عالمی تپش میں سمارٹ فونز،کمپیوٹرز بھی پیش پیش، ٹیکسٹ میسج،ای میل سے ہزاروں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج

tecnology
EjazNews

عالمی حدت کے اضافے میں سمارٹ فونز،کمپیوٹرز،لیپ ٹاپ جیسی ٹیکنالوجی کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔دنیا میں اس وقت سمارٹ فونز کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کرچکی ہے۔ تحقیق کے مطابق موبائل ڈیوائسزسے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں آئندہ پانچ برسوں میں دگنی ہوجائیں گی۔سمارٹ فون چارجنگ سے اب سالانہ6.4میگا ٹن گرین ہاؤس گیس خارج ہوتی ہے جو2019میں 13میگاٹن سالانہ تک پہنچ جائے گی ۔یہ مقدار سالانہ 11 لاکھ کاروں سے خارج گرین ہاؤس گیسوں کے برابر ہو گی۔اگر ان ڈیوائسز کے استعمال اور ان کی تیاری کے دوران خارج ہونے والی گیسوں کا مجموعی اندازہ لگائیں تو 2010میںسمارٹ فونز سے سترہ میگاٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی تھی ۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ان ڈیوائسزکے استعمال کے دوران اتنی زہریلی گیسیں خارج نہیں ہوتی ،جتنی ان کی پروڈکشن کے دوران ہوتی ہیں۔ کمپیوٹر،لیپ ٹاپ،مانیٹرز،سمارٹ فونز، اور ٹیبلٹ کا عالمی حدت میں2007میں ایک فیصد حصہ تھا،2020میں 3.5فیصد اور2040تک 14فیصد حصہ ہوگا۔دنیا بھر کے ٹیکسٹ میسج سے سالانہ 32ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے۔ ایک ای میل سے چار گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹیکسٹ میسج یا ای میل سے کیسے گیسوں کا اخراج ممکن ہے تو اس کا سادہ الفاظ میں جواب یوں ہے ، کسی بھی ڈیٹا سرور سے ٹیکسٹ میسج بھیجا جاتا ہے ،ویڈیو ڈاؤن لوڈ کی جاتی ہے ،فوٹوکا تبادلہ کیا جاتا ہے،ای میل بھیجی یا وصول کی جاتی ہے،یا چیٹ کی جاتی ہے تو توانائی کے بھوکے سروروں پر ایک ہلچل سی مچ جاتی ہے، وہاں سے گرین ہاؤس گیسوںکا اخراج ہوتا ہے۔گوگل،فیس بک،ایمزون،مائیکروسافٹ اور یاہو جیسی کمپنیوں کے دنیا میں بہت بڑے ڈیٹا سینٹرز ہیں،ایپل کی آئی او ایس، گوگل کی اینڈرائیڈ کے ساتھ لاکھوں موبائل ایپلیکشنز انہی ڈیٹا سروروں سے منسلک ہیں ،یہ ساری عمارت اسی پلیٹ فارم پر کھڑی ہے جہاں ان تمام ڈیٹا سروروں سے ناقابل یقین حد تک زہریلی گیسوںکا اخراج ہو تا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں