طبی معلومات

Health_tips

دنیا بھر میں گردوں کے امراض کی شرح میں ڈرامائی اضافہ

جب کسی فرد میں گردوں کے دائمی امراض نمودار ہوتے ہیں تو گردوں کے افعال آنے والے مہینوں یا برسوں میں سست ہو جاتے ہیں۔ گردے خون میں موجود اضافی سیال اور کچرے کو فلٹر کرتے ہیں اور جب وہ ایسا نہیں کر پاتے تو یہ جمع ہونے لگتے ہیں۔ ابتدائی مراحل میں سی کے ڈی کی کوئی علامات نہیں ہوتیں مگر علاج نہ ہونے پر یہ بڑھ کر گردوں کے امراض کی آخری سٹیج تک پہنچ جاتی ہیں جس کیلئے ڈائیلاسز یا گردوں کی پیوندکاری کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان امراض میں شروع میں تو علامات نظر نہیں آتیں مگر بعد میں خارش، مسلز میں اکڑن ، قے اور متلی بھوک ختم ہو جانا، پیروں اور ٹخنوں میں سوجن ، بہت زیادہ پیشاب آنا یا نہ ہونے کے برابر آنا، سانس لینے میں مشکلات اور نیند نہ آنا جیسی علامات سامنے آسکتی ہیں گردوں کے امراض کے شکار افراد میں دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔جو سی کے ڈی کے شکار افراد میں اموات کی سب سے عام وجہ ہے۔ ہائی بلڈ پریشر ذیابطیس سی کے ڈی کا باعث بننے والے عام وجوہات ہیں مگر یہ ایچ آئی وی انفیکشن یا زہریلے مواد کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ کئی بار مرکزی وجہ معلوم بھی نہیں ہو پاتی۔ جریدے دی لانسیٹ میں ایک تحقیق شائع ہوئی جس میں جائزہ لیا گیا ہے کہ سی کے ڈی یا گردوں کے دائمی امراض کے شکار افراد کی تعداد دنیا بھر میں کتنی ہے اس تحقیق میں 195ممالک میں 359امراض اورانجریز کے صحت پر اثرات جبکہ 85خطرے کے عناصر کا موازنہ کیا گیا۔ محققین نے حکومتی ریکارڈز، گردوں کے امراض کی رجسٹریز ، گھریلو سروے ڈیٹا اور دیگر ذرائع سے معلومات جمع کی گئیں اور ایک اعداد و شمار کا ماڈل استعمال کر کے سی کے ڈی کے عالمی بوجھ ، اموات کی شرح اور دیگر تعین کیا گیا۔

انسانی پیروں میں محراب جیسی ساخت کیا کام کرتی ہے؟

آپ نےکبھی بھی اپنی ٹانگوں کے آخر میں واقع دو حصوں کے بارے میں سوچا نہیں ہوگا اور اس طرح اپنے جسم کے حیران کن حصے کو نظر انداز کر دیا ہوگا۔ یہ ایک ایسا حصہ ہے جو انسانوں کو دیگر جانوروں سے الگ اور ممتاز کرتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے آپ دونوں ٹانگوں پر چل اور دوڑ پاتے ہیں ۔ جب آپ اپنے کسی ایک پیر کو دیکھتے ہیں تو بھی آپ نے کبھی اس محراب پر زیادہ توجہ نہیں دی ہوگی جو پورے پیر میں موجود ہوتی ہے۔ ایک تحقیق میں پہلی بار بتایا گیا ہے کہ کس طرح ہمارے پیر آپ کو چلنے اور اچھی طرح دوڑنے میں مدددیتے ہیں۔ امریکہ کی یالے یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پیروں میں دو چیزیں انسانوں کو دیگر جانداروں سے منفرد بنا دیتی ہیں ایک تو ہمارے پیر کی محراب نما شکل جبکہ دیگر جانداروں کے پیر سپاٹ ہوتے ہیں۔ محراب ہڈی سے بنتی ہے مگر اسے پیر کے دیگر عناصر جیسے رباط (لیگا منٹ) اور دیگر لچکدار ٹشوز بھی سہارا دیتے ہیں۔ دوسری چیز یہ ہے کہ ہمارے پیر دیگر جانداروں کے مقابلے میں زیادہ سخت ہوتے ہیں اور وہ چلتے ہوئے ہر قدم میں زمین پر زیادہ طاقت کو محسوس کرتےہیں، یہ طاقت ہمارے جسمانی وزن سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے مگر اس کے باوجود ہم انسانی پیر کو مڑتے ہوئے بہت کم ہی دیکھتے ہیں اس کے مقابلے میں دیگر جانداروں کے پیر درمیان سے اکثر بہت زیادہ مڑ جاتے ہیں مگر ہمارے پیر زمین پر قدم رکھنے پر توانائی کو جذب کرکے بہت زیادہ طاقت کے اثرات سے ہمارے جسموں کو بچاتے ہیں جبکہ وہ توانائی کو ذخیرہ بھی کرلیتے ہیں۔

زیتون کا آدھا چمچہ روزانہ امریکیوں کے دل کی طاقت کیلئے کافی ہے

ہارورڈ ٹی ایچ چین سکول آف پبلک ہیلتھ بوسن میں پی ایچ ڈی کی طالبہ مارٹا گواش فیرے اس تحقیق کی مرکزی مصنفہ ہیں جن کا کہنا ہے کہ دل کی صحت پر زیتون کے تیل کے مثبت اثرات یورپ اور پورے ایشیائی آبادیوں میں واضح ہو چکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے جب امریکی آبادی کیلئے زیتون کے تیل کی افادیت بھی ثابت ہو گئی ہے۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ زیتون کا تیل کم و بیش ہر رنگ و نسل کے لوگوں کیلئے مفید ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ زیتون کا تیل اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کہلانے والے پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے جودل ، دوران خون اور دماغ تک کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ اس تحقیق کیلئے امریکیوں میں کھانے پینے کی عادات اور معمولات سے متعلق کئے گئے وسیع مطالعات میں حاصل شدہ اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا جو 1990ء تک کا احاطہ کرتے ہیں۔ تجزیہ کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ روزانہ زیتون کے تیل کا آدھا چمچہ یا اس سے کچھ زائد مقدار اپنی غذا میں شامل رکھتے ہیں ان میں دل کے امراض کا عمومی خطرہ 15فیصد تک کم ہو جاتا ہے جبکہ دل تک خون پہنچانے والی شریانیں تنگ ہونے کے نتیجے میں ہونے والے امراض قلب کی شرح 21 فیصد تک گھٹ جاتی ہے۔ اضافی طور پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ زیتون کے تیل کے علاوہ مختلف سبزیوں کا تیل بھی دل کی صحت کیلئے مفید ہے۔ لہٰذا زیتون کا تیل میسر نہ ہو تو کوئی سا بھی معیاری سبزی کا تیل دل کو یکساں طور پر فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

موٹاپے، امراض قلب اور ذیابطیس سے بچنا بہت آسان

اگر آپ موٹاپے ، امراض قلب اور ذیابطیس کو ہمیشہ خود سے دو ررکھنا چاہتے ہیں ؟ تو ایک مزیدار پھل اس میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ ویسٹرن اونٹا ریو یونیورسٹی کی تحقیق میں مالٹوں کی مختلف اقسام میں موجود ایک مالیکیول ٹوبیلٹن کو دریافت کیا گیا ہے جس کے استعمال سے چوہوں میں موٹاپے کی شرح میں نمایاں کمی لانے کے ساتھ اس کے مضر اثرات کو ریورس کرنے میں کامیابی ملی۔ جریدے جرنل آف لیڈر یسرچ میں شائع تحقیق میں چوہوں کو زیادہ چربی، زیادہ کولیسٹرول والی غذا کا استعمال کرایا گیا جس کے ساتھ نوبیلٹن کو بھی دیا گیا اور دریافت کیا کہ اس سے انسولین کی مزاحمت اور خون میں چربی کی سطح میں کمی آئی ۔ محققین کا کہنا ہے کہ ہم نے موٹاپے سے چوہوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرا ت کو نوبیلٹن کے استعمال سے ریورس کیا بلکہ اس سے شریانوں میں جمع ہونے والے چربیلے مواد کی سطح بھی کم ہونے لگی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ فی الحال وہ وجہ دریافت نہیں کر سکے جس سے معلوم ہو سکے یہ مالیکیول کیسے فائدہ پہنچاتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ مالیکیول چربی کو کنٹرول کرنے والے عمل AMP Kinase کی طرح کام کرتا ہے جو کہ جسمانی چربی بننے کے عمل کو بلاک کرتا ہے ۔ تاہم جب محققین نے چوہوں پر اس مالیکیول کے اثرا ت کا جائزہ لینے کیلئے جنیاتی میں تبدیلیاں لا کر AMP Kinase کو نکال دیا توبھی یہ مثبت اثر برقرار رہا۔ نتائج سے ثابت ہوا کہ نوبیگٹن کی طرح کام نہیں کرتا اور اس اہم ریگولیٹر کو بائی پاس کر دیتا ہے کہ جسم چربی کو کس طرح استعمال کرے اور محققین کا کہنا تھا کہ اس د ریافت کے بعد ہم اس سوال کا جواب نہیں پاسکے کہ نو بیلٹین کس طرح یہ کام کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں