ظہیر الدین محمد بابر سے پہلے کا ہندوستان

15th-century-india

برصغیر کی تاریخ غیر ملکی حملہ آورو سے بھری ہوئی ہے۔ بھارت نے تاریخ کو بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہوا ہے اور اس پر کام بھی جاری ہے۔ جبکہ بھارت میں ایودھیہ کے مقام پر مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر نے بابری مسجد کی بنیاد رکھی، ہندو انتہا پسندوں نے پہلے بابری مسجد کو شہید کیا۔اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہاں ہندو اپنا مندر تعمیر کرنے جارہے ہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنے اور ہندوﺅں میں انتہا پسندی کی بیداری بھارت میں مسلسل جاری ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ بھارت کے تمام اقدامات انتہا پسندی کی جانب جاتے ہیں جس کا نشانہ مسلمان ہی نہیں دوسرے مذاہب کے لوگ ہیں۔ ہزاروں کلیساﺅں کو بھارت میں نذر آتش کیا گیا اور مغربی میڈیا چوں نہ کر سکا۔ کیونکہ مغرب کے مفادات بھارت کی منڈی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے مغربی میڈیا اپنے سیاسی مفادات پر معاشی مفادات کو ترجیح دے رہا ہے۔
بھارت کی ترقی میں مغل خاندان اور مسلمانوں کے کردار کو فراموش کرنا ممکن نہیں ۔انگریز مصنفین کے مطابق خطے میں سڑکوں کا ایک بہت بڑا جال مسلمانوں نے بچھایا جبکہ تعمیراتی اور دفاعی انڈسٹری کو بھی انہوں نے ہی ترقی دی۔ توپ خانہ کی صنعت کی بنیاد بابر نے رکھی۔ توپ کے گولوں کی گھن گرج نے پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کے ہاتھیوں کو الٹے پاﺅں بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا جبکہ کاٹن، چاول اور ایسی کئی انڈسٹریز جو اس وقت پوری دنیا میں نوزائیدہ حالت میں تھیں ان کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھیں۔ یہی بنیاد بعد میں تاج برطانیہ کے کام آئی اور عسکری تربیت اور ترقی نے جنگ عظیم میں برطانیہ کو کامیابی سے ہمکنار ہونے میں مدد دی اسی لیے ہم اپنی تاریخ کے گمشدہ اوراق کو تلاش کرنے کا کام کرتے ہیں ۔ذیل میں ظہیر الدین محمد بابر کے ہندوستان پر حملے سے پہلے کہ حالات کا ایک مختصر سا خاکہ پیش کریں گے ۔اور اس کے بعد بابر پر تحقیق آپ کے سامنے رکھیں گے۔ اس سے آپ کو سمجھنے میں بھی آسانی ہو گی کہ ہندو انتہا پسند ظہیر الدین محمد بار سے اس قدر نفرت کیوں کرتے ہیں حالانکہ ظہیر الدین محمد بابر نے ہندوستان کی تعمیرنوع میں ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے
تاریخ قرون وسطیٰ کے پورے عہد میں شاید کوئی دور ایسا نہیں جس سے ہمارے سیاسی آداب و شائستگی کے جدید احساس کو اتنا شدید صدمہ پہنچے جتنا پندرھویں صدی عیسوی کے سوسال سے لگتا ہے۔ مشرق اور مغرب میں یکساں طورپر چودھوی صدی کازمانہ ایک قبل از وقت لیکن امید افزا نشوونما کا دور تھا ہر طرفہ پختہ مرتکز بادشاہتیں ابھرآئی تھیں جو اپنی پوری خارجی ہیت میں طاقتور معلوم ہوتی تھیں اور ایسا نظرآتا تھا کہ معاشرتی و سیاسی حالات کی اصلاح میں وہ ایک اہم حصہ لینے کو تیار ہیں۔ مغرب کی تہذیب میں عوام وسطی طبقات اقتدار میں ایک حصہ طلب کرنے اور حاصل کرنے لگے تھے۔ مشرق میں طاقتور مطلق العنان بادشاہ پیدا ہو گئے تھے جنہوں نے تجارت کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ تمام اطراف میں اپنی مملکتوں کی توسیع کی تھی۔ امن و امان قائم رکھا تھا اور شورش کو جابرانہ ہاتھوں سے دبا دیا تھا۔ لیکن اس اچانک اور قبل از وقت بالیدگی کے بعد ایک دور انحطاط شروع ہوگیا جو اور بھی زیادہ وحشت ناک حد تک تیز رفتار تھا وہ سیاسی وحدتیں جو پہلے اس درجہ محکم نظر آتی تھیں اب وحدت کے تمام لوازم سے عاری ثابت ہوتی ہیں۔ وہ مطلق العنان مرتکز بادشاہتیں جو پہلے اس قدر طاقتور معلوم ہوتی تھی اب درہم برہم ہو کر متضاد اجزا کے معذور انبار بن جاتی ہیں اورجوشورش پسند عناصر بظاہر ملک بدر کر دئیے گے تھے وہ پہلے سے بھی زیادہ مہیب قوتوں کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔مشرق اور مغرب میں یکساں طور پر پندرھویں صدی ایک بے مثال انتشار کا زمانہ ہے۔ ایک عصر غیر معقول و بے بست۔ یکجہتی و استحکام کے عناصر سے یکساں طور پر محروم ۔ سیاسی معاشرے کی کایا پلٹ ہوتی نظر آتی ہے۔ تاریخ پہلی نظر میں جنگ زاغ وزغن کے پست و حقیر روپ میں نظر آتی ہے اور ایک سرسری مبصر کو جماعتوں، فرقوں او رریاستوں کی اس حیران کن ابتری کے اسباب کا کوئی سراغ دریافت کرنے سے مایوسی ہو جاتی ہے۔

ہندوستان کا پندرھویں صدی کا ایک نقشہ

سولھویں صدی عیسوی کی امتیازی خصوصیت ہے کہ مشرق اور مغرب میں یکساں طور پر تشکیل نو کا عمل شروع ہوا لیکن یہ تبدیلی ایک رحمت بے زحمت نہ تھی۔ پندرھویں صدی، اپنی تمام تر ابتری و فرو مائیگی کے باوجود ایک ایسا عہد ہی تھی جس میں تمام فنون حیات کو فروغ حاصل ہوا تھا۔ چھوٹے چھوٹے بادشاہوں کے چھوٹے درباروں میں ۔ خواہ وہ یورپ کے ہوں یا ہندوستان کے ۔ فن تعمیر اور فنون لطیفہ بعض خاص سمتوں میںتقری پاکر اس منتہائے کمال کو پہنچ گئے تھے کہ بعد کا کوئی بھی عہد اس سے برتری تو کیا اس کی ہمسری بھی حاصل نہیں کر سکا ہے۔ سولھویں صدی، جو جامع منصوبوں اور دور رس عزائم کادور تھی متعدد لحاظ سے سخت تر اور کم انسان دوست تھی۔ اس کے خطوط زیادہ پر قوت و جلی ہیں اور اس لیے یہ نقش بیک وقت اس نزاکت و جزئیات کی بارے سے محروم ہے جو اس سے قبل کے عہد کی زیادہ تفصیل اور کم واضح تصویر کا طرئہ امتیاز ہیں۔
چودھویں صدی کے ابتدائی نصف میں خلجیوں اور تغلقوں کی فوجیں سلطنت دہلی کے پرچم دور دور تک پہنچا چکی تھیں۔ سندھ سے خلیج بنگال تک اور ہمالیہ سے کرشنا تک خاندان سلاطین دہلی کی حکمرانی تھی۔ مستند حقائق کے علی الرغم یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ ہر زمانے میں یہ اقتدار موثر تھا۔ دور افتادہ اضلاع میں متواتر رونما ہونے والی بغاوتیں جو ایک بادشاہ کے دور حکومت کو اکثر و بیشتر ایک لا متناہی و مسلسل لشکر کشی کی شکل میں تبدیل کر دیتی ہیں اس امر کی مظہر ہیں کہ یہ مطلق العنان حکمران خود اپنے گھر کے بھی مالک نہ تھے۔ تاہم اس میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا کہ علاوالدین اور محمد بن تغلق اپنی مملکتوں پرایسا اقتدار رکھتے تھے جو عمومی طور پر موثر تھا۔
اگر ہم پندرھویں صدی کے وسطی دس سال میں کھڑے ہو کر نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں چارو اضح زمروں میں منقسم ہیں۔ سب سے اول وہ علاقہ ہے جسے ”مسلم طاقتوں کا شمالی حلقہ“ کہا جاسکتا ہے جو ایک عظیم نیم دائرے کی شکل میں سندھ کے دہانے سے خلیج بنگال تک پھیلا ہوا ہے۔ جنوبی سرے سے ہمیں سندھ کی سلطنت ملتی ہے۔ اس سے ذراشمال میں ملتان کی سلطنت اور بعدہ پنجاب جو کہ برائے نام دہلی کی ایک نائب شاہی ہے مگر در حقیقت تین طاقتور افغان خاندانوں کا مامن ہے۔ اس کے بعد خود دہلی اور اس کا عین نواحی علاقہ آتا ہے جس کے حکمران اپنے دعوﺅں کی بنا پر دور دور تک تضحیک کا نشانہ بننے کے باوجود ابھی تک شہنشاہان ہندوستان ہونے کے مدعی ہیں۔ جنوب اور مشرق کی سمت شاہی خاندان کادارالخلافہ جونپور واقع ہے جس کی حکومت اس علاقے کے بیشتر حصے پر ہے جو آگرہ و اودھ کے موجودہ صوبہ جات پر مشتمل ہے۔ اس کے بھی آگے مشرق میں بنگال کی سلطنت ہے جو کہ اپنی زندگی الگ تھلگ گزار رہی ہے اورہندوستان کی سریع الزوال سیاسیات میں محض تھوڑا سا حصہ لے رہی ہے۔ دوسرے زمرے کو ”جنوبی مسلم حلقہ“ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اس میں سب سے پہلے مغرب کی سمت گجرات ہے جو کہ ایک بہت واضح جغرافیاتی وحدت ہے۔ مشرق میں اور آگے مالوہ ہے جس کی راجدھانی مانڈو ہے۔ مالوہ کے جنوب میں خاندیش کی چھوٹی سی سلطنت ہے اور خاندیش کے جنوب میں دکن کی عظیم مملکت ہے جس پر بہمنی خاندان کی حکومت ہے۔ مسلم ریاستوں کے جنوب شمال و جنوبی حلقوں کے درمیان پھنسا ہوا راجپوتانہ ہے جو صدیوں کی استیصال جنگ و جدل کے بعد بھی لافانی و ناقابل تسخیر نظر آتا ہے اور اسلام کی سیاسیات میں پیدا ہونے والے تفرقات سے فائدہ اٹھا کر اپنی قدیم طاقت کا کچھ حصہ سرعت کے ساتھ دوبارہ حاصل کر رہا ہے اس کی زیادہ قابل توجہ ریاستیں ہیں۔ مارواڑ اور میواڑ اور ان میں میواڑ سب سے برتر ہے جو کہ اب بہت سرعت سے ایک صف اول کی طاقت بنتا جارہا ہے۔ جنوبی مسلم حلقے کے جنوب میں ایک اور عظیم ہندو طاقت سلطنت وجے نگر واقع ہے اور پندرھویں صدی کے دوران جنوبی ہندوستان کی بیشتر تاریخ اس سلطنت کے اپنے شمالی ہمسایوں کے خلاف جنگ و جدل پر مشتمل ہے۔ مشرق کی طرف اڑیسہ کی ہندو سلطنت واقع ہے جو سیاسی طور سے تو غیر اہم ہے لیکن جنوب کی طرف بنگال کی توسیع میں کم و بیش موثر طور پر سد راہ ہے۔ جنوب بعید کی ریاستوں سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہے وہ ہندوستان خاص سے اتنی دور ہیں کہ اس علاقے کی سیاسی صورت حال کا جائزہ لینے میں ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ لہٰذا بطور اختصار پندرھویں صدی کے وسط میں سیاسی طاقتوں کی تقسیم اس طرح پر ہے۔ مسلمان طاقتوں کے دو گروہ ہیں اور ہرگروہ جنوب کی طرف سے ایک زبردست ہندو ریاست سے خطرے میں ہے۔ میرا ارادہ ممکنہ اختصار کے ساتھ ہر ریاست کی نشوونما کاخاکہ پیش کرنا ہے تاکہ ہم اپنے جائزے کے اختتام پر ان سیاسی قوتوں کا کچھ اندازہ کر سکیں جن کی سولھویں صدی کے آغاز کے وقت ہندوستان میں اہمیت تھی۔ میرے خیال میں ہمارے لیے اس میں سب زیادہ سہولت ہو گی کہ اپنا کام جنوب سے شروع کر کے اوپر شمال کی طرف بڑھتے چلے جائیں اور آخر کار اپنی حاصل کر دہ معلومات کو ایک واحد مرکزی نقطہ یعنی دہلی کی افغان سلطنت پر مرکوز کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں