عبرت کا نمونہ

ebrat ka nishan

پرانے زمانے کی بات ہے کراچی کے ایک محلے میں اسلم نامی ایک بہت بڑا تاجررہا کرتا تھا۔ جس کا کاروباربہت اچھا تھا۔ گھر میں گاڑیاں اور نوکر چا کر سب موجود تھے۔ اللہ نے اسے ان تمام نعمتوں کے ساتھ ساتھ ایک بیٹا بھی دے رکھا جس کا نام محمود تھا۔یہ اسلم کا اکلوتا بیٹا تھا۔
اسلم کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بیٹے محمود کو خوب پڑھائے لکھائے، ادھر محمود بھی بلا کا ذہین تھا۔ مڈل کرنے کے بعد اس نے ایک ہی سال میں میٹرک کر لیا اور پھر چار سال بعد بی اے بھی پاس کرلیا۔
بی اے کرانے کے بعد اسلم نے اپنے بیٹے کو بیرون ملک بھیج دیا تاکہ وہاں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے آئے اور پھر تجارت میں اس کا ہاتھ بٹائے اور بڑھاپے میں اس کا سہارا بنے۔
محمود بیرون ملک چلا گیا، لیکن وہاں کے ماحول سے وہ اس قدر متاثر ہو ا کہ اس کا زیادہ وقت تعلیم حاصل کرنے کی بجائے کلبوں اور تھیٹروں میں بسر ہونے لگا۔ بدکردار دوستوں میں رہنے کی وجہ سے اسے بہت سی بری عادات بھی پڑ گئی۔ آئے دن وہ باپ کو خط لکھ کر پیسے منگواتا رہا۔ اور باپ سمجھتا رہا کہ شاید اسے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے پیسوں کی ضرورت ہے۔
اسی طرح وہ باپ کی کمائی بے دردی کے ساتھ ہوٹلوں اور کلبوں میں اڑاتا رہا ۔ دن رات دوستوں کےساتھ عیش و عشرت میں بسر کر تا، ناچ اور گانے کا اسے بے حد شوق تھا۔
اسلم اچانک بیمار ہو گیا کچھ روز بیمار رہ کر اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگیا۔اور ساتھ ہی اپنی بیوی کو کہہ گیا کہ اسلم کی پڑھائی میں میری بیماری یا موت خلل نہ ڈالے اسے کچھ نہ بتانا۔ باپ کے مرنے کے بعد کاروبار کو سنبھالنے والا کوئی نہیں اس لیے آمدنی کے راستے بند ہونے لگے، لیکن محمود کی ماں اسے باقاعدہ پیسے بھیجتی رہی محض اس خیال سے کہ کہیں محمود کی پڑھائی میں کوئی رکاوٹ نہ آجائے کیوں کہ اسے یقین تھا کہ اس کابیٹا جلد ہی اس کا سہارا بننے والا ہے۔
رفتہ رفتہ کاروبار ختم ہوگیا۔لیکن اسلم کو تو اس کی خبرہی نہ تھی وہ تو پیسوں کا مطالبہ کرتا اور اس کی ماں بھیج دیتی۔ دولت کے ختم ہوتے ہی نوکروں چاکروں نے اپنی اپنی راہ لی ۔ آہستہ آہستہ جائیداد فروخت ہونے لگی جب وہ بھی بک چکی تو سامان بکنا شروع ہوا۔ جب کچھ نہ رہا تو فاقوں کی نوبت آگئی۔ بے چاری ماں کے پا س اب دولت کہاں تھی جو وہ محمود کو بھیجتی۔ اس کے پاس تو پھوٹی کوڑی بھی نہ رہی تھی۔ آخر غیرت والی تھی، اس نے کسی سے بھیک مانگنا ٹھیک نہ سمجھا۔ ایک چھوٹے سے مکان میں چرخہ لے کر بیٹھ گئی۔ دن بھر سوت کاتتی اور شام کو بیچ آتی۔ اس طرح جو کچھ مل جاتا اس سے اپنا پیٹ بھر لیتی۔
محمود اور اس کی عیاشیوں میں اضافہ ہوگیا۔ کیوں کہ اسے اس راہ سے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا ۔بیرون ملک میں وہ آزاد تھا۔ وہ بار بار اپنی والدہ سے روپوں کا تقاضا کرتا ۔ اس کی والدہ نے اپنی صحیح صحیح حالت اسے لکھ بھیجی اور آخر میں لکھا کہ اب میرے پاس تمہیں بھیجنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ میں تو خود ایک گوشے میں بیٹھ کر چرخہ کاتتی اور پیٹ پالتی ہوں۔
محمود کو جب یہ خط ملا تو اسے یقین نہ آیا کہ اس کی ماں چر خہ کاتتی ہوگی۔ بھلا اسے یہ خیال آتا بھی کیوں کر؟ وہ تو پیدا ئشی رئیس زادہ تھا۔ گردش زمانہ کا تو اسے علم ہی نہ تھا۔ لیکن جب تین چار ماہ تک اسے روپے نہ ملے تو اس کی رنگ رلیاں خود بخود ختم ہونے لگیں۔ فاقے استقبال کرتے نظر آنے لگے۔ آخر اس نے ارادہ کیا کہ وہ واپس کراچی چلاجائے اور وہاں کسی دفتر میں ملازم ہو جائے۔
اب کراچی جانے کے لیے اس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہ تھی لیکن اس کی یہ مشکل اس طرح حل ہوگئی کہ کالج کی یونین نے اس کی امداد کے طور پر اسے سفر کا کرایہ دے دیا۔
کراچی آکر جب اس نے اپنی آنکھوں سے اپنی ماں کو چرغہ کاتتے دیکھا تو اس کا رنگ فق ہو گیا۔ چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ پاﺅں تلے کی زمین نکل گئی۔ آنکھوں کے سامنے اندھیر ا چھا گیا۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ اس کا جی چاہتاتھا کہ وہ دیواروں سے ٹکڑیں مار مار کر سر پھوڑ لے۔
لیکن اس نے ہمت کر کے اپنی ماں سے کہا:
”اماں جان! میں کل ہی کسی جگہ نوکری تلاش کر لوں گا پھر آپ کو یہ چرخہ کاتنا نہ پڑے گا۔“
ایک دن نہیں، دو دن نہیں اسے کئی ماہ تک کہیں نوکری نہ ملی۔ سب دفتروں کی خاک چھانی لیکن بے سود۔ جب وہ ہر طرف سے مایوس ہو گیا تو اسے اپنی زندگی اجیرن نظرآنے لگی۔ اس نے ان مصیبتوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے خودکشی کا ارادہ کر لیا۔
ایک دوپہر جب سورج پوری طرح آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ پرندے لو سے جن بچنے کی خاطر اپنے اپنے گھونسلوں میں چھپے بیٹھے تھے۔ تپتی ہوئی سڑک میدان حشر کانمونہ پیش کر رہی تھی۔ محمود زندگی کی کش مکش سے نجات حاصل کرنے کےلئے ریلوے لائن کی طرف چل دیا تاکہ کسی گاڑی کے نیچے سر دے کر مرجائے راستے میں اس کے ضمیر نے اسے جھنجوڑا اور کہا:
”خودکشی تو بزدل کیا کرتے ہیں۔ بہادر دنیا کی مصیبتوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں۔ “
محمود پر اس کا اثر ہو گیا ۔ اب کیا تھا اس نے ٹھان لی کہ نوکری نہیں ملتی نہ ملے میں کوئی کام کر لو ں گا۔
محمود یہ سوچے بغیر کہ وہ اتنا پڑھا لکھا ہے معمولی سطح کی مزدوری شروع کر دی۔ مزدوری سے اسے بہت پیسے تو نہیں ملتے تھے لیکن گزارا ہونا شروع ہوگیا۔ اس کی ماں چرخہ کاتتی تھی جس سے دونوں ماں بیٹا کھانا کھا لیتے تھے اور محمود کی کمائی کو انہوں نے جمع کرنا شروع کر دیا۔
بچو! جلد ہی ان کے پاس کچھ پیسے جمع ہو گئے اور محمود نے اپنے باپ کے بزنس کو چھوٹی سطح پر شروع کر دیا۔ پرانے تعلقات والوں سے ملنا شروع کیا۔ رفتہ رفتہ اس کا بزنس بہتر ہونے لگ پڑا۔
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کا بزنس اچھا چلنے لگا پڑا اس نے اپنی ماں کو چرخہ کاتنے سے رو ک دیا اور اپنی کمائی سے گھر چلانے لگ پڑا۔
محمود چونکہ تعلیم حاصل کر چکا تھا اس لیے اس نے اپنی سمجھ بوجھ کو استعما ل کرتے ہوئے کاروبار میں بہت جلد ترقی کر لی تھی۔
محمود کی ماں نے اس کی شادی کر دی اور اس طرح وہ اپنے پوتے پوتیوں کو دیکھ کر اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔
محمود کے دل میں ہمیشہ یہ غم رہا کہ جب اس کا باپ فوت ہوا تھا وہ اس کا آخری دیدار نہیں کر سکا ۔ وہ بیرون ملک عیاشیاں کر رہا تھا اور اس کے ماں باپ دنیا بھر کے غم برداشت کر رہے تھے۔
یہ غم پوری زندگی اس کا ساتھ نہیں چھوڑ سکا تھا ، اسے جب بھی اپنے ماں باپ کی یاد آتی تھی وہ پھوٹ پھوٹ کر روتا تھا اور ان لمحات کو یاد کر کے دکھی رہتاتھا جب اس کے ماں باپ اس کی وجہ سے دکھی رہے ہوں گے۔
میرے پیارے بچو ہمیشہ اپنے ماں باپ کا خیال رکھو اور یہ یاد رکھو کائنات میں یہ رشتہ دوبارہ کسی کو نہیں ملتا۔ ہر شخص کی ماں اور باپ ایک ہی ہوتے ہیں ان کی قدر ان کی زندگی میں کرو ، ان کے جانے کے بعد صرف پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں