سے قیدی دہلی بھجوائے۔ اب خود قتلغ خواجہ نے ایسے وسیع پیمانے پر لشکر کشی کی کہ چنگیز خانی سیلاب کی یاد تازہ ہوگئی۔ اور ایسا معلوم ہونے لگا کہ اس دفعہ پائے تخت دہلی کی خیر نہ ہوگی۔ کیونکہ مغلوں نے راستے میں کسی شہر کو تاراج و خراب نہیں کیا بلکہ سیدھے دہلی تک آئے اور جمنا کا رخ چھوڑ کر ، تین طرف سے شہر کو گھیر لیا۔ ان کی آمد سے ڈر کر ہزاروں پناہ گزیں دہلی میں آبھرے۔ ناکہ بندی نے رسد رسانی کے ذرائع معطل کر دئیے۔ لا محالہ اجناس کی قیمتیں چڑھیں۔ چند ہی روز کی تکلیف نے آرام طلب شہریوں کی پریشانی بڑھا دی۔ ایک امیر نے خلوت میں بادشاہ کو صلاح دی کہ جس طرح ممکن ہو روپیہ دے کر یہ بلا ٹالی جائے مگر بادشاہ نے اسے جھڑک دیا اور فوجی تیاریوں کی تکمیل کر کے شہر پناہ سے باہر میدان میں نکل آیا۔شاہی فوج کی تعداد مغلوں کی دو کے مقابلے میںتقریباً تین لاکھ تھی۔ اور ظفر خاں، الغ خاں ، غازی ملک (تغلق) جیسے آزمودہ کار سپہ سالار دہلی میں حاضر تھے۔ فتوح السلاطین میں ہم بعض دلچسپ جزئیات مطالعہ کرتے ہیں ۔ برنی نے لڑائی کے حالات خاصی تفصیل سے مگر بہت بے ترتیب لکھے ہیں۔ عصامی کا بیان نظم کی پابندی کے باوجود زیادہ مشرح اور واضح ہے۔ مثلاً یہ کہ ظفر خاں نے زنانہ سنگار اور لباس قتلغ خواجہ کوبھجوایا اورپیام دیا تھا کہ ہمت ہے تو خود میدان میں آﺅ ورنہ یہ اوڑھنی اوڑھ لو! اسی پر مشتعل ہو کر یہ سپہ سالار پورے اہتمام و عزم کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ دوسری بات یہ کہ مغل اس مہم میں اپنی عورتوں کو بھی ہمراہ لائے تھے
مورخ فرشتہ لکھتا ہے کہ تادم تحریر (یعنی 1015ھ ۔۔1605ء) شمالی ہندوستان کی تاریخ میں اتنی بڑی لڑائی ، کم سے کم مسلمانوں کے عہد میں، کوئی نہیں ہوئی۔ جس میں فریقین کی سپاہ پانچ لاکھ سے زیادہ تھی۔ مہر ولی کی پہاڑیوں سے مغرب میں بڑھیں تو ایک وسیع نشیبی میدان ملے گا جس میں کیلی کا موضع ابھی تک موجود ہے۔ یہیں دہلی کی یہ خوں ریز جنگ لڑائی لڑی گئی ۔ مغلوں کی جفا کشی ، جاں بازی اور سبک پائی میں کلام نہیں مگر جس وقت ظفر خاں کہ قوت و شجاعت میں رستم زماں کہلاتا تھا، شاہی میمنہ لے کر بڑھا اور جنگی ہاتھیوں کو دشمن پر ہول کر رسالے کے پے در پے حملے کیے تو مغلوں کا بایاں بازو اپنی جگہ پر قائم نہ رہ سکا ۔ اس کی صفیں ٹوٹ کر اصل جمعیت سے دور ہوتی چلی گئی۔ سواران دہلی نے انہیں گھیر گھیر کر قتل کیا اور میلوں تک ظفر خاں انہیں اسی طرح دباتا اور مارتا چلا گیا۔ حتیٰ کہ اسی دلیری کی وجہ سے خود اس کی جان گئی۔ تاہم مغلوں کا اتنا نقصان ہوا کہ پھروہ مقابلے میں نہ ٹھہر سکے اور دو تین دن میں بھلاوا دے کر راتوں رات واپس چلے گئے۔ (697ھ۔۔1297ئ)

سلاطین شمسی اور فتنہ مغول

اس ناکامی کے بعد کئی سال تک مغلوںنے پیش دستی نہیں کی۔ علائی افواج گجرات، راج پوتانہ و دکن میں مصروف کشور کشائی رہیں۔ غالباً پائے تخت کافوجوں سے خالی ہونا سنکر ہی 703ھ میں مغلوں نے پاکستان و ہند میں ترک تاز تازہ کی اور ان کا نامی سردار ترغی بے موسم کی آندھی کی طرح یکایک پنجاب سے بڑھ کر پائے تخت پر آچڑھا۔ یہ بارہ تمن، یعنی ایک لاکھ بیس ہزار سپاہی تھے اوربادشاہ کے پاس آدھی فوج بھی نہ تھی۔ مجبوراً شہر کے گرد خندقین کھدوائیں۔ نئے شہر سیری کو جس طرح ہوسکا مورچہ بند کیا اور ہر طرف آدمی دوڑائے کہ قریبی اقطاع و اضلاع سے کچھ کمک آجائے۔ اس میں بہت تاخیر ہوئی۔ مغلوں نے شہر کی غیر محفوظ منڈیاں اور مضافات لوٹ لیے۔ اور جو اکا دکا شہری ان کی زد میں آئے انہیں ہلاک کر دیا۔ لوگ محاصرے سے پریشان اورخود علاءالدین مضطرب ہو گیا تھا کہ اتنے میں جس طرح یک بارگی یہ ٹڈی دل آیا تھا اسی طرح اچانک تیزی سے واپس چلا گیا۔ اکثر اہل شہر کا عقیدہ تھا کہ مغلوں کی بلا جنگ پسپائی حضرت سلطان المشائخ ؒ کی کرامت سے ظہور میں آئی مگر بادشاہ کو اس حملے نے متنبہ کر دیا کہ مغلوں کی طرف سے غفلت کتنی خطرنا ک ہے۔ وہ پوری تن دہی سے فوج کی توسیع و تنظیم پر متوجہ ہوا۔ پاکستان کے تمام قلعے درست و مضبوط کیے ۔ چھاﺅنیوں کی جنگی قوت میں بہت کچھ اضافہ کیا۔ دیپالپور ان دفاعی انتظامات کا مرکز اور غازی ملک (تغلق) پنجاب اورملتان و سندھ کا فوجی والی بنایا گیا۔ جدید مصارف سے لازماً خزانہ شاہی پر بڑا بار پڑا۔
علاءالدین کی یہ تیاریاں غالباً تکمیل کو نہ پہنچی تھیں کہ مغلوں کے دو لشکروں نے پھر تاخت کی اورجمنا کو پار اتر کر دوآب کے سر سبز علاقوں میں لوٹ مار مچائی۔ ان کے سر لشکر علی بیگ اور ترتاق دو مغل شہزادے تھے اور دونوں ہزاروں ساتھیوںسمیت گھیر کر گرفتار کر لیے گئے۔ قیدیوں کو اونٹوں پر بٹھا کر شہر اور مضافات میں پہلے تشہیر کرائی، پھر ایک بہت بڑے عام جلسے میں گردنیں ماری گئیں اوران کے بریدہ سروں سے سیری کے برجو بارہ میں مصالحے کا کام لیا گیا۔ (اکثر تاریخوں میں لکھا ہے کہ ان مغل سر لشکروں کے سر کاٹ کر دہلی کے بداوں دروازے پر لٹکائے تھے۔ مگر منتخب التواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بداوں بھیجے گئے اور وہیں جنوبی دروازے پر آویزاں ہوئے)۔

سلطان جلال الدین برنی

کہتے ہیں اسی ذلت آمیز شکست بلکہ کامل تباہی کا بدلہ لینے کے لیے مغلوں نے آئندہ سال پھر دو حملے کیے مگر پنجاب کی طرف نہ آسکے بلکہ بلوچستان کے پہاڑوں سے اتر کر سندھ میں گھس گئے اور آخری بار سندھ سے بھی آگے ماڑ واڑ کے علاقے تک پہنچے لیکن دونوں دفعہ غازی ملک تغلق نے ان کی ایسی ناکہ بندی کی کہ بھاگ کر بھی نہ جانے دیا اور ہزار ہا گرفتار کر کے دہلی بھیجے گئے۔ یہ بے درد قوم چنگیز خاں کے زمانے سے جب قتل عام کراتی تو مقتولوں کے سروں سے ”کلہ منار“ یعنی مخروطی برج بنواتی اوران کے عرض و ارتفاع کو موجب فخر و سر بلندی تصور کرتی تھی۔ اب ان کے سروں سے دہلی میں برج تعمیر ہواجس کے آثار مورخ فرشتہ کے زمانے تک باقی تھے۔
غازی ملک نے اپنی دفاعی کامیابیوں پر قناعت نہیں کی بلکہ اب اپنی جدید و جنگ جو فوجوں سے قندھار وغزنی پر حملے کئے اور مغلوں پر اپنی تیغ زنی اور اقبال علائی کی ایسی دھاک بٹھائی کہ پھر انہیںا یک زمانے تک پاکستان و ہند پر تاخت کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں