عقلمند کسان

farmer

بچو !پرانے وقتوں کی بات ہے جب بادشاہت کے زمانے ہوا کرتے تھے ۔ ایک ملک کا بادشاہ بہت امیر تھا ۔دوسرے بادشاہ اس کی دولت اور فیاضی سے جلتے تھے۔ کیونکہ بادشاہ کے ملک میں خوشحالی تھی اور بادشاہ کو کرنے کیلئے کوئی کام بھی نہیں تھا ۔ بادشاہ نت نئے طریقوں سے اپنی رعایا پر دولت نچھاور کیا کرتا تھا۔ ایک دن بادشاہ نے اپنے وزیر کو بلایااور کہا کہ میں اپنی قوم کا امتحان لینا چاہتا ہوں تاکہ اندازہو سکے کہ کہیں قوم میں سستی اور کاہلی حد سے زیادہ تو نہیں بڑھ گئی اور ان کا ذوق و شوق اور پڑھنے لکھنے عادات تو ختم نہیں ہوگئی ۔ یہ نہ ہو ہماری سلطنت دوسری سلطنتوں سے پیچھے رہ جائے۔ بادشاہ نے وزیر سے کہااعلان کروائو کہ جو شخص میری پہیلی کا جواب دے گا اسے بہت انعام ملے گا ۔
بہت سے لوگ آئے اور آکر پہیلی کا جواب دینے کی کوشش کرتے رہے۔لیکن صحیح جواب کوئی بھی نہ دے پایا۔ بادشاہ بھی اکتاہٹ کا شکار ہو رہا تھا کہ میرے ملک میں عقلمندوں اور سوچنے والوں کی لگتا ہے کمی ہوتی جارہی ہے۔کیونکہ کوئی بھی اس کو جواب نہیں دے پارہا تھا۔
ایک کسان کو پتہ چلا تو وہ آیا کہ بادشاہ کی پہیلی کا جواب دوں۔
بادشاہ نے کسان کو پہیلی بتائی ایک چیز ہے جس کی صبح میں چار ٹانگیں دن میں دو اور رات میں تین ۔ بتائو کیا چیز ۔
اب کسان سوچنے لگا ۔ اور کچھ سوچنے کے بعد اس نے جواب دیا کہ بادشاہ سلامت جب بچہ گھٹنوں پر چلتا ہے یعنی چار اور جب وہ جوان ہوتا ہے تو دو ٹانگوں سے اور جب وہ بوڑھا ہو جاتا ہے تو ہ لاٹھی لیکر چلتا ہے یعنی تین۔
بادشاہ بہت خوش ہوا کہ جس پہیلی کا جواب بڑے بڑے عقلمند نہیں دے پارہے تھے اس کا جواب ایک کسان نے دے دیا ۔ بادشاہ نے کسان کو بہت انعام و اکرام سے نوازا اور کسانوں کیلئے بہت سی مراعات کا اعلان کر دیا۔
جب بادشاہ نے کسان سے پوچھا کہ کوئی بھی اس کا جواب نہیں دے سکا تمہیں یہ کیسے سمجھ آئی تو کسان بولا ، بادشاہ سلامت مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے اور میں جب بھی فارغ ہوتا ہوں تو میں جو کتاب مجھے ملے پڑھنا شروع کر دیتا ہوں۔
دیکھا بچو!عقل کسی کی میراث نہیں ہوتی اور پڑھنے سے بہت سی عقلمندی کی باتیں آپ پر عیاں ہوتی ہیں۔اس لیے اپنی نصابی کتابوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی کتابیں بھی پڑھا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں