ظہیر الدین محمد بابر کی ہندوستان فتح کیلئے پیش رفت کے حالات

babar-come-india

ازبکوں کو بلخ سے نکال کر اورا س طرح اپنی فوری ترین پریشانیوں سے چھٹکارا پاکربابر اب ایک دفعہ پھر ہندوستان کے معاملات پر توجہ دینے کے قابل ہوا۔ پہلی نظر میں تو یہ وقت سازگارنہ معلوم ہوتا تھا۔ جہاں تک تعداد کا تعلق ہے اس کا لشکر اپنی بہترین حالت میں بھی بہت زیادہ زبردست نہیں تھا۔ پھر اب اس میں سے کچھ فوج ا لگ کر کے قندھار اور قندز کی حفاظت کیلئے بھیجنے کی ضرورت پڑی تو یہ لشکر اور بھی کم ہوگیا۔ لیکن وہ محض اس بنا پر پس و پیش میں پڑ جانے والا انسان ہرگز نہ تھا کہ اس کے مقابل نامساعد حالات بہت زبردست ہیں:
”بروز جمعہ یکم صفر 932ھ کو جبکہ سورج برج قوس میں تھا، میں ہندوستان پر حملہ کرنے کے لیے اپنی مسافت پر روانہ ہوا۔“
لیکن وہ پندرہ دن سے زیادہ مدت تک باقاعدہ نہ آگے نہ بڑھ سکا کیونکہ اسے مجبوراً ہمایوں کا انتظار کرنا پڑا جس کے تساہل پر اس نے سخت سرزنش کی۔ آخر کار پوری سپاہ پہاڑوں کے پار لمبی مسافت پر روانہ ہو گئی۔
گزشتہ واقعات کی خبروں نے بابر کو اپنے منصوبوں کو بدلنے پر مجبور کر دیا۔ ایک طویل مدت سے اس کو اس یقین کے لیے کسی چیز کی ضرورت نہ تھی کہ جب تک دہلی کی مرکزی طاقت ے مصالحت نہ کی جائے ا س کا پنجاب کی تسخیر کاابتدائی منصوبہ ناقابل عمل ہے۔ اس لیے جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں وہ سلطان ابراہیم کو تخت سے ہٹانے اور عالم خان کو اس کی جگہ تخت نشین کرنے کے منصوبے میں مدد دینے پر آمادہ ہوگیا تھا۔ اس طریقے سے وہ ایک پنتھ دو کاج کرنا چاہتا تھا۔ اس کی اعانت کی قیمت میں تو اسے پنجاب مل جاتا اور اس مال کی ضمانت اس طرح مل جاتی کہ جس بوڑھے اور قدرے کمزور بادشاہ کو وہ تخت پر بٹھانے والا تھا اس پر اسے قابو حاصل ہوتا۔ لیکن دولت خاں کی ریشہ دوانیوں اور عالم خاں کی عہد شکنی نے پوری صورت حال میں ترمیم کر دی تھی۔ اب آئندہ لودھی کے مدعی سلطنت ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا تھاکیوں کہ اس نے دیانت دار انسان کے خون کی قربانی کا خود کو قطعی نا اہل ثابت کر دیاتھا۔ بابر خود اپنے واسطے ہر سامنے آنے والے حریف سے برسر پیکارتھا جس کی پہلی وجہ تو یہ تھی کہ وہ پنجاب پر اپنا حق سمجھتا تھا۔ دوسرے اسے یقین تھا کہ پنجاب پر مستقل تسلط ہندوستان کی تسخیر کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور آخری وجہ یہ کہ سیاسی صورت حال مستقبل میں شدید جنگ و جدل اورخطرناک مہمات کے امکانات سے لبریز نظر آتی تھی اور یہی وہ چیز یں تھیں جن سے بابر کی روح کو عشق تھا۔
تاہم جیسے ہی وہ پہاڑوں کو پار کر چکا وہ بیمار پڑ گیا۔ یہ علالت بہت ہی بے موقع تھی اور بابر نے محسوس کیا کہ شراب کے معاملے میں اس کی غلط کاریوں کی یہ سزا ہے۔ جو خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ اس نے اپنے اطوار درست کرنے کا عہد کیا، اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ بعد میں وہ اپنے عہد پر قائم نہ رہا ۔ بہر حالت جلد ہی پیچش کا یہ حملہ دور ہوگیا اور یہ اس کی خوش قسمتی تھی کیوں کہ اب جب کہ وہ اپنی خطرناک مہمات میں سے خطرناک ترین شروع کر چکا تھا تو اس میں کامیابی کے لیے اس کو اپنی تمام جسمانی اورذہنی قوتوں کی ضرورت تھی۔ جب وہ دریائے کابل پر پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ دولت خاں و غازی خاں 20-30 ہزارآدمیوں کے ساتھ پنجاب کو پامال کر رہے ہیں اورسیدھے لاہور پر بڑھ رہے ہیں۔یہ ہر قیمت پر ضروری تھا کہ انہیں اس نازک موقع پر ایسی اہم کامیابی حاصل کرنے سے روکا جائے۔ اس لیے بابرنے جلدی سے شہر میں اپنے نائبوں کے پاس اطلاع کے لیے ایلچی بھیج دیا کہ و ہ نزدیک ہی ہے۔ ان کو حکم دیا کہ تمام خطرات کونظرانداز کرتے ہوئے اس سے آملیں۔ اور سختی سے منع کر دیا کہ اس کے آنے سے پہلے جنگ شروع نہ کریں۔ اس اثنا میں وہ خود سرعت سے بڑھتا رہا۔ جب وہ دریائے سندھ سے گزر رہا تھا تو اس نے موقع سے فائدہ اٹھا کر ان افواج کا شمار کیا جو اس خطرناک مہم میں اس کے ساتھ تھیں۔ خواہ یہ امر کتنا ہی ناقابل یقین کیوں نہ معلوم ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ تمام لشکر جس سے ہندوستان فتح کرنے کی امید کر رہا تھا صرف 12 ہزار تھا جس میں اچھے، برے، چھوٹے بڑے ، لڑنے والے اور بہیر سب ہی شامل تھے۔
لیکن خطرے کی پرواہ کیے بغیر وہ آگے ہی بڑھتا رہا اپنے ان سرداروں کی امداد کو جن پر تباہی منڈلا رہی تھی۔ جیسے ہی اس نے جہلم پار کیا افغانوں کی طاقت کے متعلق تازہ بہ تازہ افواہیں اسے ملیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ دولت خاں نے اس زبردست شہزادے (بابر) سے نجات حاصل کرنے کا تہیہ کر کے جس کو اس نے اپنا آلہ کاربنانے کی امید کی تھی، اپنی کمر میں دو تلواریں باندھ رکھی ہیں جو اس کے اس عزم کی علامت ہیں کہ فتح پائے گا یا مرجائےگا۔ لیکن دولت خاں کا جوش و جذبہ خواہ کچھ بھی کیوں نہ رہا ہواسے اپنی فوج کی شیرازہ بندی قائم رکھنے ہوتی۔ شاہ کابل نے بھی اسے پار کر لیا تھااور میوات کی ناکہ بندی کر رہا تھا تو دلاورخاں اس سے آملا۔ اس نے ایک دفعہ پھر ایک غیر ملکی کی خدمات اختیار کرنے کے لیے اپنے باپ اور اپنے بھائی کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ غالباً یہی وقت تھا جب بابر کو مقابل فوجوں کی صحیح حالت معلوم ہوئی ۔ بایں ہمہ وہ اس بے باکی سے آگے بڑھتا رہا جو کہ عام حالات میں حماقت ہی کہی جاسکتی تھی۔ لیکن اس موقع پر اس کی تیز رفتار پیش قدمی نے دولت خاں کی ابتری کو مکمل کر دیا۔ اس کی فوج کاشیرازہ بکھر گیا اور حملہ آور کا مقابلہ کرنے کی بجائے وہ ہرطرف بھاگ پڑی ۔ خود دولت خاں اور اس کے قریبی ساتھیوں کے پاس ایک حقیر و ذلیل اطاعت کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ رہا۔ اس منظر کو ذیل میں بیان کیا گیا ہے:
”دولت خاں نے اب مجھے اطلاع دینے کے لیے ایک شخص بھیجا کہ غازی خاں فرار ہوگیا ہے اور پہاڑیوں میں بھاگ گیا ہے لیکن یہ کہ اگر میں اس کے ذاتی قصوروں کو معاف کر دوں تو وہ ایک غلام کی طرح حاضر ہو جائے اور یہ مقام میرے حوالے کر دے۔ اس لیے میں نے خواجہ میر میرن کوبھیجا تاکہ اس کے اس ارادے کو استقامت دے اور اس کو باہر لے آئے۔“
اس کا لڑکا علی خاں اس اس کےساتھ گیا۔ اس پیر مرد(دولت خاں) کی گستاخی اور حماقت کونمایاں کرنے کےلئے میں نے خواجہ کو اس امر کا خیال رکھنے کا حکم دیا کہ دولت خاں اپنے گلے میں وہی دونوں تلواریں لٹکا کرآئے جو کہ اس نے مجھ سے مقابلے کے لیے اپنے پہلو میں لٹکائی تھیں۔ جب حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے تب بھی وہ تاخیر کے لیے عذر لنگ تراشتا رہا مگربالآخر اسے باہر لایا گیا۔ میں نے دونوں تلواریں اس کی گردن سے اتارنے کا حکم دیا جب وہ میرے پاس کورنش بجا لانے کو آیا تو اس نے جھکنے میں دیر لگائی۔ میں نے لوگوں کو ہدایت دی کہ اس کی ٹانگ کھینچ کر اسے جھکنے پر مجبور کریں۔ اس کے بعد میں نے اس کواپنے سامنے بٹھا یا اور ایک شخص کو طلب کیا جو ہندوستانی زبان جانتا ہو تاکہ جو کچھ میں کہوں اس کو جملہ بہ جملہ سمجھائے اور اس طرح اس کے دل کو اطمینان دلایا جاسکے۔تب میں نے اس سے یہ کہنے کو کہا:
” میں نے تمہیں باپ کہا۔ میں نے تمہاری توقع و خواہش سے زیادہ تمہارا ادب و احترام کیا۔ میں نے تمہیں اور تمہارے بیٹوں کو بلوچیوں کی بے عزتیوں سے نجات دلائی۔ میںنے تمہارے قبیلے، تمہارے خاندان ور تمہاری عورتوں کو ابراہیم کی غلامی سے چھڑایا۔ میں نے تمہیں تاتار خاں کے مقبوضہ علاقے عطا کیے جن کی آمدنی تین کروڑ ہوتی ہے۔ میں نے کبھی تمہار ایسا کیا بگاڑا تھا کہ تم اس طرح اپنے پہلو میں دو تلواریں لے کر میرے خلاف آئے اور ایک لشکر کے ذریعے میرے علاقوں میں ہنگامہ و انتشار پھیلایا۔ اس شخص نے بد حواسی میں ہکلا کر الٹے سیدھے کچھ الفاظ کہے اور در حقیت ان لاجواب کرنے و الے حقائق کے جواب میں وہ کہہ بھی کیا سکتا تھا؟ یہ طے کیا گیا کہ وہ اور اس کا خاندان اپنے قبیلوں میں اپنا اقتدار اور اپنے دیہات پر اپنا قبضہ برقرار رکھیں لیکن اس کے علاوہ ان کی باقی املاک ضبط کر لی جائیں۔ ان کو خواجہ میر میرن کے قریب خیمہ ڈالنے کی ہدایت کی گئی۔“(پی ۔ڈی۔ کورٹیل)
اس طرح بابر کی پر خطر مہم کا پہلا دور پنجاب میں اس کے دشمنوں کی شکست کے ساتھ ہی ختم ہوگیا۔ لیکن ابھی دہلی کی شاہی فوجوں کا سر جھکانے کا مشکل تر کام باقی تھا۔ پھر یہ کام بھی پر آشوب ، انتشار زدہ اور سیاسی فرقہ بندیوں سے لبریز، پوری سلطنت ہندوستان کو حلقہ اطاعت میں لانے کے مقابلے میں بچوں کا کھیل تھا۔ بابر نے اپنے سامنے کی ان دشواریوںکو سمجھا ہو یا نہ سمجھا ہو لیکن یہ بخوبی اسے نظر آرہا تھا کہ اس کی کامیابی کی بہترین امید فوری عمل میں مضمر ہے۔
”ارکاب عزم و استقلال میں قدم رکھ کر اورعنان یقین ہاتھ میں لے کر میں سلطان ابراہیم بن سلطان سکندر بن سلطان بہلول لودھی افغان کے خلاف بڑھا، جس کے قبضے میں اس وقت ہندوستان کی سلطنت اور دہلی کا شہر تھا۔ (پی۔ ی ۔ کورٹیل)
جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا گیا اسے اس امر کے مختلف ہمت افزا ثبوت ملے کہ وہ اپنے حریف کے ملک میں بے یارو مددگار نہیں ہے۔ حلقہ دربار کے دو ارکان آرائش خاںاور ملا محمد مذہب نے اس کو خطوط بھیجے جن میں اس کے داعی اور مقصد سے اپنی حمایت ووابستگی کا اظہار کیا گیا تھا۔عالم خاں ایک حالت بے نوائی میں اپنے سابق حلیف کے پاس خود کو اس کے رحم و کرم پر ڈالنے آپہنچا اورشاید اسی وقت راجپوت سنگرام سنگھ کی جانب سے بھی یہ تجاویز موصول ہوئیںکہ ابراہیم پر ایک متحدہ حملہ ہوناچاہیے۔ لیکن بابر کو پورا احساس تھا کہ اس طرح کی سلسلہ جنبانیوں پر کتنا کم بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ سنگرام سنگھ کو اس نے کیا جواب دیا یہ ہمیںمعلوم نہیں۔ ایسا نظرآتا ہے کہ اس کا جواب موافقت میں تھا کیوں کہ بعد میں اس نے راجہ پر دغا بازی کا یہ الزام لگایا کہ اس نے مجوزہ اتحاد کی شرائط پوری کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ لیکن وہ (بابر)اس بات سے بخوبی واقف رہا ہوگا کہ اگر دہلی کے شاہی خاندان پر کوئی تباہی نازل ہوئی تو راجپوت ریاستوں کی تنظیم یکایک ایک ایسی فوقیت اور برتری لے کر ابھرے گی جو اس کو پہلے کبھی حاصل نہیں ہوسکی اور اس لیے اس کا براہ راست مفاد اسی میں ہے کہ اس کو (بابرکو) اپنی مہم میںناکامی ہو نیز یہ کہ اس کی تسخیر ہندوستان کی تمام مخالف طاقتوں میں یہی تنظیم سب سے زبردست تھی۔ صورت حال بہت سرعت سے نازک ہوتی جارہی تھی۔ ابراہیم دہلی سے ایک فوج لے کر جس کا اندازہ ایک لاکھ کیا جاتا ہے حملہ آورکے خلاف بڑھ رہاتھا۔ اس کی دو ہر اول جماعتوں نے یکے بعد دیگرے بابر کی مختصر سی فوج پرحملے کاخطرہ پیدا کر دیا تھا۔ ان میں سے ایک حمیدا خاں کے تحت اور دوسری داﺅد خاں و حاتم خاں کے تحت تھی۔ 26فروری کو شہزادہ ہمایوں نے پہلی (جماعت) کو ماربھگایا اور سو قیدی اورآٹھ ہاتھی ہاتھ آئے حالانکہ بابر کی مختصر فوج کی قلت کا یہ ایک واضح ثبوت ہے کہ پورے میمنہ کو قلب کی حمایت کے ساتھ اس مقصد کے لیے الگ کرناپڑا تھا۔ دوسری جماعت کو اسی طرح 2اپریل کو ہزیمت اٹھانا پڑی اور اس کو ابراہیم کے پڑاﺅ کی بالکل دیوار تک دھکیل دیا گیا، کیوں کہ اس وقت تک بابر سر سوہ کے مقابل جمنا تک پہنچ گیا تھا۔
بعدہ اس نے افغانوں کی اصل جماعت سے فیصلہ کن جنگ کےلئے تیاری کرنے کے لیے پڑاﺅ ڈالا۔ جب اس کی فوج جنگ کے لیے صف بستہ کھڑ ی تھی تو بابر کو معائنے کے درمیان معلوم ہوا کہ اس کامورچہ اتنے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے جتنا کہ اسے توقع تھی۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی کیونکہ کوئی آٹھ ہزار محارب سپاہیوں میں سے جو اس مہم پر پنجاب سے گزر کر آئے تھے ایک بڑی تعداد قلعوں کی محافظ سپاہ کا فرض انجام دینے، رسل و رسائل کی حفاظت کرنے اور جنگ کی تباہ کاری میںلازمی طورپر صرف ہو گئی ہوگی۔ لیکن بابر کے لیے یہ معاملہ بہت ہی اہم تھا۔ اگر اسے اپنے حریف کی بہت زیادہ برتر افواج پر فتح حاصل کرنا تھی تو یہ صرف اس کی اعلیٰ تربیت یافتہ سوار فوج اور نئے آتشی اسلحہ جات کے ایک موثر متحدہ عمل سے ہوسکتا تھا۔ استاد علی اور مصطفا کے سامنے اگر حریف کا ایک گھناہجوم ہو تو وہ مل کر بہت مہلک کارروائی کر سکتے تھے۔ لیکن اگر سوار و پیادہ فوج ایک آڑ کی شکل میں احتیاط کے ساتھ حفاظت نہ کرے تو دشمن کی یلغار میں توپچیوں اور بندوقچیوں کے پامال و مغلوم ہوجانے کا احتمال تھا ان پراپنی قسم کے ہتھیاروں سے گولیوں کی جو بوچھاڑ قائم رکھی جاسکتی تھی اس کی رفتار اس قدرسست ہوتی تھی کہ استاد علی اور مصطفا سے محاذجنگ کے کسی بھی حصے کو (مقابل فوج کو) اپنے بل بوتے پر سنبھالے رکھنے کی امید رکھنا عبث تھا۔ لیکن اس مختصر فوج میںسے ان کے لیے یہ حفاظتی دستے کیسے فراہم ہوں؟کیوں کہ اگر بابر اپنی فوج کی صفوں کو اتنا پھیلا کر پیش کرنے کی تدبیر نہ کرے کہ طول میں وہ دشمن کی محارب صفوں کے برابر ہو جائیں تو اس کی سوار فوج بغل سے گھوم کردشمن کو گھیرنے کا وہ طریقہ جنگ عمل میںنہیں لا سکتی تھی جس کے ذریعے وہ افغانی فوج کے بازوﺅں کو قلب پر دھکیلنے کی امید رکھتا تھا۔ اس جنگی چال کو کامیابی سے انجام دے کر اور دشمن کی سپاہ کو ایک بے ترتیب ہجوم کی شکل میں دھکیل کر جس کو استاد علی اور مصطفا اپنی گولہ باری کا نشانہ بنا سکیں، بابر اپنے توپخانے کا بہترین استعمال کر سکتا تھا۔ اسے جس مشکل کا مقابلہ کرنا تھا وہ یہ تھی کہ کس طرح اپنے سے برتر افواج کو ایک حد سے زیادہ لمبے محاذ پر پھیلا کر اس وقت تک لڑائی میں الجھا رکھے جب تک کہ دونوں میں سے کسی بازو پر فیصلہ کن حملے کا وقت نہ آجائے۔ اس معاملے پر غور کرنے کےلئے جنگی مجلس (شورا)بلا ئی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں