طبی معلومات

health-cear
EjazNews

چائے سے انسو مینیا کا علاج
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ چائے بعض بیماریوں کا علاج بھی ہے۔ انسو مینیا سے بہت دنیا واقف ہے۔ تھکا دینے والی زندگی میں انسو مینیا ایک عام سی بیماری ہے۔ دن بھر کے بھاگ دوڑ کے بعد ہر آدمی رات بھر جاگتا رہتا ہے۔ جسے نیند آجائے وہ بھی نیند پوری کیے بغیر آدمی رات کو اٹھ بیٹھتا ہے۔ نیند اڑنے کی بیماری بہت عام ہے۔ تو پھر اس کا حل کیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چائے پینے سے نیند اڑ جاتی ہے۔ امریکی اور مغربی ماہرین نے اب اس کے الٹ تحقیق پیش کی ہے۔ انہوں نے انسو مینیا کا شکار مریضوں پر چائے پلا کر تجربات کیے ہیں۔مثلاً کچن میں پینے والی چائے سے ان پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ۔ پھلوں کے ساتھ چائے لینے سے بھی فائدہ ہوا۔ گھروں میں گیننانا ٹی بھی بنائی جاتی ہے۔ یہ بھی بے آرامی کا ایک علاج ہے۔ بعض غیر ملکی چینلز نے اسے بہت نشر کیا۔ بنانا ٹی سے ناواقف لوگوں کو یہ بتادینا کافی ہے۔ پہلے کیلے کو اچھی طرف صاف کیجئے۔ یعنی دھو لیجیے پھر ابالیں ابالنے کے بعد چھلکا اتاریں اور پھر اسے سٹا سے پی جائیے۔ یورپ میں اسے کیلے کی چائے کہاجاتا ہے۔ کچھ لوگ اس کو مزیدار بنانے کے لیے اپنی پسند کی چیزیں ملا لیتے ہیں۔ جب چائے تیار ہوجائے تو اس میں گرما گرم دودھ ڈال لیجئے۔ اس چائے کے علاوہ آپ ابلے ہوئے کیلے بھی کھا سکتے ہیں۔ اس طرح گھر میں کینسو مینیا کا بہترین علاج کیلے کی صورت میں ممکن ہے۔ کیلے کے بہت فائدہ ہیں اس میں ٹریپٹوTryptophonفان نامی کیمیکل بہت پایا جاتا ہے۔ اس کے نظام ہاضمہ میں شامل ہوتے ہی پوٹاشیم اور میگناشیم کی بڑی مقدار بھی جسم میں شامل ہو جاتی ہے۔ سریٹانیم نامی کیمیکل پر بھی یہ اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی نیند کو بہتر بنانا کا بہترین علاج ہے۔ تاہم اس کے اثرات ہر شخص پر مختلف ہو سکتے ہیں۔ بیماری جاری رہنے کی صورت میں ڈاکٹر سے بھی رجوع کیا جاسکتاہے۔
کیلے کے چھلکے کو ضائع مت کیجئے
کیلے کے چھلکے کو10 منٹ تک ہلکی آنچ پر ابالیں۔اس میں Cinnamonبھی ملا لیجئے۔ کیلے کے چھلکوں میں میگنشیم اور پوٹاشیم کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے۔ یہ اینٹی آگنائزسٹک بھی ہیں اور نروس سسٹم پر اس کے بہت بھاری اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کے نظام ہاضمہ ہونے کے بعد یہ فیروٹینیم میں بدل جاتے ہیں جو نیند کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس میں شہد بھی ملایا جاسکتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس کے بچوں پر بھی تجربات کیے جو بہت مفید ثابت ہوئے۔ آٹیزیم میں بھی اس کے اثرات مثبت ہیں۔
ذیباطیس کا علاج
ذیباطیس کی ہلاکتو ں سے سب واقف ہیں۔ اس جان لیوا بیماری کا کوئی علاج نہیں۔ لاکھوں بلکہ کروڑوںلوگ اس کا شکار ہیں۔ اسے صرف مینج کیا جاسکتا ہے۔ ختم نہیں کیا جاسکتا۔
انسانی جسم کو شوگر یعنی گلو کوز کی ضرورت ہے۔ اور لوگ اسی گلو کوز کو مختلف غذائی اجزاءسے حاصل کرتے ہیں۔ ذیباطیس میں انسولین کی مقدار متاثر ہوتی ہے۔ دراصل پینکریاز انسولین پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں جو شوگر کو پراسیس کرتی ہے ۔ ٹائپ ون ٹائپ کے مریض سرے سے انسولین پیدا ہی نہیں کرتے۔ ٹائپ ٹو کے مریض انسولیس کی مقدارکو اپنے جسم میں پیداکرنے کی کوشش تو کرتے ہیں اس طرح وہ پیدا تو کرتے ہیں لیکن جسم میں انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ۔ ذیباطیس کے مریض میں انسولین کو مناسب مقدار میں استعمال کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اس طرح چینی خلیوں میں توانائی کی صورت میں شامل ہونے کی بجائے خون میں اپنی اصل شکل میں گردش کرتی رہتی ہے۔ جس سے شوگر لیول بڑھ جاتا ہے۔ یہ جان لیوا بیماری ہے۔اس سے بچنے کے کئی طریقے ہیں۔
ذیباطیس کا پورا نام ذیباطیس میلی ٹیس ہے۔یہ یونانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اخراج ہونا ۔ لاطینی زبان میں مالیٹس کو شہد یا مٹھاس کہتے ہیں۔اسے پہلی مرتبہ ڈھائی سو سال قبل قبل مسیح نے اپولیس ایمنسیس نے استعمال کیا۔ تاہم طب کی دنیا میں اس کا استعمال پہلی مرتبہ 1425ءمیں ہوا 1675ءمیں تھامس ویلیم نے ذیباطیس کے میلی ٹیس کا لفظ لگا دیا کیونکہ ان کے یورینم میں انسولین کی مقدار زیاہ پائی گئی۔ 1770ءمیں میتھو ڈالسن نے شوگر کے مریضوں کے یورین میں شوگر لیول بڑھنے کو جان لیوا مرض قرار دیا۔ انہوں نے اس کی دو اقسام بتائیں ۔ ایک ون ٹائپ اور دوسرا ٹو ٹائپ۔زمانہ قدیم میں شوگر کے مریض کے علاج کے لیے ان کو گھوڑے کی پشت پر بٹھا کر ورزش کروایا کرتے تھے۔ اس سے ایک تو یورین کی مقدار کم ہو جاتی تھی اور دوسرا ورزش کرنے سے جسم میں زیادہ چینی استعمال ہو جاتی تھی۔ یونانی معاشرے میں شراب کو بھی شوگر کا ایک علاج سمجھا جاتا تھا۔ تاکہ جو ضائع ہوئی ہے اسے توانائی سے پورا کیا جاسکے۔ بدقسمتی سے ان میں سے کوئی بھی طریقہ علاج درست نہ تھا 1889ءمیں جوزڑ وارن نیوی اور آسکرو نیکروسنسی نے ذیباطیس میں کنکریا کے کردار کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کتوں کے جسم میں سے کنکریا ز نکال لیے تو پتہ چلا کہ انہیں شوگر ہو گئی۔ اس سے انہیں کینکریاز اور شوگر کے تعلق کو سمجھنے میں مدد ملی۔ 1910ءمیں سر البرٹ شارپے شرٹ نے بھی ایک کارنامہ سرانجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ شوگر کا بنیادی سبب اس کیمیکل کی کمی ہے جو کینکریا نامی پیدا کرتا ہے جسے انسولین کا نام دیا۔ 1900سے 1915ءتک ذیباطیس کے کئی اور علاج دریافت کیے گئے اور8انس ہوٹ میل اس کا ایک علاج قرار دیا گیا۔ ہر دو گھنٹے بعد 8اونس اوٹ میل ایک علاج تھا۔ اس کے بعد دودھ ، چاول، آلو تھیراپی اور افیون تھیراپی بھی وجود میں آئی۔ زمانہ قدیم میں افیون کو بھی شوگر کا ایک علاج تصور کیا گیا۔ زائد خوراک اسی لیے کھلائی جانے لگی کہ وہ جسم میں برداشت زیادہ پیدا کر سکیں1921ءمیں فیڈرک گرانٹ اور چالس ہربٹ نے ذبیاطیس اور انسولین کے باہمی تعلق کو دریافت کرتے ہوئے اسے ایک سائنسی طریقہ علاج دریافت کیا اور جنوری 1922ءمیں انسولین کی تیاری شروع ہو گئی۔ پہلی انسولین لیوناڈ تھامسن کو 14سال کی عمر میں لگائی گئی جو مزید 13سال زندہ رہا۔ نمونیا سے اس کی موت واقع ہوئی۔ 1922ءمیں اس کی پہلی مرتبہ فیکٹری میں تیاری شروع ہوئی۔ جو اب تک جاری ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ہر 9واں امریکی شہری ذیباطیس کا مریض ہے یعنی امریکہ میں اس کے مریضوں کی تعداد3کروڑ ہے پاکستان میں بھی ذیباطیس کے مریضوں کی تعداد کروڑوں میں ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں