طبی معلومات

Health_tips
EjazNews

ملیریا بخار دوا سے متعلق معلومات
1791ءکے بعد دنیا کے بعض حصوں میں ملیریا بخار نے سینکڑوں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب مچھروں سے پھیلنے والا ملیریا بخار بڑے پیمانے پر اموات کا سبب بنا۔ اپنی موت کی وجوہات سے ناواقف انسان کسی جادوگر کا کرشمہ سمجھتارہا۔1973ءکے موسم گرما میں ایک مرتبہ پھر زرد بخار کی وبانے امریکی ریاست فیلڈیفیا میں 45ہزار افراد کو موت کی نیند سلا دیا۔ یعنی آبادی کا 10واں حصہ زرد بخار سے ہلاک ہوگیا۔ 1804ءمیں فرانسیسی نوآبادیات میں زرد بخار نے کئی آبادیوں کو نیست و نابود کر دیا۔نومبر 1943ءمیںجب امریکی فوجی جاپانی فوجیوں پر اپنے حملے کا آغاز کر چکے تھے۔ تو بھی وہاں یہ خوفناک مرض پھیلا۔ جاپانی اور امریکی اس مرض سے نبٹنے کی دوا سے واقف نہ تھے۔ مچھروں نے 1913ءمیں پانامہ کینال میں تباہی مچادی تھی۔ پانامہ کینال کی تعمیر انہی مچھروں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی۔ کیونکہ لاتعداد مزدور اس مرض سے ہلاک ہو گئے۔

مچھروں نے 1913ءمیں پانامہ کینال میں تباہی مچادی تھی۔ پانامہ کینال کی تعمیر انہی مچھروں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی۔

ملیریا بخار کی اب تک کوئی طاقتور ویکسین موجود نہیں۔ نیم کے پتے یا اس سے تیار کی گئی دوائی سب سے موثر سمجھی جاتی ہے لیکن پھر بھی اس مرض سے 2015ءمیں 4لاکھ 30ہزار افراد اپنی زندگیاں ہار گئے تھے۔ جبکہ اس سے کہیں زیادہ افراد اس بیماری میں مبتلا ہو کر مختلف طرح کے جسمانی اعوارض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق بہت سے مریض مکمل طور پر کبھی صحت یاب نہیں ہوتے۔
2000ءسے 2015ءتک ملیریا سے ہونے والی اموات کی شرح میں 62فیصد کمی ہوئی۔ جبکہ اس مرض میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں کمی 21فیصد رہی۔ اموات میں کمی کی وجہ شعور کی بیداری اور مچھروں سے نجات کے طریقے ہیں۔
تاہم حفظان صحت کی سہولتوں کا فقدان اور ویکسین کی عدم موجودگی کے باعث صحرا صحارا اب بھی کم و بیش 43فیصد افراد کو مچھروں سے بچاﺅ کی کوئی سہولت میسر نہیں۔ نا تو ان کے پاس نیٹ ہیں اور نہ ہی مو¿ثر مچھر مار دوا۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ شرح اموات اور بیماری کا پھیلاﺅ انہی علاقوں میں ہو رہا ہے۔ اسی لیے اقوام متحدہ 2018ءمیں کینیا، گھانا اور ملاوی میں یہ دوا ٹیسٹ کی تھی۔
ڈاکٹر فاتونی سینس کے مطابق یہ ایک زبردست خبر ہے۔ ڈاکٹر فاتونی جان ہاپکنس ملیریا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ وہ جاج ہاپنز لومبر پبلک سکول کی پروفیسر بھی ہیں۔ ویکسین کی تیاری میں ان کی دلچسپی ہمیشہ سے رہی ہے۔ جب کسی کے تصور میں بھی نہ تھا وہ تب سے ملیریا ویکسین کی تیاری میں جتی ہوئی تھیں۔ لیکن سائنسدان کھوجی ہوتے ہیں اور کام کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر فاتونی نے کہا کہ صحرا صحارا میں ابتدائی طور پر اس کا 11ہزار بچوں پر تجربہ کیا گیا تھا۔ شرح اموات میں کم از کم 50فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ اس طرح ملیریا کے مرض سے بچاﺅ کی زبردست صورت دکھائی دے رہی ہے۔

نہانہ کیوں ضروری ہے

بعض لوگ ہفتہ ہفتہ نہیںنہاتے۔ کچھ لوگوں کو پانی ہی میسر نہیں ہوتا کہ وہ نہا سکیں ۔ کراچی، حیدر آباد اور پنجاب کے تھل اور سندھ کے تھر میں پانی کسی نایاب نعمت سے کم نہیں۔ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی پانی کی قیمتوں میں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں یہ نعمت جسے اللہ تعالیٰ نے بنیادی انسانی ضرورت قرار دیا ہے لیکن انسان سے اسے بھی کاروبار بنا لیا ہے۔
پانی پینے کے علاوہ نہانے کے لیے بھی ضروری ہے۔ نہ نہانے کی صورت میں بدبو تو پیدا ہوتی ہی ہے لیکن اس کا انسانی جلد پر بھی نہایت منفی اثر پڑتا ہے۔ کئی ہفتے نہ نہانے سے انسانی جلد کے اندر مردہ خلیے بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ نیویارک سٹی کے ماہر جلد اینی ویچلسرکے مطابق زیادہ دیر تک نہ نہانے کے باعث کھال کا اوپری حصہ سخت ہونا شروع ہو جاتا ہے جس سے کئی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔

”جلد کے موٹے اور سخت ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے اس بارے میں ابھی زیادہ تحقیق نہیں ہوئی تاہم ایمی کا کہنا ہے کہ اس سے مختلف طرح کی جلدی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ ریشز بھی پڑ سکتے ہیں یہ ایک تکلیف دہ امر ہے۔ جارج واشنگٹن میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر تانزی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ نہانے میں لمبا وقفہ ہونے سے چہرے ، سر اور سینے پر ہلکے گلابی رنگ کے چکنے دھبے پڑ سکتے ہیں۔جسم کے کئی حصوں پر فنگس رونما ہوسکتی ہے۔ جو ایک خطرناک بیماری ہے۔ بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم اور فنگس بغل ، کولہوں اور پاﺅں کی انگلیوں میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ “

ہر آدمی تھکتا ہے مگر تھکن بیماری میں کب بدلتی ہے؟

میں تھک گیا ہوں ، مجھ سے کام نہیں ہورہا ، صبح سے کام کر کے بور ہو گیا ہوں یا یہ بھی کوئی زندگی ہے یہ وہ اہم جملے ہیں جو ہم روز مرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں یہ کوئی بیماری نہیں وقتی مشقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پھر کام سے بچنے کا بھی یہی آسان طریقہ ہے۔ 2015ءمیں ایک ادارے نے انٹرنیٹ پر سروے کیا۔38فیصد امریکیوں نے اپنے آپ کو تھکن کا شکار بتایا۔ 4دنوں سے آرام نہیں کیا۔ ایسے ہی جملے 38فیصد امریکیوں نے لکھے۔ یو ایس سنٹر فار ڈیزیسٹ کنٹرول اینڈ پریزینشن کی ایک رپورٹ کے مطابق عورتیں مردوں کے مقابلے میں کم تھکتی ہیں۔ مرد تھکاوٹ کا زیادہ شدت سے اظہار کرتے ہیں ۔ عورتوں میں یہ تناسب مردوں کی بانسبت 10فیصد کم ہے۔ ”میں تو بالکل تھک ٹوٹ گیا ہوں، تھکن سے چور ہوگیا ہوں یہ جملہ اکثر مردوں نے استعمال کیا۔“ امریکن کالج آف فزیشنز کی چیئرپرسن سوسن ہنگل نے بھی اسی قسم کی رپورٹ جاری کی تھی۔

مرد تھکاوٹ کا زیادہ شدت سے اظہار کرتے ہیں ۔ عورتوں میں یہ تناسب مردوں کی بانسبت 10فیصد کم ہے۔

اس جملے کو لے کر ڈاکٹروں نے محسوس کیا کہ تھکن کا اظہار تو بے شمار لوگ کرتے ہیں۔ لیکن کیا وہ بیمار بھی ہیں کیا اسے کسی ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ یہ جاننے کے لیے انہوں نے دیگر سوالات کیے۔ مثلاً کیا انہوں نے دن بھرمیں نیند پوری کی۔ کیا ان میں ورزش کرنے کی صلاحیت ہے یا وہ ورزش سے بھی گھبرا رہے ہیں۔ کیا ان میں چلنے پھرنے کی ہمت ہے اگر ان سوالات کا جواب ہاں میں ہے تو پھر یقینا ایسے شخص کو ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ یہ علامتیں تو دل کے مریضوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ایک بیماری کا نام Sleep apneaایک خطرناک بیماری ہے۔ اس میں تھکن کا شکار لوگوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔ اونگھتے رہنا بھی اس کی ایک علامت ہے۔ اس سے دل کے دورے کے اندیشوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ کچھ ڈاکٹروں نے اس کا بہترین استعمال وزن میں کمی کو بتایا ہے۔ کچھ وزن کم کر لیجئے یہ بیماری خود بخود جان چھوڑ دے گی۔
روز روز تھکن کا شکار ہونے والا Chronic fatigue syndromeکے مرض میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ کم از کم 6ماہ تک تھکاوٹ کا شکار رہنے والے کو اس کا مریض قرار دیا جاسکتا ہے۔ ورنہ 2,4ہفتے کی تھکن بیماری کی علامت نہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن کی رائے کے مطابق 9لاکھ سے 25لاکھ تک امریکی اس مرض کا شکار ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ مرض عام پایا جاتا ہے لیکن اس کی کبھی تحقیق ہی نہیں کی گئی۔ یہ مرض جسمانی کمزوری یا خون کے ضیاع کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔ خواتین بھی اس مرض کا شکار ہیں۔ اس کا آسان سا علاج آئرن والے پھل اور سبزیاں زیادہ مقدار میں کھانے سے ممکن ہے۔ خون بناتے رہیں اور اس بیماری سے محفو ظ رہیے۔
ذیابیطس بھی تھکاوٹ کا ایک سبب ہے۔ ایسی صورت میں مریض کو بے تحاشہ پانی کی طلب ہوتی ہے۔ اس کا گلہ خشک رہتا ہے۔ hypothyroidism میں مبتلا شخص کو بھی بہت زیادہ پیاس لگتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں