عدالت نے سوڈان کی خفیہ ایجنسی کے 29اہلکاروں کو سزائے موت سنا دی

sudan-protest
EjazNews

سوڈان میںعمر البشیر کی حکومت کو ہٹانے کے بعد سے یہ ملک اچھی خبروں سے محروم ہو گیا ہے۔ سوڈان میں عمر البشیر کی حکومت ہٹانے کیلئے مظاہرے ہوئے جس کا سہارا لے کر وہاں کی فوج نے اقتدار پر قبضہ جما لیا لیکن سوڈانی عوام اس پر نہ ٹھہرے اور فوج کیخلاف احتجاج شروع کر دیا کہ وہ بیرکوں میں واپس جائے۔لیکن ایسا ہوتا مشکل ہی ہے۔
سابق سوڈانی صدر کیخلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کیخلاف کریک ڈاﺅن کرتے ہوئے متعدد افراد کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ حکومت مخالف تحریک چلانے والے سرکردہ افراد کو حراست میں لیا تھا۔ اس کیس میں ٹرائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا۔انٹیلی جنس اہلکاروں کو عدالت نے ذمہ دار قرار دیا۔
غیر ملکی میڈیا پر نشر ہونے والی رپورٹس کے مطابق سوڈانی جج نے مشرقی ریاست کسالہ کے مرکزی شہر سے خفیہ ایجنسی کے 29 اراکین کو سزائے موت سنائی ۔حکومتی ایجنسی کی حراست میں استاد احمد الخیر کی موت سابق صدر کے خلاف احتجاج میں شدت کا نقطہ آغاز بن گئی تھی جس کے حوالے سے ان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ حکومتی عہدیداروں نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ زہر خورانی سے وفات پاگئے ہیں لیکن سرکاری تفتیش میں تصدیق کی گئی کی وہ تشدد سے جاں بحق ہوئے۔

گلف نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق عمر البشیر کیخلاف احتجاج کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاﺅن میں 170افراد ہلاک ہوئے تھے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سوڈان کے شہر اومدرمان میں عدالت کے باہر سینکڑوں افراد موجود تھے جو فیصلے کے منتظر تھے جن میں سے اکثر نے سوڈان کا قومی پرچم بھی تھاما ہوا تھا اور احمد الخیر کی تصاویر بھی لیے کھڑے تھے۔
سوڈان میں اس وقت سویلین اور فوجی کونسل کی مشترکہ حکومت قائم ہے جس کو بتدریج حکومت، سویلین کے ہاتھوں منتقل کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں